Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 4 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • گورنر پنجاب کیلیے احمد محمود، قمر زماں اور ندیم افضل کے نام زیر غور

    گورنر پنجاب کیلیے احمد محمود، قمر زماں اور ندیم افضل کے نام زیر غور

    لاہور: گورنر پنجاب کے لیے احمد محمود، قمر زماں کائرہ اور ندیم افضل چن کے نام سامنے آگئے جن پر غور کیا جارہا ہے۔

    شراکت اقتدار کے فارمولے کے تحت ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے معاہدے سامنے آنے لگے، گورنر پنجاب کے لیے مخدوم احمد محمود، قمرالزمان کائرہ اور ندیم افضل چن کے نام زیر غور ہیں، شراکت اقتدار کا فارمولا طے پانے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے گورنر پنجاب کے نام پر مشاورت شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت حتمی مشاورت کے بعد جلد گورنر پنجاب کا نام فائنل کرے گی، قمرزمان کائرہ گورنر گلگت بلتستان کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں، مخدوم احمد محمود پہلے بھی گورنر پنجاب کے منصب پر فائز رہے ہیں۔
    پیپلز پارٹی کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرکے عہدے ملیں گے، ندیم افضل چن بھی گورنر کے عہدے کے لیے پارٹی قیادت کی مشاورت میں زیر غور ہیں۔

  • پی پی کا بلوچستان میں ن لیگ کو اسپیکر اور سینیئر وزیر دینے کا فیصلہ

    پی پی کا بلوچستان میں ن لیگ کو اسپیکر اور سینیئر وزیر دینے کا فیصلہ

    کوئٹہ: پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کو اسپیکر اور سینیئر وزیر کا عہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں حکومت سازی کے لیے مشاورت مکمل کر لی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ن لیگ کو شراکت اقتدار میں اسپیکر اور سینیئر وزیر دیا جائے گا۔
    پارٹی قائدین نے پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے الگ الگ بھی ملاقات کی جس میں ارکان سے وزارت اعلیٰ کے لیے 3مخلتف ناموں پر تجاویز بھی مانگیں۔

  • ایم کیو ایم اور ن لیگ مذاکرات کا دوسرا دور، حکومتی سیٹ اپ میں مل کر چلنے پر اتفاق

    ایم کیو ایم اور ن لیگ مذاکرات کا دوسرا دور، حکومتی سیٹ اپ میں مل کر چلنے پر اتفاق

    اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن نے نئے حکومتی سیٹ اپ میں مل کر چلنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دونوں جماعتوں کے مذاکرات کا دوسرا دوراسلام آباد میں ہوا۔ ملاقات میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار شریک ہوئے۔ جبکہ ن لیگ کے وفد میں اسحاق ڈار، ایاز صادق، اعظم تارڑ اور محمد احمد خان شامل تھے۔

    ایم کیو ایم کے مطابق دونوں جماعتوں نے ملک میں سیاسی، جمہوری اور معاشی استحکام کیلئے مفاہمت اور باہمی تعاون کاعمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    وسائل، اختیارات اور اقتدار کے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی بنیاد پر حکومت سازی کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا۔ سندھ کے شہری علاقے کے حقوق کے تحفظ بالخصوص کراچی کی معاشی اور اقتصادی اہمیت کو بحال کرنے کیلئے مل کر آگے بڑھا جائے گا۔

    دونوں جانب سے حکومت سازی کے سلسلے کو آگے بڑھانے کیلئے وفود کی مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔

  • فارم 45 کے تحت ہماری کامیابی کے نتائج جاری نہیں کیے جاتے تو آئی ایم ایف کا پروگرام متاثر ہوگا، بیرسٹر گوہر

    فارم 45 کے تحت ہماری کامیابی کے نتائج جاری نہیں کیے جاتے تو آئی ایم ایف کا پروگرام متاثر ہوگا، بیرسٹر گوہر

    راولپنڈی: پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی اور ان کے خاندان کو مکمل سیکیورٹی دی جائے، دھاندلی ہونے پر چیف الیکشن کمشنر فوری استعفی دیں۔

    بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ہمارا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوا اس پر بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کردیا ہے اور کل ہم نے پچاس ایم این ایز کی فہرست الیکشن کمیشن کو ارسال کردی ہے، تمام فہرست سنی اتحاد کونسل کے نام سے جمع کرائی ہے، ہمارے جو ایم این ایز سنی اتحاد کونسل کو جوائن کریں گے اسی حساب سے ہمیں خصوصی نشستیں ملیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے ہمیشہ صاف و شفاف الیکشن کی استدعا کرتے رہے مگر الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا، ہمارا مطالبہ ہے کہ نتائج فارم 45 کے تحت جاری کیے جائیں،بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کی روشنی میں ہم چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں، چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ کو فی الفور مستعفی ہونا چاہیے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صحیح نتائج عوامی مینڈیٹ کے تحت جاری ہونا چاہئیں کمشنر راولپنڈی نے واضح طور پر بتایا ہے کہ کس قسم کی دھاندلی ہوئی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کمشنر راولپنڈی اور ان کے خاندان کو مکمل سیکیورٹی دی جائے، اگر فارم 45 کے تحت نتائج جاری نہیں کیے جاتے تو اس سے آئی ایم ایف کا پروگرام متاثر ہوگا، ہم نے ایم ڈبلیو ایم کو سپورٹ کیا ہے وہ مرکز میں ہمارے ساتھ بیٹھے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل سے چونکہ ہم صوبے میں بھی انگیج ہیں لہذا مرکز میں بھی اسی جماعت کے ساتھ اتحاد ہوا ہے۔

  • ن لیگ، پی پی اورایم کیو ایم کی ’’عبرت ناک جیت ‘‘ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، سراج الحق

    ن لیگ، پی پی اورایم کیو ایم کی ’’عبرت ناک جیت ‘‘ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، سراج الحق

    لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ن لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کی ’’عبرت ناک جیت ‘‘ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

    سراج الحق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سلیکٹڈ، امپورٹڈ سے ڈیفیکٹڈ وزیراعظم کی تشکیل کا سفر جاری ہے، جہاں عوام کے ووٹ کی قدر نہ ہو وہ ملک دنیا میں تماشا بن جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 2024ء کے انتخابات میں جیتنے والے ہارنے والوں سے زیادہ پریشان ہیں، ن لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کی ’’عبرت ناک جیت ‘‘ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
    امیر جماعت کا کہنا تھا کہ 8فروری کی رات پولنگ سٹیشنوں پر نہیں قوم کے مستقبل پر ڈاکا ڈالا گیا، ووٹ چوری کرکے نوجوانوں کو مزید مایوس کیا گیا۔

    سراج الحق نے کہا کہ 65 فیصد آبادی کو ناامیدی کے اندھیروں سے نکالیں گے۔

  • دھاندلی الزامات؛ ہائیکورٹ کا ٹریبونلز کیلیے الیکشن کمیشن کو 9 ججز کی خدمات دینے سے انکار

    دھاندلی الزامات؛ ہائیکورٹ کا ٹریبونلز کیلیے الیکشن کمیشن کو 9 ججز کی خدمات دینے سے انکار

    لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے دھاندلی الزامات کی تحقیقات کے لیے ٹریبونلز تشکیل کے لیے الیکشن کمیشن کو ججز کی خدمات دینے سے انکار کردیا۔

    ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ٹریبونلز کی تشکیل کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ سے 9 ججز کو بطور ٹریبونل تعینات کرنے کے لیے نام مانگے گئے تھے، جس پر لاہور ہائیکورٹ نے ججز کی کمی ، زیر التوا کیسز میں اضافے کے باعث الیکشن کمیشن کو9ججز کی خدمات دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے ججز کی کمی اور زیر التوا کیسز میں اضافے کے باعث صرف 2ججز کو ٹربیونل تعینات کرنے کے لیے نام الیکشن کمیشن کو بھجوا دیے، جس کے مطابق
    جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس سلطان تنویر بطور ٹربیونل جج فرائض سر انجام دیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 2ججز ٹربیونل کے لیے تعینات کرنے کے بعد ججز کی تعداد 37رہ جائے گی۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں ڈھائی سال سے ججز کی تقرری نہیں ہوسکی ہے۔ عدالت عالیہ کی جانب سے ججز کے تقرر کے لیے دو مرتبہ فہرست کمیشن کو بھجوائی جا چکی ہے۔ ججز کا تقرر نہ ہونے سے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں اس قت 2 لاکھ سے زائد کیسز زیر التوا ہیں۔

  • مارشل لا انفرادی فیصلہ ہے اسے فوج بطور ادارہ نافذ نہیں کرتی، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ مارشل لا ایک انفرادی فیصلہ ہے اسے فوج بطور ادارہ نافذ نہیں کرتی۔

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ ریفرنس کی سماعت کررہا ہے۔

    ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کے موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارا اصل فوکس آئینی پہلو کی طرف ہے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ تمیز الدین خان کیس میں سپریم کورٹ نے ایک ویو لیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی کارروائی میں پروسس درست اپنایا گیا یا نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارا اختیارِ سماعت بالکل واضح ہے۔ دو مرتبہ نظرثانی نہیں ہو سکتی۔ ہم اس کیس میں لکیر کیسے کھینچ سکتے ہیں۔ کیا اس کیس میں تعصب کا سوال ہے یا غلط فیصلہ کرنے کو تسلیم کرنا ہے۔ اس موقع پر عدالتی معاون کہا کہ ایک جج نے انٹرویو میں کہا ان پر دباؤ تھا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تو نہیں کہا میں تعصب کا شکار تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میں دباؤ برداشت نہیں کر سکتا تو مجھے عدالتی بینچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔ ایک شخص کہہ سکتا کہ کوئی تعصب کا شکار ہے، ہو سکتا ہے دوسرا یہ رائے نہ رکھے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اب ہم کیسے دروازہ کھول سکتے ہیں، کیا ہم آرٹیکل 186 کے تحت اب یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ پروسس غلط تھا، اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کر سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم اب انکوائری کر سکتے ہیں؟ جسٹس جمال نے کہا کہ یہ کیس حتمی ہو چکا ہے کیا ہمیں یہ سوال کسی اپیل میں طے نہیں کرنا چاہیے؟

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا ہم اس پہلو کو نظرانداز کرسکتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کیس جب چلا اس وقت ملک میں مارشل تھا، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا اپنا مفاد تھا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا اس وقت ججز نے پی سی او کے تحت حلف بھی اٹھایا تھا، اس پر عدالتی معاون نے تائید کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آئینی پہلو پر آپ سے زیادہ سننا چاہتے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا اس کیس میں اختلاف کرنے والوں کو بعد میں ملک نہیں چھوڑنا پڑا؟ جسٹس صفدر شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا، پھانسی کے فیصلےسے اختلاف کرنے والوں کا کوئی انٹرویو یا کتاب ہے؟

    مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس داراب پٹیل کا ایک انٹرویو پی ٹی وی میں موجود ہے، وہ انٹرویو یوٹیوب پر نہیں ہے مگر پی ٹی وی کے پاس ہے۔ انہوں ںے سہیل وڑائچ کی کتاب کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کتاب میں مختلف ججز کے انٹرویوز جمع کیے گئے ہیں، نسیم حسن شاہ نے جسٹس مشتاق اور بھٹو کے اختلافات پر بات کی، نسیم حسن شاہ نے کہا مشتاق صاحب بھٹو سے 8 سینئر ججز کو نظر انداز کر کے جسٹس اسلم ریاض کو چیف جسٹس بنانے پر ناخوش تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو وہ دوسرے ججوں کی بات کر رہے ہیں، کچھ ایسا بتائیں جس میں انہوں نے اپنی بات کی ہو، افتخار احمد کے انٹرویو میں نسیم حسن شاہ نے کیا کہا؟ یہ بات کہاں کہی کہا مجھ پر فیصلے کیلئے دباؤ تھا۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ وہ اس کیس کیلئے مخصوص نہیں ایک مجموعی تناظر میں تھا، نسیم حسن شاہ نے کہا مشتاق صاحب کو اس بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے تھا، نسیم حسن شاہ نے یہ بھی کہا شک کا فائدہ مل سکتا تھا مگر کچھ ہماری کمزوری تھی کچھ یحیی بختیار نے ہمیں ناراض کر دیا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل پر کیسے مدعا ڈالا جا سکتا ہے؟ ناراض کر دیا تھا تو کیس سننا چھوڑ دیتے یا انصاف کرتے، ناراض ہم بھی کئی بار ہوجاتے ہیں مگر یہ تو نہیں کہ فیصلہ الٹ دیں، وکیل کے کنڈکٹ کی سزا موکل کو نہیں ملنی چاہیے، کیا یہ واحد کیس ہے جس میں ڈائریکٹ ہائیکورٹ نے قتل کیس سنا؟

    مخدوم علی خان نے کہا کہ رپورٹ ہوئے مقدمات میں ایسا کوئی اور کیس نہیں، ویسے شاید ہو، داراب پٹیل نے انٹرویو میں کہا تھا ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ داراب پٹیل مگر بدقسمتی سے نظر ثانی متفقہ طور پر خارج کرنے والے بنچ کا حصہ تھے۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ نے انٹرویو میں کہا کہ ذولفقار بھٹو کے وکیل نے سزا کم کرنے پر دلائل نہیں دیے اور ججز کو ناراض کیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی جج کرمنل کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر وکیل کی ملامت کرسکتا ہے؟ بھٹو کے وکیل سزا معطلی کے بجائے سزا میں کمی کی استدعا کیوں کرتے؟

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اپیل میں سزا کم کرنے کی استدعا تھی؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل میں سزا کم کرنے کی استدعا نا بھی ہو تو جج کو انصاف کی فراہمی کو دیکھنا ہوتا ہے، کیا یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا کیس تھا جس میں ٹرائل ہائیکورٹ نے کیا اور ایک اپیل کا حق چھینا؟ کیا سزائے موت چار تین کے تناسب سے دی جا سکتی ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کیس کے حقائق کو دیکھنا چاہیے، مخدوم صاحب آپ مارشل لاء پر زیادہ بات نہیں کرتے، آپ عدالتی نظائر ہی بتا دیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا ہم مارشل لاء دور میں دیے گئے ہر فیصلے کو دیکھیں، سپریم کورٹ میں کافی کیسز ہیں، پارلیمنٹ نے بھی مارشل لاء کے فیصلوں کی توثیق کی۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا بلاول بھٹو زرداری اور ذوالفقار جونیئر کو قصاص کی ادائیگی کا حکم دیا جا سکتا ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو کیس کی مثال کسی فوج داری کیس میں نہیں دی جاتی۔

    عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ اصل سوال عدلیہ پر عوامی اعتماد کا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کیس غیر محفوظ فیصلہ ہے، میری رائے یہ ہے کہ عدالتی فیصلہ بغیر کسی دباؤ کے ہونا چاہیے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا ذوالفقار علی کیس میں بیرونی دباؤ تھا؟ اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ ہاں ریکارڈ ایسا ہی ظاہر کرتا ہے۔ جسٹس جمال نے کہا کہ ہمیں وہ ریکارڈ دکھائیں، مرزا اسلم بیگ کی کتاب میں ذکر ہے تو اس بارے میں بتائیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مارشل لاء فوج بطور ادارہ نافذ نہیں کرتی مارشل لاء انفرادی اقدام ہوتا ہے، ہم ماضی کو دیکھ ہیں لیکن مستقبل کو مدنظر نہیں رکھ رہے، کیا ادارے کو بھی لکیر نہیں کھینچی چاہیے؟ کیا سپریم کورٹ کو بھی طے نہیں کرنا چاہیے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں آرٹیکل 186 کے بجائے جب کوئی کیس آئے تب دیکھنا چاہیے، دباؤ سے متعلق صرف ایک انٹرویو ہے، انٹرویو میں عمومی بات کی گئی ہے، کیا ہم ہر پی سی او کو دیکھیں؟ یاسر قریشی عدالتی معاون نے اپنی معروضات جمع کرائی ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ استغاثہ کو شفاف ہونا چاہیے۔

    وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو دلائل دیتے ہوئے مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 187 کے اختیار کو استعمال کر کے بھٹو کیس کا فیصلہ کرسکتی ہے، بھٹو کیس میں ججز کی جانب داری ثابت کرنے کے لیے جسٹس نسیم حسن، جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس اسلم ریاض کے انٹریوز، سلیم بیگ اور جنرل ر فیض چشتی کی کتاب اور اس وقت کے اٹارنی جنرل کا خط موجود ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا جن صاحبان پر جانب داری کا الزام لگ رہا ہے ان کو سنا نہیں جانا چاہیے؟

    چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوادیا جس میں کہا گیا کہ مخدوم علی خان نے دلائل دیئے اور تحریری بریف جمع کرانے کا بھی کہا، عدالتی معاون خالد جاوید خان تحریری جواب جمع کروا چکے خالد جاوید زبانی دلائل آئندہ سماعت پر دے سکتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کے لواحقین کو بھی سنا جائے گا۔

    حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کو بھی سنا جائے گا، آخر میں احمد رضا قصوری کو بھی سنا جائے گا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بھٹو کیس میں بلی سے متعلق ایک جج نے کیا کہا تھا؟ اس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جسٹس قیصر خان نے کہا کہ بھٹو کیس کے شواہد کی بنیاد پر تو ایک بلی کو بھی پھانسی نہیں ہوسکتی جس انداز میں بھٹو کیس کا فیصلہ دیا ایسے کبھی کوئی کیس حل نہیں ہوا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے بھٹو ریفرنس کی سماعت 26 فروری تک ملتوی کردی۔

  • مدر آف آل یوٹرن نے ووٹ کو عزت دو کے بجائے بوٹ کو عزت دے دی، عمران خان

    مدر آف آل یوٹرن نے ووٹ کو عزت دو کے بجائے بوٹ کو عزت دے دی، عمران خان

    اسلام آباد: عمران خان نے کہا ہے کہ مدر آف آل ریگنگ یہ تھی کہ پارٹی کو ختم کرنا، بیٹ کا نشان لینا، انتخابی جلسوں تک کی اجازت نہ دینا، مدر آف آل ریگنگ بند ہونی چاہیے، دنیا کے سامنے مزید تماشا نہ بنائیں جس کا مینڈیٹ ہے اس کو دے کر عوام کی رائے کا احترام کیا جائے۔

    یہ بات عمران خان نے اپنی بہنوں علیمہ خان اور عظمی خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات میں کہی۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے عمران خان کی گفتگو میڈیا کے سامنے پیش کی اور بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ مدر آف آل یوٹرنز نے ووٹ کو عزت دو کے بجائے بوٹ کو عزت دے دی، مدر آف آل سلیکشن یہ تھا کہ کرمنلز کے کیسز ختم کرکے بانی پی ٹی آئی پر ڈال دیئے اور 32 سال کی سزا دے دی اور پری پول ریگنگ اور الیکشن ڈے ریگنگ یہ تھا کہ عوام اور ووٹرز کو اپنے نمائندے چننے کی اجازت نہ دی جائے۔

    علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ ووٹنگ ڈے پر انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، لوگ ووٹ کے لیے ادھر ادھر بھٹکتے رہے، عوام کو پورا دن ذلیل کیا گیا، رات کو خواہشات کے مطابق نتائج نہ ملے تو دوبارہ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، رات کو مدر آف پوسٹ پول ریگنگ کی گئی۔

    علمیہ خان کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ فارم 45 کو نظر انداز کرکے رزلٹ بدلا گیا، یہاں ایک کمشنر نہیں بہت لوگ ہیں جو بہت ثبوت دے چکے ہیں، اندر کے ثبوت بھی موجود ہیں اور جنھوں نے ثبوت دیئے انہیں مار دیا جائے گا، ہمیں فکر ہے کہ اب کمشنر پنڈی پر تشدد کیا جائے گا آج کمشنر کھڑا ہوا ہے، انھوں نے جو کہا وہ ثبوت کے بغیر نہیں کہا ہوگا۔

  • سینیٹر مشتاق اور طاہر بزنجو کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    سینیٹر مشتاق اور طاہر بزنجو کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    اسلام آباد: سینیٹر مشتاق احمد اور سینیٹر طاہر بزنجو نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کردیا۔

    سینٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک قائد حزب اختلاف وسیم شہزاد نے پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔ بعد ازاں سینیٹ میں عام انتخابات 2024ء پر بحث کا آغاز ہوا۔

    چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے، سینیٹر مشتاق

    سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کیخلاف آئینی شکنی اور غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات کا انعقاد نہ کروا کر الیکشن کمیشن غداری کا مرتکب ہوا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آئین شکنی کے آرٹیکل 6کےتحت کارروائی کی جائے ۔

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ الیکشن میں ڈرگ مافیا اور افغان نیشنل کو جتوایا گیا۔ کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے الیکشن کا کٹھا چٹھا کھول دیا۔الیکشن نے ملک کو عظیم تر معاشی اور سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ الیکشن میں دھاندلی کروانے والے قومی مجرم ہیں۔ الیکشن میں بلٹ نے بیلٹ کو اغوا کیا ہے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن میں گولی نے پرچی کو اغوا کیا ہے۔ چند سرکاری نوکر بند دروازوں کے پیچھے عوام کے حق حکمران کو چھین کر لے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر معافی مانگیں اور ان سے 50ارب وصولی کیا جائے ۔ الیکشن کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ انگریزوں سے آزادی اس لیے حاصل نہیں کی گئی کے چند سرکاری نوکر بند کمروں میں ہمیں غلام بنانے کے فیصلے کریں ۔

    75 سال بعد بھی ملک میں جمہوریت کا منہ ٹیڑھا ہے، سینیٹر طاہر بزنجو

    علاوہ ازیں سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ ملک کو بنے 75 برس ہو گئے ہیں، ملک میں جمہوریت کا منہ ٹیڑھا ہے۔ ملک میں اختلاف کی گنجائش سکڑتی جا رہی ہے ۔ تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ خدارا کچھ سیکھو مگر کوئی سیکھنے کو تیار نہیں ۔ کوئی مانے یا نہ مانے آپ غلطیوں کو دہرا رہے ہیں ۔ نگرانوں کی نگرانی میں جو بھی انتخابات ہوئے وہ متنازع رہے ۔ اب کی بار انتخابات متنازع ترین رہے ۔

    سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں چن چن کر حقیقی عوامی نمائندوں کو ہروایا گیا ۔ دو بڑی جماعتوں کے تعاون سے منشیات فروشوں، فیوڈل لارڈز کو اسمبلیوں تک پہنچایا گیا ۔ جب تک عدلیہ اور فوج اپنا اپنا کام نہیں کریں گے ملک بحرانوں کا شکار ہوتا جائے گا ۔ کیا عدلیہ کو حق تھا کہ وہ پی ٹی آئی کا نشان چھینے ۔ کیا ایسے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا؟۔

    انہوں نے کہا کہ میرا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو گرفتار کر کے آئین شکنی کا مقدمہ چلایا جائے ۔ آخری اجلاس ہے آپ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔

    انتخابات میں ایک جماعت کو ہدف بنایا گیا، سید علی ظفر

    علاوہ ازیں سید علی ظفر نے انتخابات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت کو ہدف بنایا گیا ۔ لوگوں کو ہراساں کیا گیا ، پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ۔ پی ٹی آئی کو الیکشن مہم کے دوران ایک بھی جلسہ نہیں کرنے دیا گیا ۔ پی ٹی آئی کا نشان لیا گیا تاکہ عوام ووٹ نہ دے سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ انتخابات میں جو کچھ بھی ہوا عوام نے ایک صاف فیصلہ دے دیا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے عوام نے فیصلہ عمران خان کے حق میں دیا۔ انتخابات میں نوجوانوں نے ثابت کیا وہ ایک امید کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لوگوں میں خوف وہراس پھیلایا گیا تاکہ وہ الیکشن کے دن باہر نہ نکلیں۔پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی گی، گرفتاریاں کی گئیں۔ الیکشن سے چند دن پہلے ہم سے ہمارا انتخابی نشان لیا گیا۔

    سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات سے ایک ہفتے پہلے ایک اور وار کیا گیا ۔ پی ٹی آئی چیئرمین کو بغیر ٹرائل کے سزادی گئی ۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے وکلا کو بند کر دیا گیا اور عدالت نے اپنے وکیل دیے۔ ان کو جرح کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ٹرائل کا الٹا اثر ہوا اور لوگوں نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا ۔ عوام ایک انقلاب لے کر آئے ۔

    انہوں نے کہا کہ جب پری پول دھاندلی ناکام ہوئی تو پوسٹ پول دیکھنے میں آئی ۔ ووٹ تبدیل کر کے ہارنے والے امیدواروں کو جتوایا گیا ۔عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ۔ ہمیں آگے دیکھنے کی ضرورت ہے مگر یہ اتنی آسان بات نہیں ہے ۔ جس کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اس کو آنے دیں ۔ آج ہی قرارداد پیش کریں الیکشن کمیشن کو کہیں کہ چوری کردہ مینڈیٹ واپس کریں۔

    انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا، سینیٹر شفیق ترین

    سینیٹر شفیق ترین نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔ آراوز نے الیکشن میں دھاندلی کی ہے۔ حکومت نے عوام کے 50ارب روپے الیکشن پر خرچ کیے ۔ حالیہ انتخابات پری پلان الیکشن ہیں ۔ جو پارٹیاں اکثریت میں ہیں انہیں حکومت بنانے دی جائے۔

    سینیٹر اعجاز چوہدری کے پرودکشن آرڈر کی قرارداد

    دوران اجلاس بیرسٹر علی ظفر نے پی ٹی آئی کے سینٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے متعلق قرارداد سینیٹ میں پیش کی۔ قرارداد پر تمام سیاسی جماعتوں کے 24سینٹرز کے دستخط شامل تھے۔

    ہمارے ہاں انتخابات کی تاریخ خوشگوار نہین، سینیٹر عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے عرفان صدیقی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں انتخابات کی تاریخ خوشگوار نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد 23سال ہم الیکشن نہیں کروا سکے ۔ 1970میں الیکشن کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا جاتا اور ملک تقسیم ہوگیا ۔ ایک انتخابات نے ملک توڑا ایک نے گیارہ سال مارشل لا کا تحفہ دیا ۔ بہت ذکر ہوا 2018کی بات کسی نے نہیں کی ۔ 2018میں ہماری سزاؤں پر قہقے لگانے والوں کو سوچنا چاہیے تھا۔ 2018کے الیکشن کے نتائج 4دن بعد آئے ۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہاں الیکشن کمشنر نے الیکشن کروائے تو کیا کے پی کے میں امام کعبہ امام، ابو حنیفہ نے آکر الیکشن کروائے ؟۔ 2013 میں 35پنکچر تھے آج فارم 45ہے ۔ دھاندلی اگر ہوئی تو پورے ملک میں ہوئی۔ کے پی کے میں الیکشن آپ جیتے تو ٹھیک، کسی دوسرے صوبے میں کوئی اور جیتا تو دھاندلی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ 2018میں غلط تھا آج بھی غلط ہے ۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ آپ کو سزائیں نچلی عدالتیں اور ہمیں سپریم کورٹ دیتی تھی ۔ سینیٹ میں بیٹھے بہت سے لوگ آزاد ہیں، ہم کسی سنی کونسل یا ایم ڈبلیو ایم میں شامل نہیں ہوئے ۔ عام انتخابات کے نتائج الیکشن سے قبل گیلپ سروے کے مطابق ہیں ۔ جب مولانا فضل الرحمان کے پاس جا سکتے ہیں تو جمہوری جماعتوں کیساتھ کیوں نہیں بیٹھتے۔ آپ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہاتھ نہیں ملاتے ۔ الیکشن پر تحفظات ہیں تو ایوان میں آئیں اپوزیشن کا کردار ادا کریں ۔ 9مئی کے کردار کو بھول جائیں ۔8فروری کو یاد رکھیں۔

    عام انتخابات کا آڈٹ کیا جائے، آغاز کے پی سے کریں، سیف اللہ ابڑو

    اجلاس میں سیف اللہ ابڑو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ۔ نعرہ دیا ملک کو نواز دو آگے سے جواب آیا نہیں آگے سے شہباز لو ۔ شاہد یہی غصہ ہے ۔ الیکشن امام سلطان سکندر نے کروایا ہے ۔ عام انتخابات کا آڈٹ کرایا جائے اور آغاز کے پی سے کریں ۔ پی پی ساتھ چلنا نہیں چاہتی مگر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ پی پی کی نوجوان قیادت اس ڈر سے ساتھ نہیں بیٹھ رہی کہ کل کیسے پنجاب جائیں گے ۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی اسمبلی اجلاس نہیں ہوا آپ کو کیسے پتا چل گیا کہ اپوزیشن میں بیٹھیں ۔ آپ دیکھیں پاکستان کی یوتھ نے کیا حشر کیا ہے ۔ فارم 45 کا آڈٹ کروائیں سب پتا چل جائے گا ۔ پہلے آڈٹ کروائیں جس کی حکومت بنتی ہے وہ حکومت بنائے ۔ سیالکوٹ کا وہ جو کہتا تھا کچھ شرم ہوتی حیا ہوتی ئے اس کو شرم نہیں آئی

    99 فیصد کی ریحانہ ڈار کی لیڈ تھی ایک فیصد پر 75 ہزار ووٹ کیسے پڑے ۔ یہ پہلا الیکشن ہے کہ تھرڈ فورتھ پر آنے والا جیت رہا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ سینیٹ ملک بھر کے فارم 45کا آڈٹ کرے ورنہ قاضی صاحب کے پاس چلے چلتے ہیں ۔ اگر آر اوزدھاندلی میں ملوث ہیں تو ان کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ کیا پاکستان کو پہلے نہیں نوازا گیا اس نواز کو بھی نوازا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حلف اٹھائے گی اور آپ کے گلے کا کانٹا بنے گی ۔ اگر پنڈی کے الیکشن آپ جیتے تو ہم تمام اعتراضات واپس لے لیں گے ۔ راوالپنڈی کی 13 نشستوں کا آڈٹ کروایا جائے۔

  • علیم خان کی کامیابی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج، عدالت نے کل طلب کرلیا

    علیم خان کی کامیابی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج، عدالت نے کل طلب کرلیا

    اسلام آباد: آئی پی پی کے سربراہ علیم خان کی قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کا نوٹی فکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ایڈووکیٹ علی اعجاز بٹر کی جانب سے استحکام پاکستان پارٹی کے عبد العلیم خان کی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117سے کامیابی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 9 فروری کو جاری شدہ فارم 47 کو کالعدم قرار دیا جائے اور 15 فروری کو جاری کیا گیا علیم خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام امیدواروں کی موجودگی میں رزلٹ مرتب کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ عدالت الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر سے متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کرے۔ درخواست میں الیکشن کمیشن ، آر او اور دیگر امیدواروں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    بعدازاں درخواست پر سماعت ہوئی جو کہ چیف جسٹس عامر فاروق کے روبرو ہوئی۔ اعجاز بٹر کی جانب سے وکیل شہریار طارق عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن میں کیا چیز پینڈنگ میں ہے؟ اس پر وکیل شہریار طارق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 14 فروری کو درخواست فیصلہ محفوظ کیا تھا جو ابھی تک نہیں سنایا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد جیت کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہم نے نوٹی فکشن کے خلاف درخواست دی مگر ہماری درخواست الیکشن کمیشن میں ابھی تک سماعت کے کے لیے مقرر نہیں کی۔

    عدالت نے جیتنے والے امیدوار علیم خان اور الیکشن کمیشن کو کل کے لیے نوٹس جاری کردیا اور کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔