Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Qamar Abbas – Page 1720 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Qamar Abbas

  • فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرلیا

    فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرلیا

    (سنگ میل نیوز)اسرائیلی نے غزہ کے بڑے حصے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،
    فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرلیا،
    اتھارٹی نے عالمی انصاف میں دائر جنوبی افریقہ کی درخواست میں فریق بننےکی تیاری پکڑ لی ۔

    عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے عالمی عدالت انصاف پر اعتماد کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی درخواست میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
    جنوبی افریقہ کی درخواست میں اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
    فلسطینی اتھارٹی نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو بھی اسرائیل کے خلاف مقدمہ میں فریق بنایا جائے

    درخواست فلسطینی وزارت خارجہ کے ذمہ دار افسر عمار حجازی نے عالمی عدالت میں دائر کی۔
    ے، پوپ فرانسس ،فلسطین کی صورتحال پر اظہار تشویش درخواست میں کہا گیا ہے
    کہ اسرائیل منظم طور پر فلسطینی معاشرے ، ثقافت اور اداروں کو مٹانا چاہتا ہے،

    جنوبی افریقہ نے موقف اپنایا ہے کہ اسرائیل 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
    یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئی ہے۔
    اب تک اس بمباری میں 35 ہزار کے لگ بھگ افراد شہید ہوچکے ہیں،شہید افراد میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • توہین عدالت کیس,فیصل واوڈا کاغیرمشروط معافی مانگنے سے انکار

    توہین عدالت کیس,فیصل واوڈا کاغیرمشروط معافی مانگنے سے انکار

    (سنگ میل نیوز)سینیٹر فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں غیرمشروط معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔
    سینیٹر فیصل واوڈا کا جواب 16صفحات پر مشتمل ہے,

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت نوٹس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا,فیصل واوڈا نے جواب میں کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا،
    پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی بہتری تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھانے پر تحمل کا مظاہرہ کرے،

    توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عدلیہ مخالف بیان پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی,
    بیان حلفی میں مصطفیٰ کمال کی جانب سے کہا گیا تھا کہ بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا دل سے احترام کرتا ہوں،

    عدلیہ اور ججز کے اختیارات اور ساکھ بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر بالخصوص 16 مئی کی پریس کانفرنس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں،
    عزز عدالت سے معافی کی درخواست اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے
    پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل ہوگی۔

  • عدلیہ مخالف بیان ، ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی

    عدلیہ مخالف بیان ، ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی

    (سنگ میل نیوز) عدلیہ مخالف بیان پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی,
    مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بیان حلفی جمع کرا دیا۔

    بیان حلفی میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا دل سے احترام کرتا ہوں،
    عدلیہ اور ججز کے اختیارات اور ساکھ بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا,مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے.

    کہ عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر بالخصوص 16 مئی کی پریس کانفرنس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں،

    معزز عدالت سے معافی کی درخواست اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔
    یادرہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

  • پاکستان کے عوام  کے لئے میرا پیغام امن ہے، پوپ فرانسس ،فلسطین کی صورتحال پر اظہار تشویش

    پاکستان کے عوام کے لئے میرا پیغام امن ہے، پوپ فرانسس ،فلسطین کی صورتحال پر اظہار تشویش

    (سنگ میل نیوز)مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کے لئے میرا پیغام امن کا ہے،
    ہم سب کو مل کر امن کے لئے کام کرنا چاہیے،فلسطین کی صورتحال پر اظہار تشویش ،

    وزیراعظم وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر روانہ

    کہا کہ بین المذاہب ڈائیلاگ اور ہم آہنگی ہی مسائل کا حل ہیں۔ ویٹی کن میں وزیر داخلہ اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس سے ملاقات کی ہے۔
    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ویٹی کن میں پوپ فرانسس سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    پوپ فرانسس نے سانحہ جڑانوالہ کے بعدگرجا گھروں کی فوری تعمیر و مرمت کے کام کو سراہا، پوپ فرانسس نے وزیر داخلہ سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام کے لئے میرا پیغام امن کا ہے،
    ہم سب کو مل کر امن کے لئے کام کرنا چاہیے،وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کے دورہ کی دعوت دی گئی ہے،پوری کوشش کروں گا کہ پاکستان کا دورہ کروں۔

    پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ فلسطین کی صورتحال باعث تشویش ہے اور میں روزانہ رات 7 بجے فلسطین میں فلاحی کاموں میں مصروف ورکرز سے بات کرکے اپ ڈیٹ لیتا ہوں،
    بین المذاہب ڈائیلاگ اور ہم آہنگی ہی مسائل کا حل ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے فلسطین ایشو پر موثر موقف اپنانے پر پوپ فرانسس کا شکریہ ادا کیا،

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا، محسن نقوی نے کہا کہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے آپ کی خدمات لائق تحسین ہیں،
    مسلہ فلسطین کے حوالے سے آپ نے جرات مندانہ موقف اختیار کیا جسے ہر ایک نے سراہاہے ۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے،ہمارا دین ۔ ہمارے نبی کریمﷺ. ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح اور ہمارا آئین بھی اقلیتوں کے تحفظ اور ان کا خیال رکھنے پر زور دیتے ہیں،پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم اور افواج کی قربانیوں کی نظیر نہیں ملتی،پوپ فرانسس نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے دعا کی اور پاکستانی عوام کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • وزیراعظم  وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر روانہ

    وزیراعظم وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر روانہ

    (سنگ میل نیوز) وزیراعظم شہباز شریف5 روزہ دورے پر چین روانہ ہوگئے۔
    وزیراعظم شہباز شریف لاہور ایئرپورٹ سے چین کیلئے روانہ ہوئے،

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ سمیت دیگر وزراء، پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کا بڑا وفد بھی ان کے ہمراہ ہے،

    شہباز شریف 4 سے 9 جون تک چین کا دورہ کریں گے۔ شہباز شریف چین کے دورے کے پہلے مرحلے میں شینزن جائیں گے،

    وزیراعظم جدید آئی ٹی کمپنیوں کا دورہ اور فورم میں شرکت کریں گے،
    وزیراعظم شہباز شریف چینی صدر اور وزیر اعظم سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
    دورے کے دوران 79 پاکستانی کمپنیوں کے نمائندے شینزن میں چینی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

  • سائفر کیس کا فیصلہ محفوظ ، تھوڑی دیر بعد سنایا جائے گا

    سائفر کیس کا فیصلہ محفوظ ، تھوڑی دیر بعد سنایا جائے گا

    (قمر عباس)سائفر کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،فیصلہ تھوڑی دیر بعد سنایا جائے گا۔
    تمام جج اپنے چیمبر میں چلے گئے،عدالتی عملہ کا کہنا ہے کہ تمام لوگ ادھر بیٹھے جج صاحبان واپس آرہے ہیں،
    کسی قسم کی نعرے بازی نہ کی جائے۔ چیف اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کررہے ہیں،

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
    سماعت کے آغاز پروکیل پراسیکیوشن نے بتایا کہ پراسیکیوٹر ذوالفقار عباسی نقوی 20 منٹ میں آرہے ہیں، اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف آپ کے لیے بیٹھے رہیں

    اور کوئی کام نہیں؟ ہم نے ریگولر ڈویژن بینچ کینسل کیا ہے، کیا حامد علی شاہ صاحب نے وکالت نامہ واپس لے لیا ہے؟
    اس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حامد علی شاہ صاحب سے ابھی بات ہوئی وہ والدہ کے پاس معروف ہسپتال میں ہیں،
    وکیل پراسیکیوشن نے کہا کہ سلمان صفدر بے شک چاہیں تو دلائل کا آغاز کر دیں۔

    اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں نے پہلے کہا تھا ، 11 بجے ہم نے ٹائم کا بتا دیا تھا، اس کیس کی وجہ سے ریگولر ڈویژن بینچ کینسل کی ہے
    اور سرکاری وکلا نہیں ہیں۔بعد ازاں بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خان نے سائفر عمران خان کو دیا،

    اس سے متعلق کوئی دستاویز نہیں، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس متعلق تو آپ کے کلائنٹ کا اپنا اعتراف بھی موجود ہے،
    سلمان صفدر نے بتایا کہ یہ تو پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بات ثابت کریں، قانون بڑا واضح ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں ،
    پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی ہے، ایف ایم اے پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے 342 میں گناہ تسلیم کیا ہے،

    سیکریٹریٹ رولز کے مطابق اعظم خان جوابدہ ہیں ان سے پوچھا جانا چاہیے۔ وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سیکریٹریٹ رولز کا ذکر حامد علی شاہ نے یہاں نہیں کیا،
    ساتھ ہی ان کی جانب سے سپریم کورٹ کی مختلف عدالتی نظریوں کا حوالہ دیا گیا۔وکیل نے بتایا کہ رات 12 بجے تک بیانات قلم بند کیے جاتے ہیں،
    صبح 8 بجے ملزمان کو 342 کے بیان کے لیے بلا لیا، جب 342 کا بیان ریکارڈ ہو اس دن فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔ اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ 11:30 پر 342 کا بیان ریکارڈ ہونا شروع ہو.

    اور 1 بجے تک جاری رہا، جسٹس عامر فاروق نے دریافت کیا کہ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد دلائل دیے گئے؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسفسار کیا کہ 2 کونسلز جنہوں نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ٹرائل کورٹ میں جراح کی کیا انہوں نے کبھی کریمنل کیس لڑا ہے؟ اگر انہوں نے کیسز لڑے ہیں تو تمام کیسز کی لسٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کروا دیں۔
    بعد ازاں عمران خان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاپرواہی کا الزام جو بانی چیئرمین پر لگا ہے یہ الزام ان پر لگتا ہی نہیں، 4 گواہان کے مطابق سائفر کی حفاظت اعظم خان کی ذمہ داری تھی،
    دو سال تحقیقات ہوئیں اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی ، باقی 8 کاپیاں بھی ایف آئی کی کارروائی کے بعد وآپس ہوئیں، جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

    جب ثبوت کو ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو 201 لگتی ہے لیکن سائفر تو ان کے پاس موجود ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حامد علی شاہ گزشتہ تین سماعت پر موجود نہیں تھے،
    مزید ثبوت جمع کروانے کی متفرق درخواست بھی مسترد کی گئی ، حامد علی شاہ ڈیڑھ ماہ عدالت میں دلائل دیتے رہے ہیں ، ثبوت بعد میں لائے گئے اس کا مطلب کے ہم کیس ثابت نہیں کر سکے،
    عدالت نے کئی سوالات پوچھے شاہ صاحب نے کہا اس کا جواب بعد میں دوں گا اب شاہ صاحب عدالت میں ہی نہیں ہیں۔ اسی دوران سائفر کیس میں پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت پہنچ گئے۔
    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پہلے دلائل دیتے رہے پھر غائب ہوئے اور نئی درخواست دائر کردی، پراسیکیوشن کو آخر میں یاد آیا کہ نئے دستاویزات پیش کرنا چاہتے ہیں۔اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ہمیں سب پتا ہے آپ کو سب کہنے کی ضرورت نہیں،سلمان صفدر نے مزید بتایا کہ سائفر پیش کیے بغیر آپ نے دس دس سال سزائیں دی، جب ثابت کرنے کا وقت آیا تو میدان چھوڑ کر بھاگ گئے، پراسیکیوشن کو پھر اچانک خیال آیا کہ دستاویزات جمع کرنے ہیں، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ میں کہا تھا آفیشل دستاویزات ہے پیش نہیں کرسکتے۔

    سلمان صفدر نے مزید کہا کہ پھر حامد علی شاہ صاحب آئے تو انہوں نے کہا ہم پیش کرسکتے ہیں، پراسیکیوشن کی غلطی کی وجہ سے کیس ریمانڈ بیک ہوا، پراسیکوشن نے دوبارہ غلطی کی پھر کیس ریمانڈ بیک ہوا، جج صاحب نے سوچا کہ میرے کیے کرائے پر یہ پانی پھیر دیں گے، جج نے سوچا کیوں نا وکیل صفائی کو باہر کرکے اپنا وکیل لاؤ؟ پھر جج صاحب نے ہمیں باہر کردیا اور خود سے وکلا مقرر کرکے سزا سنائی۔

    وکیل کا مزید کہنا تھا کہ سائفر اگر گم ہوگیا تو انٹیلیجنس بیورو کو بتانا ہوتا ہے جو کہ نہیں بتایا گیا، غیر ذمہ داری کی بات ہورہی تو یہ کیس وزارت خارجہ نے کیوں نہیں بنایا؟ وزارتِ خارجہ دو ماہ بعد صرف گواہی کے لیے اس کیس میں آئے، جس بندے کو گواہ بنایا اس نے خود کہا کہ سائفر گم ہوگیا تھا، وزارتِ خارجہ کو میٹنگ کے لیے اپنی کاپی لانے کا کہا گیا تھا اور وہ اپنی کاپی ساتھ لے آئے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کیس کو ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیں اس میں خامیاں ہیں ، سلمان صفدر صاحب آپ اس پر کیا کہنا چاہتے ہیں وہ بتا دیں؟ وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ آج ہمیں اس کیس میں تین ماہ ہو گئے ہیں، ہم بہت اگے نکل گئے ہیں،

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار علی نقوی صاحب کی جانب سے کہا گیا کیس کو میرٹ پر نہیں سنا جا سکتا، ہم آپ سے قانونی طور پر معاونت چاہتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے سلمان صفدر سے مکالمہ کیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ٹرائل میں غلطی ہو تو عدالت میرٹ پر نہیں جاسکتی؟ صرف اسی پر جواب دیں۔
    ساتھ ہی عدالت نے سلمان صفدر کو ایک نقطے پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ انہوں نے دس دن پہلے آکر کہا کہ آپ اس کیس کو ریمانڈ بیک کریں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ صرف اسی پر بتائیں کہ اگر ٹرائل ٹھیک نہیں تو میرٹ پر نہیں جایا جاسکتا؟ پراسیکوشن نے کہا کہ اگر ٹرائل میں غلطی ہوئی تو سزا معطل کرکے ریمانڈ بیک ہوگا،

    اس کیس کو ہم دو دفعہ ریمانڈ بیک کر چکے کیا اب تیسری بار ریمانڈ بیک کریں؟ہمیں صرف اس معاملے پر قانونی معاونت چاہیےاسی لیے آپ سے سوال کیا گیا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ کیا ہم میرٹ پر جاسکتے ہیں ، صرف اتنا سوال ہے؟ سلمان صفدر نے جواب دیا کہ پہلی بات یہ ہے کہ اس سٹیج پر ریمانڈ بیک کی استدعا بنتی ہی نہیں، پراسیکوشن نے 2011 کے پرانے فیصلے پر انحصار کیا ہے، سپریم کورٹ کے جس فیصلے پر انحصار کیا گیا وہ سول میٹر کا معاملہ ہے، میری بھی اور وکلا کی بھی سزا بہت ہوگئی۔

    اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکلا کا نام نہ لیں، کیس پر رہیں، ہم نے کہا بھی کہ فیصلوں کو ہمارے حوالے کریں ہم دیکھ لیں گے۔سلمان صفدر نے کہا کہ سر مجھے تین سے چار منٹ دیں ایک مزے کی ججمنٹ پیش کرتا ہوں۔اسی کے ساتھ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلا نے کیس ریمانڈ بیک کرنے کی مخالفت کردی۔بعد ازاں پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے گواہ اعظم خان کا بیان عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اگر انہوں نے کہا کہ ملٹری سیکریٹری کو ڈھونڈنے کے لیے بتایا تو جان بوجھ کر تو نہیں ہوا ناں، عدالت نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ ان کو چھوڑیں، کیس آپ کا تھا تو آپ نے ثابت کرنا ہے، جان بوجھ کر سائفر کاپی عمران خان نے اپنے پاس رکھی اس سے متعلق بتائیں۔

    پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کے دلائل پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ حامد علی شاہ کا کیس ہی کچھ اور تھا، شاہ صاحب نے اس کتابچے پر دلائل دیے تھے آپ اعظم خان کے بیان پر دلائل دے رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے آفیشل سیکریٹ سے متعلق کتابچہ طلب کرلیا۔
    نے استفسار کیا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے کتابچے میں جو رولز اینڈ ریگولیشن ہیں وہی ہوں گے ناں؟
    ان رولز کے مطابق عمران خان کو سائفر کی کاپی کس نے دی ؟ اس کو آپ رولز کہیں، ریگولیشن کہیں، اس کا عوام کو نہیں پتا تو یہ قانون نہیں، سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے، اپنے کیس پر رہیں ادھر ادھر نہ جائیں۔ کیس کا پس منظر

  • مخصوص نشستوں سے متعلق کیس،چیف جسٹس پاکستان نے فیصل صدیقی کو خیبرپختونخواکو کے پی کے بولنے سے روک دیا

    مخصوص نشستوں سے متعلق کیس،چیف جسٹس پاکستان نے فیصل صدیقی کو خیبرپختونخواکو کے پی کے بولنے سے روک دیا

    (سنگ میل نیوز)سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے فیصل صدیقی کو خیبرپختونخواکو کے پی کے بولنے سے روک دیا
    ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے لوگ اس نام سے بلائے جانے پربرا مناتے ہیں،

    دیگر صوبوں کیلئے بھی مخفف استعمال کریں یا ان کا بھی پورا نام لیں،فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہاکہ یاد دہانی کا بہت شکریہ میں خیال رکھوں گا۔
    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے

    ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 13ججز پر مشتمل فل کورٹ کیس پر سماعت کر رہا ہے،جسٹس مسرت ہلالی علالت کے باعث بنچ کا حصہ نہیں ہیں،
    جسٹس مسرت ہلالی کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام ججز بنچ کا حصہ ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیس میں مخالف فریق کون ہیں؟بینیفشری کون تھے جنہیں فریق بنایا گیا؟
    وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ جن کو اضافی نشستیں دی گئیں وہ بینیفشری ہیں،

    مجموی طور پر 77متنازعہ نشستیں ہیں،قومی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشتیں ہیں، بریک ڈاؤن دے دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ قومی اسمبلی کی 22اور صوبائی اسمبلی کی 55نشستیں متنازعہ ہیں۔
    چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 8نشستیں کس کس جماعت کو گئی ہیں؟

    وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ مسلم لیگ ن کو 4،جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کو 2،2نشستیں اضافی ملی ہیں،ایم کیو ایم کو سندھ سے خواتین کی ایک اضافی نشست ملی ہے،
    وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہاکہ پنجاب سے مسلم لیگ ن کو 9، پیپلزپارٹی کو 2نشستیں ملی ہیں،

    جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ یہ آپ نے 20نشستیں بتائی ہیں،فیصل صدیقی نے کاکہ اقلیتوں کے کوٹے پر ایک پیپلزپارٹی، ایک ن لیگ، ایک جے یو آئی کو ملی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا.
    کہ اب الیکشن کمیشن سے پوچھیں گے یہ 22نشستیں ہیں یا 23ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اب صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی ہمیں بتا دیں،فیصل صدیقی نے کہاکہ سندھ میں 2نشستیں متنازعہ ہیں ایک پیپلزپارٹی، دوسری ایم کیو ایم کو ملی ہے،
    ایک اقلیتوں کی صوبائی نشست بھی پیپلزپارٹی کو ملی ہے، پنجاب اسمبلی میں 21نشستیں متنازعہ ہیں.

    ،پنجاب میں ن لیگ کو 19،پیپلزپارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کو ایک ، ایک نشست ملی،اقلیتوں کی ایک متنازعہ نشست مسلم لیگ ن ، ایک پیپلزپارٹی کو ملی،خیبرپختونخوااسمبلی میں جے یو آئی کو 8، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو 5،5نشستیں ملیں،خیبرپختونخوا میں ایک نشست پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین، ایک اے این پی کو ملی،اقلیتوں کی 3متنازعہ نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں۔

  • عدت میں نکاح کیس کی سماعت دوسری عدالت منتقل

    عدت میں نکاح کیس کی سماعت دوسری عدالت منتقل

    (سنگ میل نیوز) عدت نکاح کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست منظور کرلی گئی ۔

    دوران عدت نکاح کیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے دوسری عدالت کو ٹرانسفر کرنے کی درخواست منظور کرلی،
    کیس سیشن جج محمد افضل مجوکا کی عدالت کو ٹرانسفر کردیا ۔

    سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کیس منتقلی کیلئےچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا تھا ،

    بشریٰ بی بی کے سابق خاوند خاور مانیکا نے جج شاہ رخ ارجمند پر اعتراض کیا تھا۔
    عدت میں نکاح کیس کی سماعت اب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا سماعت کریں گے۔
    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلاء اور خاور مانیکا میں تلخ کلامی ہوئی ،جج فیصلہ سنائےبغیر چلے گئے تھے۔

    کمرہ عدالت کے باہر بھی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ۔خاور مانیکا نے جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کیا تھا ۔

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر براہ راست سماعت جاری

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر براہ راست سماعت جاری

    (قمر عباس)سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان کا 13 رکنی فل کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت کر رہا ہے،

    چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تمام ججز بنچ کا حصہ ہیں جبکہ بیماری کے باعث جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ نہیں ہیں۔
    قبل ازیں مئی میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو مختص کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کی پارلیمنٹ میں صحیح نمائندگی ہونی چاہیے،
    عدالت نے مخصوص نشستوں کا معاملہ ججز کمیٹی کو بھیج دیا تھا تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اس کیس کی سماعت وہی بنچ کرے گا یا بڑا بنچ تشکیل دیا جائے گا۔

    4 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مخالف جماعتوں کی درخواستیں قبول کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا .
    کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں خالی نہیں رہیں گی اور سیاسی جماعتوں کی جیتی ہوئی نشستوں کی بنیاد پر متناسب نمائندگی کے عمل کے ذریعے الاٹ کی جائیں گی،

    اس پیشرفت کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو کل 77 مخصوص نشستوں سے محروم ہونا پڑا،
    قومی اسمبلی کی 23 نشستیں (20 خواتین اور 3 اقلیتیں)، 25 خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستیں (21 خواتین اور 4 اقلیتیں)،
    سندھ اسمبلی کی دو نشستیں (خواتین) اور 27 پنجاب اسمبلی کی نشستیں (24 خواتین اور 3 اقلیتی) شامل تھیں۔
    پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے دائر درخواستیں بھی مسترد کر دی تھیں،
    سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر براہ راست سماعت جاری

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر براہ راست سماعت جاری

    (سنگ میل نیوز) سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں براہ راست سماعت جاری ہے۔
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بینچ معاملے کی سماعت کررہا ہے,

    یاد رہے کہ 6 مئی سپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔
    3 مئی کو ‏پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہوگیا تھا،
    4 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں تھی۔
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے 28 فروری کو درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کےسیکشن 104 کےتحت فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کیا ہے۔