Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 68 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • او جی ڈی سی ایل کاملک میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کادعویٰ

    او جی ڈی سی ایل کاملک میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کادعویٰ

    اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے صوبہ سندھ اور پنجاب میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اس حوالے سے تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کر دی ہیں۔او جی ڈی سی ایل کے مطابق، حیدرآباد کے پساکھی آئل فیلڈ میں پہلی بار ملٹی فزیوکیمیکل اسٹیملیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پساکھی آئل فیلڈ میں خام تیل کی پیداوار یومیہ 375 بیرل سے بڑھ کر 520 بیرل ہو گئی ہے، جو یومیہ 145 بیرل کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔مزید برآں، رحیم یار خان کے ماری ایسٹ فیلڈ سے پہلی بار گیس کے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ 2 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس 14.5 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے اینگر فرٹیلائزر کو منتقل کی جا رہی ہے۔یہ دریافتیں ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں اور اس سے توانائی کی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

  • معیشت اور رابطوں کے فروغ میں اہم پیش رفت‘ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ مکمل طور پر آپریشنل

    معیشت اور رابطوں کے فروغ میں اہم پیش رفت‘ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ مکمل طور پر آپریشنل

    گوادر: نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ مکمل طور پر آپریشنل ہو گیا ہے، جسے سی پیک کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق، یہ ایئرپورٹ سالانہ چار لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا۔نیو گوادر ایئرپورٹ کا 3.6 کلومیٹر طویل رن وے بڑے طیاروں کے لیے موزوں بنایا گیا ہے اور یہ جدید ترین کنٹرول سسٹمز سے لیس ہے۔ منصوبہ 246 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوا اور ایئرپورٹ پر جدید سیکیورٹی کے انتظامات اور مسافروں کے لیے تمام ضروری سہولتیں دستیاب ہیں۔ایئرپورٹ کا رقبہ 4,300 ایکڑ پر محیط ہے اور اس کی تکمیل دسمبر 2024 میں ہوئی۔ پی اے اے کے مطابق، یہ منصوبہ نہ صرف علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے میں مددگار ہوگا بلکہ ملکی معیشت کے فروغ کا بھی ذریعہ بنے گا۔نیو گوادر ایئرپورٹ جدید انفراسٹرکچر، عالمی معیار کی سہولتوں اور تیز تر سفری خدمات کی فراہمی کے ساتھ بلوچستان کی ترقی اور سی پیک کے اہداف کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 250 ملین ڈالر کے معاہدے

    پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 250 ملین ڈالر کے معاہدے

    بیجنگ: پاکستانی اور چینی کمپنیوں نے طبی آلات اور جراحی کے شعبے میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے 250 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدے بیجنگ میں منعقدہ چین-پاکستان بی ٹو بی میچ میکنگ کانفرنس کے دوران طے پائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق، سلک روڈ اسسٹنس انڈسٹریل انٹرنیٹ پلیٹ فارم نے پاکستان کی ڈینٹل اور جراحی آلات بنانے والی کمپنی ساوت اور چینی فارماسیوٹیکل کمپنی یو پی ایچ بائیو فارما کے ساتھ معاہدے کیے۔ پاکستان کے سفارتخانے نے بھی ان معاہدوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے دوران کل تین معاہدے کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 250 ملین ڈالر ہے۔ یہ کانفرنس سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والی چھٹی بی ٹو بی میٹنگ تھی۔ پاکستان کے سفیر برائے چین خلیل ہاشمی نے کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے طبی آلات کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت کی مالیت 600 ملین ڈالر سے زائد ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان 17 سے 19 اپریل 2025 کو لاہور میں چوتھی ہیلتھ، انجینئرنگ، اور منرلز شو کی میزبانی کرے گا، جس میں جراحی اور طبی آلات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کانفرنس کے دوران بتایا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے جون 2023 کے دورہ چین کے بعد سے سات بی ٹو بی ایونٹس کی سیریز مکمل ہو چکی ہے، اور اگلے مہینے سے مزید سات روڈ شوز کا آغاز متوقع ہے۔ اس دورے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 32 معاہدے کیے گئے تھے۔

  • آئی ایم ایف کا ورلڈ اکنامک آئوٹ لک جاری ‘پاکستان کی معاشی ترقی 4فیصد رہنے کا امکان

    آئی ایم ایف کا ورلڈ اکنامک آئوٹ لک جاری ‘پاکستان کی معاشی ترقی 4فیصد رہنے کا امکان

    اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک جاری کر دیا۔آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی 3 فیصد اور آئندہ مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال بھارت کی معاشی ترقی 6.5 فیصد اور آئندہ مالی سال بھارت کی معاشی ترقی 6.5 فیصد رہ سکتی ہے۔رواں مالی سال امریکا کی معاشی ترقی 2.7 فیصد اور آئندہ مالی سال امریکا کی معاشی ترقی 2.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔آؤٹ لک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال چین کی معاشی ترقی 4.6 فیصد اور آئندہ مالی سال چین کی معاشی ترقی 4.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔رواں مالی سال برطانیہ کی معاشی ترقی 1.6 فیصد اور آئندہ مالی سال برطانیہ کی معاشی ترقی 1.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔اس سے پہلے آئی ایم ایف نے پاکستان کی شرح نمو 3.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

  • نائب وزیرِاعظم کی صنعتی بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت

    نائب وزیرِاعظم کی صنعتی بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے متعلقہ محکموں کو صنعتی بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے عمل کا آغاز کرنے کی ہدایت دی ہے۔آج (جمعہ) اسلام آباد میں صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں پر ہونے والے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نائب وزیرِاعظم نے یہ احکامات جاری کیے۔اجلاس کے دوران نائب وزیرِاعظم نے وزارتِ خزانہ، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور وزارتِ توانائی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیا۔انہوں نے زور دیا کہ بجلی کے نرخوں میں ریلیف صنعتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اور اس عمل کو فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے۔

  • امریکی پابندیوں کی وجہ سے خام تیل کی سپلائی متاثر، قیمتوں میں ہفتہ وار اضافے کا امکان

    امریکی پابندیوں کی وجہ سے خام تیل کی سپلائی متاثر، قیمتوں میں ہفتہ وار اضافے کا امکان

    اسلام آباد: خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ مسلسل چوتھی ہفتہ وار اضافے کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ روسی توانائی کی تجارت پر تازہ ترین امریکی پابندیوں نے سپلائی کو متاثر کیا ہے اور اسپاٹ ٹریڈ کی قیمتوں اور شپنگ کی شرحوں میں اضافہ کیا ہے۔برینٹ کروڈ فیوچر 44 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے سے 81.73 ڈالر فی بیرل، یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 62 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے سے 79.3 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔رواں ہفتے اب تک برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی میں بالترتیب 2.5 فیصد اور 3.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔فوجیٹومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار توشیتاکا تزاوا نے کہا کہ روسی تیل کے پروڈیوسرز اور ٹینکرز پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے رسد کے خدشات،ساتھ ہی ممکنہ امریکی شرح سود میں کمی کے ذریعے طلب کی بحالی کی توقعات، خام تیل کی مارکیٹ کو مضبوط کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سرد موسم کی وجہ سے مٹی کے تیل کی طلب میں متوقع اضافہ ایک اور معاون عنصر ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے پچھلے جمعہ کو روسی تیل کے پروڈیوسرز اور ٹینکرز پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد روس کی فوجی صنعتی بنیاد اور پابندیوں سے بچاؤ کی کوششوں کے خلاف مزید اقدامات کیے گئے۔ماسکو کے اہم گاہک چین اور بھارت اب عالمی سطح پر متبادل بیرل تلاش کر رہے ہیں جس کے باعث شپنگ کی شرحوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کار بھی بے چینی سے یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اگلے پیر کو دفتر سنبھالنے کے بعد مزید فراہمی میں کوئی خلل آتا ہے یا نہیں۔

  • نئے گوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ کا آپریشن 20 جنوری سے شروع ہوگا:سول ایوی ایشن

    نئے گوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ کا آپریشن 20 جنوری سے شروع ہوگا:سول ایوی ایشن

    گوادر: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اعلان کیا ہے کہ نیا گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ 20 جنوری سے آپریشنل ہو جائے گا۔سی اے اے ذرائع کے مطابق، ایئرپورٹ کے آپریشنل ہونے کے حوالے سے نوٹس ٹو ایئر مین (NOTAM) جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، ایئرپورٹ 20 جنوری سے پروازوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہوگا۔سی اے اے نے جاری کردہ نوٹم کے ذریعے تمام ایئرلائنز کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے، جو ایئرپورٹ کے آپریشنل ہونے کے حوالے سے پہلا رسمی تحریری اعلان ہے۔ابتدائی طور پر، قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نئے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا آغاز کرے گی۔ملکی اور بین الاقوامی ایئرلائنز نے بھی نئے ایئرپورٹ سے پروازیں چلانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

  • وزیراعظم کی چھوٹے کاروباری قرض کی حد 5 سے 15لاکھ روپے کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی چھوٹے کاروباری قرض کی حد 5 سے 15لاکھ روپے کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر ایک جامع سروے کرنے کی ہدایت دی ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں ایس ایم ایز سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت چھوٹے کاروباروں کے لیے قرض کی حد پانچ لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ ملین روپے کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے چھوٹے کاروباروں میں خواتین کاروباری افراد کے لیے ایک خصوصی پیکیج تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔شہباز شریف نے ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کو اپنانے پر زور دیا تاکہ ایس ایم ایز کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔وزیر اعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام محنت کش طبقے کو کاروباری سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز دنیا بھر میں اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ایس ایم ایز کو فروغ دے کر ملک کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت نوجوانوں اور خواتین کاروباری افراد کو اس طرح بااختیار بنا رہی ہے کہ وہ نہ صرف خود روزگار کے مواقع پیدا کریں بلکہ اضافی ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کریں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر ایس ایم ایز کے لیے قرض کی درخواست کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروبار اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار میں بہتری لا سکیں۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ایس ایم ای ڈی اے (SMEDA) رواں سال فروری تک ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی خواندگی اور تربیتی پروگرام شروع کرے گا۔اس کے علاوہ، ایس ایم ایز کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے ایک پروگرام بھی تیار کیا جا رہا ہے، جو سال کے وسط تک حتمی شکل دے کر شروع کیا جائے گا۔

  • ورلڈ اکنامک فورم کا پاکستان کی معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار

    ورلڈ اکنامک فورم کا پاکستان کی معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار

    ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کی معاشی صورتحال پراظہار اعتماد اوراطمینان کیا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم نے گلوبل رسک رپورٹ 2025جاری کر دی ، رپورٹ کے مطابق چیلنجز کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے،پاکستان نے کڑے چیلنجز کے باوجود معاشی کامیابیاں حاصل کیں۔خطے میں اسلحہ کی دوڑ کے باوجود پاکستان کی محتاط سوچ لائق تحسین ہے،دنیا بھر میں فوجی بجٹ میں اضافہ ہوا لیکن پاکستان اسلحہ کی دوڑ کا حصہ دار نہیں بنا۔پاکستان نے مہنگائی میں کمی، معاشی استحکام اورروپے کی قدر میں بہتری دکھائی،پاکستان نے قرض کی بہتر انتظام کاری کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری دکھائی۔ پاکستان ماحولیاتی طور پر سب سے زیادہ متاثر ممالک میں سے ایک ہے،پاکستان میں سیلاب، ہیٹ ویوز اور پانی کی قلت جیسے عوامل استحکام اور روزگار کے لیے خطرہ ہیں۔ سی ای او مشعل پاکستان عامر جہانگیر کا کہنا ہے کہ علاقائی تعاون کو بڑھا کر پاکستان مزید استحکام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،خطرات کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت مستقبل کا تعین کرے گی۔پاکستان خود کو ابھرتے ہوئے عالمی منظر نامے میں اہم کھلاڑی کے طور پر کھڑا کر سکتا ہے۔

  • چین کے ساتھ ایم ایل ون کی تعمیر کیلئے فنانسنگ کا معاہدہ مزیدتاخیر کا شکار

    چین کے ساتھ ایم ایل ون کی تعمیر کیلئے فنانسنگ کا معاہدہ مزیدتاخیر کا شکار

    اسلام آباد: حکومت کا چین کے ساتھ ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کی تعمیر کیلئے فنانسنگ کا معاہدہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع وزارت منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ ایم ایل ون فیز ون کے لیے 2024ء کے آخری کوارٹر میں معاہدہ طے پایا جانا تھا، اس سلسلے میں پلاننگ کمیشن اور اقتصادی امور کی جانب سے گزشتہ سال کے آخری کوارٹر میں معاہدے کے لیے کوششیں جاری رہیں، تاہم ایم یل ون معاہدے میں نئے سرے سے دستخط کیے جانے کے باعث تاخیر ہو رہی ہے، تاخیر کی وجہ ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے فیزز کی تبدیلی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چین کی ٹیکنیکل ٹیم کے آئندہ ماہ پاکستان کے دورے سے قبل اب ورچوئل مذاکرات ہوں گے، اس دوران ٹیکنیکل ٹیم کے ساتھ منصوبے کی فزیبیلٹی سٹڈی اور دورے پر حتمی بات چیت کی جائے گی، ورچوئل میٹنگ کے دوران فزیبیلٹی سٹڈی اور دورے کے لیے تاریخ سے بھی آگاہ کیا جائے گا، اس کے بعد جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوگا اور پھر معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ایم ایل ون یا مین لائن ون پاکستان ریلوے کا ایک منصوبہ ہے جس کا مقصد ملک کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا ہے، یہ ریلوے لائن سندھ میں کیماڑی سٹیشن سے خیبرپختونخواہ میں پشاور کنٹونمنٹ سٹیشن تک پھیلی ہوئی ہے، یہ ملک کی بنیادی مسافر اور مال بردار لائن ہے، 2024ء کے آخری کوارٹر میں معاہدہ ہونے کی سورت میں فروری 2025ء میں اس کا افتتاح ہونا تھا۔