Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 539 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • الیکشن کمیشن کی پنجاب اور کے پی کی نگراں حکومت کو ٹرانسفر پوسٹنگ جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    الیکشن کمیشن کی پنجاب اور کے پی کی نگراں حکومت کو ٹرانسفر پوسٹنگ جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگراں وزائے اعلیٰ کو صوبوں میں تقرریاں و تبادلے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

    دونوں صوبوں کے وزائے اعلیٰ کو ارسال کیے گئے خط میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جی جلد تبدیل کرلیں، صوبوں میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن ٹرانسفر پوسٹنگ کا عمل مکمل کیا جائے۔

    الیکشن کمیشن جلد صوبوں میں عام انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا، انتخابی شیڈول کے بعد کسی بھی قسم کی ٹرانسفر پوسٹنگ بند کر دی جائے گی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق کی تیاری کیلیے دو فروری کو طلب کیا جانے والا اجلاس ملتوی کردیا، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو اجلاس ملتوی ہونے سے متعلق آگاہ کر دیا۔

    مشاورتی اجلاس کی تاریخ جلد فائنل کر کے سیاسی جماعتوں کو آگاہ کیا جائے گا، الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دینے سے متعلق اجلاس اگلے ہفتے بلانے کا فیصلہ کیا ہے، سیاسی جماعتوں کو تجاویز کے لیے زیادہ ٹائم مل جائے گا۔

  • جامعہ اردو بدترین مالی وانتظامی بحران کا شکار ہوگئی

    جامعہ اردو بدترین مالی وانتظامی بحران کا شکار ہوگئی

    کراچی: اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور اُردو یونیورسٹی کی انتظامیہ کے مابین جاری شدید چپقلش اور اختلافات کے سبب جامعہ اُردو بدترین مالی وانتظامی بحران سے دوچار ہوگئی۔

    یونیورسٹی کی موجودہ قائم مقام انتظامیہ نے 7 ماہ قبل اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی پانے والے اور براہ راست اس عہدے پر فائز ہونے والے اساتذہ کو جواننگ لیٹر دیتے ہوئے ان کی مذکورہ عہدے پر خدمات لینے شروع کردیئے ہیں تاکہ فیکلٹی میں موجود خلا کو پُر کیا جاسکے لیکن تاحال یہ اساتذہ اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ حال ہی میں 73 لیکچرز کو بھی جوائننگ دے دی ہے انہیں بھی تنخواہیں نہیں دی جارہی۔

    کہا جارہا ہے کہ لیکچررز کی بھرتیاں یونیورسٹی کے دو سینئر اساتذہ کو پروفیسر کے عہدے پر فائز کرنے کے التوا میں پڑے کیس کو نمٹانے کے لئے دی گئی۔

    ادھر یونیورسٹی میں انتظامی کے ساتھ ساتھ بدترین مالی بحران ہے اور تین ماہ سے تنخواہیں معمول کے مطابق نہیں دی جارہی، کبھی آدھی تنخواہ مہینے کے شروع اور آدھی مہینے کے درمیان دی جاتی ہے اور کبھی basic pay دے کر کام چلایا جارہا ہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کے مطابق اسے ہر ماہ تقریباً 4 کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کو فیڈرل ایچ ای سی بھی تیار نہیں ہے۔

    چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن ڈاکٹر مختار احمد کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ “لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے سلیکشن بورڈ متنازعہ تھے اور یہ معاملہ ابھی انکوائری کے مرحلے میں تھا اس دوران اساتذہ کو تقررنامے دے دیئے گئے لہذاجن اساتذہ کا تقرر کیا گیا ہے ان کی تنخواہوں کے لئے رقم ہم نہیں دیں گے یونیورسٹی اب خود ہی ان کا انتظام کرے۔

    ”اڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی نے یونیورسٹی انتظامیہ سے متعلقہ سیکشن بورڈز کی proceding مانگی تھی تاہم جب یہ ہمیں موصول ہوئی تو ایسا محسوس ہوا کہ انتظامیہ نے سلیکشن بورڈ کی کارروائی کے منٹس کے بجائے کسی بچے کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ڈائری ہمیں بھیج دی ہے جس میں سب کچھ قلم سے لکھا ہوا ہے یہ قابل قبول نہیں اب ہماری ٹیم کراچی آکر اس کی خود جانچ کرے گی۔

    واضح رہے کہ متعلقہ اور متنازعہ قرار دیئے گئے ان دونوں عہدوں کے سلیکشن بورڈ کا اشتہار کئی برس پرانا ہے اور اس پر بورڈ تقریباً دو برس قبل ہوا تھا جس کے ٹیسٹ پیپر اور انٹرویوز میں کئی طرح کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

    قابل ذکر امر یہ ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر کے سلیکشن بورڈ کوالیفائی کرنے والے جامعہ اُردو کے اپنے لیکچررز بھی اس عہدے پر فائز ہونے کے باوجود گریڈ 18 کی لیکچرر کی تنخواہ ہی لے رہے ہیں اور مالی بحران کے سبب اب تک انہیں بھی نئے گریڈ کی تنخواہیں نہیں مل سکی ہیں جب کہ اس عہدے پر جو اساتذہ براہ راست تعینات کئے گئے ہیں ان چھ ماہ میں تنخواہ تو نہیں دی گئی صرف دسمبر کے آغٖاز میں 1 لاکھ 10 ہزار روپے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے جب کہ ان کی چھ ماہ کی تنخواہ کئی لاکھ روپے بنتی ہے۔

    ادھر یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاالدین کا سلیکشن بورڈ کے بعد چھ ماہ قبل اسسٹنٹ پروفیسراور اب لیکچررکے عہدے پر اساتذہ کے تقرر کے حوالے سے کہنا ہے کہ “یونیورسٹی کی سینیٹ کے ایک رکن نے ہم سے باقاعدہ اس معاملے پر اصرار کیا اور کہا کہ آخرجب سینیٹ اس حوالے سے تقرریوں کا فیصلہ کرچکی ہے تو پھر ان اساتذہ کو تقررنامے کیوں نہیں دیئے جاتے جس کے بعد ہم نے ان اساتذہ کو جوائننگ دی جس سینیٹ میں یہ فیصلہ ہوا، اس میں چیئرمین ایچ ای سی بھی موجود تھے جب یہ معاملہ سامنے آیا تو انھوں نے کہا کہ سلیکشن بورڈ کی روداد ہمیں بھیجوا دیں لیکن یہ کہیں نہیں کہا گیا تھا کہ ابھی اس معاملے کو روک کر رکھیں۔

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جس روداد کو چیئرمین ایچ ای سی بچوں کی ڈائری کہہ رہے ہیں سلیکشن بورڈ کے منٹس ہر یونیورسٹی میں اسی طرح لکھے جاتے ہیں کیونکہ ایکسپرٹس فوری اپنے نمبرز اور کمنٹس دیتے ہیں جو ہاتھ کے ہاتھ نوٹ ہوے ہیں۔

    وائس چانسلر نے بتایا کہ ایچ ای سی کی ٹیم نے کراچی آکر اردو یونیورسٹی کے دونوں سلیکشن بورڈ کے ریکارڈ کی چھان بین کی ہے ہم نے انھیں تمام سوالات کے جوابات بھی دیے ہیں تاہم اب تک ان کی حتمی رپورٹ نہیں آئی۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علی اس یونیورسٹی کے چانسلر ہیں اور قومی زبان کے نام پر قائم اس یونیورسٹی کا گزشتہ دو سال سے کوئی مستقل انتظامی سربراہ نہیں ہے گزشتہ برس ڈاکٹر اطہرعطا کو یونیورسٹی کا مستقل وائس چانسلر مقر ر کیا گیا تھا تو ان کی تنخوا ہ دیگر وائس چانسلرز کے مقابلے میں 11 لاکھ روپے ماہانہ طے کی گئی تھی تاہم وہ کچھ روز کے لیے کراچی آئے اور پھر تعطیلات کا بہانہ کر کے کینیڈا واپس چلے گئے اور وہاں سے یونیورسٹی آن لائن چلانے کا ایک انوکھا سلسلہ شروع کر دیا، جس پر وفاقی وزارت تعلیم نے ایکشن لیا، ڈاکٹر اطہر عطا کو مستعفی ہونا پڑا۔

    اس سے قبل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے پاس اردویونیورسٹی کے وائس چانسلر کا چارج رہا اور بھی یونیورسٹی قائم مقام سربراہ کے پاس ہے یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر کے لیے تلاش کمیٹی تو بنادی گئی ہے تاہم اساتذہ کے دو نمائندے اپنے نامزدگیوں باوجود تلاش کمیٹی کے اجلاس میں اس لیے شریک نہیں ہوئے کہ ان کی نامزدگیوں کی منظوری یونیورسٹی سینیٹ سے نہیں لی گئی جس کے سبب اب دوبارہ تلاش کمیٹی اجلاس بھی نہیں ہوسکا۔

    ادھر قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الدین کا کہنا ہے کہ “یونیورسٹی سینیٹ کے بیشتر اراکین کی مدت پوری ہونے کے سبب اب سینیٹ بھی تحلیل ہو چکی ہے نئے نام منظوری کے لیے وزارت تعلیم کے ذریعے ایوان صدر بھجوا رکھے ہیں تاہم اس کی منظوریاں نہیں آئی ہیں۔ 4 نامزدگیاں جولائی اور 6 نومبر میں بھجوائی ہیں لیکن منظوری نہ ہونے سے یونیورسٹی کا کام آگے نہیں بڑھ رہا ۔

    واضح رہے کہ جامعہ اردو کے کراچی سمیت تینوں کیمپسز کے ماہانہ اخراجات18 کروڑ روپے ماہانہ میں جس میں سے ساڑھے 13 کروڑ روپے تنخواہوں میں خرچ ہوتے ہیں کراچی کے دونوں کیمپسز کی تنخواہیں 9 کروڑ جبکہ باقی اسلام آباد کیمپس میں خرچ ہوتی ہیں بجلی کے بل کی مد میں 22لاکھ روپے جبکہ پینشن کی مد میں 3کروڑ روپے خرچ ہورہے ہیں اور یونیورسٹی کو ماہانہ 4 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا ہے جو دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔

  • میانوالی میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کا حملہ

    میانوالی میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کا حملہ

    میانوالی میں مسلح دہشت گردوں نے پولیس اسٹیشن کو گھیر کر حملہ کردیا، پولیس اور مسلح افراد میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    20 سے 25 دہشت گردوں نے میانوالی کے تھانہ مکڑوال کو گھیر کر شدید فائرنگ شروع کردی جس کے جواب میں پولیس کے جوانوں نے بھی بھرپور جواب دیا۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق پولیس جوانوں کی جوابی فائرنگ سے دہشت گرد پسپا ہوکر بھاگنے پر مجبور ہوگئے تاہم وہ پہاڑوں پر چڑھ کر پولیس اسٹیشن پر فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ جوابی فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    حملے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان نے سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور اسپیشل برانچ کو مکڑوال پولیس کی بھرپور معاونت کرنے کی ہدایت کردی۔

    ترجمان میانوالی پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی پی او میانوالی مزید نفری اور ایلیٹ فورس کے ساتھ تھانہ مکڑوال روانہ ہوگئے۔

    عیسیٰ خیل کا علاقہ صوبہ خیبرپختونخوا کی سرحد سے متصل ہے اور تھانہ مکڑوال سے 10 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر کے پی کے شروع ہوجاتا ہے۔

    تھانہ مکڑوال پر 10 بجے کے قریب دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس پر تھانے میں موجود اہلکاروں نے بہادری اور دلیری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور دہشتگردوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

    حملے کی اطلاع ملتے ہی ضلع بھر کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ جاری کردیا گیا، تمام اسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسرز اور دیگر اسٹاف بھی پہنچ گیا۔

  • اگر بشریٰ بی بی نے دوران عدت نکاح پر توبہ نہیں کی تو انہیں تجدید ایمان کرنی چاہیے، مفتی سعید

    اگر بشریٰ بی بی نے دوران عدت نکاح پر توبہ نہیں کی تو انہیں تجدید ایمان کرنی چاہیے، مفتی سعید

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی سے عمران خان کے دو نکاح ہوئے کیونکہ پہلا عقد نکاح عدت کے دوران ہوا جسے شرعی طور پر فاسد کہا جاتا ہے، اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تجدید ایمان کرنی چاہیے۔

    پی ٹی آئی کور کمیٹی کے رکن مفتی محمد سعید خان نے کہا کہ عمران خان کا ریحام خان سے ایک ہی نکاح ہوا تھا جبکہ دوسری محض تقریب تھی تاکہ لوگوں کو دکھایا جاسکے۔

    عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں مفتی سعید نے کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہے۔عدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا۔

    مفتی سعید نے کہا کہ پہلے نکاح کے لیے عون چوہدری نے مجھے سے رابطہ کیا تھا اور جب لاہور روانہ ہوئے تو عمران خان کی گاڑی میں زلفی بخاری بھی موجود تھے۔ لاہور کے ایک بڑے اور شاندار گھر میں نکاح کی پہلی تقریب ہوئی جس میں بشریٰ بی بی کے اپنے بچے بھی شریک تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں دو تین لڑکیاں بھی موجود تھیں جنہوں نے بشریٰ بی بی کو اپنی بہن ظاہر کیا تھا اور نکاح نامہ بھرنے کے لیے انہوں نے تمام تفصیلات فراہم کیں کیونکہ بطور نکاح خواں جو بھی ضروری تفصیلات تھیں مثلاً کیا طلاق ہو چکی ہے، حق مہر کیا ہوگا اور عدت وغیرہ کا بھی پوچھا انہوں واضح طور پر بتایا کہ سب کچھ کلئیر ہے آپ بے فکررہیں تو ظاہر ہے مجھے ان کی باتوں پر ہی یقین کرنا تھا۔

    مفتی سعید نے کہا کہ اس موقع پر بشریٰ بی بی بھی وہاں موجود تھیں اور جن سے صرف اہم سوالات پوچھے تو انہوں نے جواب دیا، میں نے براہ راست بشریٰ بی بی سے بھی پوچھا کیا ان کی طلاق ہو چکی ہے، عدت بھی ہو چکی ہے اور کیا وہ آزادانہ طور پر یہ نکاح کر رہی ہیں اور حق مہر کے بارے میں بھی ان سے بات ہوئی انہوں نے بھی سب کچھ کلئیر کردیا۔

    حق مہر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مفتی سعید نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ زمان پارک کا گھر حق مہر میں دینا چاہتے ہیں جبکہ بشریٰ بی بی بنی گالہ کے سات کنال گھر کا مطالبہ کررہی تھیں، اگر عمران خان کو عدت کا علم تھا اور اس کے باوجود بھی نکاح کیا تو شدید گناہ کیا اور بشریٰ بی بی کو یقیناً اصل صورتحال کا علم تھا کیونکہ عورت چاہے جاہل ہی کیوں نہ ہو اس کو اپنی عدت کا علم ضرور ہوتا ہے اس لیے ان کی جانب سے غلط بیانی کی گئی اگر انہوں نے توبہ کر لی ہو تو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ورنہ بشریٰ بی بی کو تجدید ایمان کرنی چاہئیے تھی۔

    مفتی سعید نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے نکاح کے معاملے کو خفیہ رکھنے کا کہا گیا تھا لیکن خفیہ کیوں رکھا گیا اس کا مجھے معلوم نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مفتی سعید نے کہا کہ مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا۔ مفتی سعید نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا کہ فرح گوگی کو نہ کبھی دیکھا اور نہ ہی ان کا نام سنا۔ عمران خان کے نکاح کے گواہان ذلفی بخاری اور عون چوہدری تھے۔

  • گورنر نے الیکشن کمیشن کو خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دے دی

    گورنر نے الیکشن کمیشن کو خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دے دی

    پشاور: گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے الیکشن کمیشن کو صوبہ میں انتخابات کی تاریخ دے دی۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن کو اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صوبے میں اتنخابات کے انعقاد سے متعلق موصول ہونے والے خط کا جواب ارسال کردیا۔

    گورنر نے اس خط میں صوبے میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ الیکشن کمیشن کو دی اور الیکشن کمیشن کو شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا کہہ دیا۔
    واضح رہے کہ چند روز قبل گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا جس پر پی ٹی آئی نے صدر مملکت اور چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنے بیان میں حاجی غلام علی کا کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا میرا نہیں بلکہ کسی اور کام ہے۔

  • قومی اسمبلی اجلاس: شازیہ مری شہدا کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئی

    قومی اسمبلی اجلاس: شازیہ مری شہدا کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت اور پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ عطا مری شہدا کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔

    قومی اسمبلی کے سانحہ پشاور کے حوالے سے بلائے جانے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شازیہ عطا مری نے کہا کہ سانحہ پشاور کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، پاکستان آج بھی دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔ سیکیورٹی فورسز سمیت پوری قوم نے دہشت گردی میں بڑی قربانیاں دیں۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جس کو سب سے زیادہ دہشت گردی کا سامنا رہا، محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے قربانی دی، ہمارے کارکنان شہید ہوئے، ماضی قریب میں کہا گیا کہ اتنے ہزار لوگوں کو مل میں بسانا ہے، اس وقت کیا سمجھ نہیں آئی تھی کہ کن لوگوں کو بسانا ہے، ہمارے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں خطرہ نظر آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا، ملک کے لوگوں کو امن چاہئے اس کے لئے بیانیہ چاہیے۔
    اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد صرف اور صرف دہشت گرد ہے وہ کسی کا بھائی نہیں ہے، ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہوسکتی، یہ بیانیہ ہے اس کے اثرات کئی سالوں تک متاثر کرتے ہیں، ہم کیسے بھول جائیں، ضیاء الحق کے کرتوتوں کو بھگت رہے ہیں، اس قوم کو ضیا الحق کے نظریے نے تقسیم کیا، ہم نے 80 ہزار لوگ قربان کیے جسے ایک اسٹیٹمنٹ کے ذریعے اڑا دیا جاتا ہے۔

    شازیہ مری نے کہا کہ ’میں اسی ایوان میں تھی جب دہشتگردوں کو شہید کہا گیا، اس کا ایک ہی بیانیہ ہے وہ ہے نیشنل ایکشن پلان، جو اس سے انحراف کرے گا وہ ملکی بیانیہ سے انحراف کرے گا، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ کس طرح میں پشاور کے سوگواروں سے تعزیت کروں، پاکستانی قربانی دینا چاہتے ہیں مگر کب تک ؟ قاتل صرف اور صرف قاتل ہے وہ گڈ بیڈ نہیں ہوسکتا۔

    شازیہ مری اپنی تقریر کے دوران شہدا کا تذکرہ کرتے کرتے آبدیدہ ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ جس جماعت کو جس خاندان کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے اس پر جھوٹا، من گھڑت الزام لگا دیا جاتا ہے، اگر شکل اچھی نہ ہو تو کم از کم بات اچھی کرنی چاہیے، ایک شخص ملک میں انتشار چاہتا ہے، اس ملک کو استحکام کی ضرورت ہے مگر ایک شخص اپنے اسکینڈلز کی توجہ ہٹانے کے لیے بھونڈی حرکت کررہا ہے، ہم نے 80 ہزار قربانیاں دی ہیں، ہمیں چپ نہیں رہنا بلکہ ہمیں اب امن چاہیے کوئی ابہام نہیں ہے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، سیکیورٹی ہماری ریڈ لائن ہے، جو اس ملک میں دہشت گردی کرے گا وہ دہشت گرد ہوگا، جو سرپرستی کرے گا وہ بھی دہشت گرد ہوگا۔

  • پولیس لائن دھماکے کی ابتدائی رپورٹ نے سیکورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیئے

    پولیس لائن دھماکے کی ابتدائی رپورٹ نے سیکورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیئے

    پشاور: پولیس لائن دھماکے کی ابتدائی رپورٹ نے سیکورٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیئے۔

    پشاور پولیس لائن دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے

    رپورٹ کے مطابق خود کش حملہ آوور کو مسجد داخل ہوتے ہوئے چیک نہیں کیا گیا اور حملہ آوور پولیس وردی یا نمازی کے روپ میں آیا تھا۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق پولیس لائن میں انویسٹگیشن اہلکاروں کااجلاس جاری تھا اور اجلاس کے بعد اہلکار مسجد گئے، زیادہ تر تفتیشی اہلکار دھماکے کا نشانہ بنے۔

    رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش حملے کے شواہد ملے ہیں اور ملبہ ہٹانے کے بعد بارودی مواد کا پتہ چلایا جائے گا، سی ٹی ڈی نے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کرلی ہیں۔

    تحقیقات کرنے والی ٹیم کے مطابق پولیس لائن میں تمام اھلکاروں کی حاضری ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا، فیملی کوارٹرز میں رہائش پذیر افراد کی تفصیلات طلب کی گئی اور مہمانوں کے کوائف کی معلومات کی چھان بین جاری ہے۔

  • سعودی عرب؛ 4 روزہ مفت ٹرانزٹ ویزے پر عمرے اور سیاحت کی اجازت

    سعودی عرب؛ 4 روزہ مفت ٹرانزٹ ویزے پر عمرے اور سیاحت کی اجازت

    ریاض: سعودی عرب نے اسٹاپ اوور مسافروں کو 4 روز کے لیے عمرے یا سیاحت کے لیے مفت ٹرانزٹ ویزے پر داخل ہونے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سعودی میڈیا کے مطابق سیاحت کے فروغ اور زیادہ سے زیادہ افراد کو عمرے کی سعادت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے مفت ٹرانزٹ ویزا سروس شروع کی گئی ہے۔ یہ سہولت سعودیہ ایئر لائنز اور فلائناس کے اسٹاپ اوور مسافروں کو فراہم کی جائے گی۔

    یہ ٹرانزٹ ویزہ بالکل مفت فراہم کیا جائے گا جس کی میعاد 3 ماہ ہوگی۔ اس ویزے کے حامل اسٹاپ اوور مسافر 96 گھنٹے تک سعودی عرب میں قیام، طعام اور گھوم پھر بھی سکیں گے۔
    علاوہ ازیں ٹرانزٹ ویزے پر آنے والے اسٹاپ اوور زائرین کو اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے 24، 48، 72 اور 96 گھنٹے کے سفری پروگرام کی پیشکش کی گئی ہے۔

    وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معتمرین اور سیاحوں کے لیے مفت ٹرانزٹ ویزے کی فراہمی کا فیصلہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت کیا گیا ہے جس میں سعودی عرب کو سیاحت کے لیے بہترین مملکت بنانے کا عہد کیا گیا ہے۔

  • پاکستان میں کورونا وائرس کےنئے ویریئنٹ بی ایف سیون کی تصدیق

    پاکستان میں کورونا وائرس کےنئے ویریئنٹ بی ایف سیون کی تصدیق

    کراچی: پاکستان میں کورونا وائرس کی اس تبدیل شدہ قسم واقعہ رونما ہوا ہے جو اس سے قبل چین میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کرچکا ہے۔

    ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسِس سےوابستہ ماہرین نے کراچی میں کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ (جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس) کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔

    واضح رہے کہ اس کا نام بی ایف 7 رکھا گیا تھا جو پہلے ہی چین میں بڑے پیمانے پر متاثرکرچکا ہے اور اب بھی وہاں موجود ہے۔ ماہرین نے اس نئے ویریئنٹ کی جینیاتی سیکوئینسنگ کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح یہ پاکستان میں رونما یا پہنچنے والا بی ایف سیون کا پہلا کیس بھی ہے۔

    ڈاؤ یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر پروفیسر سعید خاں نے کہا ہے کہ ان کی جدید تجربہ گاہ میں نت نئے ویریئنٹ کی مسلسل سیکویئنسنگ کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں ہدایات دی گئی ہیں کہ تمام شہری کورونا سے وابستہ تمام حفاظتی اقدامات (ایس او پیز) کی پر عملدرآمد کرے۔

    ڈاکٹر سعید خان نے کہا کہ اس نئے تبدیل شدہ وائرس کے پھیلاؤ پر غور کرنا ہے۔ شہری سماجی فاصلے، ماسک لگانے اور بوسٹرڈوز سے خود کو محفوظ بناسکتےہیں۔ شہری اگر اپنے اندر علامات محسوس کریں تو خود کو فوری طور پر قرنطینہ کریں۔

  • سانحہ پشاور کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، کور کمانڈرز کانفرنس

    سانحہ پشاور کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، کور کمانڈرز کانفرنس

    راولپنڈی: آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں سانحہ پشاور کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے اور کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 255ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، شرکاء کو موجودہ اور ابھرتے ہوئے خطرات مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو توڑنے اور ان کے حمایتی میکنزم کے لیے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

    فورم نے پشاور پولیس لائن دھماکے کے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں کیفرکردار تک پہنچاجائے گا۔