Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 575 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • لاہور میں ملازم نے مالک کو ڈنڈے مار کر قتل کر دیا

    لاہور میں ملازم نے مالک کو ڈنڈے مار کر قتل کر دیا

    لاہور: پنجاب کے علاقے مناواں میں ملازم نے مالک کو ڈنڈے کے وار سے قتل کردیا۔

    پولیس کے مطابق مناواں کے علاقے مرل ماڑی میں ملازم رانجھا کو کسی بات پر رنج تھا جس کی وجہ سے اس نے مالک عابد کو ڈنڈے کے وار سے قتل کیا، ملازم رانجھا مقتول عابد کی حویلی میں جانوروں کو چارہ ڈالنے کا کام کرتا تھا۔

    ملازم رانجھا نقدی، موٹر سائیکل اور موبائل فون لے کر موقع سے فرار ہوگیا۔
    پولیس اور فرانزک ٹیم کی مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہے، ایدھی رضاکاروں نے تحقیقاتی اداروں کی کارروائی کے بعد لاش مردہ خانے منتقل کر دی۔
    دوسری جانب سی سی پی او لاہور کا واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایس پی کینٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔

    سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ اور شواہد کی مدد سے موت کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا، موت کی وجہ تشدد ثابت ہونے پر ملزم کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • موجودہ ملکی حالات کے ذمہ دار سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ ہیں، شاہد خاقان

    موجودہ ملکی حالات کے ذمہ دار سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ ہیں، شاہد خاقان

    کوئٹہ: مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمارے سیاسی نظام میں وہ صلاحیت نہیں کہ عوام کے مسائل حل کرے، ملک جن مسائل کا شکار ہے ان حالات کے سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ سب ذمہ دار ہیں۔

    یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں مفتاح اسماعیل، نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی اور مصطفی نواز کھوکھر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارے سیاسی نظام میں وہ صلاحیت نہیں کہ عوام کے مسائل حل کرے، آج سیاست اصل میں انتقام، گالیاں دینے اور ایک دوسرے کی بے عزتی کرنے کا نام ہے، ہماری کوشش ہے کہ ایسے غیر سیاسی فورم پر ان مسائل کا حل عوام کے سامنے رکھا جائے، معاشی بدحالی اور سیاسی کشمکش میں یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔
    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ معیشت کے لیے کوئی معجزاتی حل نہیں، ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ان حالات کے سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ سب ذمہ دار ہیں، میں یہاں اپنی جماعت اور حکومت کا دفاع کرنے نہیں آیا لیکن پچھلے بیس سال کی خرابیوں کا ازالہ 8 ماہ میں ممکن نہیں۔

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کو 21 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنے ہیں۔

    نواب زادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ ہم نے کوشش کرکے بلوچستان کے مسائل کو پاکستان کی سیاسی قیادت کے سامنے پیش کیا، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گوادر میں مولانا ہدایت الرحمن اور دیگر اسیروں کو رہا کرکے کیسز ختم کیے جائیں۔

  • درخت ہیں، تو ہم ہیں

    درخت ہیں، تو ہم ہیں

    بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور کلائمیٹ چینج کے نہایت واضح خطرات کے تحت، پاکستان میں اس وقت شجرکاری کی شدید ضرورت ہے تاکہ سبزے کا دائرہ وسیع کیا جاسکے۔ دوسری جانب غیرسرکاری تنظیمیں حسبِ استطاعت اپنا اپنا کردار ادا کررہی ہیں، تاہم اس میں بعض افراد ایسے ہیں جنہوں نے کسی ستائش و صلے سے بے نیاز ہوکر نہ صرف شجرکاری کو اپنا مشن بنایا ہے بلکہ وطن کو سبز پیرہن دینے میں اپنی ہر ممکن جستجو کررہے ہیں۔

    ان میں سے ایک شخصیت خضرولی چشتی کی ہے، جنہوں نے اپنی جسمانی مشکلات اور حدود کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خود کو ’سبز ہیرو‘ ثابت کیا ہے۔

    خضرولی چشتی کی عمر مشکل سے دو تین برس تھی کہ ان میں پولیو کا انکشاف ہوا اوران کی نقل وحرکت محدود ہوکر رہ گئی۔ انہوں نے تمام مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم ایم ایس سی تک مکمل کی۔ یہاں تک کہ شجرکاری کے لیے اپنا لیپ ٹاپ تک فروخت کردیا تھا۔

    خضر ولی کا ابتدائی بچپن یا تو ایک جگہ بیٹھے گزرا یا وہ دوڑتے بھاگتے اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر چاروں ہاتھ پاؤں پر چلنے کی سعی کرتے رہے اور یہ سلسلہ دس برس کی عمر تک جاری رہا۔ اس دوران ان کے آنگن میں نیم کے درخت سے ان کی دوستی ہوئی کیونکہ دونوں ہی ایک جگہ رہنے پر مجبور تھے۔ ضلع پاک پتن کے گاؤں چشتیاں میں پیدا ہونے والے خضر ولی نے دیہات کے ماحول میں پودوں، پھولوں، تتلیوں اور پرندوں کو دیکھا اور انہیں محسوس کیا۔ یہاں انہیں اشجار سے خاص لگاؤ ہوگیا۔ پھر وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگے اور تدریس مکمل کی، یہاں تک کہ خواجہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کیا۔

    جغرافیہ میں درختوں کی اہمیت، ماحولیات اور کلائمیٹ چینج سے تعارف پر انہوں نے 2014 میں پیڑ پودے لگانے شروع کیے۔ اپنے پیسوں سے خرید کر شجرکاری کے دوران بھی اس کی ابتدائی معلومات نہ تھیں اور تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس طرح رقم، محنت اور وقت بھی ضائع ہوا کیونکہ زیادہ تر پودے مرجھا جاتے تھے۔

    2017 میں خضرولی چشتی نے پاکستان میں ذاتی ملکیت میں پودوں کی فری نرسری قائم کی جو آج بھی لوگوں میں بیج، قلمیں اور نمویافتہ پودے تقسیم کرتی ہے۔ اس طرح ایک ٹرے میں مورینگا کے چھ پودوں سے شروع ہونے والے سفر پھلتا پھولتا رہا اور اب اس نرسری میں سالانہ 50 ہزار پودے تیار ہوسکتے ہیں۔ پودوں میں معیاری اور مقامی پودوں اور درختوں کو ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

    2020 میں خضرولی چشتی کی سالگرہ پر آسٹریلیا میں مقیم ان کے دوستوں نے ان کے نام پر میاواکی فاریسٹ لگایا جو ان کے لیے ایک اعزاز بھی ہے۔ اس کے بعد مزید ایوارڈز اور اعزازات ملے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

    2021 کے ماہِ اکتوبر میں خضرولی چشتی نے میلہ اشجار (ٹری فیسٹول) کا انعقاد کیا جس میں بچوں اور بڑوں کو باغبانی، کچن گارڈننگ، ماحولیات شعور، پودوں کی تقسیم اور دیگر امور سے آگاہی دی گئی۔ اگرچہ وہ اب تک ایک لاکھ سے زائد درخت لگا چکے ہیں لیکن ان کا ہدف ہے کہ جب تک زندگی وفا کرے وہ ایک کروڑ اشجار کا ہدف پورا کرسکیں۔

    ’میرا مشن ہے کہ 2023 میں 50 ہزار پودوں کی شجرکاری کروں۔ اس سال میں پاکستان کے 100 شہروں کا وزٹ کرکے پودے لگانے کا خواہشمند ہوں۔ اس میں لوگوں کو ماحولیاتی شعور دینے کے ساتھ ساتھ مزید 50 ہزار پودے لگانے کا بھی ارادرہ رکھتا ہوں‘ انہوں نے بتایا۔

    خضرولی کو حوصلہ شکن رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، انہیں برے ناموں سے پکارا گیا اور کہا گیا کہ وہ زندگی میں کچھ نہیں کرسکتے۔ کسی نے ان کے والدین سے کہا کہ یہ تو اسپیشل بچہ ہے جسے درزی وغیرہ کا کام سکھانا ہی مفید ہوگا۔ لیکن بیساکھیوں پر ہونے کے باوجود اب تک وہ لاکھ سے زائد درخت اپنے پیروں پر کھڑے کرچکے ہیں۔ یہاں تک کہ دیگرنووارد رضاکار اب ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔

    حال ہی میں انہوں نے اپنا پہلا میاواکی فاریسٹ بنایا ہے اور جلد ہی ایک ایکڑ پر میاواکی فاریسٹ اگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • عوام کے کندھوں پر سیاسی بساط

    عوام کے کندھوں پر سیاسی بساط

    ’بال بلوڑے شے گِھدی ونجو‘‘ (بال بچوں چیز لے جاؤ)۔

    بچپن میں یہ آواز سنتے تھے تو اسی جانب دوڑ لگا لیتے تھے جہاں سے یہ آواز آرہی ہوتی تھی۔ روایت تھی کہ مغرب ہونے سے پہلے محلے میں کوئی چینی والی روٹی تو کوئی ٹافیاں بانٹتا تھا، اسے باعث برکت سمجھا جاتا تھا۔

    بڑے ہوئے تو آہستہ آہستہ یہ آوازیں مدھم ہوتی چلی گئیں لیکن بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا، انہوں نے یہ روایت تاحال قائم رکھی ہوئی۔ اب بھی صدائیں آتی ہیں، کہیں ’نیا پاکستان‘ بنانے کی ٹافی بٹتی ہے تو کہیں بہترین انتظامی امور کے دعویدار چوپڑیاں بانٹتے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے بتاشے بانٹ رہے ہیں۔ عوام میٹھا کھانے کے شوق میں ہجوم بنے اسی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں جہاں سے مٹھائی کھلائے جانے کا بلاوا آتا ہے۔

    75 سال سے اقتدار کےلیے لڑتے مرتے عوامی نمائندوں کا ٹافیوں، بتاشوں کے لالچ میں عوام کو کچل کر ذاتی مفادات کی رسہ کشی کا کھیل جاری ہے۔ اس لالچ کو عوامی مفاد کا ٹیگ لگا کر بڑی ہوشیاری سے بیچا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان پچھہتر برسوں میں شطرنج کی بازی چاہے کوئی بھی جیتا ہو، کیا اس سے عوام کے مسائل کم ہوئے؟ بنیادی ضروریات، جس میں عزت سے دو وقت کی روٹی، سستی اور معیاری تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتیں عوام تک پہنچائی گئیں؟ یقیناً جواب ہوگا نہیں۔ اور اس کی وجہ بھی مجبوری کے ریپر میں بوندی بنا کر اپنے اپنے ہجوم میں بانٹ دی جاتی ہے۔ کسی کو مدت پوری نہیں کرنے دی تو کسی کے دور حکومت میں پچھلی حکومتوں کی بری کارکردگی کے رونے دھونے ہی تمام نہ ہوئے اور کسی نے سارا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دیا، حالانکہ لانے پر اسی اسٹیبلشمنٹ کے چرن بھی چومنے والے یہی تھے۔

    عوام کے کندھوں پر شطرنج کی بساط سجانے والے اپنے اپنے کھیل میں مگن ہیں، نہ کسی کو احساس ہے کہ زرعی ملک میں آٹا نایاب ہوچکا ہے اور نہ کسی کو فکر ہے کہ آٹے دال کا بھاؤ کیا ہے۔ عوام کےلیے ہر گزرتا دن مشکل تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ کھیل اتنا مزیدار ہے کہ اس کے نشے میں مدہوش و مشغول کھلاڑی میرپورخاص کے گلشی کولہی کو بھی بھول گئے۔ وہی گلشی جو بچوں کی بھوک مٹانے سستا آٹا لینے گیا، جسے پانچ کلو آٹا تو مل گیا لیکن بدلے میں سانسیں چھین لی گئیں۔ بچے یتیم ہوگئے، لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔ کھیل تو ابھی بھی جاری ہے۔ انا اور ضد کی آگ ہے جس میں آئے روز کوئی نہ کوئی اپنے حصے کا ایندھن جھونک رہا ہے۔

    دو بڑے صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل ہوگئیں، مرکز میں بغیر اپوزیشن کے ڈمی سیٹ اپ لگا دیا گیا ہے جہاں آئے روز وزیروں مشیروں کی بھرتیاں جاری ہیں۔ ایک طرف پی ڈی ایم دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر سیاسی بحران کو حل کرنا چاہتی ہے مگر پاکستان تحریک انصاف تیار نہیں۔ اب جب پی ٹی آئی نے حامی بھری تو دس مہینوں سے اسپیکر کی دراز میں رکھے استعفے اچانک منظور کرلیے گئے اور ممبران کو فوری طور پر ڈی نوٹیفائی بھی کروا دیا گیا۔ نہ لفظوں کا مان رہا، نہ اپنے پارلیمانی عہدوں سے ایمانداری جیسا کوئی اصول دکھائی دیتا ہے۔

    ایک طرف دوست ممالک سے امداد مانگی جارہی ہے اور دوسری طرف تحلیل کی گئی اسمبلیوں میں دوبارہ انتخابات کی بازگشت ہے۔ جبکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ انتخابات کےلیے وسائل ناگزیر ہوتے ہیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب معاشی حالات سازگار نہیں تو تین چار سو حلقوں میں انتخابات کرانے کےلیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ لیکن عوام کے سامنے خالی خزانے کا ماتم جاری ہے۔ اس غیر یقینی کی صورتحال نے معاشی ڈھانچے کی گلی سڑی ہڈیاں بھی توڑنی مروڑنی شروع کردی ہیں۔

    اسٹاک ایکسچینج میں مندی ہی مندی ہے، ڈالر ہاتھ نہیں آرہا، سرمایہ دار بھاگنے پر تلا بیٹھا ہے، اسٹیٹ بینک میں پڑا پیسہ صفر گھٹا رہا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ کر پردیس میں نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں، برآمدات میں خسارہ ہی خسارہ ہے لیکن سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرنے والے ٹس سے مس ہی نہیں ہورہے۔

    دوسری جانب اسمبلیوں سے محروم صوبوں میں نگران سیٹ اپ کےلیے بھی ’’تو تو، میں میں‘‘ شروع ہے۔ سب کو اپنا بندہ لانا ہے، یہ دیکھے بنا کہ وہ وزرات اعلیٰ کےلیے اہل بھی ہے یا نہیں۔ کیونکہ دونوں جانب سے دیے گئے ناموں میں سے کوئی قانوناً، تو کوئی اخلاقاً ملزم ہے۔ جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو جماعت اقتدار میں ہوتی ہے وہ اداروں کو استعمال کرکے من پسند فیصلہ کروا ہی لیتی ہے اور اس معاملے میں بھی بال پارلیمانی کمیٹیوں کو پار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی ڈی میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عمران خان نے پہلے سے ہی الیکشن کمشن پر کرپٹ ادارے کا ٹیگ لگا رکھا ہے۔ یہاں بھی حالات بہتری کی جانب بڑھتے دکھائی نہیں دے رہے بلکہ تعیناتی کے بعد ایک بار پھر سے رولا رپا تیار۔

    ہر طرف دھند ہی دھند ہے، کہیں سے کوئی ایسا راستہ نہیں دکھائی دے رہا جہاں چل کر اس بحران کو ختم کیا جائے۔ عام انتخابات کی طرف پی ڈی ایم جانے کو تیار نہیں حالانکہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج دیکھنے کے بعد اب یہ فیصلہ کسی حد تک بڑے اتحادی پیپلز پارٹی کےلیے قابل قبول بھی ہوسکتا ہے لیکن وہاں بھی رویہ سرد ہی ہے۔ کوئی ایک زیرک سیاستدان آگے بڑھ کر ان معاملات کو سلجھانے کو تیار نہیں، ہاں الجھانے میں سبھی اپنا اپنا حصہ ڈالنے کو بے تاب ہیں۔ ان تمام تنازعات میں ملک کس جانب جارہا ہے، عوام کی بدحالی کی کیا صورتحال ہے، ایک ایٹمی طاقت کا امیج کس حد تک منفی ہوئے جارہا ہے، اس کی نہ پروا ہے نہ احساس۔ مجبوراً ملک کی بقا اور عوام کی بہتری کے نعرے لگ رہے ہیں۔

    ان نعروں پر عملدرآمد دیوانے کا خواب سہی مگر عوام پھر بھی اپنے اپنے اکابرین کے پیچھے آنکھیں موندے چل رہے ہیں۔ اپنے ووٹ کی طاقت کو سیاستدانوں کے بیانیوں پر نچھاور کرکے انہیں بدمست ہاتھی بنانے میں ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ تبھی تو چال چلنے والے اپنی اپنی بازیاں لپیٹ اور باریاں سمیٹ رہے ہیں۔ قوم کے خادم قوم کے حاکم بنے بیٹھے ہیں اور ہم تماش بین جی حضوری میں مگن۔ لیکن ہم ہوتے کون ہیں اپنی مرضی سے اپنے خادم چننے والے؟ کہنے کو یہاں جمہوریت ہے لیکن درحقیقت یہ لڈو بھی حکومتیں بنانے اور گرانے والوں کے ’’مقدس سنہری ورق‘‘ میں مقید ہے جس کے قریب بھی ہمیں پھٹکنے کی اجازت نہیں۔

    کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں کھلی دھاندلیوں کے مناظر نے بھی رہی سہی خوش فہمی دور کردی کہ نمائندے کے نام پر ٹھپہ عوام لگاتے ہیں۔ یہاں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ والا قانون ہی نافذ ہے۔ پھر یہ تماشا کیسا؟ یہ بحران کیونکر؟ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر یہ وطن حاصل کیا اور ہمیں اس یقین پر سونپا تھا کہ ہم اس کی رکھوالی کریں گے، اسے عزت و استحکام بخشیں گے۔ مگر یہ کیا، ہم تو خود سہولت کار بنے اسے کمزور کرنے والوں کے بیانیوں پر لبیک کہتے شعور کو شکست اور جنون کو جیت کا معیار بنا رہے ہیں۔

    عوام کے جذبات، جنون اور لاشعور پر سجی بساط پر شطرنج کا کھیل جاری ہے۔ یہ کھیل دماغ کا ہے اور کھیلنے والے بادشاہ کو شہ مات دینے کےلیے گھیریں گے، لپیٹیں گے اور خوب دھکیلیں گے۔ ہار بھی گئے تو جیت کھلاڑی کی اور نقصان صرف اور صرف اس اناڑی کا مقدر ہوگا جس نے اقتدار کا یہ کھیل کھیلنے کےلیے شاطر کھلاڑیوں کےلیے اپنا کندھا جھکایا۔ پھر نہ ٹافیاں ملیں گی اور نہ ہی میٹھے بتاشے، جن کی حرص پچھہتر سال سے زندہ باد کے نعرے لگوا رہی ہے۔

  • مساجد میں چوری کی وارداتیں؛ وجہ کیا ہے؟

    مساجد میں چوری کی وارداتیں؛ وجہ کیا ہے؟

    ہمارے گھر کے قریب تین جامع مساجد ہیں۔ سوئی گیس آفس کے پاس طلحہ مسجد، منگل مارکیٹ میں غوثیہ مسجد اور جاوا چوک میں علی المرتضیٰ مسجد ہے۔ تینوں مساجد میں چپل چوری کی وارداتوں کے علاوہ دیگر انتہائی سطح کی وارداتوں کی اطلاع بھی گاہے بگاہے ملتی رہتی ہے۔ گزشتہ ہفتے دو بار چپل چوری کی کارروائی بذات خود ہمارے ساتھ ہوئی۔

    کل ظہر کے بعد جب باہر نکلا تو مسجد کے خادم صاحب کسی سے انتہائی سنجیدہ لہجے میں گفتگو فرما رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ رات کو مسجد کا ہیٹر چوری ہوگیا۔ خادم مسجد انتہائی لاچاری میں کہنے لگے دیکھیں اب ہم کیا کریں، ہمارا کام نمازیوں کےلیے سہولیات کا خیال رکھنا، رات کو بروقت مسجد کے دروازوں کو لاک کرنا ہے، لیکن پھر بھی کسی نے کارروائی کر ڈالی۔ چونکہ بات مساجد سے متعلق ہے تو انہوں نے مزید ایک خبر سنائی کہ یہاں تو رات کو کارروائی کی گئی لیکن غوثیہ مسجد میں دن دیہاڑے ساؤنڈ سسٹم غائب ہوگیا۔ طلحہ مسجد نہ صرف ایک جامع مسجد ہے بلکہ یہاں ملک کے دور دراز علاقوں سے علم کے پیاسوں کو سیراب کیے جانے کی شب و روز سعی کی جاتی ہے، وہاں مسجد کے اندر سے چوری ہونا (جوتوں کے علاوہ) ممکن نہیں، کیوں کہ ہر لمحہ طلبا و علما کی آمدورفت رہتی ہے، لیکن مسجد سے باہر چیزیں پھر بھی خطرے سے دوچار ہیں، خاص کر چندے کے ڈبے، جو کئی مرتبہ وارداتوں کا سامنا کرچکے ہیں۔

    اس ساری صورت حال کو جب انسان دیکھتا ہے تو لامحالہ ایک سوال دماغ کے گوشوں سے انگڑائی لیتا ہے، مجھے قوی امید ہے کہ عوامی حلقوں میں بھی ایسے واقعات کے بعد اس قسم کے سوالات کی گونج ہوگی کہ ان لوگوں کو خدا کا خوف بھی نہیں آتا کہ وہ اللہ کے گھر سے چوری کرتے ہیں؟ یعنی چوری کی وجہ صرف خدا کے خوف کے نہ ہونے کو قرار دیا جاتا ہے۔

    یہ ایک بنیادی سوال ہے، اور یقیناً اگر ہمیں سردی کے موسم میں گرم بستر مہیا ہو، ہمارے بچوں کو موسم کے لحاظ سے تمام سہولیات میسر ہوں، تین یا کم از کم دو وقت کا کھانا بڑی آسانی سے مل رہا ہے، ہمارے بچوں کےلیے روزمرہ کی ضروریات پوری ہورہی ہوں، ہمارے چولہے گرم ہوں، ہماری رہائش اچھی ہو، ہمیں کل کی فکر نہ ہو کہ آنے والے کل کا کہاں سے، کیسے بندوبست ہوگا؟ تو ہم بیٹھ کر آرام سے دیگر مقامات کے علاوہ خاص کر مساجد میں چوری کی وارداتوں سے متعلق یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا خوف ختم ہوگیا ہے۔

    لیکن اس سے پہلے کہ ہم بات کو اس کی آخری حد یعنی خوف خدا کی کمی سے شروع کریں، ایک لمحہ رکیے، اور سوچیے کہ ایک شخص اگر اس انتہائی قدم تک گیا ہے تو آخر کس وجہ سے گیا ہوگا؟ کیا واقعی وہ اس قدر بے خوف اور جرّی ہوگیا ہے کہ اس کا دل مہر زدہ ہوگیا ہے، اس سے خدا کا خوف نکل گیا، اور نتیجتاً وہ مساجد کی اشیا چوری کر رہا ہے یا معاملہ کوئی اور ہے؟

    چوری کرنا یقیناً ایک جرم ہے۔ چوری کی مخصوص حد جس کی سزا ہاتھ کاٹنا تھی، ملکی صورت حال کے پیش نظر اس کی سزا کیا ہوگی، یہ علمائے وقت ہی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جب قحط آیا تھا تو یہ سزا منسوخ کردی گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہی تھی کہ سزائیں تب لاگو ہوتی ہیں جب رعایا کی تمام بنیادی ضروریات پوری ہورہی ہوں، اور پھر کوئی فساد کےلیے کرنا شروع کردے۔ لیکن اگر بنیادی ضروریات ہی تعطل کا شکار ہوجائیں، اور پھر خاص کر اگر عوام بھی ایسے ہوں جن کا کوئی پرسان حال نہ ہو، ان کے حکمرانوں کو ان کی فکر نہ ہو تو شاید وہاں سزائیں کیا، اخلاقی قواعد و ضوابط بھی منسوخ ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ پروا نہیں ہوتی کہ گھر خدا کا ہے یا اس کے بندے کا۔ وہاں صرف ایک فکر کارفرما ہوتی ہے کہ وہ کس طرح ان حالات کا سامنا کرسکتا ہے۔ وہ اپنے بیوی بچوں کےلیے ایک وقت کی روٹی کہاں سے لائے گا اور جب کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی چارہ نہیں ہوتا، کوئی سہارا نہیں رہتا تو انسان شاید کانپتے ہاتھوں، بہتی آنکھوں سے کوئی انتہائی قدم اٹھا بیٹھتا ہے۔

    اس لیے ہمیں سوچنا ہوگا کہ بات صرف خوف خدا کی کمی نہیں، بلکہ مخلوق کی بے چارگی بھی ہوسکتی ہے، جس سے اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

  • چین میں کورونا سے ایک ہفتے میں 13 ہزار اموات

    چین میں کورونا سے ایک ہفتے میں 13 ہزار اموات

    بیجنگ: چین میں 13 جنوری سے 19 جنوری کے درمیان کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہزار ہوگئی جب کہ یہ صرف وہ اموات ہیں جو اسپتالوں میں ہوئیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ ماہ چین میں کورونا سے 60 ہزار اموات کی تصدیق کی گئی تھی جب کہ صرف جنوری میں ایک ہفتے کے دوران 13 ہزار اموات اسپتالوں میں ہوئیں۔ گھروں میں ہونے والی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہے۔

    چین نے یہ نہیں بتایا کہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی عمریں کتنی ہیں اور کیا ان لوگوں نے ویکسینیشن کرائی تھی۔ خیال رہے کہ چین میں 65 سے زائد عمر کے لاکھوں افراد نے ویکسین نہیں لگوائی تھی۔
    دوسری جانب چین کے محکمۂ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی 80 فیصد آبادی کورونا میں مبتلا ہوچکی ہے۔

    عالمی قوتوں اور تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین میں کورونا کے ایک بار پھر پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔

    اس خدشے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ چین نے کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی کیٹیگری میں تبدیل کی تھی اور صرف کورونا کی وجہ سے سانس کی تکلیف میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے والوں کو شامل کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ چین میں نئے سال کی آمد پر ہونے والی تعطیلات اور اس دوران تقریبات میں لوگوں کی بڑی تعداد کی شرکت سے مہلک وائرس کے مزید تیزی سے پھیلنے کے امکانات ہیں۔

  • عمران خان! عوام نے پیسہ اسپتال کیلیے دیا تھا ہاؤسنگ سوسائٹی کیلیے نہیں، مریم اورنگزیب

    عمران خان! عوام نے پیسہ اسپتال کیلیے دیا تھا ہاؤسنگ سوسائٹی کیلیے نہیں، مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا ہے کہ عمران خان! عوام نے آپ کو زکوۃ کے پیسے شوکت خانم اسپتال کے لیے دئیے تھے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے نہیں۔

    اپنے بیان میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثاقب نثار کے جعلی ’’صادق اور امین‘‘ نے شوکت خانم کے 30 لاکھ ڈالر کے خیراتی فنڈ کو ہاؤسنگ سوسائٹی میں لگانے کا اعتراف کرلیا ہے، پاکستان کے عوام نے آپ کو شوکت خانم اسپتال کے لیے زکوۃ کے پیسے دئیے تھے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دوسروں پر چوری کا الزام اور خود خیرات کے پیسوں کی چوری کا اعترافِ جرم، ٰلاکھوں ڈالر کا خیراتی پیسہ لگاتے ہوئے شوکت خانم کے بورڈ سے منظوری بھی نہ لی، جھوٹا فراڈیہ توشہ خانہ اور زکوۃ چور کہتا ہے کہ توشہ خانہ میں چوری کی تو کیا ہوا؟ ریاست کے 190 ملین پاؤنڈ کھا گیا، تو کیا ہوا؟

  • ایٹم بم، دنیا کی بہترین فوج، لیکن عوام کو آٹے کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کردیا، سراج الحق

    ایٹم بم، دنیا کی بہترین فوج، لیکن عوام کو آٹے کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کردیا، سراج الحق

    راولپنڈی: سراج الحق نے حکمرانوں کو چور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک سر زمین پر چور مسلط ہیں وہ لوگ مسلط ہیں جنہوں نے ملک کے ساتھ غداری کرکے انگریز کا ساتھ دیا تھا۔

    ان خیالات کا اظہار مرکزی امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 54 راوالپنڈی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان آپ کا گھر ہے دھرتی ہے عزت پہنچان ہے ماں کی گود کی مانند ہے اور یہ واحد ریاست ہے جو مدینہ کے بعد کلمہ طیبہ پر بنی ہے لیکن یہ پاک سر زمین پر چور مسلط ہیں وہ لوگ مسلط ہیں جنہوں نے ملک کے ساتھ غداری کرکے انگریز کا ساتھ دیا تھا۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ غلام ہیں غلام تھے اور یہی غلام سازشی ٹولہ پاکستان بنے کے بعد ملک پر مسلط ہوا، پھر ملک میں نا اسلامی نظام کو چھوڑا اور نہ جمہوریت کو چھوڑا۔
    امیر جماعت اسلامی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ عوام کےلیے ایوانوں کے دروازے بند رکھے، یہ میر جعفر اور میر صادق کی اوالدیں ہیں، انہیں کی وجہ سے 23 کروڑ عوام آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مقروض ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایٹم بم، دنیا کی بہترین فوج، لیکن عوام کو آٹے کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کیا ہے۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ مارشل لاء میں یہ مسلط ہوتے ہیں جمہوریت ہو تب بھی یہی خاندان مسلط ہوتے ہیں اور اب اپنے شہزادوں اور اولادوں کو آپ پر مسلط کررہےہیں، ان کی وجہ سے پچاسی فیصد پاکستانی گندا پانی پینے پر مجبور ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، پی پی پی پی ڈی ایم میں کہیں جمہوریت نہیں، مہنگائی اور بے روزگارہ انہیں کی وجہ سے ہے۔

  • کراچی؛ نیوی اہلکار کے قتل میں ملوث دو ڈاکو پولیس مقابلے میں گرفتار

    کراچی؛ نیوی اہلکار کے قتل میں ملوث دو ڈاکو پولیس مقابلے میں گرفتار

    کراچی: بوٹ بیسن پولیس نے بیچ ویو پارک ڈیفنس کے قریب مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا، ملزمان نے 17 جنوری کو کلفٹن پاک ٹاور میں نیوی اہلکار کو دوران ڈکیتی مزاحمت پر قتل کردیا تھا۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت 22 سالہ محمد وقاص ولد بخت نواز اور 20 سالہ بلال خان ولد وحید خان کے نام سے کی گئی، ملزمان سے دو پستول مع ایمونیشن، موبائل فونز، نقدی اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔

    بوٹ بیسن پولیس کے مطابق گرفتار دونوں ملزمان نیوی اہل کار کے قتل میں ملوث ہیں، 17 جنوری کو کلفٹن پاک ٹاور ہیلی پیڈ کے قریب موجود نیوی اہلکار محمد شان ولد محمد اسلم اپنے کزن کاشف نواز کے ہمراہ موبائل فون سے تصویر کھینچ رہا تھا کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار دو ڈاکوؤں نے محمد شان سے اس کا موبائل فون چھینا اور مزاحمت پر نائن ایم ایم پستول سے دو گولیاں مار کر فرار ہوگئے تھے۔

    پولیس کے مطابق دوران تفتیش وقاص نے بتایا کہ نیوی اہلکار محمد شان کو اس نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ڈاکوؤں کے قبضے سے واقعے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل، نیوی اہلکار سے چھینا ہوا موبائل فون اور نائن ایم ایم پستول برآمد کرلیا گیا۔

    بوٹ بیسن پولیس نے بتایا کہ گرفتار ڈاکو خیبر پختون خوا کے رہائشی ہیں اور اس سے قبل بھی مختلف مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جاچکے ہیں، گرفتار ڈاکو وقاص 9 جنوری کو ہی ضمانت پر جیل سے رہا ہوا تھا۔

  • وزیر داخلہ نے مریم نواز کی وطن واپسی کا باقاعدہ اعلان کر دیا

    وزیر داخلہ نے مریم نواز کی وطن واپسی کا باقاعدہ اعلان کر دیا

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے مریم نواز کی وطن واپسی کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

    رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ چیف آرگنائزر مریم نواز 28 جنوری کو وطن واپس پہنچیں گی۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مریم نواز 27 جنوری کو لندن سے دبئی کے لیے روانہ ہوں گی اور 28 جنوری کی شام 5 بجے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں گی۔
    واضح رہے کہ مریم نواز 6 اکتوبر کو بیرون ملک روانہ ہوئی تھیں جبکہ 6 جنوری کو نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے بتایا تھا کہ مریم نواز کا جینیوا میں گلے کا تین گھنٹے طویل آپریشن کیا گیا۔ مریم نواز سرجری کیلیے اپنے والد کے ہمراہ لندن سے جینیوا پہنچی تھیں۔

    اس سے قبل، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے پارٹی کا تنظیمی فیصلہ کرتے ہوئے مریم نواز کو سینیئر نائب صدر بھی مقرر کیا تھا۔