Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 30 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • تربت میں ضلعی الیکشن کمشنر کے دفتر پر فائرنگ، پولیس اہلکار جاں بحق

    تربت میں ضلعی الیکشن کمشنر کے دفتر پر فائرنگ، پولیس اہلکار جاں بحق

    کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے تربت میں ریجنل الیکشن کمشنر کے آفس پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے تربت میں قائم ریجنل الیکشن کمشنر آفس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا۔

    پولیس حکام کے مطابق مقتول کی شناخت نمروز ولد شبیر کے نام سے ہوئی جو میری کلگ کا رہائشی تھا۔

    اُدھر نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ریجنل الیکشن کمشنر آفس تربت میں فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے محکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کی اور شہید اہلکار کے لواحقین سے تعزیت بھی کی۔

    علی مردان خان ڈومکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ واقعہ قابل مذمت اور پرامن انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی سازش ہے، تربت میں الیکشن کمشنر کے دفتر پر فائرنگ کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا ہے‘۔

    انہوں نے کہا کہ عوام اور امیدواروں کو پرامن اور سازگار ماحول کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائیں گے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں ٹائم ڈیوائس دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔

  • پی ٹی آئی کو کٹھن حالات سے نکالنے کیلیے لائحہ عمل تیار کرلیا، اکبر ایس بابر

    پی ٹی آئی کو کٹھن حالات سے نکالنے کیلیے لائحہ عمل تیار کرلیا، اکبر ایس بابر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھ سمیت تمام ہم خیال دوستوں نے پی ٹی آئی کو کٹھن حالات سے نکالنے کیلیے لائحہ عمل تیار کرلیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اکبر ایس بابر نے اور دیگر بانی عہدیداران نے اسلام آباد میں قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔

    اکبر ایس بابر نے پروگرام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما سمیت سابق عہدیدار موجود ہیں، ہم تحریک انصاف کو گمراہی سے بچانے کے کیلیے اکھٹے ہوئے تھے۔ اس کانفرنس میں شامل تمام افراد کے دستخط منظور کردہ قرارداد پر موجود ہیں۔

    اکبر ایس بابر نے کہا کہ اس کانفرنس میں قرارداد منظور کی گئی ہے۔ جس میں ہمارا عملی لائحہ عمل سامنے آئے گا، یہ پشاور کے نواحی گاؤں میں دو درجن لوگوں نے جو الیکشن کروایا، یہ ویسا اجلاس نہیں تھا جبکہ اس اجلاس کا مقصد تحریک انصاف کو کٹھن حالات سے نکالنا تھا جس کا لائحہ عمل تیار کرلیا ہے۔

    اکبر ایس بابر نے قرارداد کا متن پڑھتے ہوئے بتایا کہ ’پارٹی کے بنیادی اصولوں کے مطابق تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ پارٹی کو درپیش مسائل اور مشکلات حوس اقتدار کے باعث پیش آئے جبکہ سپریم کورٹ کے انٹرا پارٹی فیصلے کو اجلاس میں موجود شرکا نے تاریخی قرار دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اجلاس میں سب نے یک ذبان ہو کر تحریک انصاف کی قیادت پارٹی کی رہنمائی سے محروم ہو گئی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ بنیادی طور پر سب کو انٹرا پارٹی الیکشن پر معافی مانگنی چاہیے، تمام رہنماؤں نے انٹرا پارٹی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ہم سب نے عہد کیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی کے الیکشن کی ذمہ داری سنبھالی جائیں گی۔ ہم انٹرا پارٹی الیکشن کی قیادت خود سنبھالیں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ورکرز کے حقوق واپس دلوائے جائیں گے، ہم خود تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن بنائیں گے۔ پی ٹی آئی کے شفاف الیکشن کے ذریعے ورکرزکو ان کا حق ملے گا۔ اکبر ایس بابر نے بتایا کہ اجلاس میں 8 فروری کے الیکشن کے لیے ٹکٹس کو مسترد کیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی ٹکٹوں میں ماضی کی طرح بندر بانٹ کی گئی ہے، کانفرنس کی قرارداد اور دیگر ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے شفاف الیکشن کے بعد بلے کو واپس لینے کے لیے درخواست دی جائے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارٹی کے تمام بنک اکاونٹس کو منجمد کیا جائے۔ درخواست دیں گے جب تک غلط لوگوں کو پارٹی سے نکال باہر نہیں کیا جاتا، سب اکاؤنٹس منجمد کیے جائیںم تاحال بنک اکاونٹس کا استعمال مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے بھی درخواست دی جائے گی۔

  • کراچی میں پیپلز پارٹی امیدوار کی انوکھی انتخابی مہم؛ الیکشن کمیشن کا ایکشن

    کراچی میں پیپلز پارٹی امیدوار کی انوکھی انتخابی مہم؛ الیکشن کمیشن کا ایکشن

    کراچی: الیکشن کمیشن نے این اے 248 سے پیپلز پارٹی امیدوار کی انتخابی کو انتخابی ضابطہ اخلاق اور قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نجی اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کرنےکے لیے مراسلہ لکھ دیا۔

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کے مطابق این اے 248 کے امیدوار حسن خان انتخابی مہم کےلیے اپنےنجی اسکول کو استعمال کیا اور ووٹ کے لیے بچوں سے والدین کا ڈیٹا مانگا۔ علاوہ ازیں انہوں نے اسکول کی انتظامیہ سے ووٹ کے لیے طلبہ کے رشتے داروں کا ڈیٹا طلب کیا۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار حسن خان نے پہلی سے دسویں کلاس کے بچوں سے قریبی رشتے داروں میں سے 5،5 ووٹرز کے شناختی کارڈ کی کاپیاں سمیت ڈیٹا مانگا تھا۔

    بعدازاں ڈسڑکٹ مانیٹرنگ افسر نے نجی اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر کو مراسلہ لکھ دیا۔ واضح رہے کہ حسن خان کے ضلع وسطی میں نجی اسکول کی متعدد برانچز ہیں۔

  • ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی انتقال کرگئے

    ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی انتقال کرگئے

    لاہور: ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی انتقال کر گٸے۔

    ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی 9 فروری 1940ء کو چکوال میں پیدا ہوئے۔ 1966ء میں اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے اردو کا امتحان فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن میں پاس کیا۔

    وہ ستر کی دہائی میں محکمہ تعلیم پنجاب سے وابستہ ہوئے اور مختلف کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 1982ء میں اورینٹل کالج لاہور میں تعینات ہوئے اور وہیں سے بطور پروفیسر سبکدوش ہوئے۔
    انہوں نے 1981ء میں جامعہ پنجاب سے تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی جبکہ وہ کئی ادبی، علمی و تحقیقی رسائل کے مدیر و معاون مدیر بھی رہے۔

    ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی بابائے اردو ایوارڈ اور قومی صدارتی اقبال ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں جبکہ انہوں نے اقبالیات اور اردو زبان و ادب پر درجنوں کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔

    ان کی کتب میں اصنافِ ادب، خطوطِ اقبال، کتابیاتِ اقبال، تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ، اقبال کی طویل نظمیں: فکری و فنی مطالعہ، 1985ء کا اقبالیاتی ادب – ایک جائزہ، 1986ء کا اقبالیاتی ادب – ایک جائزہ، خطوطِ مودودی، اقبال: مسائل و مباحث، اقبالیات کے سو سال، تحقیقِ اقبالیات کے مآخذ، اقبالیات: تفہیم و تجزیہ، مکاتیب مشفق خواجہ، پاکستان میں اقبالیاتی ادب، علامہ اقبال: شخصیت و فن و دیگر شامل ہیں۔

  • گلستان جوہر میں شہریوں کا ’کے الیکٹرک‘ عملے پر تشدد

    گلستان جوہر میں شہریوں کا ’کے الیکٹرک‘ عملے پر تشدد

    کراچی: گلستان جوہر بھٹائی آباد میں کے الیکٹرک کے عملے کو شہریوں نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

    ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق گلستان جوہر کے علاقے بھٹائی آباد میں کے الیکٹرک کے عملے پر تشدد کیا گیا۔

    اس حوالے سے ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ عملے پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں، عملہ معمول کی ڈیوٹی پر بھٹائی آباد میں موجود تھا۔

    انہوں نے کہا کہ حملے کی اطلاع فوری طور پر علاقہ پولیس کو دی گئی جس کے بعد تھانے میں ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرادیا گیا جبکہ 4 ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں ماضی میں بھی بڑھتی ہوئی اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ سے تنگ شہریوں کی جانب سے کے الیکٹرک اسٹاف پر تشدد کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

  • عام انتخابات میں فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری

    عام انتخابات میں فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری

    وفاقی کابینہ کی جانب سے عام انتخابات میں فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی منظوری کے بعد اب باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق آئین کی شق 245 کے تحت ملک میں فوج تعینات کی جائے گی، فوج کوئک رسپانس فورس کے طور پر حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات کیا جائے گا جبکہ فوج کی تعیناتی 5 فروری سے 10 فروری تک ہو گی۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی انتخابات کو شفاف اور پرامن بنانے کیلئے کی گئی ہے۔

  • پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات میں اپنے اراکین کو لاعلم رکھا، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات میں اپنے اراکین کو لاعلم رکھا، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹراپارٹی کے حوالے سے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ پارٹی نے اپنے ہی اراکین کو لاعلم رکھا اور انٹراپارٹی انتخابات نہ ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کے اہم عہدوں پر براجمان افراد پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ کا 38 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا اور قرار دیا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات میں اپنے ہی اراکین کو لاعلم رکھا۔

    عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا کہ قانون کے مطابق پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان نہیں دیا جاسکتا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو متعدد شوکاز نوٹس جاری کیے، شوکاز نوٹسز کے باوجود انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے گئے۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے، انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر انتحابی نشان واپس لیا جاسکتا ہے،لہٰذا 10 جنوری 2024 کو پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر 2023 کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے۔

    ‘پشاور ہائی کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ نظرانداز کردیا’

    سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا اور 20 دن بعد فیصلہ دیا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کچھ نہیں کر سکتا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز نے تفصیلی فیصلے میں نشان دہی کی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا اور لاہور ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار بھی نہیں کیا حالانکہ یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت تھا۔

    فیصلے میں بتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے سامنے محض سرٹیفکیٹ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تھا، جب انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہی نہیں تو سرٹیفکیٹ کے معاملے کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے، ایسے حالات میں الیکشن کمیشن کے پاس مکمل اختیار ہے۔

    سپریم کورٹ نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن کے اختیارات میں دخل اندازی اختیارات سے تجاوز ہے، ہائی کورٹ کیسے الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے سکتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ انٹرا پارٹی الیکشن جیت کر آنے والوں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ پارٹی امور چلائیں اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہونے پر انتخابی نشان نہ دیں۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے سے متعلق بتایا گیا کہ جب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے ایک سال کا وقت دیا تو اس وقت پی ٹی آئی برسراقتدار تھی اور عمران خان وزیراعظم تھے، اس وقت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کی حکومتیں تھیں۔

    تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا کہ متعدد نوٹسز جاری کرنے اور اضافی وقت دینے کے باوجود پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا۔

    مزید بتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو صرف سرٹیفکیٹ کے اجرا تک محدود کیا اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 209(1) کو نظر انداز کیا، الیکشن ایکٹ کے مطابق انٹرا پارٹی کے بعد ہی سرٹیفکیٹ کا معاملہ آتا ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ برطانیہ میں انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کوئی مخصوص قانون موجود نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیاسی جماعتیں وہاں پارٹی الیکشن نہیں کراتی، 2022 میں بورس جانسن وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہوئے لیکن اپنا جانشین مقرر نہیں کیا، الزبیتھ ٹرس نے رشی سوناک کو شکست دی اور وزیراعظم منتخب ہوئیں اور بعد میں استعفیٰ دیا تو رشی سوناک بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

    ‘انٹراپارٹی انتخابات میں ووٹ کا حق عام انتخابات میں ووٹ دینے جیسا ہے’

    سپریم کورٹ نے بتایا کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں ووٹ کا حق بھی عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق جیسا ہی ہے، امریکی سپریم کورٹ نے اپنے متعدد فیصلوں میں انٹرا پارٹی انتخابات کی اہمیت اجاگر کیا۔

    عدالت نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تحریک انصاف کی درخواست پر ہی لاہور ہائی کورٹ کا 5 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا، سپریم کورٹ میں یہ عیاں ہوا کہ لاہور ہائی کورٹ میں ابھی تک یہ معاملہ زیرِ التوا ہے۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ بیرسٹر گوہر نے خود کو چئیرمن پی ٹی آئی نامزد کیا لیکن ان کی نامزدگی کا اصل طریقہ کار واضح نہیں کیا، کوئی بھی فریق ایک کیس دو مختلف عدالتوں میں دائر نہیں کرسکتی، ضابطہ دیوانی کا سیکشن 10 ایک معاملہ دو مختلف عدالتوں میں لے جانے کی ممانعت کرتا ہے۔

    ‘اگر کیس ایک عدالت میں زیرسماعت ہوتو دوسری عدالت کارروائی نہیں کرسکتی’

    سپریم کورٹ نے بتایا کہ اگر ایک کیس ایک عدالت میں ہو تو دوسری عدالت اس کیس پر کارروائی جاری نہیں رکھ سکتی، اگر ایک فریق ایک ہی معاملہ دو مختلف ہائی کورٹس میں لے کر جائے تو یہ قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔

    تفصیلی فیصلے میں واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت واضح کرنا چاہتی ہےکہ اگر کوئی شخص بلا مقابلہ آئے تو وہ منتخب تصور ہوتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ انٹراپارٹی انتخابات نہ ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کے اہم عہدوں پر براجمان افراد پر سوالات اٹھتے ہیں لیکن اگر ہر کوئی بلامقاملہ منتخب ہو اور انتخابات کا کوئی ثبوت بھی نہ ہو تو یہ ایک الگ معاملہ ہے۔

    عدالت عظمیٰ نے بتایا کہ عمر ایوب خود کو بغیر دستاویزی ثبوت پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جیسا اہم عہدہ رکھتے ہیں، گوہر علی خان اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا چئیرمین کہتے ہیں جبکہ ان کے پاس کوئی ٹھوس دستاویزی ریکارڈ نہیں لیکن انہوں نے خود کو عمران خان نیازی کی جگہ خود کو پی ٹی آئی کا چئیرمین ظاہر کیا۔

    تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ صلاح الدین ترمذی کیس میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ جب کیس ایک ہائی کورٹ میں ہو تو دوسری ہائی کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 17 اور جمہوریت کا حوالہ دیا گیا:

    جمہوریت اس مقدمے کی بنیاد ہے
    جمہوریت کی بنیاد پر ہی پاکستان وجود میں آیا
    ہر آئینی دستاویز سے جمہوری سوچ کو برتری ملتی ہے
    قرار داد مقاصد ہر آئین میں دیباچے کا حصہ ہوتی ہے
    ‘انٹرا پارٹی انتخابات کے بغیر کسی سیاسی جماعت کا وجود نہیں’

    پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات سے متعلق کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ آئین پاکستان 12 اپریل 1973 کو بنا جو 14 اگست 1973 کو لاگو ہوا، آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ریاستی امور اس کے منتخب کردہ نمائندے ہی چلائیں گے، آئین کے اس دیباچے کو اہمیت حاصل ہے۔

    سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے بغیر کسی سیاسی جماعت کا کوئی وجود ہے، انٹرا پارٹی انتخابات کے بغیر جماعت کا اپنے ممبران سے تعلق ختم ہوجاتا ہے۔

    عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ہم اس کیس میں صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے یا نہیں، ہم اس گہرائی میں نہیں جارہے ہیں کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیسے ہوئے۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ طویل وابستگی رکھنے والے 14 اراکین نے شکایت کی کہ انہیں ووٹ کا حق نہیں دیا گیا، 14 اراکین نے تحریک انصاف کے مؤقف کو رد کرکے ثابت کیا کہ وہ اب بھی تحریک انصاف میں ہیں، رکنیت یا پارٹی رکن نہ ہونے کا الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے جو اس کی نفی کر رہا ہے۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن میں یہ ثابت کرنا چاہیے تھا کہ جو 14 لوگ شکایت کنندہ ہیں وہ پارٹی کے اراکین نہیں، الیکشن کمیشن میں یہ بھی ثابت نہیں کیا جاسکا کہ یہ 14 لوگ کسی اور جماعت میں گئے ہیں یا انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

    کسی رکن کو سیاسی جماعت سے بے دخل کرنے کے آئینی طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کسی رکن کو سیاسی جماعت سے نکالا یا معطل کیا جاتا ہے تو اس میں الیکشن ایکٹ کا سیکشن 205 مدنظر رکھنا لازم ہے، الیکشن ایکٹ کا سیکشن 205 کہتا ہے کہ کسی رکن کو نکالنے یا معطل کرنے سے پہلے پارٹی آئین میں طے کردہ طریقہ کار مدنظر رکھا جائے۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق سیکشن 205 کی ذیلی شق 2 کے مطابق کسی رکن کو سیاسی جماعت سے نکالنے سے قبل شوکاز نوٹس جاری کرکے اس کو دفاع کے لیے معقول وقت فراہم کیا جائے۔

    سپریم کورٹ نے بتایا کہ اس کیس میں پاکستان تحریک انصاف ریکارڈ سے ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ ان 14 اراکین کو پارٹی سے نکالا گیا، اکبر ایس بابر کے بانی رکن ثابت کرنے کے لیے کئی دستاویزات پیش کی گئیں اور ایک عدالتی فیصلہ بھی پیش کیا گیا۔

  • اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو حقِ دفاع میں نہیں چھپا سکتا؛ سعودی عرب

    اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو حقِ دفاع میں نہیں چھپا سکتا؛ سعودی عرب

    ریاض: سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ اسرائیلی حقِ دفاع کا دعوی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی صورت حال اور کسی تصفیے پر پہنچنے کے لیے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور مندوبین کا اجلاس جاری ہے۔

    اجلاس میں سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ انجینیئر ولید الخریجی نے کہا کہ اسرائیل کی اندھا دھند بمباری سے غزہ کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہوگئی جس میں 25 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    سعودی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ فلسطین کا پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر غزہ کی صورت حال کے منفی اثرات سے پڑوسی ممالک اور عالمی امن و سلامتی بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

    نائب وزیر خارجہ انجینیئر ولید الخریجی نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے حق دفاع کے بہانے غزہ کے خلاف عسکری کارروائی کو پوری قوت سے مسترد کرتا ہے۔

    سعودی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا اسرائیل کے غزہ کے باشندوں کو جبری طور پر بے دخلی کو بھی مسترد کرتے ہیں اور اس تنازع کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری پر زور دیا۔

  • حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں بھارت ملوث ہے جس کے ثبوت موجود ہیں، پاکستان

    حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں بھارت ملوث ہے جس کے ثبوت موجود ہیں، پاکستان

    اسلام آباد: سیکریٹری خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھارت ملوث ہے، اشوک کمار اور یوگیش کمار نامی شہریوں نے یہاں اپنے ایجنٹوں کو رقومات دے کر قتل کرائے جس کے ثبوت موجود ہیں۔

    دفتر خارجہ میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ سائرس قاضی نے کہا کہ ہمارے پاس دو پاکستانی شہریوں کو انڈیا کی جانب سے قتل کیے جانے کے مصدقہ ثبوت موجود ہیں، قاتل کے انڈیا سے مصدقہ لنک ملے ہیں، شاہد لطیف کو مارنے کے لیے انڈین شہری یوگیش کمار نے یہاں مقامی قاتل کو ہائر کیا اور شاہد لطیف کو قتل کروایا۔

    سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ ٹارگٹ کلر عمیر نے پانچ ٹارگٹ کلرز کی ٹیم بنائی، قانون نافذ کرنے والے اداروں عمیر کو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا، قاتل عمیر بارہ اکتوبر کو ملک سے باہر فرار ہو رہا تھا۔

    انہوں ںے بتایا کہ دوسرا کیس محمد ریاض کا ہے جسے راولاکوٹ میں فجر کے وقت قتل کیا گیا، تفتیش سے پتا چلا کہ عبداللہ علی نامی کلر نے محمد ریاض کو قتل کیا جو کہ آٹھ ستمبر ہوا۔

    سائرس سجاد قاضی نے بتایا کہ ملک میں موجود بھارتی ایجنٹوں نے ان قتل کے عوض پیسے وصول کیے، بھارتی ایجنٹوں کے نام اشوک کمار اور یوگیش کمار ہیں۔

    سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کا محاسبہ ہونا چاہیے کیوں کہ جب قتل ہوئے تو انڈین سوشل میڈیا پر خوشیاں منائی گئیں، انڈیا کے سوشل میڈیا پر مقتولین کو دشمن گردانا گیا جب کہ قتل کے حوالے سے ٹارگٹ کلرز عمیر اور محمد عبداللہ کے اقبالی بیانات بھی موجود ہیں اور قاتلوں کے اکاؤنٹس میں رقم منتقلی کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ انڈیا نے یہ حرکت صرف پاکستان میں نہیں کی بلکہ انڈیا اس سے قبل کینیڈا اور امریکا میں بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔

    یاد رہے کہ محمد ریاض کو چند ماہ قبل 8 ستمبر کو راولا کوٹ جبکہ شاہد لطیف کو 11 اکتوبر کو ڈسکہ میں قتل کیا گیا، قتل کیے گئے محمد ریاض اور شاہد طیف پُرامن شہری تھے اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے کشمیر میں جاری ظلم اور بھارت کے گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کیا تھا۔

    واضح رہے کہ عالمی عدالت میں پاکستان کی جانب سے پہلے ہی کلبھوشن یادیو کا کیس موجود ہے جو کہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا، اب دیکھا جائے گا کہ کچھ بھارتی شہری پاکستان میں موجود ہیں جو یہیں کہ لوگوں کو پیسے دے کر قتل کرارہے ہیں، پاکستان عالمی عدالت انصاف سمیت ہر فورم پر یہ معاملہ اٹھا سکتا ہے، بھارتی خفیہ ادارے اس طرح کی کارروائیاں پوری دنیا میں کرتے رہے ہیں جیسا کہ کینیڈا میں سکھ رہنما کو مارا گیا اور یہ واقعہ پوری دنیا میں رپورٹ ہوچکا ہے۔

  • شیر باہر نہیں نکل رہا، چاہتا ہے کوئی دوسرا میرے لیے شکار کردے، بلاول

    شیر باہر نہیں نکل رہا، چاہتا ہے کوئی دوسرا میرے لیے شکار کردے، بلاول

    گجرات: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ کوئی تو وجہ ہے کہ شیر شکار کے لیے نکل ہی نہیں رہا۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا میرے لیے شکار کردے۔

    گجرات میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ جو کہتے تھے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں موجود نہیں ہے، وہ جو کہتے تھے کہ ان کا ہم سے مقابلہ ہی نہیں ہے، آج کل وہ خود دن رات پیپلز پارٹی پیپلز پارٹی ہی کہہ رہے ہیں۔ اگر کوئی الیکشن مہم میں سنجیدہ ہے تو وہ بھٹو شہید کے جیالے ہیں، اگر کوئی انتخابی مہم چلا رہا ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے پختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان، ہر جگہ پر کنونشنز اور جلسے کیے ہیں، دورے کیے ہیں مگر ہمارے مخالفین تو گھر سے نکل ہی نہیں رہے۔ انہوں نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے اتنے الیکشن دیکھے ہیں، کیا آپ نے پہلے کبھی انہیں اتنا خوفزدہ دیکھا ہے؟۔ کوئی تو وجہ ہے کہ شیر شکار کے لیے نہیں نکل رہا بلکہ وہ کہتا ہے کہ کوئی اور میرا شکار بھی کرے، کوئی اور میرے شکار کابندوبست کرے، جب سب تیار ہو تو پھر بادشاہ باہر آ جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ کس قسم کی جمہوریت ہے، کہ ایک جماعت کا منشور ہی نہیں ہے۔ جو اپنے امیدوار کو چوتھی بار وزیراعظم بنانا چاہتی ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ منشور پر کام چل رہا ہے۔ وہ بتا ہی نہیں سکتے کہ اگر انہیں خدانخواستہ کسی نہ کسی طرح چوتھی بار موقع ملا تو وہ کریں گے کیا؟

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے 10 نکاتی ایجنڈے سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے عوام کے مسائل کے حل کے لیے پروگرام ترتیب دیا ہے، جس پر عمل کرکے ہم غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کا مقابلہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر عوام نے ہمیں 8 فروری کو ووٹ دے کر کامیاب کروایا تو ہم نہ صرف ان کی آمدن میں اضافہ کریں گے بلکہ اسے دگنی کردیں گے۔ اس کے علاوہ ہم تین سو یونٹ تک مفت بجلی بھی غریب اور مستحق افراد کو دیں گے۔ ہم ملک میں 30 لاکھ گھر بنا کر دیں گے، جس کے مالکانہ حقوق خواتین کو دیے جائیں گے۔ کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرکے انہیں مالکانہ حقوق دیں گے۔

    سابق وزیر خارجہ اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا، ویسے ہی ہم مستقبل میں خواتین کو بلاسود قرضے دیں گے تاکہ وہ کاروبار شروع کرکے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ میں ملکی خواتین کی اس طرح خدمت کرنا چاہتا ہوں جیسے کوئی اپنی ماں کی خدمت کرتا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم کسانوں کے لیے کسان کارڈ اور مزدوروں کے لیے مزدور کارڈ لائیں گے، جس سے کسانوں کو ان کی فصل کی انشورنس اور قیمت ملے گی جب کہ مزدور کے بچوں کا تعلیم و صحت سمیت ہر طرح سے خیال رکھا جائے گا۔ نوجوانوں کے لیے بے نظیر یوتھ کارڈ بنائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے قائم کریں گے۔ ہر ضلع میں یونیورسٹیز کے کیمپس بنائیں گے تاکہ طلبہ کو دور نہ جانا پڑے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں کام کریں گے۔ جو کام ہمارے مخالف تین بار وزیراعظم اور چار بار وزیراعلیٰ بن کر نہیں کر سکے، ہم نے سندھ کے ہر ڈسٹرکٹ میں مفت اسپتال کھول دیا، جہاں مہنگا ترین علاج سو فی صد مفت ہو رہا ہے۔ ہم پنجاب کے ہر ضلع میں مفت طبی مراکز بنائیں گے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ ہم بھوک مٹاؤ پروگرام بھی شروع کریں گے، جس میں یو سی کی سطح پر بھوک کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بنائی گئی ہے تاکہ ملک کاکوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔