کراچی: شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں تاجر کے گھر ڈکیتی کی واردات کی تحقیقات مکمل کرلی گئیں، انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈکیتی میں پولیس افسران و اہلکار ملوث نکلے ہیں۔
ڈی آئی جی ویسٹ نے انکوائری رپورٹ آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ کو جمع کرادی۔ جس میں ایس ایس پی ساؤتھ عمران قریشی اور ڈی ایس پی یو ٹی عمیر باجاری کی غفلت اور لاپرواہی کا ذکر کیا گیا جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لانے کی سفارش کی گئے ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شپ ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کی جانب سے اورنگی ٹاؤن پانچ نمبر میں واقع ایک مکان پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی جس میں پولیس پارٹی نے گھر میں ڈکیتی کرتے ہوئے 2 کروڑ روپے اور 60 سے 70 تولے سونا لوٹا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ڈکیتی میں پولیس موبائل اور پرائیویٹ گاڑیوں نے گلی کا گھیراؤ کیا اور پولیس افسران و اہلکاروں نے گھر کی تلاشی لی پھر وہ ڈکیتی کی واردات کرکے فرار ہوگئے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ نے ڈی آئی جی ویسٹ عاصم قائم خانی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ جس پر ڈی آئی جی ویسٹ نے 24 گھنٹے میں انکوائری رپورٹ تیار کرکے آئی جی سندھ کو ارسال کردی ہے۔
ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی 11 صفحات کی انکوائری رپورٹ میں ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کا غیر قانونی چھاپہ ’’ڈکیتی‘‘ قرار دے دیا گیا، 2 کروڑ روپے کی ڈکیتی میں انکوائری افسر ڈی آئی جی ویسٹ عاصم قائم خانی نے ایس ایس پی ساؤتھ عمران قریشی، ڈی ایس پی یوٹی عمیر باجاری ، شاہین فورس کے اہلکار اور 5 پرائیویٹ افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق اورنگی ٹاؤن ڈکیتی میں پولیس افسران و اہلکار ملوث ہیں، ڈکیتی میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ڈی ایس پی کو قصوروار قرار دے دیا گیا، رپورٹ میں ایس ایس پی ساؤتھ ، ڈی ایس پی عمیر باجاری کے بیان قلم بند کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں غیر قانونی چھاپے میں ملوث پولیس اہلکاروں کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے اورنگی ٹاؤن میں تاجر کے گھر میں پرائیویٹ لوگ داخل ہوئے جنہوں نے گھر کی تلاشی لی تو اس دوران گھر سے کوئی غیر قانونی چیز برآمد نہیں ہوئی۔
ایس ایس پی ساؤتھ نے ایس ایس پی ویسٹ کو رقم اور دیگر سامان واپس کرنے کا کہا، ڈکیتی میں ملوث پولیس پارٹی و دیگر کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کردی گئی۔

Leave a Reply