Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 544 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • تین نوجوان بھائیوں کے قتل کا ملزم گرفتار، ڈکیتی سمیت کئی جرائم کا اعتراف

    تین نوجوان بھائیوں کے قتل کا ملزم گرفتار، ڈکیتی سمیت کئی جرائم کا اعتراف

    کراچی: رینجرز اور پولیس نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے مچھر کالونی میں چھاپا مار کارروائی کے دوران تین بھائیوں کے قتل میں ملوث ملزم اسد اللہ افغانی کو گرفتار کر لیا ۔

    ملزم کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا 9 ایم ایم پستول بمعہ ایمونیشن برآمد کر لیا گیا۔ ترجمان سندھ رینجرز کے اعلامیے کے مطابق 10 دسمبر 2022ء کو نیو کراچی گبول ٹاؤن ندی کے علاقے میں 3 بھائیوں 24 سالہ نذر محمد ، 26سالہ خیال محمد اور 25 سالہ سید محمد نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا ۔

    پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم کے 14 خول جب کہ ایک 30 بور پستول کا خول ملا تھا ۔واقعے کی ایف آئی آر تھانہ گبول ٹاؤن میں درج کرائی گئی تھی۔ بعد ازاں پاکستان رینجرز (سندھ) اور پولیس نے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم اسد اللہ افغانی کو مچھر کالونی سے گرفتار کر لیا ۔

    ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں میلاد شاہ افغانی ، صادق افغانی عرف قاری اور یاسین عرف آنکا کے ساتھ مل کر مذکورہ 3 افراد کو منشیات کے اڈے کے تنازع پر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزم نے ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں بھی ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

    ملزم نے جن وارداتوں کا اعتراف کیا ہے، ان میں 29 نومبر 2022 کو قیوم آباد سپر مارکیٹ ، سہراب گوٹھ میں دکاندار اور جمعہ خان افغانی کے گھر میں ڈکیتی بھی شامل ہے ۔ ڈکیتی کی ایف آئی آر تھانہ سہراب گوٹھ میں درج ہے ۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گرفتار ملزم کو بمعہ اسلحہ و ایمونیشن مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ۔

  • کیا گھر کے کام باقاعدہ ورزش کا متبادل ہیں؟

    کیا گھر کے کام باقاعدہ ورزش کا متبادل ہیں؟

    خواتین اپنی ذہنی اور نفسیاتی صحت کی اہمیت سے ناواقف ہونے کے علاوہ ’تن درستی‘ کے حوالے سے بھی بے پروائی کا شکار ہوتی ہیں، جب کہ خواتین جو نہ صرف ایک خاندان اور گھر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ جسمانی صحت اور فٹنس کا بھی خاص خیال رکھیں۔

    جسمانی طور پر فٹ رہنا صرف پروفیشنل زندگی کے لیے ہی نہیں، بلکہ روز مرہ زندگی اور اس کی خوشیوں سے لطف اندوز کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ خواتین جو صبح سے رات تک مختلف کاموں میں مصروف رہتی ہیں، دن میں چند منٹ کی باقاعدہ ورزش کو معمول بنا کراپنی صحت اور فٹنس کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں عام تصور ہے کہ ورزش صرف حضرات کی باڈی بلڈنگ کے عمل تک محدود اور ضروری ہے، جب کہ حقیقت کچھ مختلف ہے۔

    ورزش خواتین کے لیے بھی اتنی ہی ضروری اور مفید ہے، جتنی کہ حضرات کے لیے۔ یہ ضروری نہیں کہ حضرات کی طرح خواتین بھی ورزش کرنے کے لیے مختلف مشینوں یا باقاعدہ کسی جَم (Gym) کا سہارا لیں۔ خود کو فِٹ رکھنے کے لیے خواتین دن میں کچھ لمحے ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم اور ذہن کو چاق و چوبند اور توانا رکھ سکتی ہیں۔

    خواتین کے لیے خود کو جسمانی طور پر فٹ رکھنے اور ’ایکٹو‘ رکھنے کا ایک سب سے فائدہ یہ ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے والی خواتین کے بارے میں یہ رائے بدلنا پڑے گی کہ خواتین جمسانی طور پر کمزور ہوتی ہیں۔

    کیوں کہ مختلف قسم کی ورزش کے ذریعے وہ خود کو اتنا مضبوط کر لیتی ہیں کہ کسی بھی قسم کے حالات کا مقابلہ ذہنی اور جسمانی طور پر ڈٹ کر کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ خواتین کے لیے کچھ ایسی ’ایکسرسائز‘ بھی متعار ف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد کسی مشکل صورت حال میں اپنی حفاظت کرنا ہے، تاکہ خدانخواستہ کسی قسم کی ایسی مشکل سے نمٹنے کے لیے نہ صرف ذہنی، بلکہ جسمانی طور پر بھی وہ تیار ہوں اور کسی کی مدد کے بغیر اپنا دفاع کر سکیں۔

    خواتین کی اچھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، کیوں کہ یہ نہ صرف مجموعی صحت اور تن درستی کو یقینی بناتی ہیں، بلکہ ہمارے وزن کا توازن برقرار رکھنے، مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے اور اچھی دماغی صحت کو فروغ دینے میں مدد گار ہوتی ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق اچھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش ضروری ہے، لیکن ’جِم‘ یا ’ایکسرسائز‘ کو باقاعدگی سے اپنا معمول بنانے کے لیے خواتین کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، ان میں گھریلو ذمہ داریوں اور وقت کی کمی کے علاوہ رجحان اور تحریک ملنے جیسے دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔

    بہت سی خواتین بچوں کی پرورش، گھریلو ذمہ داریوں اورنوکری وغیرہ میں مصروف ہوتی ہیں، اور اپنے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ لیکن خود کو فٹ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی موقع ملے ورزش کرنے کی کوشش کیجیے۔

    دن میں ورزش کے لیے 10 منٹ کے تین ’دور‘ سے بھی صحت کے لیے وہی فوائد حاصل ہوں گے، جو 30 منٹ کے مسلسل ’دور‘ سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے بچوں کے ساتھ ایکٹویٹیز جیسا کہ سودا لینے کے لیے دکان جانا یا بچوں کے ساتھ پارک میں کھیلنا ایکٹو اور فِٹ رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔

    اس ہی طرح بہت سی خواتین مختلف گھریلو ذمہ داریوں کے مصروف رہنے کے باعث فٹنس یا جِم جانے لیے وقت نہیں نکال پاتیں اس کے لیے فیملی یا دوستوں میں کسی کی مدد لی جا سکتی ہے۔ فٹنس ٹائم میں اپنے بچوں کو دیکھ بھال کے لیے کسی قابل اعتماد قریبی رشتہ دار یا دوست کے گھر چھوڑا جا سکتا ہے۔

    پیشہ وارانہ امور یا دن بھر گھر کی ذمہ داریوں کے بعد خواتین تھک جانے کے باعث بھی ورزش کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ نہیں بنا پاتیں، لیکن باقاعدگی سے ورزش خواتین کوروزمرہ کی زندگی کے تقاضوں سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے۔

    اگر خواتین دیر تک ورزش کرنے کے بہ جائے تسلسل کے ساتھ روز کچھ منٹس کی ورزش پہلے چند ہفتوں کے دوران ہی تھکاوٹ کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    خواتین کو صحت کے دیگر مسائل کی وجہ سے بھی باقاعدگی کے ساتھ ورزش کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنے ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ایسی ورزش کا انتخاب کریں، جو ان کی بیماری کم یا دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں، جیسا کہ باقاعدگی کے ساتھ صبح کی واک سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

    ورزش یا ’ایکسرسائز‘ سے متعلق ایک رجحان یہ بھی ہے کہ ان کے لیے مہنگے ’جِم‘ جانا ضروری ہے، جب کہ ورزش کی بہترین شکل تیز تیز چلنا بھی ہے۔ باقاعدگی سے واک خواتین کو ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ رکھنے میں بہترین مددگار ہوتی ہے۔

    ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ خواتین کو اگر اپنا وزن کم کرنا ہے یا جسمانی طور پر فٹ لگنا ہے، تو بس سارا دن گھر کے کاموں مثلاً جھاڑو پونچھا، کپڑے دھونا وغیرہ جیسے کاموں میں مصروف رہیں، اس طرح جسم کی خود بہ خود ورزش ہو جائے گی، جو کہ بالکل ایک غط تصور ہے۔

    کیوں کہ ورزش ایک ایسا باقاعدہ عمل ہے، جس میں انسان دنیا کی تمام فکروں اور پریشانیوں کو دماغ سے نکال کر صرف اپنی جسمانی صحت کے لیے یک سو ہوتا ہے۔ ورزش کے وقت اگر خواتین دن بھر کے مسائل مسئلے اور کاموں کی فکر چھوڑ کر صرف ’ایکسرسائز‘ پر توجہ دیں، تو یہ اب کی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

    لہٰذا ورزش کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان مسائل کی نشاندہی کی جائے، جو کہ ورزش کرنے میں رکاوٹ بننے کا سبب بن رہے ہوں اور پھر ان کے ممکنہ حل کے بارے میں بھی سوچیں۔ جیسا کہ وقت کی کمی یا پھر اس بات کو سمجھنا کہ دوسرے جتنے کام اہم ہیں، خواتین کا ورزش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے معمولات کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیوں کا انتخاب کریں، جس سے خود بھی لطف اندوز ہوں اور جسمانی طور پر بھی ’پرسکون‘ ہو سکیں۔ ساتھ ہی اپنی ڈائری لکھیں اور قابل حصول اہداف طے کریں، خود کو ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ والی ذہنیت کا شکار نہ ہونے دیں۔

    اگر آپ اس وقت فی ہفتہ صرف ایک یا دو ورزشی ’دور‘ کے لیے وقت نکال سکتی ہیں، تو بھی یہ آپ کی بڑی کام یابی ہے، کیوں کہ تھوڑی دیر کی گئی ورزش کچھ مدد گار ضرور ثابت ہوگی اور کچھ دیر ورزش بالکل بھی ورزش نہ کرنے سے نمایاں طور پر بہتر ہے۔

  • ’’میں نے تو ایسی عورت  سے شادی نہیں کی تھی!‘‘

    ’’میں نے تو ایسی عورت سے شادی نہیں کی تھی!‘‘

    کتنا بھدا اور بدنما ہو جاتا ہے عورت کا جسم ماں بننے کے بعد۔۔۔ سو درد اٹھانے کے بعد بھی اپنے اس بے ڈھنگے دکھائی دینے والے سراپے پر نظر اس وقت تک جاتی ہی نہیں، جب تک ننھے منے اور بھینی بھینی سی خوش بو والے نرم نازک وجود سے گود گرم رہتی ہے۔ پھر اس میں ہی گم رہنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، آرام اور چین کو بھول کر اسی وجود کو کسی ننھی کونپل کی طرح سینچنا اور اس کی مکمل نگہ داشت کرنا۔

    اسے بچپن سے ہی صاف ستھرا رہنے کا شوق تھا، اکلوتی بیٹی تھی تو والدین ناز بھی خوب اٹھائے، بھائی بھی ہاتھ کا چھالا بناکر رکھنے والے، ماں بچپن سے اسے خوب سجا سنوار کر رکھتیں، پاوڈر چھڑک کر، شیمپو کیے ہوئے بال، نت نئی فراک پہن کر وہ شہزادیوں کی آن بان سے رہا کرتی۔

    سجنے سنورنے کی یہ عادت بچپن سے جوانی تک پختہ ہوگئی، روپے پیسے کی فراوانی نہ تھی، پھر اس کا ذوق بھی خوب تھا، گرمیوں میں ہلکے رنگوں کے لان کے جوڑے تو سردیوں میں جینز، کوٹ اور گہرے رنگوں کے اونی سوئٹر پہننا اسے بے حد پسند تھا۔

    بالوں کی جدید تراش خراش اور باقاعدگی سے جلد کا خیال رکھنا اس کے معمولات میں شامل تھا۔ نازک نازک سے ہاتھ پاؤں اور ان کی صفائی ستھرائی کا دھیان عجیب بھلا سا تاثر دیتا تھا، اس کی شخصیت کو، پھر اس پر وہ خوشبوؤں کی دل داہ، مہنگے پرفیوموں کا ایک ڈھیر تھا۔

    اس کی دل فریب اور اجلی و نکھری شخصیت لوگوں کو متوجہ کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جس محفل میں بھی جاتی اس کا رشتہ آجاتا۔ وہاج نے بھی اسے ایک ’میلاد‘ کی تقریب میں دیکھا، تو اس کی متاثر کن شخصیت دیکھ کر دل ہار بیٹھا۔ ہلکے گلابی کام دانی کے سوٹ میں چاندی کے آویزے پہنے گلابی نیل پالش سے سجے نازک ہاتھ، سیاہ سلکی زلفیں اور اس کے قرین سے آتی مسحور کن خوش بو۔۔۔ وہاج کو وہ اتنی بھاگئی کہ اسے اپنی دلہن بنا کر ہی دم لیا۔

    شادی کے اولین دنوں میں نت نئے جوڑے اور زیور پہن کر وہ سجی سنوری رہا کرتی، وہاج تو دیوانہ تھا اس روپ کا لہذا خوب ناز نخرے اٹھایا کرتا۔ پھر شادی کے پہلے سال ’خوش خبری‘ کی نوید ملی، تو ان دنوں طبعیت کی خرابی، نقاہت کی وجہ سے اس کی خود پر توجہ کم ہونے لگی۔

    وہاج دفتر سے آتا، تو وہ نڈھال سی ملگجے لباس میں بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ ملتی۔ وزن بھی اس کا کافی بڑھ گیا تھا۔ اس حلیے میں دیکھ کر وہاج اس سے بیزار ہونے لگا۔ اسے تو پلاسٹک کی گڑیا کی مانند نک سک سی درست تراشی ہوئی بیوی کی یاد ستاتی۔

    بیٹے کی پیدائش کے بعد وہاج خوشی میں اس کا پھیلا ہوا سراپا وقتی طور پر بھلا بیٹھا، تو اس نے بھی سُکھ کا سانس لیا۔ بچے کے ساتھ اس کے کام بڑھ گئے، اس لیے خود پر توجہ بھی کم ہوتی ہی چلی گئی۔ پرانے سارے کپڑے اس کے تنگ ہوگئے۔

    تو سادہ سے ڈھیلے ڈھالے لباس سلوالیے۔ بچے کی پیدائش کے بعد سے سر کے بال جو گرنا شروع ہوئے، تو حال یہ ہوا کہ چوٹی آدھی رہ گئی۔ راتوں کو جاگ جاگ کر گہرے حلقے اور بیوٹی پارلر تو وہ بھول ہی بیٹھی تھی۔

    اس کے سال بھر بعد ہی وہ ایک بیٹی کی بھی ماں بن گئی۔ اب تو اس کے حالات مزید سخت ہوگئے۔ وہاج تو ہر بات پر اس کے مُٹاپے کو نشانہ بناتا۔ بچوں کا رونا اسے برا لگا کرتا۔ کھانا پکنے میں دیر ہو جاتی، تو بھی وہ قصور وار ٹھہرتی۔ نتیجہ میں وہ کڑھ کڑھ اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی تھی۔

    وہ اولاد کو پاکر اپنے سراپے اور جوانی کی درگت بھلا بیٹھی تھی، ساری تکلیفیں جو اس نے زچگی میں سہیں، یاد بھی نہیں تھیں، لیکن جس کی اولاد کو اس نے اپنا خون دیا۔ پال ہوس رہی تھی، اس شخص سے اس کی ڈھلتی خوب صورتی برداشت نہیں ہورہی تھی۔

    پھر آج تو حد ہی ہوگئی ان کی تین ماہ کی بیٹی صبح سے قے کررہی تھی اور وہ اس کے کپڑے تبدیل کروا کر اور بیڈ شیٹس تبدیل کر کے تھک چکی تھی اور جب اپنے اسی مسلے ہوئے حلیے اور قے کی بساند والے کپڑوں میں وہاج کو شام کی چائے پیش کی تو وہ سلگ اٹھا اور اس کے کانوں میں زہر انڈیلتا چلا گیا۔

    کیسی لوتھڑے نما عورت ہوگئی ہو، ہر وقت دودھ کی بو مہکتی ہے، بال تو دیکھو سب جھڑ گئے۔ وہ والی عورت تم لگتی نہیں جس سے شادی کی تھی۔

    یہ تو کوئی بے ڈھنگے وجود والی بھدی سی عورت ہے، تو اس لمحے اس چربی سے ڈھکے وجود میں اس کا نازک سا دل ٹوٹ گیا اور جی کیا کہ ایک ایک لمحہ اور ایک ایک اذیت کا حساب وہاج کو سنایا جائے، جس سے یہ ناواقف ہے۔ لیکن اس کا فائدہ کیا ہوگا اگر اسے احساس ہوتا تو اس کی سوچ مختلف ہوتی۔

    اگر اسے بات کی تربیت ملی ہوتی کہ قربانی سب سے بڑی خوبی ہے۔ جسم ، جوانی تو ڈھل ہی جانی ہے، لیکن اصل دولت تو یہ خدا کی عطا کردہ صحت اور اولاد ہے۔

    کوشش کیجیے کہ کم از کم اپنے بیٹوں کو یہ ضرور سکھا سکیں کہ خوب صورت اور دل کش جسم سے زیادہ وہ بے ڈھب سراپہ ہے جس کے وجود میں صرف تمہاری اولاد کی محبت اور پرواہ ہے اس سے زیادہ پیارا وجود کوئی اور نہیں ہو سکتا، جو اپنے خون سے سینچ کر تمہاری نسل کو بقا دیتی ہے۔

  • عاطف اسلم کا گانا گانے پر مداحوں نے کیلاش کھیر پر بوتلیں برسا دیں

    عاطف اسلم کا گانا گانے پر مداحوں نے کیلاش کھیر پر بوتلیں برسا دیں

    کرناٹک: بھارتی مشہور گلوکار کیلاش کھیر پر کنسرٹ کے دوران تماشائیوں نے حملہ کر دیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطا بق کیلاش کھیر پر ریاست کرناٹک کےعلاقے ہیمپی میں کنسرٹ کے دوران تماشائیوں نے بوتلیں پھینک دیں تاہم گلوکار اس حملے میں محفوظ رہے۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گلوکار پر حملہ کناڈا زبان کے بجائے ہندی زبان میں عاطف اسلم کا گانا ’توجانے نہ‘ سمیت دیگر ہندی گانوں پر پرفارم کرنے پر کیا گیا، تماشائیوں کا مطالبہ تھا کہ کیلاش کھیر صرف کناڈا زبان میں ہی گلوکاری کریں۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیلاش کھیر پر پرفارمنس کے دوران پانی کی بوتلیں پھینکی گئیں تاہم گلوکار نے تماشائیوں کی اس حرکت کو نظر انداز کرتے ہوئے گانا جاری رکھا۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ واقعے پر ایکشن لیتے ہوئے کیلاش کھیر پر حملہ کرنے والے تماشائیوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

  • قراقرم ایکسپریس کو بھی گرین لائن کی طرز پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت

    قراقرم ایکسپریس کو بھی گرین لائن کی طرز پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت

    لاہور: وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے قراقرم ایکسپریس کو بھی گرین لائن کی طرز پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کردی۔

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے قراقرم ایکسپریس کو بھی گرین لائن کی طرز پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کردی۔

    لاہور میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں گرین لائن میں سروس اور سہولیات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں نئی کوچز میں فون نمبرز لکھنے، اسکریچز لگانے، کچرا پھینکنے کی شکایات اور ٹرین کو نقصان پہنچانے پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    خواجہ سعد رفیق نے قراقرم ایکسپریس کو بھی گرین لائن کی طرز پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ باقی ٹرینوں کو بھی بتدریج اپ گریڈ کیا جائے گا۔

    اجلاس میں ریلوے لینڈ پر قائم دکانوں کی آکشن پر بریفنگ اور پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کی گئی، فیول پرائس میں اضافے کے ریلوے کی آپریشنل کاسٹ پر اثرات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ علاوہ ازیں تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔

  • توشہ خانہ کیس ؛عمران خان پرفرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    توشہ خانہ کیس ؛عمران خان پرفرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کیس میں عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس میں فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت کی۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیجا تھا۔

    عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان پر فرد جرم آئندہ سماعت میں 7 فروری کوعائد کی جائے گی۔

    عدالت نے عمران کو ذاتی پیش ہونے کا حکم دے دیا ۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کی عدم حاضری پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔عدالت نے عمران خان کو 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

    توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں عدالت نے آج عمران خان کو طلب کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی۔

    عدالت نے وکیل علی بخاری سے استفسار کیا کہ عمران خان کا وکالت نامہ کدھر ہے جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ وکالت نامہ اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک عمران خان خود نا آئیں۔

    وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ سماعت پر عمران خان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا۔ عدالت نے وکیل کو آج وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی۔ وکیل کا موقف تھا کہ جب تک شورٹی بانڈز نہیں آ جاتے تب تک یہ وکالت نامہ نہیں دے سکتے۔

  • خانیوال میں آئی ایس آئی افسران کو شہید کرنے والا دہشت گرد ہلاک

    خانیوال میں آئی ایس آئی افسران کو شہید کرنے والا دہشت گرد ہلاک

    خانیوال میں آئی ایس آئی کے دو افسران کو شہید کرنے والا دہشت گرد سیکورٹی اداروں کی کارروائی میں ہلاک ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق عمر نیازی نامی دہشت گرد نے 3 جنوری 2023 کو حساس ادارے کے ڈائریکٹر نوید صادق اور انسپکٹر ناصر عباس کو خانیوال میں فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔

    حکام نے بتایا کہ کرم ایجنسی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کاروائی کی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے عمر نیازی کو افغانستان فرار ہونے سے پہلے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس دوران وہ زخمی ہوگیا تاہم وہ بعد میں ہلاک ہوگیا۔
    شہید ڈائریکٹر نوید آئی ایس آئی سی ٹی ڈویژن میں تقریباً 18 سالہ تجربہ رکھتے تھے۔ ڈائریکٹر نوید اور انسپکٹر ناصر نے پاکستان میں درجنوں بدنام زمانہ دہشتگردوں کی ہلاکت اور گرفتاری میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

  • شام ادریس کا اپنی اہلیہ سحر سے شادی میں وقفہ لینے کا اعلان

    شام ادریس کا اپنی اہلیہ سحر سے شادی میں وقفہ لینے کا اعلان

    لاہور: مشہور ولاگر اور یوٹیوبر شام ادریس نے اپنی اہلیہ سحر (فروغی) سے کچھ عرصے کے لئے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

    ادریس اور سحر 2018 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور مارچ 2020 میں ان کے ہاں ایک بچی کی پیدائش ہوئی تھی۔

    انسٹاگرام کی پوسٹ میں شام ادریس نے لکھا کہ میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ فروغی اور میں اپنے رشتے میں وقفہ لے رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ مجھے فروغی اور رابیل سے متعلق مسائل میں ملوث نہ کیا جائے اور اس مشکل وقت میں پرائیویسی کا خیال رکھا جائے۔

  • پاسپورٹ کی فیس میں اضافے سے متعلق خبریں بے بنیاد قرار

    پاسپورٹ کی فیس میں اضافے سے متعلق خبریں بے بنیاد قرار

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے پاسپورٹ کی فیس میں اضافے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

    وزارت داخلہ نے کہا کہ پاسپورٹ کی فیسوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، سوشل میڈیا پرمشین ریڈ ایبل پاسپورٹ فیس میں اضافے کے حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

    ترجمان وزارت داخلہ نے بتایا کہ مشین ریڈ ایبل پاسپوٹ کی فیسوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، وفاقی حکومت نے پاکستانی شہریوں کیلئے ای پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ای پاسپورٹ سہولت کا اجرا فی الحال نہیں کیا گیا ہے۔

  • اردو زبان بولنے پر طالبعلم کے ساتھ بدسلوکی؛ اسکول کی رجسٹریشن معطل، جرمانہ عائد

    اردو زبان بولنے پر طالبعلم کے ساتھ بدسلوکی؛ اسکول کی رجسٹریشن معطل، جرمانہ عائد

    کراچی: صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی ہدایت پر کراچی کے نجی اسکول میں اُردو زبان بولنے والے طالب علم کے ساتھ بدسلوکی پر ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکولز نے اسکول کی رجسٹریشن معطل کردی اور بد سلوکی کرنے والی ٹیچر کو فارغ کروادیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم و ثقافت سندھ سید سردار شاہ نے نارتھ ناظم آباد بلاک جے میں قائم سویلائزیشن اسکول میں بچے کے ساتھ بد سلوکی اور سزا دینے پر واقعے کا نوٹس لے کر انکوائری کے احکامات جاری کیے تھے۔

    نجی اسکولوں کے ڈائریکٹوریٹ کی پانچ رکنی کمیٹی نے انکوائری کے بعد رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد انہوں نے نجی اسکول کی رجسٹریشن معطل کردی اور اسکول پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔ کمیٹی کی جانب سے اسکول پرنسپل اور والدین کے بیان قلم بند کیے گئے۔

    وزیر تعلیم سردار شاہ نے اس حوالے سے کہا کہ سیکھنے کے عمل میں مادری زبانیں بولنے پر کسی بھی بچے پر جبر نہیں کیا جا سکتا مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا صوبے کے بچوں کا قانونی حق ہے۔

    اس حوالے سے ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز سویلائزیشن پبلک اسکول سبطین نقوی نے اپنے وضاحتی بیان میں بتایا کہ 27 جنوری کو پیش آنے والا واقعہ ہمارے فلسفے اور سوچ کے خلاف ہے، واقعے کی مرتکب خاتون ٹیچر کا استعفی منظور کر لیا گیا ہے وہ اب اسکول کا حصہ نہیں ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سویلائزیشن اسکول اردو کی ترویج میں اپنا واضح کردار ادا کرتا رہا ہے اسکول ماضی میں نامور شعرا کے مشاعرے بھی منعقد کرچکا ہے جس میں افتخار عارف، فہمیدہ ریاض، امجد اسلام امجد جیسے شعرا مشاعروں میں شریک ہوئے ہیں سویلائزیشن اسکول کسی صورت انگریزی کو اردو پر ترجیح نہیں دیتا۔