Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 26 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • آرمی چیف سے ایرانی وزیرخارجہ کی ملاقات، دہشتگردی سے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے نمٹنے پر اتفاق

    آرمی چیف سے ایرانی وزیرخارجہ کی ملاقات، دہشتگردی سے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے نمٹنے پر اتفاق

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرسے ایران کے وزیر خارجہ امیر عبداللہیان نے ملاقات کی، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور دہشتگردی سے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے نمٹنے پر اتفاق کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ امیر عبداللہیان نے آج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، دوران ملاقات پاکستان اور ایران کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کا ادراک کرتے ہوئے فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اورایک دوسرے کے تحفظات کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے پر زور دیا۔

    آرمی چیف نے دوسری ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتے ہوئے اسے مقدس، ناقابل تسخیر اور ریاست سے ریاست کے تعلقات کی بنیاد قرار دیا۔

    ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی مشترکہ خطرہ ہے جس سے باہمی تعاون، بہتر رابطہ کاری اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے نمٹنے کی ضرورت ہے، فریقین نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ قریبی رابطے میں رہا جائے گا۔

    آرمی چیف نے سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے پائیدار رابطے اور دستیاب مواصلاتی ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    دونوں فریقوں نے مشترکہ خطرات کے خلاف رابطہ کاری اور ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ملک میں فوجی رابطہ افسروں کی تعیناتی کے طریقہ کار کو جلد سے جلد فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

    ایرانی وزیرخارجہ اور آرمی چیف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ برادر ممالک کے درمیان کسی کو بھی خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے، فریقین نے سرحدی علاقے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

    پاکستان اور ایران برادرانہ پڑوسی ہیں اور دونوں ممالک کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ اور آرمی چیف کی ملاقات میں اس کی نشاندہی دونوں اطراف کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر کی گئی۔

  • پی ٹی آئی کی صنم جاوید کا این اے 119 سے دستبردار ہونے کا اعلان

    پی ٹی آئی کی صنم جاوید کا این اے 119 سے دستبردار ہونے کا اعلان

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صنم جاوید نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق ضنم جاوید نے این اے 119 سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب انہیں صنم جاوید کو ایک مقدمے میں ضمانت ملتے ہی دوسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔

    ضمانت منظور ہونے کے بعد صنم جاوید باہر نکلیں تو انویسٹی گیشن پولیس نے تھانہ شادمان میں درج مقدمہ میں صنم جاوید کو گرفتار کیا۔ واضح رہے کہ ملزمہ صنم جاوید کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج ہے۔
    واضح رہے کہ این اے 119 کے انتخابی حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز کھڑی ہیں۔

  • سانس اور پھیپھڑوں میں الرجی کے مریضوں میں اضافہ؛ سرکاری اسپتالوں میں نیبولائزز مشینیں ناپید

    سانس اور پھیپھڑوں میں الرجی کے مریضوں میں اضافہ؛ سرکاری اسپتالوں میں نیبولائزز مشینیں ناپید

    کراچی: کراچی کے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں نیبولائزز مشینیں ناپید ہوگئیں جبکہ محکمہ صحت نے گذشتہ دوسال سے نیبولائزر مشینیں نہیں خریدی۔

    سرد موسم میں کراچی میں سینے، سانس، پھپیھٹرے سمیت مختلف اقسام کی الرجی کے مریضوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہورہا ہے، سرکاری سطح پرمتاثرہ مریضوں کاڈیٹا اکٹھا کرنے کا کوئی نظام موجود ہی نہیں ہے۔ ان امراض کے علاج کرنے والے طبی ماہرین کا دعوی ہے کہ رواں سرد موسم ان امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد تقریبا 20 فیصد بڑھی ہے۔

    سرکاری اسپتالوں میں نیبولائزمشینوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان امراض کے مریضوں نجی اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں جہاں نیبولائز کے چارچ 800 سے ایک ہزار روپے ہیں جبکہ کم آمدنی والے افراد اپنی سانسوں کو بحال رکھنے کے لیے یہ مشین ذاتی طورپر خریدنے پر مجبور ہوگئے۔

    ان مشینوں کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے منافع خوروں نے اس کی قیمت میں 3 سے 5 ہزار روپے کا اضافہ کردیا ہے مختلف اقسام اور معیارکی یہ نیبولائز مشینیں 8 سے 15ہزار روپے میں دستیاب ہیں جبکہ اس مشین میں استعمال ادویات اورکٹ کی قیمتوں میں بھی 100 سے 200روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔

    اسپتالوں میں نیبولائز میشینوں کی قلت ، مریضوں کو دریپش مشکلات اور نظام تنفس کی ادویہ کی قیمتوں میں اضافے پر رپورٹ مرتب کی۔

    ناظم آبادکی رہائشی خاتون عاصمہ شیراز نے بتایا کہ ڈاکٹر نے مجھے نیبولائزکرنے کی ہدایت کی جب میں عباسی شہید اسپتال گئی تو وہاں نیبولائزکی مشین دستیاب نہیں تھی، ڈاکٹر نے مجھے یہ مشین خریدنے یا کسی اور اسپتال سے نیوبلائزکرانے کو کہا تو ایک نجی اسپتال سے عارضی طورپرتین دن تک نیبولائزکرایا۔

    اس صورتحال پراربن پلانر محمد توحید نے بتایا کہ کراچی میں پہلے فلو،نزلہ،زکام کی بیماریاں چند دن پر محیط ہوتی تھی لیکن گزشتہ دو برس میں اب یہ مرض دائمی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ شہر میں دھول مٹی،گردوغبار،کچرا اٹھانے کی بجائے نذرآتش کرنا،ٹرانسپورٹ کا ناقص نظام دوھوا چھوڑنے والی گاڑیوں کا بڑی تعدادمیں سٹرکوں پر چلنا،گیس کی قلت کے باعث گھروں میں لکڑیاں جلاکرکھانے پکانا شہر کے ماحول کوآلودہ کررہے ہیں۔

    جناح اسپتال کے سابق سربراہ شعبہ امراض سینہ پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فضائی الودگی،گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے دھویں،کچراسمیت دیگر اشیاء کو جلانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کراچی کی عوام میں سینے،سانس،پھپھٹرے اور دمے کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ان مریضوں کے ڈیٹاکو اکٹھا کرنے کا کوئی نظام موجود ہی نہیں۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آگاہی ہونے کے باوجودعوام کی اکثریت تمباکونوشی کرتے ہیں جس کی وجہ سے سینے اور پھیھڑے کا نظام شدید متاثر ہوتا ہے پہلے یہ مرض عارضی ہوتا ہے علاج نا کرانے کی صورت میں دائمی مرض اختیار کرلیتا ہے۔

    ادویات مارکیٹ کے ایک دکاندار عامر نے بتایا کہ سردی کے موسم میں نیبولائزمشینوں کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے اور رواں سردی میں اس مشین کی قمیت میں دو سے پانچ ہزار روپے کااٖضافہ ہوگیااس وقت مختلف کمپنیوں کی نیبولائزرمشینیں دستیاب ہیں،اس وقت سانس بحال کرنے والی ادویات کی قیمتیوں میں 100 سے 200 روپے کااضافہ دیکھنے میں آیا ہے اورکہیں ادویات کی قلت بھی سامنے آئی ہے۔

    دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ والے سرکاری اسپتالوں میں دوسال سے نیبولائززمشینیں نہ خریدنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے وجہ سے کراچی کے سرکاری اسپتالوں نیبولائزز مشینیں موجود نہیں تاہم جناح اسپتال،سول اسپتال میں ایمرجنسی میں آنے والے متاثرہ مریضوں کوآکسیجن پوائنٹ کے ذریعے ماسک لگا کر نیبولائزکیا جارہا ہے لیکن یہ سہولت کراچی کے 80 فیصد اسپتالوں میں میسر نہیں ہے۔

    ایکسپریس سروے کے مطابق کراچی کے ضلعی اور دیہی علاقوں میں قائم سرکاری اسپتالوں میں نیبولائز مشین دستیاب ہی نہیں تاہم بعض اسپتالوں میں ایک ہی نیبولائز مشین کو مختلف مریضوں پر بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

    سروے میں کئی سرکاری حکام نے بتایا کہ سندھ گورنمنٹ ابراھیم حیدری اسپتال، سندھ گورنمنٹ کورنگی اسپتال، سندھ گورنمنٹ نیو کراچی اسپتال، ضلع ملیر، ضلع کیماڑی، ضلع وسطی، ضلع غربی، ضلع شرقی، ضلع جنوبی اورضلع گڈاپ سمیت کسی بھی سرکاری رول اوراربن اسپتال میں نیبولائزرمشینیں دستیاب ہی نہیں ہے۔

    سروے کے مطابق بعض ڈاکٹرز نے بتایا کہ کراچی میں نومبر سے دسمبرکے دوران جناح اسپتال، سول اسپتال سمیت کراچی کے تمام اضلاع کے اسپتالوں میں ایک اندازے کے مطابق امراض تنفس اور دمہ کے 4000 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں سے سول اسپتال اور جناح اسپتال میں آکسیجن پوائنٹ میں نیبولائز ماسک لگا کر نیبولائز کیا گیا جبکہ دیگر اسپتالوں کے ایمرجنسی کے شعبے میں رپورٹ ہونے والے 90 فیصد سانس کے مریضوں کو پرائیویٹ اسپتالوں اور گھروں میں اسٹیم کے ذریعے بھاپ لینے کی ہدایت کی گئی۔

    جناح اسپتال، سول اسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ ایمرجنسی میں آنے والے سانس کے مریضوں کوآکسیجن پوائنٹ کے ذریعے ماسک لگاکر نیبولائزکیا جاتا ہے۔ دریں اثناکراچی کے ضلعی اسپتالوں کی انتظامیہ کاکہنا ہے کہ گذشتہ دو سال سے ہمیں نیبولائزر مشین مہیا نہیں کی گئی، جو بھی دستیاب نیبولائز مشین موجود ہے اس سے مریضوں کو نیبولائز کیا جارہا ہے۔

  • رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں بجٹ خسارہ 2407 ارب روپے سے تجاوز

    رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں بجٹ خسارہ 2407 ارب روپے سے تجاوز

    اسلام آباد: رواں مالی سال2023-24کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر2023) میں ملک کا بجٹ خسارہ 2407.8 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا انکشاف ہوا ہے جو ملکی جی ڈی پی کے2.3 فیصد کے برابر ہوگیا۔

    تفصیلات کےک مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی(جولائی تا دسمبر2023) کے دوران پاکستان کا بجٹ خسارہ 980.1 ارب روپے تھا جس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ(جولائی تا دسمبر 2023)کے دوران کا مجموعی بجٹ خسارہ بڑھ کر 2407.8 ارب روپے ہوگیا ہے جو ملکی جی ڈی پی کے 0.9 فیصد سے بڑھ کر2.3فیصد کے برابر ہوگیا ہے۔

    ’ملک کے مجموعی اخراجات بڑھ کر ملکی جی ڈی پی کے 8.7فیصد تک پہنچ گئے ہیں‘

    رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت کی طرف سے بینکوں سے حاصل کردہ فنانسنگ منفی 49رب 84کروڑ70 لاکھ روپے رہی ہے البتہ نان بینک فنانسنگ71 کروڑ اسی لاکھ روپے رہی ہے۔ علاوہ ازیں رواں لی سال کی پہلی ششماہی(جولائی تا دسمبر2023)کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 4469.241ارب روپے ،دفاعی اخراجات757 ارب 60کروڑ 20 لاکھ روپے اور اخراجات جاریہ مجموعی طور پر 85کھرب 64ارب63کروڑ20لاکھ روپے رہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک کے مجموعی اخراجات بڑھ کر ملکی جی ڈی پی کے 8.7فیصد تک پہنچ گئے ہیں جبکہ واں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اداروں کی نجکاری سے کوئی رقم حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار میں کے مطابق اکتیس دسمبر 2023کو ختم ہونیوالی رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کا بجٹ خسارہ بڑھ کر ہ 2407.8 ارب روپے ہوگیاہے جو ملکی جی ڈی پی کے 2.3فیصد کے برابر ہے اعدوشمار میں بتایا گیا ہے۔

    دفاعی اخراجات کی مد میں 520757 ارب 60کروڑ 20 لاکھ روپے کے اخراجات کئے گیے

    رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران دفاعی اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر520757 ارب 60کروڑ 20 لاکھ روپے کے اخراجات کئے گئے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے وفاقی و صوبائی سطع پر مجموعی طور پر 68کھرب 535 ارب 99کروڑ 60 لاکھ روپے کی وصولیاں حاصل کی ہیں جو کہ ملکی جی ڈی پی کے6.5فیصد کے برابر ہے جبکہ92کھرب61ارب76کروڑ40 لاکھ روپے کے اخراجات کئے ہیں جو کہ ملکی جی ڈی پی کے 8.8فیصد کے برابر ہیں۔

    اس کے علاوہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی و غیر ملکی قرضوں اور ان پر عائد سود کی واپسی کی مد میں مجموعی طور پر4219ارب 97کروڑ90 لاکھ روپے کے اخراجات کئے گئے ہیں۔

    ’’ایف بی آر نے 4469.241ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی‘‘

    وزارت خزانہ سے دستیاب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال2023-24 کی پہلی ششماہی کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مجموعی طور پر 4469.241ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی گئی ہیں جن میں سے 2148.89ارب روپے براہ راست ٹیکس کی مد میں اکٹھے کئے گئے ہیں۔

    اعدادوشمار کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں سے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 15کھرب 15ارب 26کروڑ 60 لاکھ روپے،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں264.58ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 540.50ارب روپے کی وصولیاں ہوئی ہیں۔

    دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اسٹمپ ڈیوٹی کی مد میں30ارب34کروڑ 60 لاکھ روپے،موٹر وہیکل ٹیکس کی مد میں 16ارب 1کروڑ 70روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں ترقیاتی اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر673ارب21کروڑ60 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں جبکہ دفاع کی مد میں مجموعی طور پر7کھرب 57 ارب 60کروڑ20لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

    دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام(پی ایس ڈی پی )کے تحت 673ارب 21کروڑ 60 لاکھ روپے کے ترقیاتی اخراجات کئے گئے ہیں جن میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 130ارب 40کروڑ 80لاکھ روپے جبکہ صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت 542ارب80کروڑ80لاکھ روپے کے ترقیاتی اخراجات کئے گئے ہیں۔

  • اسٹیٹ بینک کا تمام مالیت کے نئے کرنسی نوٹ لانے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا تمام مالیت کے نئے کرنسی نوٹ لانے کا فیصلہ

    کراچی: قومی مرکزی بینک (ایس بی پی) نے تمام مالیت کے نئے کرنسی نوٹ لانے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔

    مانیٹری پالیسی کے اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے صحافیوں کے مارکیٹ میں زیر گردش جعلی کرنسی نوٹ سے متعلق سوال کیا جس پر انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے تمام مالیت کے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹوں کو عالمی سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ چھاپا جائے گا اور اس کے رنگ، سیریل نمبر، ڈیزائن کو بھی ہائی سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا۔

    جمیل احمد نے کہا کہ تمام نئے نوٹوں کے ڈیزائن کا فریم ورک شروع ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں ڈیزائنرز و ٹیکنالوجی ماہرین کی بھی خدمات حاصل کی جارہی ہیں، امید ہے مارچ تک مکمل ہوگا۔

  • میرے کیسز پر مانیٹرنگ جج بن کر بیٹھنے والا استعفیٰ دیکر چلا گیا کیونکہ دال میں کچھ کالا تھا،نوازشریف

    میرے کیسز پر مانیٹرنگ جج بن کر بیٹھنے والا استعفیٰ دیکر چلا گیا کیونکہ دال میں کچھ کالا تھا،نوازشریف

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے قائد نوازشریف نے کہا ہے کہ میں بے قصور تھا، مجھے سزائیں دینے والے جج ایک ایک کرکے رخصت ہوگئے۔

    لاہور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنی بہن بھائیوں کی بھرپورخدمت کی ہے، اگر میں نے کچھ نہ کیا ہوتا تو آپ مجھ سے اس طرح عشق نہ کر رہے ہوتے۔

    انہوں نے کہا کہ آپ بھی جانتے ہیں نواز شریف بے قصور تھا، سزائیں دینے والے ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے، چند ماہ بعد چیف جسٹس بننے والا جج بھی چلا گیا، وہ کیوں چلا گیا کیونکہ دال میں کچھ کالا تھا۔

    نوازشریف نے کہا کہ وہ ( جج ) میرے کیسوں پر مانیٹرنگ جج بن کے بیٹھا ہوا تھا، اب وہ استعفے دے چکا ہے اور نواز شریف آپ کے سامنے کھڑا ہے۔

    نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کے لیے وہ سب کچھ کروں جس کی آپ مجھ سے توقع کرتے ہیں، پہلے بھی میں نے خلوص کے ساتھ کوشش کی اور آئندہ بھی کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سوال ہے کہ نواز شریف تھا تو گھروں میں سکون تھا، مہنگائی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، ہر چیز سستی تھی، آج روٹی 20 اور نان 25 سے 30 روپے کا ہو چکا ہے۔

    انہوں نے استفسار کیا کہ اس زمانے کو کون کہاں لے گیا، اس زمانے کو واپس لانا ہے، آپ کے گھروں کو دوبارہ بسانا ہے، نوجوانوں کو روزگار دینا ہے اور ان کے باعزت مستقبل کو سنوارنا ہے، سبز پاسپورٹ کی عزت بحال کروانی ہے۔

    قائد ن لیگ نے کہا کہ نواز شریف کی چھٹی نہ کروائی جاتی تو کوئی بےروزگار نہ ہوتا، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ہم نے بہت زخم کھائے ہیں۔

    انہوں نے عوام سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دینا ہے، ہم اس ملک و قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے اور یہ دنیا کی خوشحال ترین قوم بنے گی۔

  • 8 فروری کو 9 مئی والوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینا ہے، مریم نواز

    8 فروری کو 9 مئی والوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینا ہے، مریم نواز

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف اپنی خاطر نہیں صرف قوم کی خاطر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں کہ قوم اس وقت مسائل سے دو چار ہے۔

    لاہور انارکلی میں ن لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا، نواز شریف قوم کا خدمت گزار ہے نواز شریف جب آتا ہے تو مہنگائی کم ہوتی ہے ملک ترقی کرتا ہے آٹا سستا ہوتا ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ ہمارا کسی سیاسی جماعت سے مقابلہ نہیں، ہم نومئی والے نہیں 28 مئی والے لوگ ہیں دونوں تاریخوں میں بڑی تاریخ موجود ہے، جو ظلم اور جبر زیادتی ہمارے ساتھ ہوئی وہ کسی کے ساتھ نہیں ہوئی، اگر ہم آج بھی الیکشن لڑنا چاہتے ہیں تو صرف قوم کی خاطر، تکلیف ہے تو صرف مہنگائی کی، بجلی کے زائد بلوں کی، لاہور میں پانچ سال گھس بیٹھیے آگئے جنہوں نے لاہور کو تباہ کردیا۔
    مریم نواز نے کہا کہ جب ہماری حکومت تھی تو لاہور میں ہر سال نیا منصوبہ آتا تھا اب یہاں کا کوئی پرسان حال نہیں، عوام مجھے سے وعدہ کریں کہ انتخابات میں کوئی گھر میں نہیں بیٹھے گا اور نواز شریف کو ووٹ ڈالیں گے۔

  • جنوبی پنجاب کو منی لاہور نہ بنایا تو نام شہباز نہیں، شہباز شریف

    جنوبی پنجاب کو منی لاہور نہ بنایا تو نام شہباز نہیں، شہباز شریف

    راجن پور: صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو منی لاہور نہ بنایا تو نام شہباز نہیں.

    راجن پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے فیصلہ کیا کہ اگر امیروں کے بچوں کیلئے لاہور میں ایچی سن کالج ہوسکتا ہے تو پھر غریبوں کے بچوں کیلئے اس معیار کے دانش اسکول بنائے جائیں اور ہم نے وہ کام پورا کیا، ہم نے بچوں اور بچیوں کے 20 دانش اسکول بنائے جن میں سے 16 جنوبی پنجاب میں بنائے گئے۔

    شہباز شریف نے عثمان بزدار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 6سال میں کیا ہوا یہ آپ لوگ ہی جانتے ہیں، جو چار برس وزیراعلی رہا جس کا تعلق یہاں سے تھا اسکے پاس سب کچھ تھا یہاں تک کہ جادو ٹونا بھی تھا لیکن اس نے اس علاقے کیلئے کچھ نہ کیا، عثمان بزدار کی جگہ اور کوئی ہوتا تو اس علاقے کی تقدیر بدل چکی ہوتی، چار سال میں جنوبی پنجاب کو گل گلزار بنا دینا چاہیے تھا۔

    انہوں نے زور دیا کہ سیلاب کے دنوں میں دن رات آپ کی خدمت کے لیے کام کیا، آپ کا ساتھ دیا، آرام سے نہیں بیٹھا، نواز شریف نے سیلاب کے دنوں میں مجھے کہا تھا جب تک ان کی مشکل آسان نہ ہو جائے، آپ نے لاہور نہیں آنا۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر آپ راجن پور کی بہتری چاہتے ہیں تو 8 فروری کو شیر پر مہر لگائیں اور نواز شریف کو چوتھی مرتبہ وزیراعظم منتخب کریں۔

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    کراچی: حکومت نے مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے شرح سود 22 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا، گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ مہنگائی میں بتدریج کمی آئے گی۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی جاری کردی۔ گورنر نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی صورتحال کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ شرح سود آئندہ دو ماہ کے لیے بائیس فیصد کی سطح پر برقرار رہے گی۔

    انہوں نے کہا کہ بیرونی اکاؤنٹ میں کافی بہتری آئی جو زرمبادلہ کے ذخائر سے ظاہر ہورہی ہے، جولائی میں آئی ایم ایف معاہدے کے وقت زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے زیادہ رہے جو اب 8.3 ارب ڈالر ہیں اس دوران 6.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے بھی ادا کیے اور ان ادائیگیوں کے باوجود زخائر میں 4 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

    انہوں ںے کہا کہ جاری کھاتے کا خسارہ 22 کے مالی سال میں 17.5 ارب ڈالر رہا جو کہ 4.7 فیصد کی ڈی پی کا تھا، گزشتہ سال حکومت اور اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے جاری کھاتے کا خسارہ 2.6 ارب ڈالر کی سطح پر آگیا جو کہ جی ڈی پی کا 0.7 فیصد پر آگیا تھا، رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں جاری کھاتے کا خسارہ 0.8 ارب یعنی 800 ملین ڈالر رہا جنوری میں بھی کمی کا تسلسل جاری ہے۔

    گورنر نے کہا کہ اس وقت جاری کھاتہ کنٹرول میں ہے اس سال جاری کھاتہ کا خسارہ 0.5 سے 1.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر رہے گا، رواں مالی سال اور آئندہ سال کافی ادائیگیاں کرںی ہیں جاری کھاتہ پر دباؤ موجود ہے اگرچہ رسک کم ہوا ہے۔

    جمیل احمد نے مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ مئی 2023ء میں 38 فیصد افراط زر رہا اس کے بعد سے افراط زر کم ہوا لیکن اب بھی یہ بڑھا ہوا ہے گزشتہ ماہ 29 فیصد رہا رواں ماہ افراط زر گزشتہ ماہ سے تھوڑا کم رہنے کی توقع ہے تاہم مارچ سے افراط زر میں بتدریج کمی آئے گی یعنی آنے والے مہینوں میں افراط زر میں کمی کی رفتار بڑھ جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر پر دباؤ بڑھا، رواں مالی سال افراط زر 23 سے 25 فیصد رہے گا، میڈیم ٹرم میں افراط زر کا ہدف 5 سے 7 فیصد تھا، جون 2025ء تک انرجی قیمت بڑھںے سے میڈیم ٹرم ہدف جون کے بجائے ستمبر 2025 تک پورا ہوگا، افراط زر کے میڈیم ٹرم ہدف کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

    جمیل احمد کا کہنا تھا کہ کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اس کی جھلک معاشی سرگرمیوں سے ملتی ہے صنعتوں کی پیداوار گنجائش بروئے کار لانے میں بہتری آئی ہے کاروباری اعتماد سروے میں کاروباری طبقہ کے اعتماد بڑھا ہے، کاروباری طبقے کو اسٹیٹ بینک پر اعتماد ہے کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو 2 سے 3 فیصد رہے گی، معاشی ترقی کی شرح نمو میں زراعت اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ سے سپورٹ ملے گی۔

    پریس کانفرنس میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے تخمینے کے مطابق حقیقی پالیسی ریٹ فارورڈ لکنگ کی بنیاد پر مثبت رہے گا ہمارے اندازے کے مطابق افراط زر میں نمایاں کمی آئے گی، جون 2024ء تک افراط زر موجودہ سطح سے کافی کم ہوگا، مارچ کے بعد سے افراط زر میں کمی آنا شروع ہوجائے گی، افراط زر میں کمی سخت مانیٹری پالیسی کا نتیجہ ہے جو کافی عرصہ سے اختیار کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مانیٹری پالیسی کے نتائج ایک سے ڈیڑھ سال میں آتے ہیں انٹرنیشنل کماڈیٹی کی قیمتوں میں بہتری سے بھی پاکستان میں افراط زر میں کمی آئیگی، سیلاب سے پیدا ہونے والے حالات اور فوڈ آئٹمز کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات بھی کم ہوئے ہیں سپلائی میں بہتری آئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کی قرض کی ضرورت بڑھی ہوئی ہے جو بینکوں سے پوری کی جارہی ہے حکومت کی قرض گیری میں کچھ کمی آئی ہے بینکوں کے ڈپازٹس میں بھی بہتری آرہی ہے زیر گردش کرنسی 9 ہزار ارب روپے سے کم ہوکر 8600 ارب روپے پر آگئی ہے یعنی زیر گردش کرنسی نوٹوں کی مالیت میں 400 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اسٹاف رپورٹ میں پاکستان کی مانیٹری پالیسی کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی۔

  • عدلیہ کے خلاف مہم پر 32 صحافیوں سمیت 110 افراد کو نوٹس جاری ہوئے، مرتضیٰ سولنگی

    عدلیہ کے خلاف مہم پر 32 صحافیوں سمیت 110 افراد کو نوٹس جاری ہوئے، مرتضیٰ سولنگی

    اسلام آباد: نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز اور بہتان تراشی کی مہم پر تقریباً 600 سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کی تحقیقات ہوئیں اور 32 صحافیوں سمیت 110 افراد کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز اور بہتان تراشی پر مہم جاری تھی، جس پر وفاقی وزارت داخلہ نے 16 جنوری کو اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

    مرتضیٰ سولنگی نے بتایا کہ جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس 17 جنوری اور دوسرا اجلاس 23 جنوی کو منعقد ہوا اور اب اب تک سوشل میڈیا کے تقریباً 600 اکاﺅنٹس کی تحقیقات کی بنیاد پر تقریباً 100 انکوائریز رجسٹرڈ کردی گئی ہیں۔