امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے نتیجے میں برطانیہ کے شہزادہ ہیری کی خفیہ امیگریشن فائل منظر عام پر آسکتی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اب تک اِس فائل کو ریلیز ہونے سے روکے رکھا ہے 2016 کے الیکشن کے دوران میگھن مارکل کی جانب سے ٹرمپ کو عورت دشمن قرار دیے جانے اور جواب میں ٹرمپ کی جانب سے میگھن کیلئے گھٹیا کا لفظ استعمال کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور شہزادہ ہیری کے درمیان جھگڑا شروع ہوا اسی سال فروری میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ صدر بنے تو شہزادہ ہیری کو سپورٹ نہیں کریں گے کیونکہ اُس نے ملکہ الزبتھ کو دھوکہ دیا ہے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر پرنس ہیری نے اپنی امیگریشن ایپلی کیشن میں جھوٹ بولا تو مناسب کارروائی کی جائے گی شہزادہ ہیری کی امریکی امیگریشن کی درخواست پر اُس وقت سوال اُٹھنے شروع ہوئے جب اُنہوں نے 2023 میں اپنی یادداشت ’Spare‘ میں اعتراف کیا کہ وہ تفریحاً منشیات استعمال کرتے رہے ہیں یہ بات امریکی امیگریشن کی ایپلی کیشن میں ظاہر کرنا لازمی ہے، دائیں بازو کے تھنک ٹینک ہیریٹج فاؤنڈیشن کا دعویٰ ہے کہ منشیات کا تفریحاً استعمال بھی امریکی شہریت کیلئے نااہلی کا باعث ہوتا ہے امریکا میں محکمہ داخلی سلامتی امیگریشن کے معاملات دیکھتا ہے، اُس نے شہزادہ ہیری کی فائلز ریلیز کرنے سے انکار کیا تو ہیریٹج فاؤنڈیشن نے محکمے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا جو ابھی اپیل میں ہے
Category: بین الاقوامی
-

بائیڈن نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے پہلے مزید قانون سازی کرنے کا اشارہ دیدیا
صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شکست کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں مختصر خطاب میں کہا کہ جمہوریت میں عوامی رائے کو تسلیم کیا جاتا ہے، 20 جنوری کو اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے کریں گےکملا ہیرس کی شکست تسلیم کرتے ہوئے صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ کملا ہیرس نے بہترین مہم چلائی، امریکا کا انتخابی نظام شفاف ترین ہے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہمیشہ عوام کی رائےچلتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو فون پر مبارکباد دی ہے اور یقین دلایا ہے کہ انتظامیہ ان کی ٹیم کےساتھ کام کرےگی اپنے مختصر خطاب میں جو بائیڈن نے مزید کہا کہ ہم نے تاریخی صدارت کی، مضبوط معیشت چھوڑ کر جارہے ہیں، ہماری قانون سازی سے امریکی عوام کو اگلے دس سال میں فائدہ ملنا شروع ہوگا
-

یوگنڈا کی پارلیمنٹ میں جھگڑا، اراکین کی ایک دوسرے پر لاتوں مکوں کی برسات
یوگنڈاکی پارلیمنٹ میں نیشنل کافی امینڈمنٹ بل پر بحث کے دوران اراکین میں جھگڑا ہوگیایوگنڈا کے رکن پارلیمنٹ انتھونی اکل کو ساتھی رکن اسمبلی فرانسس زاکے نے گھونسا جڑ دیازخمی انتھونی کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرناپڑا، وہ اسپیکر کی سکیورٹی ٹیم کے ایوان میں اسلحہ لانے پر احتجاج کررہےتھےواقعےکے بعد فرانسس زاکے اور انتھونی اکول سمیت 12 اراکین کو ایوان کی تین نشستوں کے لیے معطل کر دیا گیا
-

امریکی الیکشن، پاکستانی نژاد امریکی سعود انور چوتھی بار سینیٹر منتخب
امریکن پاکستانی سعود انور ریاست کنیکٹی کٹ کی سینیٹ کا مسلسل چوتھی بار رکن منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئےسعود انور ریاست کے حلقہ نمبر 3 کی نمائندگی کر رہے ہیں، ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکن پاکستانی نے 27 ہزار 359 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے ری پبلکن حریف میٹ سیرا کوسا صرف 15 ہزار 57 ووٹ لے پائےسعود انور نے یکم مارچ 2019 کو یہ نشست پہلی بار جیتی تھی، اسی دور سے انہیں ہر الیکشن میں کامیابی ملتی رہی ہے، اس وقت ان کی بطور سینیٹر مدت اگلے سال 8 جنوری کو ختم ہونا ہےسعود انور نے 2022 میں میٹ ہارپر کو شکست دی تھی، اس وقت سعود انور نے 18 ہزار 968 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے حریف کو 12 ہزار 189 ووٹ ملے تھےسنہ 2020 میں سعود انور کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی جب وہ 35 ہزار 263 ووٹ لے کر بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے تھےسعود انور نے کنیکٹی کٹ سینیٹ کا پہلا الیکشن 26 فروری 2019 کو لڑا تھا، اس اسپیشل الیکشن میں سعود انور کو 4 ہزار 437 ووٹ ملے تھے اور ان کی ری پبلکن حریف سارہ مسکا 3 ہزار 317 ووٹ لے پائی تھیں سعود انور نے پبلک ہیلتھ کے شعبے میں ییل یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، وہ مقامی اسپتال میں ڈپارٹنمنٹ آف انٹرنل میڈیسن کے چیئرمیں بھی رہ چکے ہیں کوویڈ 19 کے دور میں جب دنیا بھر میں وینٹی لیٹرز کی بے انتہا مانگ تھی، سعود انور نے انتہائی آسان اور سستے طریقے سے وینٹی لیٹرز تیار کرکے مریضوں کی جانیں بچائی تھیں۔ اُس وقت سعود انور نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنا فرض انجام دینے کی کوشش کی ہےسعود انور ایشین پیسیفک امریکن افیئرز کے کمشنر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور ساؤتھ ونڈسر کے میئر بھی رہ چکے ہیں سعود انور ایف بی آئی کی ملٹی کلچرل ایڈوائزری کمیٹی کے کنسلٹنٹ بھی رہے ہیں
-

پیوٹن، ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیابی پر مبارکباد دیں گے؟ کریملن کا بیان آگیا
امریکا میں صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے کریملن نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات امریکا کا داخلی معاملہ ہے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد کا پیغام بھجوائے جانے سے متعلق کریملن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو جیت پر مبارکباد دینے کے صدر پیوٹن کے کسی بھی منصوبے سے لاعلم ہیں کریملن کا کہنا تھا کہ امریکا روس کیلئے دشمن ریاست ہے جو یوکرین کی جنگ میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر ملوث ہے یوکرین جنگ ختم کرنے کیلئے ٹرمپ کی ممکنہ کوشش کے بارے میں سوال پر کریملن کا کہنا تھا کہ اس بارے میں، قیاس آرائی کرنا نامناسب ہے، روس ٹھوس الفاظ اور اقدامات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرے گا
-

ڈونلڈ ٹرمپ صدر تو منتخب ہوگئے لیکن اُن کیخلاف زیر سماعت کرمنل کیسز کا کیا ہوگا؟
گزشتہ روز امریکا میں ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کو شکست دیکر ڈونلڈ ٹرمپ صدر تو منتخب ہو گئے ہیں لیکن اُن کے خلاف 4 کرمنل کیسز اب بھی چل رہے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف 4 کرمنل مقدمات میں سے ایک میں اُنہیں مجرم بھی قرار دیا جا چکا ہے امریکا میں اس سے پہلے کبھی کسی مجرم کو صدر منتخب نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی سابق صدر پر کرمنل چارجز لگے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر بنے تو خصوصی کونسل کے جیک اسمتھ کو نوکری سے نکال دیں گے اور اپنے خلاف فیڈرل کیسز ختم کر دیں گے۔امریکی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے خلاف فیڈرل کیسز خارج ہو سکتے ہیں اور ریاستی کرمنل کیسز اُن کی صدارتی مدت تک منجمد کیے جا سکتے ہیں گزشتہ روز ہونے امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ نے 538 الیکٹورل ووٹ میں سے 292 حاصل کیےٹرمپ کے مقابلے میں کملا ہیرس نے 226 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے، 7 سوئنگ ریاستوں میں سے 4 ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہوئے
-

ہماری لڑائی امریکا کے بہتر مستقبل کی لڑائی ہے،کملا ہیرس کا شکست کے بعد خطاب
ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے الیکشن میں شکست کے بعد خطاب میں الیکشن مہم میں ساتھ دینے والوں شکریہ ادا کیا امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ہارنے والی کملا ہیرس نے شکست قبول کرتے ہوئےکہا کہ الیکشن میں ہار مانتی ہوں، اقتدار کی پر امن منتقلی یقینی بنانےکیلئے پرعزم ہیں شکست کے بعد اپنے خطاب میں کملا ہیرس نے کہا کہ الیکشن نتائج تسلیم کرنے چاہئیں، جمہوریت کا اصول یہی ہے کہ ہارو تو شکست تسلیم کرو، جمہوریت اور آمریت میں یہی فرق ہے انہوں نے کہا کہ الیکشن مہم میں ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادارکرتے ہوئی کہا کہ انتخابی مہم میں لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش کی انہوں نے کہا کہ ستارے اندھیرے میں ہی نظر آتے ہیں، ہماری لڑائی امریکا کے بہتر مستقبل کی لڑائی ہے
-

لڑکیاں سلمان کی حقیقت کو کئی سال بعدپہچان پاتی ہیں: سومی علی
بالی وڈ اداکارہ سومی علی نے سپر اسٹار سلمان خان کی گرل فرینڈ کے طور پر جانے جانا اپنے لیے سب سے بڑی لعنت قرار دے دیا اداکارہ سومی علی 90کی دہائی کی مشہور اداکارہ اور سوشل ورکر بھی ہیں، سلمان خان اور سومی علی 8 سالوں تک تعلقات میں رہے لیکن سلمان خان کی زندگی میں ایشوریا رائے کی انٹری کے بعد دونوں کا تعلق ختم ہوگیا جس کے بعد سومی علی 1999 میں بھارت چھوڑ کر چلی گئیں حال ہی میں بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران سومی علی سے سوال کیا گیا کہ وہ آج بھی سلمان خان کی سابقہ گرل فرینڈ کے طور پر جانی جاتی ہیں ماضی کے اس تعلق نے ان کی پہچان میں خاطر خواہ اضافہ کیا اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟سوال کے جواب میں سومی کا کہنا تھا کہ سلمان خان کی گرل فرینڈ کے طور پر جانے جانا میرے لیے سب سے بڑی لعنت ہے، میں نے امریکا میں بہترین کام کیا اور بہت کچھ حاصل کیالیکن اس سب کے باوجود لوگ مجھے سلمان کی سابقہ گرل فرینڈ کے طور پر پہچانتے ہیں جو کہ میرے لیے سب سے بڑی لعنت ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’سلمان خان اس برس 59 یا 60 سال کے ہو جائیں گے لیکن وہ ابھی بھی اسکول کے لڑکوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، عدم تحفظ کا شکار ہونے کی وجہ سے دوسروں کو ہراساں کرتے ہیں، وہ لوگوں کو مجھ سے بات نہ کرنے کیلئے مجبور کرتےہیں اور لڑکیاں سلمان خان کی حقیقت کو کئی سال بعدپہچان پاتی ہیں
-

ڈیوڈ وارنر کو پابندی سے نجات کے بعد دوبارہ کپتانی مل گئی
کینبرا- آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر کو پابندی سے نجات کے بعد دوبارہ کپتانی مل گئی ڈیوڈ وارنر بی بی ایل میں سڈنی تھنڈر کی پھر سے قیادت کریں گے اور سڈنی تھنڈر نے ڈیوڈ وارنر کو قیادت سونپنے کی تصدیق کی ہے کپتانی ملنے کے بعد ڈیوڈ وارنر نے کہا کہ سڈنی تھنڈر کی دوبارہ کپتانی کرنے کی میرے نزدیک بڑی اہمیت ہے، میرے نام کے آگے اب کپتان لکھا گیا ہے مجھے اس کی بہت خوشی ہےواضح رہے کہ بال ٹیمپرنگ اسکینڈل2018 کے بعد ڈیوڈ وارنر پر کپتانی کرنے پر تاحیات پابندی کا سامنا تھا ڈیوڈ وارنر نے پابندی کے ریویو کے لیے اپیل کی تھی جس کے بعد 2 ہفتے قبل کرکٹ آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر پر عائدپابندی ہٹالی تھی
-

ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ امریکا کے صدر منتخب، کملا ہیرس کو شکست
امریکی صدر کے انتخاب کیلئے تمام 50 ریاستوں میں ہونے والی پولنگ کے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی معرکہ جیت لیا ہے امریکی صدارتی انتخاب میں538 میں سے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ نے 277 اور کملا ہیرس نے 226 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیںامریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 کروڑ 92 لاکھ 42 ہزار 911 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار کملا ہیرس نے 6 کروڑ 40 لاکھ 52 ہزار 768 ووٹ حاصل کیےاب تک کے نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ری پبلکن 196 اور ڈیموکریٹس 176 نشستوں پر کامیاب ہو چکے ہیں۔ امریکا کی 50 میں سے 27 ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ 19 میں کملا ہیرس کو کامیابی ملی ہےسینیٹ میں ری پبلکن نے 51 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ ڈیموکریٹس نے ایوان بالا کی 43 نشستیں جیت لی ہیں۔امریکا اب نئی بلندیوں پر پہنچے گا، ٹرمپ کا فتح کے بعد پہلا خطاب
امریکی صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعد فلوریڈا کے پام بیچ پر حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا آج ہم نے تاریخ رقم کی ہے، امریکا اب نئی بلندیوں پر پہنچے گا ان کا کہنا تھا ملک کے تمام معاملات اب ٹھیک کریں گے، ایسی کامیابی امریکی عوام نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، ایسی سیاسی جیت اس پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی گئی، امریکا کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بناؤں گا، امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے، حامیوں کا شکریہ، آپ کے ووٹ کے بغیر کامیابی ممکن نہیں تھی۔امریکا میں پولنگ مکمل ہونے کے اوقات بھی مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں، 6 مختلف ٹائم زون کے باعث مختلف امریکی ریاستوں میں پولنگ کا اختتام الگ الگ وقت پر ہواامریکی میڈیا کے مطابق 7 کروڑ 89 لاکھ افراد پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرچکے تھے اور کسی بھی امیدوار کو جیت کیلئے کل 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں
ووٹنگ کا اختتام الاسکا میں ہوا
امریکا میں 47 ویں صدر کے انتخاب کیلئے جاری پولنگ کا عمل امریکی ریاست انڈیانا اور کینٹکی میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بجے ختم ہوا جب کہ ریاست ہوائی، الاسکا اور کئی مغربی ریاستوں میں پولنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجے ختم ہوا، اس کے علاوہ جارجیا اور نیوکیرولائنا میں پولنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 سے7 بجے کے درمیان ختم ہوا
