Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 45 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • بغیر کسی گناہ کے ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں، چیف جسٹس  پشاور ہائیکورٹ

    بغیر کسی گناہ کے ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

    پشاور: پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مجمد ابراہیم نے کہا ہے کہ انھیں بغیر کسی گناہ کے دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن عدالت کی ساکھ پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا۔

    پشاور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار آفتاب عالم کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس محمد ابرہیم نے سماعت کی جہاں ایڈوکیٹ جنرل عامر جاوید اور جنرل سیکریٹری ہائی کورٹ بار لاجبر ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس محمد ابراہیم نے سماعت کے دوران کہا کہ اگرکوئی ملزم پولیس کو مطلوب ہے تو پولیس گرفتار کرسکتی ہے لیکن جو عدالت آتا ہے ان کو تنگ نہ کریں، عدالت کے احاطے سے کسی کو گرفتار کریں گے تو اس افسر کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ جو عدالت آئے گا ان کو قانون کے مطابق ریلیف ملے گا، 9 مئی ایک قومی سانحہ ہے، ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا، ضمانت کے باوجود اگر گرفتار ہوا ہے تو توہین عدالت کیس دائر کریں۔

    ایڈووکیٹ لاجبر نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے سامنے پولیس کی نفری کھڑی کردی گئی ہے، پولیس ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے آنے والوں کو گرفتار کررہی ہے، ہائی کورٹ کے سامنے سے اضافی نفری ہٹادی جائے۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کے پی بار کونسل نے سیکیورٹی مانگی ہے، جس پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا اگر سیکیورٹی کی ضرورت نہیں تو بار صدر اور آپ سیکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ کریں، ہائی کورٹ کے احاطے سے سیکیورٹی ہٹانے کی ذمہ داری آپ کی اپنی ہوگی۔

    چیف جسٹس محمد ابراہیم نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احاطے سے کسی کو گرفتار کریں گے تو ہماری بے عزتی ہے، اس لیے ہائی کورٹ کے احاطے کا خیال رکھیں۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ اس کرسی پر 3 مہینوں کا مہمان ہوں، اس کے بعد میرا ایک اور بھائی چیف جسٹس بنے گا، وکلا سیاسی جماعتوں کو چھوڑیں، آپس میں بھائی چارہ رکھیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ میں عدالت کی ساکھ پر کوئی سمجھوتا نہیں کروگا، بغیر کسی گناہ کے ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں، میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی پارٹی میں جاؤں گا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا ہے، نگراں وزیر اعلیٰ بن جاتا ہے، چیف جسٹس کے سامنے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی کیا حیثیت ہے، وزیراعلیٰ کے مقدمات بھی ہمارے سامنے آتے ہیں، اس وقت بھی وزیراعلیٰ کا کیس عدالت میں زیرسماعت ہے۔

    چیف جسٹس محمد قاسم نے کہا کہ میں بھی خیال رکھوں گا کہ ایسا کوئی کام نہیں کروں کہ اس کرسی پر آنچ آئے، آپ وکلا متحد ہوں گے تو یہ نظام چلے گا، اس کے ساتھ عدالت نے پی ٹی آئی امیدوار کی گرفتاری کا معاملہ دو رکنی بینچ کو بھیج دیا۔

  • الیکشن کمیشن سپریم کورٹ جائے، ہمیں وہاں سے بھی انصاف ملے گا، چیئرمین پی ٹی آئی

    الیکشن کمیشن سپریم کورٹ جائے، ہمیں وہاں سے بھی انصاف ملے گا، چیئرمین پی ٹی آئی

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی ہے کہ الیکشن کمیشن کے سپریم کورٹ جانے پر بھی پی ٹی آئی کو انصاف ملے گا۔

    اڈیالہ جیل کے باہر بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو عدالتی حکم کا احترام کرنا چاہیے، بلاشبہ الیکشن کمیشن پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ جائے مگر ہمیں امید ہے سپریم کورٹ سے بھی ہمیں انصاف ملے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کرتا تب تک ہمارا انتخابی نشان بحال ہے۔
    بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے آج دو کیسز پر سماعت ہوئی ہے، ایک کیس میں خان صاحب جوڈیشل ہوگئے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیسز کی گزشتہ سماعت کو کالعدم قرار دیا ہے، ہمیں امید ہے باقی کیسز کے ٹرائل بھی کلعدم قرار پائینگے۔

  • ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد ن لیگ کی مقامی قیادت میں اختلاف

    ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد ن لیگ کی مقامی قیادت میں اختلاف

    سرگودھا: ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد ن لیگ کی مقامی قیادت میں اختلاف کھل کر سامنے آ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری حامد حمید نے پارٹی فیصلہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ این اے 84سےچوہدری حامد حمید نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔

    حامد حمید کے حمایتی ٹکٹ نہ ملنے پر 25 بلک میں ن لیگی سیکرٹریٹ پر جمع ہوئے اور حامد حمید کے حق میں اور پارٹی فیصلہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ واضح رہے کہ حامدحمید دو بار اس حلقہ سے نون لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ اس مرتبہ ن لیگ کی طرف سے این اے 84 میں ٹکٹ ڈاکٹر لیاقت علی خان کو جاری کیا گیا ہے

  • بھتہ خوری میں اضافہ: کراچی چیمبر میں ”رینجرز کمپلینٹ سیل“ دوبارہ فعال

    بھتہ خوری میں اضافہ: کراچی چیمبر میں ”رینجرز کمپلینٹ سیل“ دوبارہ فعال

    کراچی چیمبر میں ”رینجرز مانیٹرنگ اینڈ کمپلینٹ سیل“ کو دوبارہ فعال کردیا گیا۔

    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار احمد شیخ کے مطابق ”رینجرز مانیٹرنگ اینڈ کمپلینٹ سیل“ میں دو رینجرز اہلکار روزانہ صبح 9 سے شام 5 بجے تک تاجر برادری کو امن و امان کے مسائل سے نمٹنے میں سہولت فراہم کرنے کیلئے موجود ہونگے۔

    انہوں نے الائنس آف آرام باغ مارکیٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین آصف گلفام کی قیادت میں آنے والے وفد سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز سیل کو دوبارہ فعال کرنا کے سی سی آئی کی قیادت کی بھرپور کوششوں سے ممکن ہوا جنہوں نے ڈی جی رینجرز، ایڈیشنل آئی جی ودیگر حکام کے ساتھ مسلسل بات چیت کرکے فوری اقدام اٹھایا۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر میں پہلے سے آپریشنل پولیس چیمبر رابطہ کمیٹی کے ساتھ رینجرز مانیٹرنگ سیل پریشان حال تاجروں و صنعتکاروں کو یقیناً کسی حد تک راحت فراہم کرے گا۔ جن تاجروں کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں وہ فوری طور پر رینجرز مانیٹرنگ سیل سے رجوع کریں انکی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    افتخار شیخ نے کہا کہ آج کل کاروبار کرنے کی مجموعی صورتحال بالکل بھی اچھی نہیں، کراچی چیمبر مشکل کی اس گھڑی میں تمام دکانداروں و صنعتکاروں کے ساتھ کھڑا ہے، ہم بھتہ مافیا کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، ساتھ ہی دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی پوری سنجیدگی سے متعلقہ اداروں سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

    آرام باغ مارکیٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین الائنس آصف گلفام نے صدر کے سی سی آئی سے گفتگو میں بتایا کہ دکاندار معاشی بحران کی وجہ سے پہلے ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن اب اسٹریٹ کرائمز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بھتہ مافیا بھی عام انتخابات سے قبل دوبارہ سر اٹھانے لگا ہے جو واقعی تشویشناک ہے۔

    انہوں نے کہا اردو بازار، آرام باغ اور دیگر قریبی مارکیٹوں میں اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے مجرم آزادانہ لوٹ مار کرتے ہیں اور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔ محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے کراچی کی تمام مارکیٹوں میں پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات کیے جائیں تاکہ تاجر اور دکاندار بغیر کسی خوف کے اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکیں۔

  • سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس اعجاز الاحسن بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا تحریری استعفی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کیا۔ جس میں انہوں نے ذمہ داری دینے اور ادا کرنے پر مسرت کا اظہار کیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفے کے مندرجات
    اپنے استعفے میں جسٹس اعجاز الاحسن نے لکھا کہ لاہورہائیکورٹ کے جج،چیف جسٹس اورسپریم کورٹ میں جج رہنے کا اعزازحاصل ہوا، اب میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر مزید خدمات انجام دینے کی خواہش نہیں رکھتا۔

  • سائفر ان کیمرہ سماعت غیر قانونی قرار، خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم

    سائفر ان کیمرہ سماعت غیر قانونی قرار، خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی ان کیمرہ کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کی ان کیمرہ سماعت سے متعلق کیس کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

    اس فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے 14 دسمبر کے فیصلے کو کالعدم اور اُس کے بعد سے تمام عدالتی کارروائی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے جاری پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی عدالت نے 14 دسمبر کو ان کیمرہ کارروائی کا حکم جاری کیا جبکہ اٹارنی جنرل نے دوران سماعت خود کہا کہ ان کیمرہ سماعت کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چودہ دسمبر کے بعد سائفر کیس کی تمام کارروائی غیر قانونی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت بھی نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے بھی خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے پر کہا کہ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

  • سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس کا تحریری فیصلہ جاری، جسٹس یحییٰ کا اختلافی نوٹ

    سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس کا تحریری فیصلہ جاری، جسٹس یحییٰ کا اختلافی نوٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے بینچز تبدیل نہیں کرسکتے، اس کیس کو نو رکنی لارجر بینچ کو سننا چاہیے تھا۔

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جو 125 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ بھی فیصلے کا حصہ ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے فیصلے کی ابتدا لارڈ ایٹکن کے 1941ء کے ایک جملے سے کی ہے اور کہا ہے کہ لارڈ ایٹکن نے اپنی مشہور زمانہ تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین خاموش نہیں تھے، برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین وہی تھے جو حالت امن میں تھے۔

    فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا 20 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی جاری کردیا گیا جس میں جسٹس یحییٰ نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف کیس کو 9 رکنی بنچ کو سننا چاہیے تھا، تقریباً 50 برس قبل بریگیڈئیر ایف بی علی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 5 ججز نے دیا، یہ عدالت اصول طے کر چکی ہے کہ ایک بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے عدالتی بینچز تبدیل نہیں کرسکتے۔

    جسٹس یحییٰ نے کہا ہے کہ 5 ججوں کا عدالتی فیصلہ 5 جج ختم نہیں کرسکتے، میری دانست میں 21ویں آئینی ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد اس کیس کو 9 رکنی بینچ سنتا تو مناسب ہوتا، سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ پر ایف بی علی کیس کا اطلاق ہوتا ہے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی ٹو کا حوالہ دیا اور کہا ہے کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 2892 مرد و خواتین گرفتار ہوئے، 103 مرد ملزمان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا، اس کیس کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ کو سننا چاہیے تھا۔

  • پنجاب میں شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اعلیٰ ترین میرٹ حاصل میں کامیاب

    پنجاب میں شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اعلیٰ ترین میرٹ حاصل میں کامیاب

    لاہور: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) نے پنجاب میں پرائیوٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے میرٹ کی درجہ بندی شائع کردی جس کے مطابق شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (ایس ایم ڈی سی) اعلیٰ ترین میرٹ حاصل میں کامیاب ہوگیا۔

    یو ایچ ایس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ایس ایم ڈی سی لاہور نے میڈیسن اور ڈینٹل دونوں شبعوں میں اعلیٰ ترین میرٹ حاصل کیا اور دونوں شعبوں میں متاثر کن فیصدکے ساتھ درجہ بندی میں سرفہرست ہے۔

    پریس ریلیز کے مطابق میڈیسن اور ڈینٹسٹری دونوں میں شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور کا میرٹ سب سے زیادہ رہا جو 89.31 فیصد رہا۔ علاوہ ازیں ایف ایم ایچ کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری لاہور 88.02 فیصد، العلیم میڈیکل کالج لاہور 87.10 فیصد اور شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور کا تناسب 86.88 فیصد رہا۔

    یو ایچ ایس کے مطابق لاہور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور کا میرٹ 86.63 فیصد رہا جبکہ اختر سعید میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج راولپنڈی 85.95 فیصد اور اختر سعید میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور کا میرٹ 85.85 فیصد رہا۔

  • بلے کا نشان ملنے کے بعد پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت کی فتح سے کوئی نہیں روک سکتا، بیرسٹر گوہر

    بلے کا نشان ملنے کے بعد پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت کی فتح سے کوئی نہیں روک سکتا، بیرسٹر گوہر

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اب پی ٹی آئی کو انتخابات میں فتح سے کوئی نہیں روک سکتا، 8 فروری کو پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت سے جیت ہوگی۔

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ انتخابی نشان بلے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا، بلا پی ٹی آئی نہیں پاکستانی عوام اور ان کے حقوق کی نشانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہر مرحلہ پر پی ٹی آئی کو روکنے کی کوشش کی، اگر ہمیں انتخابی نشان نہ ملتا تو تمام سیٹوں سے الیکشن مشکوک ہوجاتے، آنے والا الیکشن کوئی بھی ہوتا نشان نہ ہونے سےکرپشن کا بازار لگ جانا تھا۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دنیا کے تمام قوانین میں کسی سیاسی پارٹی سے نشان لینے کا قانون نہیں ہے، ہم نے ایسے الیکشن کرائے اس طرح کسی پارٹی نے نہیں کرائے ہیں۔

  • عام انتخابات میں قیدیوں کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    عام انتخابات میں قیدیوں کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    لاہور: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں قیدیوں کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے سہولت فراہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات سے ووٹر قیدیوں کی تفصیلات طلب کرلی۔

    جیل حکام کے مطابق الیکشن کمیشن نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر سے تمام جیلوں سے ووٹر قیدیوں کی تفصیل مانگ لی اور اس وقت پنجاب میں 66 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں تاہم جیلوں سے فہرستیں وصول ہونے کے بعد ووٹر قیدیوں کی تعداد سامنے آئے گی۔

    جیل سپرنٹنڈنٹ فہرستیں مرتب کرنے کے بعد ووٹر قیدیوں کا حلقہ، یونین کونسل اور ووٹ نمبر آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کو بھجوا دیں گے اور 22 جنوری تک تفصیلات موصول ہونے کے بعد بیلٹ پیپرز کے لیے فہرستیں الیکشن کمیشن کو بھجوادی جائیں گی۔

    حکام نے بتایا کہ ہر جیل میں کیمروں کی موجودگی میں ووٹ کاسٹ کروا کر الیکشن کمیشن کو بھجوائے جائیں گے، گزشتہ الیکشن میں بھی قیدی ووٹرز کی معمولی تعداد نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔