ڈیووس: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سعودی مملکت کے وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان کے ساتھ ساتھ قطر کے وزیر خزانہ علی احمد الکواری کے ساتھ بیک ٹو بیک ملاقاتیں کیں۔محمد بن عبداللہ الجدعان سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ اورنگزیب نے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے کلیدی اصلاحاتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب کو ساختی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور ریگولیٹری بہتری کے بارے میں آگاہ کیا جنہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دونوں وزراء نے علاقائی اقتصادی ترقی پر تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ سرمایہ کاری اور مالی تعاون کو گہرا کرنے کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر زور دیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں بشمول تجارت، انفراسٹرکچر اور توانائی میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے بھی قطر کے وزیر خزانہ علی احمد الکواری سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے قطری ہم منصب کو پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی بہتر بین الاقوامی مالیاتی درجہ بندی پر روشنی ڈالی جو کہ مالیاتی اصلاحات، میکرو اکنامک استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ملک کی مضبوط کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں وزراء نے پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے تعلقات پر زور دیا اور باہمی طور پر فائدہ مند شعبوں میں اقتصادی تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں دوطرفہ سرمایہ کاری، تجارت اور مالیاتی تعاون کو بڑھانے کی پیشکش کی۔
Category: کاروبار
-

کراچی: اسٹاک ایکسچینج‘ خریداروں کا رحجان بحال‘ انڈیکس 114,000 کی سطح سے اوپر بند
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں گزشتہ دو کاروباری سیشنز میں فروخت کے دباؤ کے بعد جمعرات کو خریداری کا رحجان بحال ہوا ہے اور بینچ مارک کے ایس ایس ای 100 انڈیکس 114,000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر بند ہوا۔کاروباری سیشن کے پہلے نصف کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس پر کچھ حد تک فروخت کا دباؤ رہا جس کے نتیجے میں یہ انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 113,234.31 پوائنٹس تک گرگیا۔تاہم دوسرے سیشن کے دوران بڑے پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آئی جس کی بدولت انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 114,319.62 پوائنٹس تک جا پہنچا۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 594.36 پوائنٹس یا 0.52 فیصد اضافے سے 114,037.79 پر بند ہوا۔بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ مارکیٹ کا رحجان حالیہ غیر ملکی کارپوریٹ خریداری سے بہتر ہوا اور سیمنٹ کے اسٹاکز پر توجہ مرکوز رہی۔ٹاپ لائن کے مطابق اینگرو، پی ایس او، ایف سی سی ایل، ایس ای آر ایل اور ایم ایل نے انڈیکس میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے مجموعی طور پر 309 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی شیئرز میں اضافہ ہوا جس میں بیجنگ کی جانب سے اپنے گرتے ہوئے اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے حالیہ اقدامات کے بعد چین کے شیئرز میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا جب کہ دوسری جانب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی منصوبوں پر مرکوز رہیں۔
-

بیرون ملک ملازمت‘یومیہ 2ہزار افراد کا ملک چھوڑنے کا انکشاف
اسلام آباد:یومیہ 2ہزار ہنرمند پاکستانیوں کے بہتر روزگار کیلئے ملک سے باہر جانے کا انکشاف ہوا ہے۔سرکاری اعدادوشمارکے مطابق پچھلے پانچ سال میں ساڑھے 35 لاکھ ہنرمند پاکستانی ملک سے باہر گئے ہیں،پانچ سال میں ساڑھے 13 ہزار ڈاکٹرز روزگار کیلئے ملک سے باہر گئے۔ساڑھے 43 ہزار طب سے جڑے افراد بیرون ملک روزگار کیلئےگئے،اس کے علاوہ پچھلے پانچ سال میں 238 پائلٹ بیرون ملک نوکری کیلئے گئے۔32 ہزار سے زائد پروفیشنل انجینئرز ملک سے باہر گئے،5سال میں چوبیس ہزار اکائونٹنٹس نے روزگار کیلئے بیرون ملک سفر کیا۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق10 لاکھ لیبر کلاس روزگار کیلئے بیرون ملک گئی،دس لاکھ ڈرائیور روزگار کیلئے بیرون ملک گئے۔6 لاکھ جنرل مزدور روزگار کیلئے بیرون ملک گئے،اس کے علاوہ 5 لاکھ ہیرکٹر اور سیکورٹی گارڈ روزگار کیلیے باہر گئے۔
-

رواں ماہ مہنگائی کی شرح 3 فیصد سے کم رہنے کا امکان
کراچی: مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سی پی آئی پر مبنی افراط زر میں کمی کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے اور اندازوں کے مطابق جنوری میں مہنگائی 3 فیصد سے بھی کم ہوسکتی ہے۔جے ایس گلوبل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افراط زر میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے اور جنوری 2025 میں سی پی آئی کے 2.8 فیصد تک گرنے کا امکان ہے (نومبر 2015 کے بعد سے سب سے کم) حالانکہ ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد کا اضافہ متوقع ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس طرح مالی سال 2025 کے پہلے 7 ماہ میں اوسط افراط زر کی شرح 6.7 فیصد تک پہنچ جائے گی جو مالی سال 24 کے 7 ماہ کی اوسط سے 28.7 فیصد کم ہے۔اسی طرح کی رپورٹ ایک اور بروکریج ہاؤس اسماعیل اقبال سیکیورٹیز لمیٹڈ نے بھی پیش کی ہے۔بروکریج ہاؤس نے کہا کہ جنوری 25 کے لئے افراط زر کی شرح 2.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو پچھلے سال کے اسی دورانیے میں 28.3 فیصد سے نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے، جو قیمتوں کے دباؤ میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2024 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح سالانہ 4.1 فیصد رہی جو نومبر 2024 کے مقابلے میں 4.9 فیصد کم ہے۔بروکریج ہاؤسز نے نوٹ کیا کہ افراط زر کی ریڈنگ میں مسلسل کمی مرکزی بینک کو کلیدی پالیسی ریٹ میں مزید کٹوتی کی ترغیب دیتی ہے۔جے ایس گلوبل نے کہا کہ ہمارے خیال میں مہنگائی میں مسلسل کمی، جو مئی 2025 سے سنگل ڈیجٹ میں مستحکم ہو جائے گی، مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے لیے نرمی کے عمل کو جاری رکھنے کا مزید مضبوط جواز پیش کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ماہ مزید کمی کی توقع رکھتے ہیں۔گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک کی ایم پی سی نے پالیسی ریٹ کو 200 بی پی ایس کم کرکے 13 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مجموعی طور پر گزشتہ پانچ مسلسل مانیٹری پالیسی فیصلوں کے دوران جون سے پالیسی ریٹ میں 900 بی پی ایس کی کمی واقع ہوئی ہے۔
-

غذائی تحفظ میں معیاری بیجوں کا کردار بہت اہم ہے، رانا تنویر حسین
اسلام آباد: وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے معیاری بیجوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زرعی پیداوار بڑھانے میں یہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں قومی بیج ترقی اور ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA) کے انتظامی ڈھانچے، وژن اور اسٹریٹجک اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قومی بیج پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جو کہ ملک کے بیج کے شعبے کی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔اس موقع پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ جدید اور برآمدی معیار کے بیج خود کفالت حاصل کرنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے NSDRA کو مکمل فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کے بیج کے شعبے کو بہتر بنایا جا سکے اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔وزیر نے بیج کی صنعت کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی زرعی ترقی اور طویل مدتی غذائی تحفظ کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔
-

اوگرا نے قانونی پیٹرول پمپس تلاش کرنے کے لیے موبائل ایپ لانچ کر دی
اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے تعاون سے ایک موبائل ایپلی کیشن ’’راہگزر‘‘ لانچ کر دی ہے۔ یہ ایپ جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کو ملک بھر میں قانونی پیٹرول پمپس اور آؤٹ لیٹس کی نشاندہی میں مدد فراہم کرتی ہے۔’’راہگزر‘‘ ایپ ایک آسان اور صارف دوست پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جس کے ذریعے صارفین، ضلعی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی آؤٹ لیٹس یا “ڈبہ اسٹیشنز” کی شناخت کر سکتے ہیں۔ صارفین ایپ کے ذریعے غیر قانونی آؤٹ لیٹس، زیادہ قیمت وصولی یا معیار سے متعلق شکایات درج کر سکتے ہیں، جس سے شفافیت کو فروغ ملے گا اور تمام فریقین کو بااختیار بنایا جائے گا۔ایپ قانونی پیٹرول پمپس کی لوکیشنز کے ساتھ ساتھ موجودہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی دکھاتی ہے، تاکہ صارفین کو مکمل معلومات دستیاب ہوں۔
-

شمالی افغانستان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چینی کان کن ہلاک
کابل: افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں ایک چینی کان کن نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گیا۔صوبائی پولیس کے ترجمان محمد اکبر حقانی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی شام پیش آیا جب چینی شہری تاجکستان کی سرحد کے قریب “نامعلوم وجوہات” کی بنا پر سفر کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص نے سفر کے دوران سیکیورٹی حکام کو مطلع نہیں کیا، جو عمومی طور پر چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ حملے میں متاثرہ کے ساتھ سفر کرنے والے مترجم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بھی واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ ہلاک ہونے والا چینی شہری کان کنی کے ایک معاہدے کے تحت افغانستان میں کاروبار کر رہا تھا۔چین کے سفارتخانے نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔طالبان حکومت افغانستان کے وسیع قدرتی وسائل کو اقتصادی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہری موقع کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ چین اور افغانستان کے حکام نے حال ہی میں کابل میں سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کی تقریب منعقد کی، جہاں نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے چینی سرمایہ کاروں کو افغانستان میں اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کی دعوت دی۔اگرچہ 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن داعش (ISIS) کا علاقائی گروہ تسلسل کے ساتھ حملے کر رہا ہے۔ 2022 میں کابل کے ایک ہوٹل پر حملے میں 5 چینی شہری زخمی ہو گئے تھے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔
-

سینیٹ کمیٹی کا ایف بی آر کو 6 ارب روپے کی گاڑیوں کی خریداری منسوخ کرنے کا حکم
اسلام آباد: سینیٹ کی فنانس کمیٹی نے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی قیادت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 6 ارب روپے کی مالیت سے 1,010 گاڑیوں کی خریداری کا منصوبہ فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔کمیٹی اجلاس کے دوران اس منصوبے پر سخت تنقید کی گئی اور اسے “مشکوک” اور “کرپشن کا دروازہ کھولنے” کے مترادف قرار دیا گیا۔چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر کو اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے طنزاً کہا، “کیا ایف بی آر کے فیلڈ افسر پہلے سائیکلوں پر ٹیکس جمع کر رہے تھے؟”سینیٹر فیصل واوڈا نے الزام لگایا کہ ایف بی آر مخصوص کمپنیوں سے گاڑیاں خرید رہا ہے اور اس معاہدے کو “کرپشن کا بڑا اسکینڈل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ خریداری نہ روکی گئی تو یہ ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل بن سکتی ہے۔ایف بی آر کے حکام نے اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیاں فیلڈ افسران کی آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خریدی جا رہی ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ 6 ارب روپے کی اس خریداری کے لیے 13 جنوری کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا جا چکا ہے، اور 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی بھی کی گئی ہے۔
خریداری کا منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوگا:
پہلا مرحلہ (جنوری تا مارچ 2025): 500 گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جن میں 75 گاڑیاں جنوری، 200 فروری اور 225 مارچ میں شامل ہوں گی۔
دوسرا مرحلہ (اپریل تا مئی 2025): 510 گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جن میں 250 اپریل اور 260 مئی میں شامل ہوں گی۔
تمام گاڑیاں ایف بی آر کے لوگو اور ٹریکر سسٹم کے ساتھ ہوں گی، اور پہلے سال کے لیے ٹریکر چارجز ایف بی آر برداشت کرے گا۔
کمیٹی نے خریداری کے عمل کی جلد بازی پر بھی تنقید کی۔ سینیٹر واوڈا نے کہاکہ یہ معاملہ بہت عجلت میں طے کیا گیا ہے، جس کی شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ اس خریداری کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور آئندہ کسی بھی خریداری کے لیے شفاف اور مسابقتی عمل کو یقینی بنایا جائے۔ -

وزیراعلیٰ نے پنجاب کی سب سے بڑی بزنس فنانس اسکیم کا افتتاح کردیا
لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کی پہلی اور سب سے بڑی ایزی بزنس فنانس اسکیم کا افتتاح کر دیا، جس کے لیے 84 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 36 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جن سے 3 کروڑ مستحق افراد کو دس لاکھ روپے تک کے قرضے دیے جائیں گے۔ قرضوں کی ادائیگی 5 سال کی آسان اقساط میں ہوگی۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اسکیم کے لیے 25 سے 55 سال کے مرد، خواتین، خواجہ سرا اور خصوصی افراد درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ فعال فائلر ہوں اور کسی مالیاتی ادارے کے ڈیفالٹر نہ ہوں۔ درخواستیں ایزی فار بزنس فنانس کے ویب پورٹل akf.punjab.gov.pk پر دی جا سکتی ہیں۔ایزی بزنس کارڈ اسکیم کے تحت اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے دیے جائیں گے، جنہیں 3 سال میں اقساط میں واپس کیا جا سکے گا۔ اس کارڈ سے خام مال کی خریداری، فیسوں، ٹیکسوں، یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی اور 25 فیصد تک نقد رقم نکالنا ممکن ہوگا۔وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کو خود روزگار کی حوصلہ افزائی کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اسکیم معیشت کی بہتری اور برآمدات میں اضافے میں مددگار ثابت ہوگی۔ مزید رہنمائی کے لیے ٹول فری نمبر 1786 بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
-

درست اقدامات سے پاکستان صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، وزیر خزانہ
نیویارک: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ اکنامک فورم(ڈبلیو ای ایف) میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بہتر ہوا ہے اور قرض ٹو جی ڈی پی ریشو میں کمی آئی ہے، جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہدرست اقدامات سے پاکستان صحیح سمت میں گامزن ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اور فسکل اکاؤنٹ کا دہرا خسارہ ہے اور حکومت ان دونوں خساروں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 13.5 فیصد تک بڑھانے کے لئے ساختی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان کے قرضوں اور جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری آئی ہے جو 78 فیصد سے کم ہو کر 67 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ابھی بھی طویل سفر باقی ہے۔پاکستان کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جب جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچتی ہے تو درآمدات پر انحصار بڑھ جاتا ہے، جس سے ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوتا ہے اور آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے دوسرے مرحلے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ مرحلہ حکومت سے حکومت کے بجائے بزنس ٹو بزنس شراکت داری پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چینی کمپنیوں کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس منتقل کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔کیپٹل مارکیٹ میں تنوع لانے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان مصر کے تجربات سے سیکھ کر کیپٹل مارکیٹ تک رسائی کو متنوع بنانا چاہتا ہے اور پانڈا بانڈ جاری کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔وزیر خزانہ نے برین ڈرین پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے لئے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لئے حکومت سخت محنت کر رہی ہے، خاص طور پر آئی ٹی شعبے میں۔
