Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 533 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • گیس پائپ لائن منصوبہ کراچی کے بجائے گوادرسے شروع کرنے پرغور

    گیس پائپ لائن منصوبہ کراچی کے بجائے گوادرسے شروع کرنے پرغور

    اسلام آباد: پاکستان ’اسٹریم گیس پائپ لائن‘ کا ’’اسٹارٹنگ پوائنٹ‘‘ کراچی سے گوادر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ منسلک کرنے کیلیے ’ایل این جی گوادر پائپ لائن پروجیکٹ‘ کو دوبارہ شروع کیا جاسکے۔

    پاکستان اور روس نے 2015 میں یہ منصوبہ بنایا تھا اور بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پہلے اس کا نام نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبہ تھا، بعد میں کراچی سے لاہور تک ایل این جی کی منتقلی کے لیے اس کا نام پاکستان گیس اسٹریم پروجیکٹ رکھ دیا گیا۔

    ابتدائی طور پر یہ طے پایا تھا کہ اس منصوبے کے لیے 85 فیصد فنڈنگ روس فراہم کرے گا جبکہ باقی ماندہ پاکستان کو کرنی تھی، یہ منصوبہ روس کو BOOT بنیادوں پر یعنی ’’بلڈ، اون، آپریٹ، ٹرانسفر‘‘ کے تحت مکمل کرنا تھا، جسے بعد میں پاکستان کو منتقل کیا جانا تھا۔

    اس کی تعمیر کے لیے ابتدائی طور پر روس نے اپنی کمپنی RT Global کو نامزد کیا تھا جبکہ پاکستان نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے ISGS نامی ایک سرکاری کمپنی کو نامزد کیا تھا۔

    تاہم امریکا نے RT Globalکے خلاف 2016 میں پابندیاں عائد کردی تھیں، جس کی وجہ سے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پراجیکٹ روبہ عمل نہ آسکا۔ اس وقت سے اب تک پاکستان اور روس نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے کا ڈھانچا تقریباً چھ بار تبدیل کیا ہے لیکن اس منصوبے کو مکمل کرنے کا کوئی راستہ نہیں نکلا۔

    جولائی 2021 میں دونوں فریقوں نے پھر گیس پائپ لائن منصوبے کے ڈھانچے کو تبدیل کیا۔ پاکستان اور روس نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی سرکاری گیس کمپنیوں کے پاس 74 فیصد حصص ہوں گے جب کہ روسی فرم کے 26 فیصد حصص ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستانی کمپنیاں 74 فیصد سرمایہ کاری کریں گی جب کہ روسی فرم کو 26 فیصد فنڈ فراہم کرنا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور روسی کمپنیوں نے پاکستان گیس اسٹریم پائپ لائن منصوبے اور دیگر رسمی کاموں کے لیے کراچی سے لاہور تک روٹ سروے مکمل کر لیا ہے۔ گیس کی نقل و حمل کے لیے ٹولنگ فیس کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں فریقوں کو تجارتی شرائط و ضوابط پر اتفاق رائے تک پہنچنا ہوگا۔

    کراچی سے ایل این جی پائپ لائن کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کو پشاور منتقل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس منصوبے پر دوبارہ شروع سے کام کا آغاز کیا جائے۔

    دوسرا آپشن یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور روس جولائی 2021 میں طے شدہ منصوبے کو روک دیں اور اس کے ابتدائی ماڈل کی تجدید کریں اور اسے BOOT کی بنیاد پر روس کے حوالے کر دیا جائے، حکام کا کہنا ہے کہ اس ماڈل پر روس کی جانب سے بھی رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔

    تاہم نئی صورتحال اس لیے سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ایل این جی دستیاب نہیں، چنانچہ ایسی صورت حال میں ایل این جی پائپ لائن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    عہدیدار نے مزید بتایا کہ دوسرا ایل این جی ٹرمینل بھی فی الحال ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کم گنجائش پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نامی سرکاری کمپنی نے عالمی مارکیٹ میں ایل این جی ڈیل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن کسی فریق نے دلچسپی نہیں دکھائی۔

    ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ موسم سرما پاکستانی صارفین کے لیے بدترین ثابت ہوا۔وزیرمملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے صارفین میں ایل پی جی کے سلنڈر تقسیم کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا تاہم اس سے صارفین کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ ہو رہی تھی۔

  • ٹک ٹاکر جنت مرزا اور عمربٹ کا تعلق ختم کرنے کا اعلان

    ٹک ٹاکر جنت مرزا اور عمربٹ کا تعلق ختم کرنے کا اعلان

    کراچی: ٹک ٹاکر جنت مرزا اور عمربٹ نے ایک دوسرے سے راہیں جدا کرلیں۔

    سوشل میڈیا پوسٹ میں بریک اپ کا اعلان کرتے ہوئے عمر بٹ نے کہا کہ میرے خیال سے آپ سب کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ میں اور جنت اب مزید ایک ساتھ نہیں ہیں۔ یہ ہم دونوں کا مشترکا فیصلہ ہے۔انہوں نے مداحوں سے پرائیوسی کا خیال رکھنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ جو جس کے حق میں بہتر ہوگا اللہ اسے نصیب کرے۔

    دوسری جانب جنت مرزا نے بھی سوشل میڈیا پر بیان میں عمربٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ جو میں نے سوچا ہوا تھا اورجس کا ہم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا وہ سب نہیں ہوا بلکہ ضائع ہوگیا کیونکہ وہ دوسری خواتین کی جانب سے ملنے والی توجہ کا عادی ہوگیا تھا۔
    جنت مرزا اور عمر بٹ کی منگنی اور شادی کے حوالے سے خبریں سوشل میڈیا کی زینت بن چکی تھیں۔ جنت مرزا نےایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کی عمر بٹ کے ساتھ بات پکی ہوگئی ہے لیکن باقاعدہ طور پر منگنی نہیں ہوئی۔

  • بابر اعظم کے ’ ٹرانسفر‘ سے پی ایس ایل میں نئی مسابقت

    بابر اعظم کے ’ ٹرانسفر‘ سے پی ایس ایل میں نئی مسابقت

    کراچی: قومی کرکٹ کے کپتان بابراعظم کے ’ ٹرانسفر‘ سے پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن میں نئی مسابقت کا امکان ہے۔

    پاکستانی کپتان بابراعظم اس بار پی ایس ایل میں کراچی کنگز کے بجائے پشاور زلمی کی نمائندگی کریں گے، اس ٹرانسفر کی وجہ سے لیگ میں زیادہ دلچسپ مقابلوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے

  • شعیب اختر نے عامر کی ممکنہ واپسی پرسوال اٹھا دیا

    شعیب اختر نے عامر کی ممکنہ واپسی پرسوال اٹھا دیا

    لاہور: سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے محمد عامر کی ممکنہ واپسی پرسوال اٹھا دیا۔

    ایک انٹرویو میں شعیب اختر نے کہا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے محمد عامر کو واپسی کا عندیہ دیا جانا درست نہیں،ماضی میں ہم بھی قومی ٹیم سے ڈراپ ہوتے رہے، مینجمنٹ 12سال تک مجھ سے ناراض رہی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہتھیار ڈال دیے جائیں،ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان کی ضرورت کیا ہے۔

    محمد عامر انٹرویوز میں کہتے رہے کہ انھوں نے کرکٹ میں جان لگائی، دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ ان کو ماضی میں سزا ہوئی،غلط کیا تھا تو سزاوار ٹھہرے، آپ نے پاکستان کرکٹ کیلیے اچھا نہیں کیا،ملک نے آپ کو جو کچھ دیا،اس کو واپس لوٹانا چاہیے تھا۔

  • برطانیہ میں اہم سرکاری اداروں کے 5 لاکھ ورکرز کی ہڑتال

    برطانیہ میں اہم سرکاری اداروں کے 5 لاکھ ورکرز کی ہڑتال

    لندن: برطانیہ میں 124 سرکاری اداروں کے 5 لاکھ ورکرز کی ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق ہڑتال کرنے والوں میں اساتذہ، ایمبولینس ، ٹرین اور بس سروس سمیت بارڈر فورس کے ملازمین شامل ہیں۔ ہڑتالی ورکرز برطانوی حکومت سے تنخواہوں میں اضافے اورمراعات کا مطالبہ کردیا۔

    سرکاری اداروں کے 5 لاکھ ملازمین کی ہڑتال کے باعث برطانیہ میں اسکول، یونیورسٹیز، ٹرین اور بس سروسز بُری طرح متاثر ہیں۔ ملک میں ہڑتال کے دوران 85 فیصد اسکول اور 150 یونی ورسیٹیز جزوی یا مکمل بند رہیں۔

  • کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت

    کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت

    پشاور پولیس لائنز مسجد میں خودکش دھماکے میں شہدا کی تعداد 100ہو گئی ہے۔ان شہداء میں 93پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پولیس اور دیگر شہدا کو ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا، شہدا کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے۔

    ادھر دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا اور وہاں نماز کی ادائیگی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے، اس افسوسناک واقعہ کے بعد خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ اعظم خان نے صوبے میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا، یوں منگل کو خیبرپختونخوا میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا جب کہ ملک بھر میں فضا سوگوار رہی۔ پشاور پولیس لائنز سانحہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ابتدائی طور پر اس سانحہ کے مختلف زاویوں پر غور کیا گیا ہے۔یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خود کش حملے میں استعمال کیا جانے والا بارودی مواد گاڑی کے ذریعے پولیس لائنز منتقل کیا گیا ہے۔تحقیقاتی ٹیموں نے پولیس لائنز گیٹ اور خیبرروڈ کی وڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔

    پشاور پولیس کے مطابق جس روز مسجد میں دھماکا ہوا، اس روز 140 افراد پولیس لائنز میں داخل ہوئے۔ پولیس لائنزبیرک میں موجود تمام افراد کی پرو فائلنگ بھی کی جارہی ہے۔

    آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران میں اعتراف کیا کہ علاقے میں سیکیورٹی لیپس ہوا ہے، ایسا کیوں ہوا ہے، اس کا پتہ چلانے کے لیے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور کے سہولت کاروں کا بھی پتا لگا نے کی کوشش کررہے ہیں، جے آئی ٹی کی تحقیقات میں سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

    انھوں نے مزیدکہا کہ پولیس لائنز میں فیملی کوارٹرز بھی ہیں جہاں پولیس اہل کار اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں، ان اہلکاروں کے مہمانوں کی آمد ورفت بھی رہتی ہے، پولیس لائنز کے اندر کھانے پینے کی کینٹینیں بھی ہیں، اس کے علاوہ وہاں تعمیراتی کام بھی چل رہا تھا۔

    آئی جی کے مطابق خود کش دہشت گرد پیر کو ہی بارودی جیکٹ پہن کر پولیس لائنز اور پھر مسجد میں نہیں داخل ہوا بلکہ بارودی سامان اور جیکٹ وغیرہ تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں لاتا رہا‘ خودکش دہشت گرد سائلین یا مہمانوں کے روپ میں داخل ہوا‘ اس حوالے سے سیکیورٹی کی ناکامی کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    میڈیا نے سی سی پی او پشاور محمد اعجاز خان کے حوالے سے بتایاہے کہ ممکن ہے خود کش دہشت گرد کسی سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر پولیس لائنز کے اندر آیا ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو، سی ٹی ڈی تمام پہلوؤں پر تفتیش کر رہی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام سیاسی قوتوں کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان دشمنوں کے خلاف متحد ہوں۔ ہم اپنے سیاسی جھگڑے بعد میں نبٹا لیں گے۔ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصدکے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور دہشت گردی، عسکریت پسندی کے خلاف ہماری محنت سے حاصل کردہ کامیابیوں کو رائیگاں کرنا چاہتے ہیں۔

    ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو میرا پیغام پاکستان دشمن عناصر کے خلاف اتحاد کا ہے، ہم اپنی سیاسی لڑائی بعد میں لڑ سکتے ہیں۔

    پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ غیر اخلاقی اور بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں،یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی کے لیے ہمارے عزم کو تقویت دیتی ہیں، کسی بھی دہشت گرد کے لیے زیرو ٹالرنس ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں 255 ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کی، شرکا کو موجودہ اور ابھرتے ہوئے خطرات، مقبوضہ جموں کشمیر کی صورت حال،دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ اور حمایتی میکنزم توڑنے کے لیے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

    آرمی چیف نے تمام کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر اس وقت تک توجہ مرکوز رکھیں جب تک ہم پائیدار امن حاصل نہ کر لیں۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی سانحہ پشاور زیر بحث رہا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے تاہم اس کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کرے گی کیونکہ قومی سلامتی کمیٹی ہی ایسے فیصلے لینے کا مجاز فورم ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ 100 افراد کی شہادت، سانحہ آرمی پبلک اسکول سے کم نہیں ہے۔ اے پی ایس سانحہ کے وقت بھی تمام سیاستدان اکٹھے ہوئے تھے ، آج بھی اتفاق رائے چاہیے، ماضی کی غلطیوں کا اعتراف بھی کرنا چاہیے۔انھوں نے انکشاف کیا کہ ساڑھے چار لاکھ افغانی قانونی دستاویزات پر پاکستان آئے اور واپس نہیں گئے، معلوم نہیں ان میں سے کون معصوم شہری ہے اور کون دہشت گرد ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میںکہا ہم نے ہر قیمت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔ پالیسی تو پارلیمنٹ نے دینی ہے، وزیر اعظم، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی بھی ایوان میں آئیں گے۔ پہلے کی طرح پارلیمنٹیرینز کو بریفنگ دی جائے گی، ہماری پالیسی آج بھی اے پی ایس سانحے کے بعد والی ہے۔ ٹی ٹی پی کے خراسانی گروپ نے اس دہشت گردی کی ذمے داری قبول کی ہے۔

    پولیس لائنز کے اندر خودکش بمبار کیسے پہنچا؟ کس نے پہنچایا؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی قریب ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ کالعدم تنظیم کے لوگوں کو معاف کردینے کی سرکاری پالیسی غلط ثابت ہوئی ہے، پی ٹی آئی حکومت میں سزائے موت کے مجرم بھی چھوڑے گئے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طالبان سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیاں بھی ہوئی ہیں۔

    پاکستان کے اعلیٰ پالیسی ساز حلقوں میں تو شاید اس قسم کی صورت حال پیدا ہونے کے امکانات کا پتہ ہو لیکن یہ سب کچھ ملک کی اکثریت کی توقعات اور امیدوں کے برعکس تھا کیونکہ پاکستان میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کا حامل طبقہ عوام کو یہ یقین دہانی کرا رہا تھا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کا قیام پاکستان کے لیے غیرمعمولی فوائد کا باعث ہوگا۔

    پاکستان کے اندر یہ مخصوص مائنڈ سیٹ علمی سطح پر بھی یہی تاثر پھیلا رہا تھا کہ افغان طالبان نے امریکا کو شکست دے کر اقتدار حاصل کیا ہے حالانکہ طالبان کا اقتدار دوحہ معاہدے کے نتیجے میں قائم ہوا تھا‘ بہرحال سابق حکومت کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں نے عالمی سطح پر افغانستان کی طالبان حکومت کامقدمہ لڑنا شروع کر دیا۔

    ادھر امریکا اور دیگر ممالک افغان طالبان کے عملی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔طالبان حکومت نے دوحہ میںجو معاہدہ کیا تھا‘ اس کی بعض شرائط پر عمل نہیں کیا‘ جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کو دنیا میں کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا‘ لیکن پاکستان میں موجودمخصوص مائنڈ سیٹ طالبان کا ساتھ دیتا رہا جب کہ اس کے برعکس افغانستان کی طالبان حکومت نے سرد خانے میں پڑے ہوئے معاملات کو ازسرنو اٹھانا شروع کردیا۔

    ڈیورنڈ لائن جو انٹرنیشنلی تسلیم شدہ سرحد ہے‘ اسے متنازعہ بنانے کا کام شروع کردیا‘ پاکستان نے اپنی سرحد کے اندر آہنی باڑ نصب کی تھی‘ اس کی تعمیر پر اشرف غنی کی حکومت نے بھی گرین سگنل دیاتھا لیکن افغان طالبان نے اس سرحدی باڑ کو کئی جگہ سے اکھاڑنے کی کوشش کی‘ اس کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی حکومت نے افغانستان میں موجودٹی ٹی پی کے لوگوں کو نقل و حرکت کی پہلے سے بھی زیادہ اجازت دے دی اور اشرف غنی حکومت نے ٹی ٹی پی کے جن لوگوں کو گرفتار کیا تھا انھیں جیلوں سے رہا کر دیا۔

    ٹی ٹی پی کے سرکردہ لوگ جو زیرزمین تھے وہ منظرعام پر آ گئے‘ افغان طالبان نے پاکستان کے مطالبات کے باوجود انھیں نہ پاکستان کے حوالے کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی خود ایکشن کیا‘ ادھر پاکستان کی سابق حکومت کے دور میں کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان میں آنا شروع ہوئے‘ حکومت نے آنکھیں بند رکھیں ‘اس کوتاہی بلکہ عاقبت نااندیشی کا نتیجہ آج ایک بار پھر دہشت گردی کی شکل میں سامنے آ گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کثیرالجہتی آپریشن شروع کیا جائے۔

  • شیخ رشید کی گرفتاری پر عمران خان کی شدید مذمت

    شیخ رشید کی گرفتاری پر عمران خان کی شدید مذمت

    اسلام آباد: شیخ رشید کی گرفتاری کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی شدید مذمت کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

    عمران خان نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں لکھا کہ رسوائے زمانہ الیکشن کمیشن کی مقررکردہ ایسی متعصّب اور منتقم نگران حکومت تاریخ میں اس سے پہلے ہم پرکبھی مسلط نہ ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان اس عوامی تحریک کا متحمل ہوسکتا ہے جس کی جانب ہمیں ایسے وقت میں دھکیلا جارہا ہے جب امپورٹڈ سرکار ہمارا دیوالہ نکال چکی ہے؟

  • شیخ رشید کا گرفتاری کے بعد میڈیا کے سامنے اہم بیان

    شیخ رشید کا گرفتاری کے بعد میڈیا کے سامنے اہم بیان

    اسلام آباد: سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے گرفتاری کے بعد میڈیا کو اہم بیان دے دیا۔

    سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے گرفتار ہونے کے بعد میڈیا کو اپنا بیان ریکارڈ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایچ او نواز لیگ کا ٹاؤٹ ہے اور رانا ثناء اللہ یہ سارے کام کروا رہا ہے، رانا ثناء اللہ کو پیغام ہے اسے نہیں چھوڑوں گا۔

    شیخ رشید نے کہا کہ پولیس نے سارے گھر کے دروازے توڑے، کھرکیاں توڑی ہیں، ملازموں کو بے تحاشہ مارا ہے، یہ مجھے اٹھا کر لائیں ہیں، یہ تھانہ ظلم کا نشان ہے، انشاء اللہ حق کی فتح ہو گی، عمران خان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے بدمعاشی کی ہے، سو دو سو لوگ داخل ہوئے اور یہ مسلح تھے، یہ زبردستی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائیں ہیں۔

    سربراہ عوامی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے انہیں راولپنڈی سے گرفتار کیا جب کہ آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج طارق محمود جہانگیری صاحب سے ضمانت لی اور 6 تاریخ کو آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا۔

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ پولیس مجھے طبی معائنہ کیلیے پولی کلینک لے آئی حالانکہ میں نے آج تک شراب نہیں پی۔ بعدازاں پولیس نے انہیں طبی معائنہ کے بعد تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کردیا۔

    دوسری جانب لاہور میں شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد زمان پارک میں کارکنوں کا احتجاج جاری ہے، کارکنوں کی بڑی تعداد زمان پارک میں موجود جب کہ کارکنوں کی ممکنہ گرفتاری ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے زمان پارک کے اطراف کی سڑکیں بھی بلاک کر دیں۔

    قبل ازیں سابق ایم این اے شیخ راشد شفیق نے تھانہ آبپارہ کے باہر اپنے بیان میں کہا کہ رات ساڑھے 12 بجے آبپارہ پولیس نے شیخ رشید کو ان کی بحریہ ٹاؤن میں نجی رہائشگاہ سے گرفتار کیا جو پنجاب کی حدود میں آتی ہے، پولیس نے ملازمین کو زدوکوب کیا، گھر میں توڑ پھوڑ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے شیخ رشید کو جس ایف آئی آر پر گرفتار کیا اس پر ہم عدالت میں پہلے ہی جا چکے تھے اور ہمیں ریلیف بھی ملا لہٰذا ہم اس پر توہینِ عدالت کی درخواست کریں گے۔

  • پی سی بی نے نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کردیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کردیا۔
    ہارون رشید پہلے ہی چیف سلیکٹر مقرر ہوچکے ہیں، انکے ساتھ کامران اکمل، محمد سمیع اور یاسر حمید سلیکشن کمیٹی کے رکن ہوں گے۔

    جونیئر سلیکشن کمیٹی کے کامران اکمل سربراہ ہوں گے جبکہ دیگر ارکان میں توصیف احمد اور ارشد خان شامل ہیں، شاہد نذیر اور شعیب خان بھی سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    یاد رہے کہ شاہد آفریدی کو گزشتہ سال 24 دسمبر کو نیوزی لینڈ کیخلاف ہوم سیریز کیلیے عبوری سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا جس میں عبد الرزاق، راؤ افتخار انجم رکن اور ہارون رشید کنوینر کے طور پر شامل تھے۔
    پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی نے چارج سنبھالنے کے بعد محمد وسیم کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کردیا تھا۔

  • آئی ایم ایف کی شرط پوری؛ بینکوں کوسرکاری افسران کے اثاثہ جات کی تفصیلات تک رسائی

    آئی ایم ایف کی شرط پوری؛ بینکوں کوسرکاری افسران کے اثاثہ جات کی تفصیلات تک رسائی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کردی جس کے بعد مبینہ طور پر کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث سرکاری افسران کی کرپشن و منی لانڈرنگ کا سراغ لگانے کیلئے بینکوں کو گریڈ 17 تا 22 کے سرکاری افسران کے جمع کروائے جانیوالے اثاثہ جات کی تفصیلات تک مشروط رسائی دینے کے رولز جاری کردیے ہیں۔

    اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ مزکورہ رولز کے میں بتایا گیا کہ بینکوں کو سول سرکاری ملازمین کے ایف بی آر کو جمع کروائے گئے ایسٹ ڈکلیئریشن کی تفصیلات کے حصول کیلئے منی لانڈرنگ ایکٹ 1973میں وضع کردہ کسٹمرز ڈیو ڈیلینس (سی ڈی ڈی) پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

    ایف بی آر کی جانب سے متعارف کروائے جانیوالے ان رولز کا اطلاق انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن دو کی ذیلی شق 7 کے تحت بینکنگ کمپنیوں کے ساتھ معلومات شیئرنگ کیلئے ہوگا اور ان رولز کا اطلاق گریڈ 17 تا 22 کے سول سرکاری ملازمین سے متعلق معلومات کے تبادلہ (شیئرنگ)کے حوالے سے محدود مقاصد کیلئے ہوگا۔

    رولز میں مزید بتایا گیا کہ بینکنگ کمپنیوں و بینکوں کی درخواست پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ طے شدہ فیلڈز کی بنیاد پرسول افسران کی جانب سے ایف بی آرکو جمع کروائے گئے۔