Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 29 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • سپریم کورٹ: صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ: صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلیے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس کو سماعت کیلئے مقرر کردیا۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پیر کو سماعت کرے گا۔ سپریم کورٹ نے 2021 میں ازخود نوٹس لیا تھا۔

    قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی اور ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کا نوٹس لے لیتے ہوئے دونوں ایسوسی ایشنز کے صدور کو اپنے چیمبر میں طلب کیا۔

  • امریکا نے ترکیہ کو ایف-16 جنگی طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

    امریکا نے ترکیہ کو ایف-16 جنگی طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

    واشنگٹن: امریکا نے ترکیہ کو 23 ارب ڈٓالر مالیت کے 40 ایف-16 طیاروں کی فراہمی کی منظوری دے دی۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ترکیہ کو ایف-16 فراہم کرنے کی منظوری ترک پارلیمنٹ کی جانب سے سویڈن کو نیٹو کی رکنیت دینے کی اجازت کے بعد دی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ کانگریس نے ترکیہ کے ساتھ 23 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کی منظوری دی تھی اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے جمعے کی رات کو ہی اس کی توثیق کردی۔

    امریکا نے ترکیہ کے علاوہ یونان کو 8.6 ارب ڈالر مالیت کے جدید ایف-35 جنگی طیاروں کی فراہمی کی منظوری بھی دی ہے۔

    خیال رہے کہ ترکیہ اور امریکا نیٹو اتحادی ہیں اور یونان مغربی فوجی بلاک کا بھی حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ترکیہ نے جیسے سویڈن کی نیٹو رکنیٹ کی منظوری کے دستاویزات واشنگٹن کو فراہم کیے، اس کے بعد امریکا نے بھی ایف-16 کی فراہمی کی توثیق کردی۔

    امریکا سے 40 ایف-16 طیاروں اور اس کے آلات کی وصولی سے ترکیہ کے پاس موجود 79 ایف-16 طیاروں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگا اور دفاعی صلاحیت میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔

    ترکیہ نے امریکا سے اکتوبر 2021 میں ایف-16 کے حصول کا معاہدہ کیا تھا لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد سویڈن کی نیٹو رکنیت میں تاخیر کی وجہ سے التوا کا شکار ہوگئی تھی اور امریکی کانگریس نے رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔

  • کراچی؛ 18 سال بعد قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم کو سزا

    کراچی؛ 18 سال بعد قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم کو سزا

    کراچی: کراچی کی ایک عدالت نے 18 سال بعد قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم کو عمر قید بامشقت کی سزا سنادی۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں سیشن عدالت غربی نے 2006 میں قتل کے مقدمے میں ملوث ملزم کوعمر قید بامشقت سزا سنائی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جرمانہ کی عدم ادائیگی پر مزید 6 ماہ قید کاٹنی ہوگی۔ علاوہ ازیں استغاثہ کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزم قیوم تاحال مفرور ہے، ملزمان نے بلدیہ ٹاؤن میں مقتول اور اس کے دوستوں پر فائرنگ کی تھی۔
    استغاثہ کے مطابق فائرنگ سے جمیل جاں بحق جبکہ اس کا دوست وسیم زخمی ہوا، ملزمان کیخلاف 7 سے زائد گواہان عدالت میں پیش ہوئے، واقعہ کے 15 سال تک ملزم مفرور رہے جبکہ ملزم اقبال نے 2021 میں سندھ ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔

    تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہو ملزم کو جیل بھیج دیا تھا۔ پراسیکیوٹر عارف ستائی نے بتایا کہ دوران ٹرائل وکیل ملزم نے گواہوں پر مکمل جرح کی تاہم ملزم کے حق میں کوئی ایسی بات سامنے نہیں آسکی۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ بلدیہ ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔

  • امریکا نے عمران خان کے سائفر لہرانے پر تحریری طور پر تشویش کا اظہار کیا تھا، سابق سیکریٹری خارجہ

    امریکا نے عمران خان کے سائفر لہرانے پر تحریری طور پر تشویش کا اظہار کیا تھا، سابق سیکریٹری خارجہ

    راولپنڈی: سابق سیکرٹری خارجہ کے عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کی کاپی سامنے آگئی جس میں انہوں ںے کہا ہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری امریکا نے نوٹ بھیجا جس میں انہوں ںے عمران خان کے سائفر لہرانے پر امریکی حکام کی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نےِ وکلائے صفائی کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مصروفیت کے باعث کیس کی سماعت کل جمعہ تک ملتوی کردی۔

    دوسری جانب 22 جنوری کو سائفر کیس میں عدالت کو بیان ریکارڈ کرانے والے سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کے ریکارڈ کرائے گئے بیان کی تحریری کاپی سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا کہ مارچ 2022ء میں میری تعیناتی بطور سیکرٹری خارجہ تھی، 8 مارچ 2022ء کو واشنگٹن میں پاکستانی سفیر سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا سفیر نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشیاء سے ملاقات کا بتایا اور اس ملاقات میں سفیر کے ساتھ ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور ڈیفنس اتاشی بھی موجود تھے۔

    سہیل محمود کے مطابق سفیر نے معاملے کی حساسیت سے متعلق بتایا اور کہا کہ انہوں نے اس بات چیت کے حوالے سے وزارت خارجہ کو سائفر ٹیلی گرام بھجوایا ہے، میں نے اپنے دفتر جاکر سائفر ٹیلی گرام کی کاپی وصول کی، میں نے اس سائفر ٹیلی گرام کو کیٹگرائز کیا کہ سرکولیشن نہیں کرنی صرف سیکرٹری خارجہ کیلئے ہے، میں نے ہدایات کے ساتھ سائفر ٹیلی گرام کی کاپی کی تقسیم کی منظوری دی اور سائفر کی کاپی ایس پی ایم کو سربمہر لفافے میں بھجوانے کی ہدایت کی۔

    سابق سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ 27 مارچ 2022ء کو جلسے میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک خط لہرایا جبکہ 28 مارچ کو مجھے ایڈیشنل سیکریٹری امریکا کی جانب سے موصول انٹرنل نوٹ میں کہا گیا کہ امریکی حکام نے وزیر اعظم عمران خان کی پبلک اسٹیٹمنٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے، میں نے اس نوٹ کو اس وقت کے وزیر خارجہ کو بھیجتے ہوئے مشورہ دیا کہ امریکا سے منسلک رہنا سمجھ داری ہوگی، اس مشورے کا مقصد اہم ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا تحفظ اور سیکرٹ کمیونی کیشن کی عوامی سطح پر بحث سے گریز کرنا تھا۔

    سہیل محمود نے کہا کہ 29 مارچ 2022ء کو مجھے ملاقات کیلئے بنی گالہ بلایا گیا میٹنگ پہلے سے طے شدہ میٹنگ نہیں تھی اور مختصر نوٹس پر بلائی گئی تھی، اس میٹنگ میں سابق وزیر اعظم کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اعظم خان بھی موجود تھے، مجھے سائفر ٹیلی گرام پڑھنے کا کہا گیا، سائفر پڑھنے کے دوران شرکاء نے یو ایس اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ اور واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے درمیان ہونے والی بات چیت پر میں نے یہ بھی بتایا کہ سائفر کی ڈی کلاسیفکیشن سے سفارتی مشن کے کام پر اثر پڑ سکتاہے کیونکہ اس سے امریکا اور کچھ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔

    سہیل محمود کے مطابق بنی گالہ میں ہونے والی میٹنگ مختصر تھی، جو بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئی، میں سائفر ٹیلی گرام کی کاپی اپنے ساتھ لے گیا، سائفر محفوظ رکھنے کیلئے ڈائریکٹر ایف ایس او کے حوالے کردی، مجھے اس میٹنگ کے منٹس تیار کرنے کا نہیں کہا گیا تھا۔

    تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 اپریل 2022ء کو کابینہ میٹنگ ہوئی جس میں سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری قانون و انصاف اور میں بطور سیکرٹری خارجہ موجود تھے، میں نے بتایا کہ سائفر سیکیورٹی گائیڈ لائنز سائفر ٹیلی گرام کوصرف مجاز افراد کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں سائفر ٹیلی گرام کی ڈی کلاسیفیکیشن کی کوئی مثال نہیں ہے، میٹنگ کے بعد فیصلہ ہوا کہ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں سائفر کی صداقت اور نمایاں خصوصیات کے حوالے سے بریفنگ دی جائے۔

  • پی ٹی آئی کی عدلیہ کی نگرانی میں الیکشن کرانے کی درخواست خارج

    پی ٹی آئی کی عدلیہ کی نگرانی میں الیکشن کرانے کی درخواست خارج

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کے پی میں انتخابات عدلیہ کی زیر نگرانی کرانے کی درخواست عدالت نے خارج کردی۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ محمد ابراہیم خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی جانب سے عدلیہ کی نگرانی میں الیکشن کرانے کی درخواست خارج کردی۔

    بینچ نے 18 دسمبر کو کیس کی سماعت کرکے فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج جسٹس شکیل احمد نے جاری کردیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں انتخابات عدلیہ کی زیر نگرانی کروانے کی استدعا کی تھی۔

  • ایک صوبے میں 15 سال حکومت کرنیوالی جماعت نے 15 منصوبے بھی نہیں بنائے، مریم نواز

    ایک صوبے میں 15 سال حکومت کرنیوالی جماعت نے 15 منصوبے بھی نہیں بنائے، مریم نواز

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف صبح شام اس پر کام کررہے ہیں کہ منتخب ہونے پر بجلی کا بل کیسے کم کرنا ہے۔

    لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ن لیگ کے سوا باقی جماعتوں نے کچھ نہ کیا، ان کا کام صرف تنقید کرنا اور الزامات لگانا ہے، میں نوازشریف کے پندرہ سو منصوبے گنوا سکتی ہوں۔

    مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں آج کل کچھ ایسی بھی جماعتیں بھی آئی ہوئی ہیں جنہوں نے ایک صوبے میں 15 برس حکومتیں کی ہے لیکن ان کے پاس گنوانے کےلیے 15 منصوبے بھی نہیں، وہ پنجاب میں آکر نواز شریف پر تنقید کرتے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ پنجاب نواز شریف پر تنقید نہیں سنتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مجھے اپنے والد کا ساتھ دینے کی سزا دی گئی، مجھ پر صرف یہ الزام تھا کہ باپ کیساتھ کھڑی کیوں ہوئی، چاہے جان چلی جاتی، کرسی چلی جاتی لیکن میں اپنے باپ کیساتھ کھڑی رہی۔

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف آج کل صرف ایک چیز پر کام رہے ہیں کہ اگر اللہ تعالی نے انہیں منتخب کیا تو عوام کے بجلی کے بل کس طرح کم کرنے ہیں، گیس کے مسائل کیسے حل کرنے ہیں، عوام کو مہنگائی سے نجات کیسے دلوانی ہے.

    مریم نواز نے مزید کہا کہ اللہ کا واسطہ سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالنا، کیونکہ اس نے ہماری نسلوں کا فیصلہ کرنا ہے، ہم نے یہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جانا، میرے بچے یہیں رہیں گے۔

  • باپ بیٹی نہیں، چچا بھتیجے کی کنڈلیاں شاید مل جائیں، فیصل واوڈا

    باپ بیٹی نہیں، چچا بھتیجے کی کنڈلیاں شاید مل جائیں، فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ باپ بیٹی کی کنڈلیاں تو ملتے ہوئے نظر نہیں آرہیں، بھتیجے اور چچا کی کنڈلیاں شاید مل جائیں۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ عرفان صدیقی اس عمر میں نوجوانوں کیلیے کیا منشور لکھیں گے، یہ آگے بڑھنے کا راستہ نہیں۔ اس منشور کا کچھ حصہ ہمیں 16مہینے میں نظر آیا تھا جس میں تباہی ہوئی، بدترین قرضے لئے گئے ہیں، اپنے بدترین کیس معاف کرائے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جس طرح معاملات چلا رہی تھی، نتیجہ دیوار پر لکھا نظر آ رہا تھا، یہ اپنے پاؤں پرکلہاڑی خود مارتی ہے۔ آنے والی حکومت کتنے سال چلے گی؟ کتنی لنگڑی لولی چلے گی؟کیا اس کا حساب کتاب ہوگا؟باپ بیٹی کی کنڈلیاں تو ملتے ہوئے نظر نہیں آرہیں۔ بھتیجے اور چچا کی کنڈلیاں شاید مل جائیں۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر لانگ ٹرم حکومت چلانی ہے تو زرداری صاحب کو مائنس نہیں کر سکتے۔ بوڑھے سیاستدانوں کو تسبیح پڑھ کر اپنے پوتے پوتیوں سے کھیل کر اللہ اللہ کرکے آگے جانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ اگر بیوروکریٹ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 یا 62 سال ہے توایک لیڈر کی ایکسپائری ڈیٹ کم ازکم 70 سال تو لکھ دیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ وہ 100 سال تک بھی چلتا رہے گا تو یہ ممکن نہیں ہے۔

    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دھکا اسٹارٹ چیزیں چلتی نہیں ہیں۔ پی ڈی ایم ٹو بنے گی تو یہ نئی حکومت 2 سال سوا 2 سال نکال پائے گی۔ ورنہ پٹاخہ بج جائیگا۔ باپ اور بیٹے کی کنڈلی ابھی ایک ہی ہے۔ مجھے بیورو کریسی، ڈیموکریسی، اسٹیبلشمنٹ سے یا کسی اور سے کوئی شکایت نہیں۔ مجھے تو بھٹو زندہ چاہیے۔ مجھے تو زرداری کے 14سال واپس چاہییں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو بلیک ڈکشنری کا سہارا لے کر نکال دیتے ہیں، مجھے عمران خان کی چلتی ہوئی حکومت میں سنڈے کے دن دفاتر کھلنے کا جواب چاہیے۔ 15 ہزار لوگ پھانسی پر کیوں نہیں چڑھے؟ہر شعبے سے لے لیں۔پی ٹی آئی کا ووٹر کسی اور کا ووٹر نہیں۔

    فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ سائفر کے حوالے سے کہوں گا عمران خان کا دماغ سازشی نہیں۔ سازشی لوگ ان کے ساتھ تھے۔ البتہ عمران کانوں کے کچے تھے، اور ایکسائٹ ہو جاتے تھے اور ہر چیز اپنے سر پر لے لیتے تھے۔ اس کو سازش میں تبدیل کرنے والے ایک تو اندر ہیں۔ ایک سیاست سے بائے بائے کر کے نکل گئے ہیں۔ الیکشن میں پی ٹی آئی کے چار چار امیدوار کھڑے ہیں۔ بھائی وہ سب بکیں گے۔سب کی موج لگنے والی ہے۔

  • ہم کسی صورت بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے، عمران خان

    ہم کسی صورت بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے، عمران خان

    راولپنڈی: بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ ہم کسی صورت میں بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے۔

    کمرہ عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ یہ اوپن ٹرائل نہیں ہے، میڈیا کے دوستوں کو پیچھے بٹھا دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے کہتا ہوں کہ سارا کنٹرول ان کے پاس ہے۔ بات اس سے کرنی چاہیے جس کے پاس پاور بھی ہو ۔ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ صاف شفاف انتخابات کروائیں ۔ عوام جس کو چاہیں اس کو لانا چاہیے۔ انجینئرنگ نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا، ہمارے لوگوں کو اب بھی پکڑا جارہا ہے ۔ پی ٹی آئی میدان میں موجود ہی نہیں تو سروے کیسے کیا جارہا ہے ۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حالات اب یہ بن چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کنٹرول کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔ بائے الیکشن میں بھی اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن نے ان کی مدد کی تھی ۔ ساری پارٹیز ایک ہو چکی ہیں پھر بھی پی ٹی آئی کو کنٹرول کرنا مشکل ہے ۔ ہماری کارنر میٹنگ ہوتی ہے تو پولیس چھاپے مارنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اتوار کو چھپے ہوئے لوگ باہر آئیں اور اپنی کمپین شروع کریں ۔

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 9 مئی کا الزام ہم پر لگایا گیا لیکن ہم نے تو کوئی قانون نہیں توڑا ۔ جب مجھے گولیاں لگیں تب بھی کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا ۔ 2018 میں بھی بتایا جائے کہ کس نے الیکشن سے روکا تھا ۔ ہم کسی صورت بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے ۔ وہ مدد مانگ رہا ہے تو اُن سے مانگے جن سے مل کر 16 ماہ حکومت کی ۔

    یہ آج ایک دوسرے کے مخالف ہو چکے ہیں لیکن یہ اندر سے ایک ہی ہیں۔

    قبل ازیں 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت کے دوران جج سے مکالمہ کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ سارا ڈراما 8 فروری کے لیے کیا جارہا ہے۔ اگر یہ ڈراما کرنا ہے تو 8 فروری کے بعد کر لیں۔

    عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ میں نواز شریف اور آصف زرداری کو 13 فروری کی تاریخ کی گئی۔ میں روز سنتا ہوں کہ ایک کے بعد ایک کیس بنایا جارہا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے کیسز بھی روز رکھیں تا کہ کام جلدی مکمل ہو۔ 8 سال پرانا کیس 13 فروری کو رکھا گیا جب کہ 4 سال پرانا کیس روز رکھا جاتا ہے۔

    دوران سماعت پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی ہمارے گواہان پیش ہونے ہیں ان پر جرح ہونی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے جو 300 کروڑ کا چھکا مارا وہ گراونڈ سے باہر گیا۔

  • تازہ اور درست معلومات کی فراہمی کیلیے نادرا نے واٹس ایپ چینل کا آغازکردیا

    تازہ اور درست معلومات کی فراہمی کیلیے نادرا نے واٹس ایپ چینل کا آغازکردیا

    کراچی: شہریوں کو تازہ ترین، درست معلومات کی فراہمی کے لئے نادرا نے واٹس ایپ چینل کا آغازکردیا۔

    ترجمان کے مطابق نادرا جیسے عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لئے واٹس ایپ چینل کا اجراء ایک جدت آمیز اقدام ہے، واٹس ایپ چینل کے آغاز کے ساتھ ہی نادراخدمات اور سہولیات کے بارے میں معلومات پر مبنی مواد شیئر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ نادرا واٹس ایپ چینل کو سبسکرائب کرنے والے شہریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، بروقت اور فوری معلومات کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کی رہنمائی کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، شہری نادرا واٹس ایپ چینل کو سبسکرائب کریں اور نادرا خدمات اور سہولیات پر فوری اور درست معلومات حاصل کریں۔

  • انٹر میں طلبا کو فیل کرنے پر حافظ نعیم کا کل بورڈ آفس پر دھرنے کا اعلان

    انٹر میں طلبا کو فیل کرنے پر حافظ نعیم کا کل بورڈ آفس پر دھرنے کا اعلان

    کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے انٹر سال اوّل کے نتائج کے خلاف جمعہ 26 جنوری کو صبح 11 بجے انٹر بورڈ آفس پر دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔

    ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اسکروٹنی کے نام پر فی پیپر 5 سو روپے وصول کر کے مال بنایا جارہا ہے جس میں صرف ری کاؤنٹنگ کی جائے گی جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ نگراں وزیر اعلیٰ سندھ مقبول باقر سے واضح اور دوٹوک مطالبہ ہے کہ سال اول آرٹس و کامرس، پری میڈکل و پری انجینئرنگ کے نتائج کو کالعدم قراردے کر کراچی کے طلبہ و طالبات سے تعلیم دشمنی کا فوری طور پر سخت نوٹس لیں۔

    حافظ نعیم نے کہا اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اور صاف و شفاف طریقے سے ری چیکنگ کا عمل شروع کیا جائے۔ متاثرہ طلبہ وطالبات میں تمام زبان بولنے والے شامل ہیں، موجودہ نگراں حکومت پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا ہی تسلسل اور توسیع ہے، جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ کے تحت کراچی کے شہریوں اور طلبہ و طالبات کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے، ہم اس کے خلاف بھرپور سیاسی مزاحمت جاری رکھیں گے اور طلبہ کو ان کا حق ضرور دلوائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ 28 فروری کو باغ جناح گراؤنڈ میں تاریخی جلسہ اعلان کراچی ہوگا،کراچی کے عوام زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوکر عام انتخابات کا فیصلہ دے دیں گے، سرکاری اداروں کو پرائیویٹ کرنا غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل ہے، کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیزز کے شعبہ نرسنگ ہم کسی صورت فروخت نہیں ہونے دیں گے، جماعت اسلامی صرف زبانی جمع خر چ پر یقین نہیں رکھتی، کراچی میں پانی، بجلی، گیس سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے عوام کی ترجمانی کی ہے۔