Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 24 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • عام انتخابات: تین خواجہ سرا بھی میدان میں آگئے

    عام انتخابات: تین خواجہ سرا بھی میدان میں آگئے

    لاہور: پاکستان میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات میں جہاں بڑی تعداد میں مرد و خواتین امیدوار میدان میں ہیں، وہیں قومی اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں میں تین خواجہ سرا الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    پنجاب سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا نایاب علی قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 46 اور 47 سے امیدوار ہیں، پاکستان میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والی یہ واحد خواجہ سرا ہیں جبکہ دو خواجہ سرا خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

    نایاب علی آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کا انتخابی نشان سبز مرچ ہے۔ ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے نایاب علی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہیں جن کے پاس وسائل ہوں، وہ اپنے حلقے میں موثر اثر و رسوخ رکھنے والا ہو اور اس کی کامیابی کا بھی امکان ہو۔ تو ان حالات میں جب ہمارا معاشرہ ہی ابھی مکمل طور پر خواجہ سراؤں کو قبول نہیں کر رہا تو کوئی سیاسی جماعت انہیں کیسے قبول کرے گی اور ٹکٹ دے گی۔

    نایاب علی کا کہنا ہے کہ جس طرح خواتین اور غیر مسلم امیدواروں کے لیے سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں اسی طرح خواجہ سراؤں کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشست ہونی چاہیے۔ یہی وہ طریقہ سے جس سے خواجہ سراؤں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہوسکتی ہے۔

    پاکستان میں اس وقت خواجہ سراؤں کی کل آبادی 10ہزار 418 ہے تاہم خواجہ سرا برادری اس تعداد کو تسلیم نہیں کرتی۔ 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں خواجہ سراؤں کی تعداد 21 ہزار 774تھی جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 3 ہزار 29 خواجہ سرا ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ پنجاب سے 1886، سندھ سے 431، خیبر پختونخوا سے 133، بلوچستان سے 81 اور قبائلی علاقوں سے سات ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے خواجہ سراؤں کی الگ فہرستیں بھی نہیں بنائی گئیں، خواجہ سراؤں کی اکثریت کے نام مردوں کی فہرستوں میں شامل ہیں کیونکہ ان کے شناختی کارڈ پران کی جنس ایکس کے بجائے، ایکس (مرد) لکھی ہوئی ہے۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا گورو نیلی رانا نے 2018 کے انتخابات کا بطور آبزور مشاہدہ کیا تھا۔ نیلی رانا کا کہنا ہے الیکشن لڑنے کے لئے کروڑوں روپے چاہیں خواجہ سرا برادری کی اکثریت بھیک مانگ کر پیٹ پال رہی ہے تو ایسے حالات میں الیکشن کون لڑے گا، انہوں نے کہا سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں خواجہ سراؤں کے حقوق کی بات کرتی ہیں لیکن یہ سب دکھاوا ہے۔

    نیلی رانا کا کہنا ہے کسی بھی سیاسی جماعت کی مرکزی، صوبائی تنظیم میں کوئی خواجہ سرا نہیں ہے، جو سیاسی جماعتیں انہیں اپنی پارٹی میں کوئی اہم عہدہ نہیں دیتیں وہ انہیں اسمبلی میں کیسے برداشت کرسکتی ہیں۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا جنت علی کا کہنا ہے خواجہ سراؤں کے مسائل کی ترجمانی ایک خواجہ سرا سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا، لیکن موجودہ انتخابی طریقہ کار میں ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ کوئی خواجہ سرا اسمبلی میں پہنچ سکے۔ جمہوریت کی بات تو کی جاتی ہے لیکن خواجہ سراؤں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا جس طرح خواتین، اسپیشل پرسنز، اقلیتوں کے مسائل کی بات کی جاتی ہے ان کے لئے اسپیشل کوٹہ مقرر ہے اسی طرح ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لئے بھی اسپیشل کوٹہ مقرر ہونا چاہیے۔

    خواجہ سراؤں کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے نظر انداز کیے جانے کی ایک وجہ باہمی رابطوں کا فقدان بھی ہے۔ خواجہ سرا نایاب علی کہتی ہیں کہ الیکشن مہم کے دوران جب وہ لوگوں کے پاس جاتی ہیں تو بعض لوگ انہیں بھکاری سمجھتے ہیں، خواجہ سراؤں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی شاید یہی سمجھتی ہیں کہ اگر وہ کسی خواجہ سرا کی حمایت کریں گی یا اسے ٹکٹ دیں گی تو مخالفین ان کا مذاق اڑائیں گے، طنز کریں گے۔ اس کی وجہ ہمارے سماجی رویے ہیں، ان رویوں میں تبدیلی کے لیے جہاں کمیونٹی کے نمائندے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہیں سیاسی جماعتوں کو بھی آگے آنا ہوگا۔

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے نیشنل کوآرڈنیٹر راشد چوہدری نے ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے کہا معاشرے میں خواجہ سراؤں کی قبولیت ہونے لگی ہے، خواجہ سرا امیدوار بھی ہیں اور ووٹرز بھی ہیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ 2018 کے انتخابات میں کافی زیادہ خواجہ سراؤں نے حصہ لیا تھا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سندھ سے تھا۔ ان میں سے کئی خواجہ سرا لوکل باڈیز الیکشن میں منتخب ہوئے تھے۔ تاہم موجودہ انتخابات میں ان کی تعداد کافی کم ہے۔

    انہوں نے کہا سیاسی جماعتیں ہمیشہ ایسے امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیتی ہیں جن کی کامیابی کی امید ہوتی ہے، خواجہ سراؤں کا حوالے سے دیکھا جائے تو ابھی شاید ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کرسکیں لیکن اس پریکٹس سے وہ لوکل باڈیز الیکشن کے لئے اپنی جگہ ضرور بنال یتے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کو ایک کمزور، بزدل اور نااہل فرد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بعض سیاستدان مخالفین کو طعنہ کے طور پر خواجہ سرا اور ہیجڑا جیسے الفاظ سے پکارتے ہیں خاص طور پر شیخ رشید اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان، بلاول بھٹو زرداری متعدد بار ذو معنی جملے استعمال کرتے رہے ہیں۔ شیخ رشید تو کھلم کھلا بلاول بھٹو کو بلو رانی کہتے ہیں۔

    لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں شعبہ عمرانیات کی سربراہ ڈاکٹر اسما سیمی ملک کہتی ہیں خواجہ سراؤں سے متعلق ایسا رویہ افسوناک ہے، وہ سمجھتی ہیں کہ اگرخواجہ سراؤں کو سیاست میں قبول کیا جاتا ہے تو وہ ناصرف اپنی کمینٹی بلکہ معاشرے کے دیگر طبقات کی بہتری اور ویلفیئر کے لئے اچھا کام کریں گے۔

    خواجہ سراؤں کو ان کے بنیادی حقوق اور قبولیت نہ ملنے کی ایک وجہ معاشرے میں اس کمیونٹی سے متعلق پائے جانے والے شکوک وشبہات بھی ہیں۔ کسی عام شخص کے لئے خواجہ سرا اور ٹرانس جینڈر میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔

    برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین عنصر جاوید کہتے ہیں کہ ہمیں انٹرا سیکس اور ٹرانس جینڈر میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    ایسے بچے جو پیدائشی طور پر جنسی اعتبار سے کچھ نقص کیساتھ پیدا ہوں انہیں انٹرسیکس یعنی ہیجڑا، کھسرا اور خواجہ سرا کہتے ہیں جبکہ ایسے افراد جو سرجری، ادویات اور ہارمون تھراپی کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کرتے ہیں انہیں ٹرانس جینڈر کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد اصل میں مکمل عورت یا مکمل مرد ہوتے ہیں لیکن یہ مصنوعی طریقوں سے اپنی جنس بدل لیتے ہیں ایسے افراد کے لئے خواجہ سرا کا لفظ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی اداروں کے لئے یہ جانچ کرنا مشکل ہے کہ پاکستان میں درست طور پر خواجہ سراؤں کی تعداد کتنی ہے۔

  • 8 فروری کو ہر صورت الیکشن ہونگے، نگراں وزیر داخلہ، الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی پر بریفنگ

    8 فروری کو ہر صورت الیکشن ہونگے، نگراں وزیر داخلہ، الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی پر بریفنگ

    اسلام آباد: بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں نگراں وزیر داخلہ نے دونوں صوبوں میں سیکیورٹی معاملات پر بریفنگ دی۔

    اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی۔ اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن ڈاکٹر آصف حسین اور الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام ، نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز، سیکریٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز نے شرکت کی۔

    اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ کے لیے انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک رہے۔

    وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے الیکشن کمیشن کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن و امان سے متعلق رپورٹ الیکشن کمیشن کے سامنے رکھی گئی۔

    نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں بدامنی کے واقعات ڈرانے کے لیے کیے گئے۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے کہا کہ آٹھ فروری کے انتخابات سے متعلق کسی کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن اور نگران حکومت ہر حال میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں گے اور آٹھ فروری کو ہر صورت انتخابات ہوں گے۔

    انہوں ںے کہا کہ نگران حکومت کو جو ذمہ داری ملی وہ اس میں سرخ رو ہوگی، سیکیورٹی اداروں نے چاروں صوبوں میں سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کر رکھے ہیں، عوام اطمینان سے اپنا ووٹ کاسٹ کریں، اس الیکشن سے ملک میں استحکام آئے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات کا تعلق الیکشن سے نہیں بلکہ یہ دہشت گردی کے واقعات ہیں، بلوچستان میں کسی قسم کی کوئی سیاسی پولزائزیشن نہیں بلوچستان میں ہمارا زیادہ بڑا چیلنج دہشت گردی ہے، سیکیورٹی ادارے جس طرح ملک کی حفاظت کر رہے ہیں وہ قابل فخر ہے۔

    بلوچستان اور کے پی میں حالات نارمل نہیں، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان

    دریں اثنا چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ کے پی اور بلوچستان کی سیکیورٹی سے متعلق آج اچھا اجلاس معنقد ہوا جس میں الیکشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، امیدواروں اور ووٹرز کی سیکیورٹی پر عمل ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ الیکشن 8 فروری کو ملک بھر میں ہوگا، الیکشن سے متعلق کسی قسم کے ابہام کی ضرورت نہیں، غیر معمولی حالات اور حساس علاقوں میں انٹرنیٹ کو بحال رکھنا الیکشن کمیشن کے اختیار میں بھی نہیں، سیکیورٹی اداروں اور حساس اداروں کے مطابق سیکیورٹی کی ایسی صورتحال نہیں کہ یہ اقدام اٹھایا جائے، سیکیورٹی اداروں کے مطابق الیکشن پر انٹرنیٹ سروس دستیاب ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور کے پی کے میں حالات نارمل نہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ایفرٹس پوری کر رہے ہیں، کے پی کے اور بلوچستان آئی جیز نے امیدواروں کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

  • عمران خان کے بچوں کا مقدر لندن تو پختونخوا کے بچوں کا مقدر جیل کیوں؟ مریم نواز

    عمران خان کے بچوں کا مقدر لندن تو پختونخوا کے بچوں کا مقدر جیل کیوں؟ مریم نواز

    مینگورہ: پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کے بچوں کا مقدر اگر لندن ہے تو پھر پختونخوا کے بچوں کا مقدر جیل کیوں ہے؟

    عام انتخابات کے سلسلے میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سازشیں کرنے والے ہمیشہ نہیں رہتے۔ آج نواز شریف نے آپ کو ان لوگوں کے تمام جھوٹ گنوائے جنہوں نے یہاں 10 سال تک حکومت کی ہے۔انہوں نے اتنے جھوٹ بولے کہ جن موکلوں اور جنوں کے سر پر حکومت کررہے تھے، آج وہ موکل اور جن بھی انہیں چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جس نے لوگوں کو چور چور کہا، آج وہ خود پاکستان کا سب سے بڑا چور ثابت ہوگیا۔ جس نے لوگوں پر چوری کے جھوٹے الزام لگائے، آج وہ بھی چور نکلا اس کا خاندان بھی چور نکلا۔ مگر میں نواز شریف کی بیٹی ہوں، میں کسی کی تکلیف اور دکھ پر خوشی نہیں منا سکتی۔ میں کسی کی گرفتاری یا آزمائش پر خوش نہیں ہوتی۔

    لیگی رہنما نے کہا کہ میں جب اپنی ماں کو چھوڑ کر نواز شریف کے ساتھ گرفتاری دینے کے لیے اڈیالہ جیل آئی تھی تو مجھے بھی آفر ہوئی تھی کہ میں اڈیالہ کے بجائے سہالہ ریسٹ ہاؤس شفٹ کردی جاؤں، مجھے کہا گیا کہ آپ کاغذ پر لکھ کر دے دیں کہ مجھے بی کلاس دی جائے تو ہم آپ کو بی کلاس فراہم کردیں گے، مگر میں نے منع کردیا اور کہا کہ جیل جاؤں گی تو نواز شریف کے ساتھ جاؤں گی۔ کسی ریسٹ ہاؤس میں نہیں جاؤں گی۔ میں نے کہا کہ مجھے ریسٹ ہاؤس نہیں چاہیے، میں عام قیدیوں کی طرح جیل میں رہوں گی۔

    مریم نواز شریف نے جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے چند سوال کرنا چاہتی ہوں۔ نوجوان مجھے بتائیں کہ کیا جلاؤ گھیراؤ، مار دو، مر جاؤ، آگ لگادو، یہی سب کچھ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کا مقدر ہے؟ آپ کو لیپ ٹاپس چاہییں یا پیٹرول بم؟۔ آپ کو تعلیمی ادارے، اسکالر شپس چاہییں یا پھر کیلوں والے ڈنڈے چاہییں؟۔

    انہوں نے کہا کہ اگر جلاؤ گھیراؤ آپ (عمران خان) کے لندن میں بیٹھے ہوئے بچوں کا مقدر نہیں ہے تو پھر خیبر پختونخوا کے بچوں کا مقدر یہ کیسے ہو سکتا ہے؟۔ اگر آپ (عمران خان) کے بچے محفوظ مقام پر لندن میں بیٹھے ہیں تو پھر پاکستان کے نوجوان آپ کے ورغلانے پر سلاخوں کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟

    مریم نواز نے کہا کہ میں پوچھتی ہوں کہ آپ کے ورغلانے کی وجہ سے آپ کی خواتین کارکنان 9 مئی کو ریاست پر حملہ کرنے پر سلاخوں کے پیچھے ہیں، تو ایک خاتون جس نے چوری کی ہے وہ آج بنی گالہ کے محل میں قید کیوں ہے؟ وہ باقی عوام کی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ہے؟

    انہوں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو ووٹ کی پرچی کو محض پرچی نہ سمجھیں بلکہ اس سے آپ کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز خیبر پختونخوا کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

  • گوگل کا پاکستان میں عام انتخابات 2024 کیلیے عوامی سہولت کا اعلان

    گوگل کا پاکستان میں عام انتخابات 2024 کیلیے عوامی سہولت کا اعلان

    کراچی: پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران اپنے صارفین کو سہولت کی فراہمی، جمہوری عمل میں اُن کی شرکت یقینی بنانا گوگل کی سماجی ذمہ داریوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

    پاکستانی عوام 8فروری کو ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے نمائندوں کے انتخاب کی غرض سے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ گوگل حکومت، صنعت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے تاکہ رائے دہندگان کو کارآمد اور مستند معلومات سے جوڑا جاسکے اور اپنے پلیٹ فارم کو غلط استعمال سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

    گوگل اس بات سے آگاہ ہے کہ انتخابات سے قبل، لوگوں کو متعلقہ اور مفید معلومات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انہیں انتخابی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔ گوگل ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جن میں ایک مفید مصنوع کی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور یہ قابل اعتماد معلومات آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔

    اس کے علاوہ، گوگل غیر جانبدار تنظیموں کی جانب سے حاصل کردہ اعدادوشمار بھی پیش کرتا ہے کہ ہماری تمام مصنوعات میں کہاں اور کس طرح ووٹ دینا ہے، ’’گوگل سرچ‘‘ درجہ بندی کے لیے مستند معلومات کو فروغ دینے اور انتخابات سے متعلق معلومات کی مختلف اقسام صارفین کو سیاق و سباق کے ساتھ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    اس کے ساتھ گوگل ہوم پیج پر ایسے لنکس بھی فراہم کیے گئے ہیں جو ووٹرز کو ’ووٹ دینے کا طریقہ‘ اور ’ووٹ دینے کے لیے رجسٹر کرانے کا طریقہ‘ جیسے موضوعات پر مستند معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ’’یوٹیوب‘‘ انتخابات سے متعلق خبروں اور معلومات کے لیے مستند ذرائع سے حاصل کردہ مواد اور متعلقہ سیاق و سباق کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے جن میں ہوم پیج پر مقامی اور قومی خبروں کے ذرائع، سرچ رزلٹس اور ’اپ نیکسٹ‘ پینلز شامل ہیں تاکہ لوگوں کو انتخابات کے حوالے سے اعلیٰ معیار کی خبروں اور معلومات سے جوڑا جا سکے۔

    میڈیا اور عوام کو یہ جاننے میں مدد کرنے کے لیے کہ اِن انتخابات میں رائے دہندگان کے لیے کیا اہم ہے، اس کے لیے گوگل ٹرینڈز پیج بھی متعارف کرایا ہے۔ یہ ایسا ٹول ہے جو انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں سرفہرست سوالات، موضوعات اور دلچسپیوں کو سامنے لانے میں مدد کرتا ہے۔ اس صفحے پر ملک کے ہر حصے میں انتخابات سے متعلق سرچ کیے جانے والے سر فہرست موضوعات مثلاً معیشت، ٹیکس اور اجرتوں کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔ یہ اگرچہ ووٹنگ کے ارادوں کی عکاسی نہیں کرتا ہے لیکن یہ اس بارے میں منفرد انسائٹ فراہم کرتا ہے کہ لوگ کیا تلاش کر رہے ہیں۔

    ’’گوگل نیوز انیشی ایٹو‘‘ نے صحافیوں کو خبروں کی کوریج کے دوران صحیح وسائل سے لیس کرنے کے لیے ورکشاپس کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا ہے جس میں انہیں خبروں کی تصدیق، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور گوگل ٹرینڈز کا استعمال کرنے کے لیے ٹولز کے بارے میں تربیت دینا شامل ہے۔

    پاکستان میں گوگل کے کنٹری ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہم نے اپنی کوششوں کو ان پاکستانیوں کی مدد پر مرکوز کیا ہے جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا ووٹ ڈالیں گے اور اس طرح انہیں انتخابات سے متعلق مفید اور متعلقہ معلومات سے آن لائن جوڑنے میں مدد ملے گی۔ ہم نے خبروں کے ماحولی نظام پر بھی سرمایہ کاری کی ہے اور صحافیوں اور نیوز رومز کو انتخابی دور سے پہلے مستند اور قابل اعتماد خبروں کی رپورٹنگ کرنے کی تربیت دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حال ہی میں، ہم نے گوگل ٹرینڈز پاکستان جنرل الیکشن پیج متعارف کرایا ہے تاکہ میڈیا اپنی اسٹوریز کے لیے آسانی سے ڈیٹا تلاش کر سکے۔ اپنے پلیٹ فارمز کو غلط استعمال سے محفوظ رکھنا انتخابات کے دوران شفافیت اور دیانتدار کے تحفظ کا مطلب اپنی مصنوعات اور خدمات کو غلط استعمال سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ گوگل اور یوٹیوب پر اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے پاس طویل مدتی پالیسیاں ہیں اور اُن کا اطلاق ہر شخص پر اور انتخابات سمیت، ہر قسم کے مواد پر ہوتا ہے۔

    فرحان قریشی نے کہا کہ ہماری یوٹیوب کمیونٹی گائیڈ لائنز میں نفرت انگریز تقاریر، ہراسانی، تشدد پر اکسانے، تیکنکی طور پر گمراہ کن مواد اور مخصوص قسم کی غلط انتخابی معلومات کے خلاف پالیسیاں شامل ہیں۔ ہم مشین لرننگ اور جائزہ لینے والے انسانوں کے امتزاج پر انحصار کرتے ہیں تاکہ ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کی نشاندہی کر کے اُسے حذف کیا جا سکے۔ جولائی اور ستمبر، 2023 کے درمیانی عرصے میں ہم نے عالمی سطح پر یوٹیوب پر اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والی8.1 ملین سے زائد ویڈیوز اور 10 ملین سے زائد چینلز کو حذف کیا۔

    اس حوالے سے کنٹری ڈائریکٹر نے بتایا کہ انتخابات کے دوران شفافیت اور دیانتداری یوٹیوب کی اَوّلین ترجیح ہے اور ہم یہ بات یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ملکی انتخابات میں سہولت کے لیے درست پالیسیاں اور نظام موجود ہوں۔ لوگوں کو مستند اور معیاری معلومات سے جوڑنے کے علاوہ ہم مشین لرننگ اور جائزہ لینے والے تربیت یافتہ افراد کی مدد سے خلاف ورزی کرنے والے مواد کو بروقت ہٹا دیتے ہیں۔ ہمارا مقصد اپنی کمیونٹی کو نقصان سے بچانے اور یوٹیوب پر مختلف نقطہ نظر کو فروغ دینے کے قابل بنانے کے درمیان صحیح توازن برقرار رکھنا ہے۔

  • سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید

    راولپنڈی: آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا سنادی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔ فاضل جج نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 342کے بیان کیلئے سوالنامہ اور اسٹیٹمینٹس کی کاپیاں فراہم کیں-

    سوالنامے میں ملزمان سے تقریبا 36 سوالوں کے جواب مانگے گئے ۔ دونوں سیاسی رہنماؤں نے خود جوابات لکھوائے۔

    342 کا بیان قلمبند کرنے کے بعد جج نے سزا سنانے سے پہلے آخری سوال پوچھا عمران خان صاحب سائفر کہاں گیا؟

    بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا، میں نے اپنے بیان میں لکھوا دیا ہے، وزیراعظم آفس کی سیکیورٹی میری ذمہ داری نہیں تھی۔

    عدالت نے شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ کرانے سے قبل ہی بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی دونوں کو جرم ثابت ہونے پر قید کی سزا سنادی۔

    فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی مسکراتے رہے جبکہ شاہ محمود قریشی نے احتجاج کیا کہ میرا تو ابھی بیان ہی ریکارڈ نہیں ہوا۔

    نواز شریف کو انتخابات سے 20 روز اور عمران خان کو 9 روز قبل سزا سنائی گئی

    واضح رہے کہ عمران خان کو سزا سے نو روز قبل 10 سال کی سزا سنائی گئی جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی 5 جولائی 2018ء کو دس سال کی ہی سزا سنائی گئی اور انہیں یہ سزا 2018 کے عام انتخابات سے 20 روز قبل سزا سنائی گئی۔

    ’عمران خان اور شاہ محمود کو قیدیوں کے دو، دو لباس ملیں گے، مشقت کا فیصلہ عدالتی حکم کے بعد ہوگا‘

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل مینوئل کے مطابق عدالت سے تحریری فیصلہ ملنے کے بعد دونوں اسیران کو سپریٹنڈنٹ جیل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ عدالتی فیصلے کی روشنی میں جیل سپرٹنڈنٹ جیل مینول کے مطابق دونوں اسیران کو جیل کے قیدیوں کے لیے مختص دو دو لباس دیں گے، لباس دیتے وقت دونوں اسیران کو قیدی نمبر بھی نئے الاٹ کیے جائیں گے۔

    سینیر جیل آفیسر کے مطابق جیل میں سیکورٹی نقطہ نگاہ سے دونوں اسیران کو ہائی سیکورٹی میں رکھا جائے گا، مشقت کا فیصلہ بھی عدالت کا تحریری فیصلہ ملنے کے بعد ہوگا تاہم ماضی میں کسی اسیر وزیر اعظم سے کچن، فیکڑی یا باغیچے میں مشقت نہیں کرائی گئی۔

  • سائفر جنرل (ر) باجوہ کے کہنے پر چوری کیا گیا، عمران خان

    سائفر جنرل (ر) باجوہ کے کہنے پر چوری کیا گیا، عمران خان

    راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ سائفر کی حفاظت کی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی، میرے اے ڈی سی میں سے ایک نے باجوہ کے ایما پر سائفر چوری کیا، اصل سائفر میرے پاس تھا ہی نہیں جو لہرایا تھا وہ سائفر کی پیرا فریزڈ کاپی تھی۔

    عدالت میں دیے گئے 342 کے بیان میں عمران خان نے کہا کہ سائفر وزیراعظم آفس میں تھا اور سیکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکٹری، پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری پروٹوکول پر عائد ہوتی ہے جو وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی کو دیکھتے ہیں، میرے ساڑھے تین سال کے دوران یہ واحد ڈاکیومنٹ ہے جو وزیراعظم آفس سے مسنگ ہوا، سائفر مسنگ ہونے پر ملٹری سیکریٹری سے کہا جائے کہ انکوائری کی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ وہ واحد موقع تھا جب میں ملٹری سیکٹری سے ناراض بھی ہوا، میرے اے ڈی سی میں سے ایک نے جنرل باجوہ کے ایما پر سائفر چوری کیا ملٹری سیکٹری نے انکوائری کے بعد بتایا کہ سائفر کے حوالے سے کوئی کلیو نہیں ملا۔

    عمران خان نے کہا کہ منتخب وزیراعظم کو سازش کے ذریعے ہٹایا گیا، جنرل باجوہ اور امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو سازش میں شامل تھے، میری حکومت گرانے کے لیے سازش اکتوبر 2021ء میں ہوئی جب جنرل باجوہ نے آئی ایس آئی چیف جنرل فیض کو تبدیل کیا۔

  • انتخابی نتائج سے متعلق طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے، الیکشن کمیشن

    انتخابی نتائج سے متعلق طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے، الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ عام انتخابات 2024 کے نتائج کے اجرا سے متعلق طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے اور مختلف ڈیوائسز کی خریداری کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات کے نتائج کے اجرا کے حوالے سے 850 سے زائدموبائل انٹرنیٹ ڈیوائسز کی خریدار ی کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور ملک بھر سے 859 ریٹرننگ افسران کو الیکشن مینجمینٹ سسٹم (ای ایم ایس) سے منسلک کردیا جائے گا۔

    انتخابی نتائج کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ای ایم ایس سسٹم کی کنیکٹوٹی کے لیے ریٹرننگ افسران کو انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی اور ریٹرننگ افسران ای ایم ایس سسٹم کے ذریعے الیکشن کمیشن کو حلقے کے نتائج فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران متعلقہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج موبائل ڈیٹا کے ذریعے ای ایم ایس کے تحت آر او کو بھجوائیں گے، پریزائیڈنگ افسران انٹرنیٹ کنیکٹوٹی کے لیے موبائل ڈیٹا کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

    کمیشن نے واضح کیا کہ موبائل ڈیٹا کی عدم دستیابی پر پریزائیڈنگ افسران پولنگ اسٹیشن کے نتائج ذاتی حیثیت میں ریٹرننگ افسران تک پہنچائیں گے، پریزائیڈنگ افسران پولنگ کے روز رات دو بجے یا اگلے روز صبح 10بجے تک نتائج آر او کو بھجوانے کے پابند ہوں گے۔

  • کراچی میں ہنگائی آرائی، توڑ پھوڑ کے الزام میں پی ٹی آئی کے مزید 18 کارکن گرفتار

    کراچی میں ہنگائی آرائی، توڑ پھوڑ کے الزام میں پی ٹی آئی کے مزید 18 کارکن گرفتار

    کراچی: پولیس نے کلفٹن کے علاقے تین تلوار پر ہنگامہ آرائی، پولیس پر تشدد اور سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مزید 18 کارکنان کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان ایس ایس پی ضلع جنوبی نے بتایا کہ گرفتاریاں فریئر تھانے میں درج مقدمے کے تحت کی گئی ہیں جبکہ اس حوالے سے مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ملزمان کو موقع سے حاصل کیے گئے، ڈیجیٹل شواہد میں شناخت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

  • سبی میں پی ٹی آئی کی ریلی گزرنے کے دوران دھماکا، 4 افراد جاں بحق

    سبی میں پی ٹی آئی کی ریلی گزرنے کے دوران دھماکا، 4 افراد جاں بحق

    کوئٹہ: سبی کے علاقے جناح روڈ پر پی ٹی آئی کی ریلی گزرنے کے دوران دھماکا ہوا جس کے سبب 4 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

    بلوچستان کے علاقے سبی میں تحریک انصاف کی ریلی جناح روڈ سے گزرنے کے دوران دھماکا ہوا جس کے سبب 4 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

    امدادی ادارے کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، زیادہ تشویش ناک حالت والے زخمیوں کو کوئٹہ کے اسپتال منتقل کیے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    سیکرٹری محکمہ صحت بلوچستان عبداللہ خان نے سبی دھماکے کے پیشں نظر سبی سمیت کوئٹہ کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی۔

    ایم ایس سبی اسپتال کے مطابق بم دھماکے کے چار زخمیوں کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سبی میں علاج جاری ہے۔

    اسی ضمن میں ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع سبی میں سیاسی جماعت کی ریلی میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور آئی جی بلوچستان سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سبی خدائے رحیم میروانی نے کہا ہے کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، دھماکے میں 4 افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے، زخمی 5 افراد کا علاج جاری ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید تحقیقات کررہے ہیں۔

  • ڈالر کے ریٹ دوبارہ 281 روپے سے نیچے آگئے

    ڈالر کے ریٹ دوبارہ 281 روپے سے نیچے آگئے

    کراچی: مانیٹری پالیسی مستحکم رکھے جانے کے نتیجے میں منگل کو بھی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا اور ڈالر کے ریٹ 281 روپے سے نیچے آگئے۔

    مانیٹری پالیسی میں شرح سود بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رکھے جانے اور انتظامی اقدامات برقرار رکھنے کی بدولت منگل کو بھی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ دوبارہ 281روپے سے نیچے آگئے۔

    ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے ماہوار 30 سے 35کروڑ ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں سرینڈر کیے جانے اور آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں ڈالر کی قدر گھٹ کر 270روپے کی نچلی سطح پر آنے کی پیشگوئیاں روپے کے استحکام کا باعث بن رہی ہے۔

    معیشت میں زرمبادلہ کی ڈیمانڈ سپلائی کے مقابلے میں کم ہونے جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اتارچڑھاؤ کا رحجان رہا تاہم مارکیٹ میں طلب کی نسبت رسد میں اضافے سے کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 10پیسے کی کمی سے 279 روپے 54پیسے کی سطح پر بند ہوئی، اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈیمانڈ میں کمی سے ڈالر کی قدر 23پیسے کی کمی سے 280روپے 86پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    آئی ایم ایف سے اگلی قسط کے حصول کی تیاریوں اور دوست ممالک کے تعاون سے فنانشل گیپ میں کمی کو پورا کرنے کی حکمت عملی جیسے عوامل ڈالر کی تنزلی کا باعث ہیں۔

    حکومت کی درآمدی ضروریات کے لیے ترسیلات زر اور برآمدی آمدنی کے تناسب سے ادائیگیوں کی حکمت عملی بھی نہ صرف زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں استحکام کا باعث بن رہی ہے بلکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہونے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کو تگڑا کرنے کا بھی سبب بن گئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدی سرگرمیاں بتدریج بہتر ہونے اور ترسیلات زر کی آمد اطمینان بخش ہونے سے انٹربینک میں ڈالر کی سپلائی بھی بہتر ہورہی ہے۔

    ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ ماضی میں جب ڈالر کے انٹربینک اور اوپن ریٹ میں 27 تا 28روپے کا نمایاں فرق پیدا ہوگیا تھا تو اس وقت ایکس چینج کمپنیاں ماہانہ 4 سے 5کروڑ ڈالرز انٹربینک مارکیٹ میں سرینڈر کررہی تھیں۔

    ظفرپراچہ کے مطابق اب یہ نجی ایکس چینج کمپنیاں 30 سے 35کروڑ ڈالرز ماہوار انٹربینک مارکیٹ میں سرینڈر کررہی ہیں جو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی بڑھانے میں معاون اور روپے کی قدر میں اضافے کا سبب بن گئی ہے۔