Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 40 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف مہم کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دیدی

    حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف مہم کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دیدی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف مہم کے محرکات اور ذمہ داروں کے حوالے سے تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں 6 رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔

    وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 30 کے تحت وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کو بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں جے آئی ٹی انٹیلی جینس بیورو (آئی بی)، انٹرسروسز انٹیلی جینس (آئی ایس آئی) کے 20 گریڈ کے افسران، اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے 20 گریڈ کے افسر اور ایک افسر پر مشتمل ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کے ٹی آر اوز میں سپریم کورٹ کے معزز ججوں کی بدنامی کی کوشش کے لیے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کے پیچھے چھپے حقائق کا تعین کرنا، ملزمان کی شناخت کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ کرنا اور متعلقہ عدالتوں میں پیش کرنے علاوہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے تجاویز مرتب کرنا شامل ہے۔

    جے آئی ٹی سے کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کو 15 روز میں ابتدائی رپورٹ جمع کرا دی جائے گی اور ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز جے آئی ٹی کو تعاون فراہم کرے گا۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کے تناظر میں اسلام آباد میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سمیت دیگر عہدیداران نے پریس کانفرنس میں اداروں اور ججوں پر تنقید کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو کہتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان کے خلاف مہم چلانے والوں پر کارروائی کریں۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیرصدارت اجلاس، الیکشن کیلیےحکومتی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیرصدارت اجلاس، الیکشن کیلیےحکومتی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا

    پشاور: نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومت کی تیاریوں کا مفصل جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں متعلقہ صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز نے بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔

    اجلاس کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تیاریوں اور اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پہلی دفعہ ضم شدہ اور بندوبستی اضلاع میں بیک وقت صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں، صوبے میں قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ عام انتخابات کے لیے صوبے میں 15737 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، ان میں سے 4812 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 6581حساس جبکہ 4344 نارمل قرار دئے گئے ہیں، 1919 پولنگ اسٹیشنز برفانی علاقوں میں ہوں گے۔

    خیبر پختونخوا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو کروڑ 16 لاکھ 92 ہزار 381 ہے، ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع کے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 11 سیکیورٹی اہلکار فی پولنگ اسٹیشن تعینات کیے جائیں گے، باقی اضلاع کے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 7،7 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    ضم اور جنوبی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر بھی 7، 7 جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار،چار اہلکار تعینات کیے جائیں گے،باقی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر پانچ، پانچ جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار، چار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو انتخابات کے لیے 115430 سیکیورٹی اہلکار درکار ہوں گے جبکہ صوبائی حکومت کے پاس 89959 اہلکار دستیاب ہیں، اس طرح 25471 سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

    دوران بریفنگ متعلقہ حکام نے بتایا کہ فرنٹئیر کور کے چار ونگز اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کی 165 پلاٹونز کی فراہمی کے لیے معاملہ وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر عام انتخابات کے لیے مختلف صوبائی محکموں سے 26213 اضافی اہلکاروں کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    انتخابات کے دن امن و امان کی مانیٹرنگ کے لیے محکمہ داخلہ میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے، پولیس کی جانب سے اضلاع کی سطح پر ڈسٹرکٹ کنٹیجنسی پلان ترتیب دیے گئے ہیں، عام انتخابات کے لیے سیکیورٹی پلانز کے علاوہ ریسکیو ایمرجنسی پلانز ، ہیلتھ ایمرجنسی پلانز بھی ترتیب دیے گئے ہیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ پولنگ اسٹیشنز میں تنصیب کے لیے 5552 سی سی ٹی وی کیمرے دستیاب ہیں، اور مزید 11668 کیمروں کی فراہمی کے لئے 986 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    خصوصی افراد کی سہولت کے لیے 11689 پولنگ اسٹیشنز میں ریمپس موجود ہیں جبکہ مزید 1536 ریمپس تعمیر کیے جارہے ہیں۔

    برفانی علاقوں میں انتخابی عمل کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز نے پلانز ترتیب دیے ہیں، برفانی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد کے لیے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے درکار مشینری اور افرادی قوت کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    دوران بریفنگ متعلقہ حکام نے بتایا کہ عام انتخابات کے پرامن، صاف اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر تمام شراکت داروں کے درمیان کوآرڈینیشن کا ایک جامع نظام وضع کیا گیا ہے، پولنگ کے دن سرکردہ سیاسی رہنماؤں کی سیکیورٹی کے لیے ڈی پی اوز کی سطح پر پلان ترتیب دیے جارہے ہیں۔

    دوران اجلاس نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ نگراں صوبائی حکومت عام انتخابات کے پر امن، صاف اور شفاف انعقاد کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے گی۔

    انہوں نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز عام انتخابات سے متعلق صوبائی حکومت کے پلانز اور فیصلوں پر من و عن عملدرآمد یقینی بنائیں، مقامی انتظامیہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے۔

    نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ عام انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے احکامات اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، عام انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومت کی تمام مشینری اور وسائل دستیاب ہوں گے۔

    جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے مزید ہدایت کی کہ انتخابات کے پرامن، صاف اور شفاف انعقاد کے لیے ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کی بطریق احسن انجام دہی کو یقینی بنائیں، صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے درکار تمام وسائل اور تعاون کی فراہمی ممکن بنائے گی۔

  • ملکی دفاع کو یقینی اور مضبوط بنانے پر کام جاری رکھیں گے، آرمی چیف

    ملکی دفاع کو یقینی اور مضبوط بنانے پر کام جاری رکھیں گے، آرمی چیف

    راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملکی دفاع کو یقینی اور مضبوط بنانے کیلیے جدید ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھیں گے۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (POF) واہ کا دورہ کیا۔ جہاں انہیں پیداواری صلاحیتوں اور مسلح افواج کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے سمیت برآمدی صلاحیت کے بارے بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پی او ایف پروڈکٹس کی وسیع رینج کا مشاہدہ کیا۔ جس میں ٹیسٹ اور ٹرائلز کے تحت مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کردہ نئے ہتھیار اور بارود شامل تھے۔

    افسران اور عملے سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے پی او ایف کو پاکستان کی اہم دفاعی صنعت بنا کر ملکی سلامتی اور معیشت میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کا راستہ پی او ایف واہ جیسی مقامی صنعتوں سے متعین ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم خود انحصاری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے لیے کام جاری رکھیں گے، پاکستان کے دفاع کو یقینی بنانے اور مضبوط بنانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔

    اس سے قبل پی او ایف آمد پر چیئرمین پی او ایف نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

  • انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    کراچی: اوپن مارکیٹ میں ڈالر گھٹ کر 281 روپے سے نیچے آگیا جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

    کاروبار کے بیشتر دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر تنزلی سے دوچار رہی، ایک موقع پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 54 پیسے کم ہوکر 279 روپے 69 پیسے کی سطح پر بھی آگئے تھے جو 11 ہفتوں کی کم ترین سطح تھی لیکن محدود پیمانے پر ڈیمانڈ آنے اور مارکیٹ فورسز کی خریداری سرگرمیوں سے کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر صرف 1 پیسے کے اضافے سے 280 روپے 24 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    اوپن کرنسی مارکیٹ میں عمرہ زائرین اور بیرون ملک پڑھنے والے طالبعلموں کی فیسوں اور طبی نوعیت کی ڈیمانڈ کے باوجود سپلائی بہتر ہونے کے سبب ڈالر کی قدر میں 33 پیسے کی کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قدر گھٹ کر 280 روپے 92 پیسے کی سطح پر بند ہوئی، اس طرح سے ڈالر کے انٹربینک اور اوپن ریٹ کے درمیان صرف 68 پیسے کا فرق رہ گیا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں انفلوز بتدریج بڑھنے کے علاوہ عالمی بینک ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفرااسٹرکچرل انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے نئے کثیرالجہتی انفلوز کی توقعات کے باعث آنے والے دنوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ عالمی سطح پر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی ایلڈ بڑھ رہی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہیں جس سے سپلائی بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی جون 2024 کے اختتام تک ذرمبادلہ کے سرکاری ذخائر مقررہ 9.1ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیشگوئی کی ہے جس سے ڈالر کی نسبت روپے کی بتدریج تگڑا ہونے کے امکانات ہیں۔

  • کورونا جے این ویریئنٹ کے مزید دو کیسز رپورٹ، تعداد 7 تک پہنچ گئی

    کورونا جے این ویریئنٹ کے مزید دو کیسز رپورٹ، تعداد 7 تک پہنچ گئی

    کراچی: بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مزید 2 مسافروں کو کورونا کے نئے ویریئنٹ ’جے این‘ کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد سندھ بھر میں نئے ویریئنٹ کے کیسز کی تعداد 7 تک پہنچ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر محکمہ صحت سندھ کی جانب سے کراچی ائیر پورٹ پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں، محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مزید 2 مسافروں کے ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کردی گئی ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق جن دو مسافروں کو کورونا کے نئے ویریئنٹ کی تشخیص ہوئی وہ جدہ سے کراچی پہنچے ہیں۔ ایک مسافر کی عمر 28 سال اور تعلق فیصل آباد سے ہے، اسی طرح مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے 25 سال کے نوجوان کو بھی جی این کی تشخیص ہوئی۔
    اس کے علاوہ گزشتہ روز رہ جانے والے 4 پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج بھی محکمہ صحت کو موصول ہوچکے ہیں،چاروں مسافروں کے پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ متاثرہ مسافروں کو کورونا کی ممکنہ علامات کے پیش نظر ٹیسٹ کیا گیا تھا،اب تک بیرون ملک سے کراچی ائیرپورٹ پہنچنے والے 17مسافروں کے ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ مثبت آچکے ہیں،جن میں سے 15 مسافروں کے پی سی آر ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق 15 مثبت پی سی آر ٹیسٹ کیسز میں سے 2 مسافروں کے جے این ون ویریئنٹ مثبت ہیں، سندھ میں اب تک کورونا جے این ون ویریئنٹ کے 7 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں سے 2 بیرون ملک جبکہ 5 کراچی کے نجی لیبارٹری میں رپورٹ ہوئے۔

    ترجمان محمکہ صحت سندھ کے مطابق کورونا جے این ون ویریئنٹ سے متعلق محکمہ صحت الرٹ ہے، تمام متاثرہ مسافروں کو ٹیسٹ کے نتائج سے آگاہ کرکے سختی سے گھروں میں قرنطینہ کی ہدایت کی جاچکی ہیں جبکہ سندھ کے تمام ڈی ایچ اوز، ٹی ایچ کیوز اور اسپتالوں میں ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

    طبی ماہرین کے مطابق کورونا کا نیا ویریئنٹ جے این ون گزشتہ کورونا جیسا طاقتور نہیں ہے تاہم عوام سے سے محتاط رہنے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر سندھ میں صوبائی ٹاسک فورس قائم

    کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر سندھ میں صوبائی ٹاسک فورس قائم

    کراچی: صوبے میں کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر نگراں وزیر صحت نے صوبائی ٹاسک فورس قائم کردی۔

    11رکنی کمیٹی میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ ڈاکٹر وقار محمود کو چیئرمین اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آغاخان اسپتال ڈاکٹر فیصل محمود کو شریک چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر ثاقب شیخ، ڈاکٹر محمد آصف، ڈاکٹر سارہ سلمان، ڈاکٹر منیبہ احسن، ڈاکٹر اسامہ خالد کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں جبکہ محکمہ صحت کے چیف ٹیکنیکل آفیسر، پراجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی اور ایک ممبر کو آپڈ ہوں گے ۔

    علاوہ ازیں شبیر علی بابر فوکل پرسن برائے میڈیا مقرر کیے گئے ہیں،صوبائی ٹاسک فورس ٹیم وزیر صحت کو رپورٹ کرے گی، کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کی صورت میں محکمہ صحت کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہنگامی ردعمل کا منصوبہ تیار کرے گی جس میں کورونا میں اضافے کی صورت میں اٹھائے جانے والے مخصوص اقدامات کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔

    صوبائی ٹاسک فورس کورونا کی روک تھام، کنٹرول کے اقدامات اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے لیے نظام تیار کرے گی، عوام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز تک معلومات پھیلانے کے لیے مواصلاتی پروٹوکول قائم کرے گی اور دوسرے صوبوں اور این جی اوز کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔

    ٹاسک فوس ویکسینیشن کی ایک جامع حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

  • نواز شریف پر ظلم کرنے والا ایک ایک کردار انجام کو پہنچ رہا ہے، مریم نواز

    نواز شریف پر ظلم کرنے والا ایک ایک کردار انجام کو پہنچ رہا ہے، مریم نواز

    اوکاڑہ: پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر ظلم کرنے والا ایک ایک کردار اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔

    اوکاڑہ میں مسلم لیگ ن کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ یہ سب نواز شریف نہیں بلکہ قدرت کا نظام ظالموں سے انتقام لے رہا ہے، قدرت نے سوموٹو نوٹس لے لیا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا نہیں بلکہ وہ ڈنڈا تھا جو انہوں نے ہاتھ میں پکڑا کر غریب عوام پر چلایا، اسی ڈنڈے سے فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے لہٰذا ایک دہشت گرد جماعت کو سیاسی جماعت کا نشان نہیں مل سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ ظالم کو آج منہ چھپانا پڑ رہا ہے، کبھی پلاستر چھڑوا کر اور کبھی ویل چیئر پر بیٹھ کر ڈرامے کرتا ہے، دوسروں کو چور چور کہنے والے نے گھڑی بھی نہیں چھوڑی اس لیے انتخابی نشان چوری شدہ گھڑی ہونی چاہیے تھی۔

    مریم نواز نے کہا کہ شور مچایا جا رہا ہے کہ انتخابی نشان واپس لے لیا لیکن حقیقت میں پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا فراڈ پکڑا گیا ہے، ایسے لوگوں کو عبرت کا نشان ملتا ہے انتخابی نشان نہیں ملتا۔

    انہوں نے کہا کہ جتنی مضبوط حکومت نواز شریف کو ملے گی، اتنی بہتر سہولیات عام کو بھی دی جائیں گی، ان شاءاللہ 8 فروری کو اوکاڑہ میں شیر دھاڑے گا۔

    ن لیگ کی سینیئر نائب صدر نے اوکاڑہ کے عوام کا شکریہ بھی ادا کیا جو کہ شدید سردی اور دھند کے باوجود جلسے میں موجود تھے۔ ن لیگ نے باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

  • پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے سے جمہوریت پامال ہوئی، حافظ نعیم

    پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے سے جمہوریت پامال ہوئی، حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے ن لیگ، پی پی کے انتخابی نشانات کی منسوخی کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ سپریم کا کورٹ کا فیصلہ دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی نافذ کیا جائے۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 208 کی رو سے ہر سیاسی جماعت کے لیے انٹرا پارٹی الیکشن کرانا لازمی ہے، الیکشن نہ کرانے کا نتیجہ ایکٹ کی دفعہ (5) 515 کی روسے سیاسی جماعت کے انتخابی نشان سے محرومی ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پارٹی الیکشن نہ کرانے پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان منسوخ کیے جائیں، 22 دسمبر 2023 کے فیصلے میں پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق الیکشن نہ کرانے کا ذمہ دار ٹہرایا اور عین انتخابی عمل کے درمیان اسے انتخابی نشان سے محروم کردیا گیا، اس فیصلے کے نتیجے میں لاکھوں ووٹرز نہ صرف غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ دوسری بہت سی سیاسی جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہ کبھی دیکھے گئے ہیں نہ سنے گئے، ان دونوں جماعتوں میں قیادت کا حق محض مخصوص خاندان یا وراثت اور وصیت کی بنیادوں پر ہے لہذا کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ باقی جماعتوں بالخصوص ان دو بڑی سیاسی جماعتوں پر نافذ نہ کیا جائے۔

    حافظ نعیم نے زور دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا نفاذ کرتے ہوئے قانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر ایکٹ کی دفعہ (5) 515 کے تحت فوری طور کم از کم پر دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے ان کے انتخابی نشانات واپس لے لئے جائیں، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا نظر آئے اور تینوں کو ایک جیسا “لیول پلیئنگ فیلڈ “میسر ہوجائے۔

    سوئی گیس ہیڈکوارٹرز پر دھرنے کا اعلان

    علاوہ ازیں حافظ نعیم نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی میں گیس کی عدم فراہمی اور کم پریشر پر جمعرات کو سوئی گیس ہیڈکوارٹرز پر دھرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گھروں میں گیس نہیں آرہی ہے جس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

    انٹر میں کراچی کے نوجوانوں کو جان بوجھ کر فیل کیا گیا

    انٹر کے امتحانات میں طلبہ و طالبات کا خراب رزلٹ آنے پر ان کا کہنا تھا کہ انٹر میں کراچی کے 36 فیصد نوجوانوں کو فیل کردیا گیا، یہ کیا تماشا ہورہا ہے، پچھلی پی پی حکومت نے بورڈ چیرمین سمیت کئی عہدوں پر لاڑکانہ سے لاکر چند افراد کو بٹھادیا، کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، جس پر آواز اٹھاؤ تو پی پی لسانی رنگ دیتی ہے، حالانکہ کراچی میں سندھ، پختون، مہاجر سبھی پڑھتے ہیں۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان ان کو ہوتا ہے جن کے ڈومیسائل کراچی کے ہیں، جان بوجھ کر کراچی کے نوجوانوں کو فیل کیا جارہا ہے۔ سندھ کے باقی بورڈز میں 80 فیصد بچے پاس ہورہے ہیں، اس کا مطلب ہے بلاول نے وہاں کا تعلیمی نظام بہت اچھا اور کراچی کا بہت خراب کردیا، دونوں صورتوں میں آپ کراچی دشمن ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس مینڈیٹ اور پوزیشن بھی ہے اس سے انتخابی نشان چھیننے سے جمہوریت پامال ہوگی، اس کے نتیجے میں ہارس ٹریڈنگ کی راہ ہموار ہوئی جس کا سب سے زیادہ فائدہ آصف زرداری کو ہوگا کیونکہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن جیتنے والے پی ٹی آئی امیدواروں کی خرید و فروخت ہوگی، جیسا کہ کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں کیا گیا تھا۔

    حافظ نعیم نے مزید کہا کہ جس بنیاد پر بلا منسوخ کیا گیا اسی بنیاد پر شیر اور تیر بھی واپس لیے جائیں، ایسا کریں گے تو ہم سمجھیں گے کہ یہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہے ورنہ ہم سمجھیں گے کہ آپ کسی کو پیچھے اور کسی کو آگے لانا چاہتے ہیں۔

  • پی ٹی آئی خواتین کے بعد اقلیتی نشستوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی

    پی ٹی آئی خواتین کے بعد اقلیتی نشستوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف خواتین کی نشستوں کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عام انتخابات 2024ء کے سلسلے میں اقلیتی امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری کردی گئی ہیں، جس کے مطابق پی ٹی آئی قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 10 مخصوص نشستوں پر 37 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو درست قراردے دیا جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے اقلیتی امیدوار فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اقلیتی امیدواروں کی فہرست الیکشن کمیشن کو دی گئی تھی، تاہم الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سماعت میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بحال کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلا واپس لینے کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی خواتین کی مخصوص نشستوں کے بعد اقلیتی نشستوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔

  • سانحہ 9 مئی: عمران خان کی تمام 12 مقدمات میں درخواست ضمانت دائر

    سانحہ 9 مئی: عمران خان کی تمام 12 مقدمات میں درخواست ضمانت دائر

    اسلام آباد: سانحہ 9 مئی کیس میں بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے تمام 12 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کر دیں۔

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لیں۔

    درخواستوں میں موقف اپنایا گیا کہ سانحہ 9 مئی ہوا لیکن سابق وزیر اعظم گرفتار تھے اور کسی مظاہرے میں موجود نہیں تھے، بانی پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کے طور پر پھنسایا گیا۔ سابق وزیر اعظم تمام کیسوں میں جسمانی ریمانڈ بھگت چکے اور 5 ماہ سے جیل میں ہیں۔
    بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کیسوں میں سینیئر قانون دان ملک وحید انجم کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے 17 جنوری کو تمام کیسز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے تمام متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ریکارڈ طلبی نوٹس جاری کر دیے۔