Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 537 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • جسٹس فائز عیسیٰ کے پشاور خودکش حملے کے حوالے سے اہم ریمارکس

    جسٹس فائز عیسیٰ کے پشاور خودکش حملے کے حوالے سے اہم ریمارکس

    اسلام آباد: پشاور خودکش حملے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہم ریمارکس دیے ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس ایک کیس کی سماعت کے دوران دیے، جس میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کیوں کیے جا رہے ہیں؟

    عدالت عظمیٰ کے جج نے ریمارکس دیے کہ دہشتگردوں سے کب تک ڈریں گے؟ کہا جاتا ہے کہ دہشتگردوں کو یہ دو وہ دو اور کبھی کہا جاتا ہے دہشت گردوں سے مذاکرات کرو، اس دوران ریاست کہاں ہے؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آج دہشت گرد دو بندے ماریں گے کل کو پانچ مار دیں گے، پتہ نہیں ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ ایک جج نے دہشتگردی کے واقعے پر رپورٹ دی لیکن اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ لمبی داڑھی رکھنے سے بندہ مسلمان یا اچھا انسان نہیں بن جاتا، ہمارے ایک جج کو مار دیا گیا کسی کو پرواہ ہی نہیں۔

    واضح رہے کہ پشاور پولیس لائنز کی مسجد کے اندر خود کش دھماکے میں اب تک امام مسجد اور اہلکاروں سمیت 101 افراد شہید ہوچکے ہیں۔ دھماکا عین نمازِ ظہر کے وقت ہوا جہاں حملہ آور پہلی صف میں موجود تھا۔

    اطلاعات کے مطابق حملہ آور نمازیوں کے ساتھ تھانے کے مرکزی دروازے سے داخل ہوکر تین حفاظتی حصار عبور کرکے مسجد میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

  • عمران خان کا توہین الیکشن کمیشن کیس سننے والے ارکان پر اعتراض

    عمران خان کا توہین الیکشن کمیشن کیس سننے والے ارکان پر اعتراض

    اسلام آباد: عمران خان اور فواد چوہدری نے توہین الیکشن کمیشن کیس سننے والے ارکان پر اعتراض کر دیا۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قانون واضح ہے جس کی توہین کا الزام ہو وہ مقدمہ نہیں سن سکتا، شوکاز نوٹس میں الیکشن کمیشن ممبران کیخلاف نفرت پھیلانے کا الزام ہے، لہذا جن ممبران کیخلاف نفرت پھیلانے کا الزام ہے وہ کیس سننے کے مجاز ہی نہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری
    انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ متاثرہ ممبران خود کو بنچ سے الگ کر لیں، توہین الیکشن کمیشن کا نوٹس الیکشن کمیشن بھیج سکتا ہے سیکرٹری نہیں، آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کا مطلب چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہیں۔

    عمران خان، فواد چوہدری نے استدعا کی کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی لاء توہین کے نوٹس جاری کرنے کے مجاز نہیں، اختیارات سے تجاوز کرکے جاری کردہ شوکاز نوٹس کی قانونی حیثیت نہیں، الیکشن کمیشن اعتراضات کو منظور کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لے۔

  • پی ایس ایل8؛ لاہور میں کتنے سیکیورٹی اہلکار میچ کے دوران فرائض نبھائیں گے؟

    پی ایس ایل8؛ لاہور میں کتنے سیکیورٹی اہلکار میچ کے دوران فرائض نبھائیں گے؟

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں سیزن کے میچز کے حوالے سے کمشنر لاہور نے اہم اجلاس طلب کرلیا۔

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں سیزن میں سیکیورٹی صورتحال اور دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے کمشنر لاہور کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، پولیس، ضلعی انتظامیہ سمیت سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 و دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

    کمشنر لاہور چوہدری محمد علی رندھاوا نے حکام کو ہدایت کی کہ میچز کے دوران سیکیورٹی انتظامات کے لئے قریبا ساڑھے 7 ہزار پولیس اہلکار فرائض سرانجام دیں گے جبکہ مرکزی کنٹرول روم اسٹیڈیم اندر ہوگا، اسی طرح قذافی اسٹیڈیم کے اطراف 396 مزید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

  • پنجاب میں نگراں حکومت اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے درمیان شدید تنازعہ

    پنجاب میں نگراں حکومت اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے درمیان شدید تنازعہ

    لاہور: پنجاب میں نگراں کابینہ اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے درمیان لاء افسران کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔

    لاہور ہائیکورٹ میں کون سے لاء افسران پیش ہوں گے تاحال فیصلہ نہ ہوسکا۔

    نگراں حکومت نے تحریک انصاف دور کے تعینات لاء افسران کو پیش نہ ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے نگراں حکومت کے تعینات کردہ لاء افسران کو عدالتیں اور دفاتر الاٹ نہیں کیے۔لاء افسران کے عدالتوں میں پیش نہ ہونے پر ججز نے درخواستوں میں فریق بنائے گئے افسران کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

    علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے لاء افسران کے پیش نہ ہونے پر سخت نوٹس لے لیا۔

    جسٹس شاہد کریم نے سیکرٹری قانون پنجاب کو فوری طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ لاء افسران کو پیش ہونے سے کس نے روکا ہے؟

    وکیل نے جواب دیا کہ سیکرٹری قانون پنجاب نے نگراں کابینہ کے حکم پر پرانے لاء افسران کو پیش ہونے سے روکا ہے۔

    دریں اثنا لاہور ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کی عہدے سے ہٹانے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عاصم حفیظ نے معاملہ فل بینچ کو بھجوانے کی ہدایت کر دی۔

    ایڈووکیٹ منصور اعوان نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل تمام حکومتی اداروں کو ایڈوائس کرتے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا عہدہ قانونی عہدہ ہے۔

    جسٹس عاصم حفیظ نے پوچھا کہ کیا نگراں حکومت گورنر کو تجویز دے سکتی ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو تبدیل کیا جائے، یہ سوال بھی سامنے آیا کہ نگراں حکومت کا ٹرانسفر پوسٹنگ میں کیا دائرہ اختیار ہے، شق G کے بعد مختلف سوال سامنے آئے، نگراں حکومت کیجانب سے تعیناتیاں مختصر وقت کےلیے ہوتی ہیں۔

    عدالت نے ایڈشنل اٹارنی جنرل سے الیکشن کمیشن کلاز G کے چیلنج سے متعلق رائے مانگ لی۔

    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس معاملہ کو فل بینچ کو بھیج دیا جائے، یہاں یہ دیکھنا ہے کہ کیا نگراں حکومت بڑے پالیسی فیصلے کر سکتی ہے۔

    نگراں حکومت کے تعینات لاء افسران کے وکیل نے اپنے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہے۔

    عدالت نے کہا کہ ہمارا یہ کلچر بن چکا ہے ہر جگہ سیاسی تعیناتیاں کی جاتی ہیں۔عدالت نے معاملہ فل بینچ کو بھیجوا دیا۔

    واضح رہے کہ نگران حکومت نے 24 جنوری کو پی ٹی آئی دور حکومت میں تعینات ہونے والے احمد اویس کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اس نوٹیفکیشن کو معطل کرتے ہوئے احمد اویس کو عہدے پر بحال کر دیا۔

  • الیکشن سے پہلے امن و امان کو دیکھا جائے، گورنر کے پی کا الیکشن کمیشن کو خط

    الیکشن سے پہلے امن و امان کو دیکھا جائے، گورنر کے پی کا الیکشن کمیشن کو خط

    پشاور: گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں عام انتخابات کی تاریخ سے قبل مشاورت کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے۔

    چیف الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں گورنر کے پی نے کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رائے لی جائے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔

    خط میں کہا گیا کہ صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے تاریخ دینے سے قبل تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے، سیاسی جماعتوں اور سیکیورٹی اداروں سے مشاورت کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔
    گورنر کے پی نے کہا کہ حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد صوبے میں الارمنگ صورتحال ہے اس لیے الیکشن کمیشن کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کرنی چاہیے۔

    دوسری جانب، ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا نے تاحال الیکشن تاریخ نہیں دی اور عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے گورنر نے تاحال الیکشن کمیشن کو آگاہ بھی نہیں کیا۔

  • سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے ختم ہونے والے کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے ختم ہونے والے کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب قوانین میں ترامیم کے نتیجے میں احتساب عدالتوں سے ختم ہونے والے کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

    کرپشن سے متعلق ایک کیس میں ملزم کی ضمانت منسوخی کی نیب کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے دیے کہ نیب ترامیم کے بعد کون کون سے مقدمات متعلقہ فورم پر بھیجے گئے؟ ریکارڈ پیش کیا جائے۔

    دوران سماعت جاری مقدمے سے متعلق نیب نے بیان دیا کہ کوئٹہ کا کرپشن کیس نیب دائرہ اختیار سے نکل گیا، درخواست غیر موثر ہوگئی۔ احتساب عدالتوں سے واپس آنے والے مقدمات کے لیے نظرثانی کمیٹی قائم ہے، جو کیسز متعلقہ فورم بھیج رہی ہے۔
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ نیب ترامیم کی وجہ سے کوئی بری نہیں ہورہا بلکہ کیسز منتقل ہورہے ہیں۔نیب ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج ہیں، ابھی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب ان مقدمات کے ساتھ کیا کررہا ہے جو ترامیم کی وجہ سے احتساب عدالتوں سے واپس آرہے ؟ عدالت نے کہا کہ پچھلے 6 ماہ کا ریکارڈ دیں، کون کون سے نیب مقدمات دوسرے فورم پر بھیجے گئے۔

  • عمران خان نے مبینہ بیٹی ٹیریان کو چھپانے کے کیس میں جواب جمع کرادیا

    عمران خان نے مبینہ بیٹی ٹیریان کو چھپانے کے کیس میں جواب جمع کرادیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مبینہ بیٹی ٹیریان کو چھپانے کے کیس میں جواب عدالت میں جمع کرادیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹیریان وائٹ کو چھپانے پر عمران خان کی نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ عمران خان نے ابتدائی جواب جمع کراتے ہوئے اپنے خلاف کیس کو خارج کرنے کی استدعا کردی۔

    عمران خان نے جواب میں کہا کہ بطور رکن اسمبلی آفس چھوڑ چکا، درخواست قابل سماعت نہیں، آرٹیکل 199 کے تحت یہ کورٹ اس درخواست کو نہیں سن سکتی۔

    عمران خان نے فیصل واوڈا کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کیس سننے والے موجودہ چیف جسٹس پر بالواسطہ اعتراض بھی اٹھا دیا۔

  • لاہور میں ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھولنے کی اجازت

    لاہور میں ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھولنے کی اجازت

    لاہور: عدالت نے لاہور میں ریسٹورنٹس رات گیارہ بجے تک کھولنے کی اجازت دے دی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کیس میں گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں شہر کے ریسٹورنٹس کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں عدالت نے ہوم ڈیلیوری سروس بھی رات ساڑھے 12 بجے تک دینے کی اجازت دے دی۔

    عدالت نے ٹریفک پولیس کو سٹرکوں پر ٹریفک کی معلومات کے لیے ٹیلی فون نمبر آویزاں کرنے کی ہدایت کردی۔ لاہور ہائی کورٹ نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر تحریری حکم جاری کیا۔

  • شاہد خاقان عباسی نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینے کی تردید کردی

    شاہد خاقان عباسی نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینے کی تردید کردی

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینے کی تردید کردی۔

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کے ترجمان حافظ عثمان عباسی نے بیان میں کہا کہ شاہد خاقان عباسی کے استعفیٰ دینے کی خبر بے بنیاد ہے۔ وہ پارٹی کے سینئر نائب صدر ہیں۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان نے مشکل حالات میں پارٹی نہیں چھوڑی آج کیوں چھوڑیں گے۔ انہوں نے 1988 میں آزاد حیثیت سے انتخاب جیتا اور مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے۔شاہد خاقان عباسی نے جیل کاٹی لیکن اپنے مشن سے نہ ہٹے۔ نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا۔ بطور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا میرا لیڈر نواز شریف ہے۔
    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شاہد خاقان عباسی کی جانب سے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینے کی تصدیق سے گریز کیا۔ میڈیا پر شاہد خاقان عباسی کے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

  • گردشی قرضے سے جان چھڑانے کیلیے نیا غیرحقیقت پسندانہ منصوبہ

    گردشی قرضے سے جان چھڑانے کیلیے نیا غیرحقیقت پسندانہ منصوبہ

    اسلام آباد: گردشی قرضوں کے پہلے سے انتہائی بھاری بھرکم حجم میں مزید 952 ارب روپے کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔

    نظرثانی شدہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان سے منکشف ہوا ہے کہ گردشی قرضوں کے پہلے سے انتہائی بھاری بھرکم حجم میں مزید 952 ارب روپے کا اضافہ ہونے جارہا ہے حالانکہ یہ قومی خزانے میں ایک ایسا شگاف ہے، جسے وفاقی حکومت اب بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور 675 ارب روپے کی اضافی سبسڈیز کے ذریعے پُر کرنا چاہتی ہے۔

    اس سال فروری سے مئی تک 69 پیسے فی یونٹ سے لے کر 3.21 روپے فی یونٹ تک تین الگ الگ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ لگانے کی تجویز زیرغور ہے۔
    اس کے علاوہ ماضی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی عائد کردہ دو مزید شرائط کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے فی یونٹ 2.93 روپے ڈیٹ (قرضہ) سرچارج بھی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی زیرالتواء فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ کو بھی نافذ کیا جارہا ہے۔

    تاہم حکومت کا یہ منصوبہ غیرحقیقت پسندانہ لگتا ہے کیونکہ یہ 232 روپے فی ڈالر کی شرح تبادلہ اور 16.84% کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ کے مفروضے پر بنایا گیا ہے جبکہ موجودہ شرح مبادلہ 268 روپے فی ڈالر ہے اور کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ 18% کے قریب ہے۔ اب سے جون تک کسی بھی وقت بجلی کی قیمت میں 3.62 روپے فی یونٹ سے 6.14 روپے فی یونٹ تک اضافہ کر دیا جائے گا۔

    اگر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 675 ارب روپے کی اضافی سبسڈیز کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوتا کہ جس کا وزارت توانائی نے 952 ارب روپے کے گردشی قرضے کا شگاف پُر کرنے کے لیے منصوبہ بنایا ہے تو بجلی کی قیمت میں کیا جانے والا اضافہ اس سے بھی بڑھ کر ہوسکتا ہے۔ نظرثانی شدہ منصوبہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے اور اب اس پر بات چیت اسی ہفتے ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران گردشی قرضے میں تقریباً 952 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے اور اسے کم کرکے 75 ارب روپے تک لانے کے لیے بہت سے اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ بڑی کمی لانے کیلیے حکومت سے 675 ارب روپے کی اضافی سبسڈیز مانگی گئی ہیں، یہ اقدام اس وجہ سے بھی غیرحقیقت پسندانہ لگتا ہے کہ بجٹ میں اتنی بڑی رقم دینے کی گنجائش نہیں ہے۔