اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے چیف ایگزیکٹو جان کے سی لی خصوصی ملاقات ۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیاگیا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، سینیٹر اورنگزیب نے جان کے سی لی سے ملاقات کے دوران مالیات، ٹیکنالوجی، اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے دونوں خطوں کے مشترکہ اقدار اور مفادات پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔وزیر خزانہ اور چیف ایگزیکٹو نے مختلف موضوعات پر تعمیری گفتگو کی، جن میں اقتصادی تعاون، تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری کے مواقع، اور ثقافتی تبادلے شامل تھے۔ اس گفتگو کا مقصد قریبی تعلقات کو فروغ دینا اور باہمی ترقی اور خوشحالی کے مواقع تلاش کرنا تھا۔اس موقع پر جان کے سی لی نے سینیٹر اورنگزیب کے دورے کا خیر مقدم کیا اور پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقتصادی ترقی، جدت طرازی، اور ثقافتی تبادلے کے لیے مضبوط شراکت داری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس تعاون کے دوطرفہ فوائد پر زور دیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب اور جان کے سی لی کے درمیان ہونے والی ملاقات دونوں فریقین کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں بامعنی شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔اس موقع پر پاکستان کے سفیر برائے چین خلیل ہاشمی اور ہانگ کانگ میں قونصل جنرل ریاض احمد شیخ بھی موجود تھے۔
Category: کاروبار
-

حکومت کا سستی بجلی فراہم کرنے کا خواب چکنا چور
پاکستان کی حکومت عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کا خواب دیکھ رہی تھی، تاہم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ وفاقی حکومت نے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی کمی کی تجویز دی تھی تاکہ عوام کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کی جا سکے، لیکن آئی ایم ایف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ قرض پروگرام کے تحت نئے ٹیکسز سے چھوٹ دینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے حکومت کے ٹیکس اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق سیلز ٹیکس میں کمی کی صورت میں پاکستان کے مالیاتی اہداف پورے کرنا ممکن نہیں رہے گا، جس سے حکومت کی معیشت کے استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کو نبھانے کے باوجود وہ جلد ہی اس معاملے پر آئی ایم ایف سے مزید بات کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شرح سود 13 فیصد پر آ چکی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ شرح 6 فیصد تک آ جائے، لیکن اس کے لیے تمام امکانات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تاجر برادری سے ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہو گا کہ کہاں بہتری ہے اور کہاں مشکلات ہیں۔
-

انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں پانچ پیسے کا اضافہ
کراچی: پاکستان میں انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں پانچ پیسے کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق آج کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 278 روپے 72 پیسے تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 278 روپے 67 پیسے پر بند ہوا تھا۔ اس اضافہ کے ساتھ ڈالر کی قدر میں ایک اور معمولی تبدیلی آئی ہے، جو اقتصادی صورتحال اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
-

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ
پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ آج آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 77 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، 10 گرام سونے کی قیمت بھی 858 روپے اضافے کے ساتھ 2 لاکھ 37 ہزار 483 روپے ہو گئی ہے۔ عالمی بازار میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جہاں 10 ڈالر کا اضافہ ہوا اور سونے کی قیمت 2 ہزار 652 ڈالر فی اونس ہو گئی۔
-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی کاروباری دن، 100 انڈیکس 1904 پوائنٹس گر گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 1904 پوائنٹس کم ہو کر 114148 پر بند ہوا۔ کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس 3903 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، جس سے مارکیٹ کی عدم استحکام کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس دوران 1.09 ارب شیئرز کے سودے 32.46 ارب روپے میں طے ہوئے، اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 204 ارب روپے کی کمی دیکھنے کو ملی، جو اب 14316 ارب روپے ہے۔
یہ مسلسل تیسرا روز تھا جب 100 انڈیکس منفی بند ہوا ہے، اور بازار میں بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے شیئرز کی فروخت کے اثرات واضح ہوئے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق، ایف بی آر کے ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے کی تشویش بھی مارکیٹ میں مندی کا سبب بنی ہے۔ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ سرمایہ کاری کے ماحول میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
-

پاکستان میں سونے کی قیمت میں 700 روپے کی کمی
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں سونے کی قیمت میں 700 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کے بعد فی تولہ سونا 2 لاکھ 75 ہزار روپے کا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی دیکھنے کو ملی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 2 لاکھ 35 ہزار 768 روپے ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت بھی 7 ڈالر کم ہو کر 2 ہزار 632 ڈالر ہو گئی ہے۔
-

کراچی ائیرپورٹ پر آوارہ کتوں کی بہتات، فلائٹ سیفٹی کے لیے خطرہ بن گئی
کراچی ائیرپورٹ کے جنرل ایوی ایشن ایریا میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد فلائٹ سیفٹی کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آوارہ کتے ٹیکسی وے پر آزادانہ گھومتے ہیں، جس سے طیاروں کے ساتھ تصادم کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ گزشتہ شام ایک آوارہ کتا ایک تربیتی طیارے سے ٹکراتے ٹکراتے رہ گیا، جس کی وجہ سے ایک پرواز کو حادثے کے خدشے کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی آوارہ کتوں کی ایریا میں آمد روکنے میں ناکام رہی ہے، اور ماضی میں ان کتوں کو مرکزی رن وے پر بھی دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے جنرل ایوی ایشن ایریا میں طیاروں کی پروازوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکام کی جانب سے اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
-

“کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید 1100 روپے کا اضافہ”
کراچی میں سونے کی فی تولہ قیمت میں دوسرے روز بھی 1100 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 74 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 943 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 2 لاکھ 35 ہزار 511 روپے ہوگئی ہے۔ عالمی بازار میں سونے کی قیمت میں 11 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سونے کی قیمت 2635 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز بھی سونے کی فی تولہ قیمت میں 1000 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔
-

ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب آئی ایم ایف کے طے شدہ ہدف سے تجاوز کر گیا
پاکستان کے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2024-25 کے دوران اپنے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 10.6 فیصد کے طے شدہ ہدف سے تجاوز کر کے 10.8 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ اس کامیابی کے باوجود ایف بی آر نے پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں 5624 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا، جو کہ 6009 ارب روپے کے ہدف سے 385 ارب روپے کم ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیا گیا تھا۔
اس اضافے کے باوجود، ایف بی آر نے اپنے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کے ہدف کو 0.2 فیصد جی ڈی پی کے معمولی فرق سے عبور کیا، جو ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے سالانہ بنیاد پر ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.6 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم پہلی ششماہی میں یہ تناسب 31 دسمبر 2024 تک 10.8 فیصد تک بڑھ گیا۔
دی نیوز کو بدھ کے روز شیئر کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر کی مدت میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 9.5 فیصد رہا، جو طے شدہ ہدف سے کم تھا۔ اس کے بعد، ایف بی آر نے دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.57 فیصد کے قریب رہنے کی توقع ظاہر کی ہے، جو ٹیکس وصولی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ایف بی آر کی یہ کارکردگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے، حالانکہ مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
-

ایلون مسک نے عارضی طور پر اپنا نام تبدیل کر کے کرپٹوکرنسی کی دنیا میں ہلچل مچادی
دنیا کے سب سے امیر شخص اور معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنا نام عارضی طور پر تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں کرپٹوکرنسی کی دنیا میں بے چینی پھیل گئی۔ ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنا نام ‘Kekius Maximus’ رکھ لیا، جس نے مختلف قیاس آرائیوں اور گمانوں کو جنم دیا۔
‘Kekius’ کا لفظ ممکنہ طور پر ‘kek’ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ‘زور سے ہنسنا’ کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یہ لفظ آن لائن گیمنگ کلچر میں بہت مقبول ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اسے دائیں بازو کے انتہا پسند نظریات سے جوڑا جانے لگا ہے۔ علاوہ ازیں، ‘Kek’ قدیم مصری دیوتا کا نام بھی ہے، جسے اندھیرے کا دیوتا مانا جاتا ہے اور اسے بعض اوقات مینڈک کے سر کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔
ایلون مسک نے صرف اپنا نام ہی نہیں بدلا، بلکہ اپنی پروفائل پکچر بھی تبدیل کر کے مشہور کامیک کریکٹر ‘Pepe the Frog’ کی تصویر لگا دی۔ یہ تصویر ایک میم کریکٹر کے طور پر مشہور ہے جسے دائیں بازو کے گروپوں نے اپنی حمایت میں استعمال کیا ہے۔ تاہم، مسک نے اس تبدیلی کی کوئی وضاحت نہیں دی، جس کے بعد مختلف لوگوں میں مختلف تاثر بن گیا۔
ایلون مسک کے اس قدم نے کرپٹوکرنسی کی دنیا میں ہلچل مچادی، خاص طور پر اس میم کریکٹر کے ساتھ جڑے میم کوائنز کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، کیونکہ ماضی میں بھی مسک نے اپنے سوشل میڈیا تبصروں کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
بعد ازاں، ایلون مسک نے اپنا عارضی نام اور پروفائل پکچر دوبارہ تبدیل کرتے ہوئے اپنے اصل نام ‘Elon Musk’ اور اپنی تصویر لگا دی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تبدیلی محض ایک عارضی قدم تھا۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ایلون مسک کی سوشل میڈیا پر موجود طاقت اور اس کے کرپٹوکرنسی کی دنیا پر اثرات کو اجاگر کیا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ مسک کے اقدام کس طرح کرپٹو مارکیٹ اور سوشل میڈیا پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، اور اس سے کرپٹو کرنسی کے سرمایہ کاروں اور انٹرنیٹ کلچر سے جڑے افراد کی توجہ ایک مرتبہ پھر مرکوز ہو گئی ہے۔
