اسلام آباد(سنگ میل نیوز)سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹی نیلامی کیخلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کیخلاف ریفرنسز کی نقول جمع کرانے کا حکم دیدیا۔سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کی جائیدادوں کی نیلامی کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی ، سماعت کے دوران جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ اسٹے کا فیصلہ یکطرفہ نہیں ، دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آج صرف متفرق درخواست لگ گئی،مرکزی اپیلیں فکس نہیں ہوئیں، ریفرنسز کی کاپیاں بھی اپیلوں کے ساتھ لگائیں پتہ چلے کہ اصل غبن کیا ہے، ملزم کی جانب سے پلی بارگین میں 8 پراپرٹیز نیب کو دی گئیں۔جسٹس نعیم افغان کا کہنا تھا کہ ملزم کہتا ہے پلی بارگین رضاکارانہ نہیں دباؤ کے تحت تھا، نیب جائیدادوں کی نیلامی کی طرف کیسے چلا گیا ، ریفرنس پر سزا ہوئی تب پراپرٹی ضبط ہو گی۔عدالت نے کہا کہ ملزم نے پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست چیئرمین نیب کو دی ،پلی بارگین ختم کرنیکی درخواست کے بعد کیس پہلی کی اسٹیج پر آ گیا، پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد تو ریفرنس پر ملزمان کا ٹرائل ہو گا، بعد ازاں عدالت نے سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی۔
Category: کاروبار
-

نان فائلرز کیلئے بینک سے رقوم نکلوانے پر عائد ٹیکس میں اضافے کا اطلاق کردیا گیا
اسلام آباد(سنگ میل نیوز)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی جانب سے رواں مالی سال 26-2025 کے وفاقی بجٹ میں نان فائلرز کے لیے بینک سے رقوم نکلوانے پر عائد ٹیکس میں اضافے کا اطلاق کردیا گیا۔ایف بی آر کے مطابق ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد پر بینک سے رقوم نکلوانے پر ٹیکس کٹوتی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یومیہ 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر 0.8 فیصد ٹیکس لاگو ہے جبکہ اس سے پہلے یومیہ 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر0.6 فیصد ٹیکس عائد تھا۔بتایا گیا کہ ہر بینکنگ کمپنی نان فائلر سے ایڈوانس ایڈجسٹیبل ٹیکس منہا کرنے کی مجاز ہوگی، اسی طرح غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کردی گئی۔پراپرٹی کے خریدار کو ریلیف دینے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس میں 1.5 فیصد کمی کردی گئی ہے، پراپرٹی کے فروخت کنندہ یا منتقل کرنے والے کے لیے ہر سلیب میں 1.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد فروخت کنندہ کو جائیداد کی فروخت پر حاصل کیپٹل گین کی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ایف بی آر نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے انکم ٹیکس کے سیکشن 236 سی اور 236 کے میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق 5 کروڑ روپے مالیت تک کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد ہوگیا، اس سے پہلے 5 کروڑ تک کی پراپرٹی کی خرید پر ٹیکس کی شرح 3 فیصد تھی۔اسی طرح 10 کروڑ تک کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 3.5 سے کم ہو کر2 فیصد رہ گیا ہے اور کروڑ سے زائد مالیت کی پراپرٹی خریدنے پر 4 کے بجائے 2.5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔
-

گزشتہ مالی سال حکومتی آمدنی 9 ہزار 946 ارب، اخراجات 17 ہزار ارب روپے رہے، وزارت خزانہ
اسلام آباد:گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی خالص آمدن 9 ہزار 946 ارب روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ حکومتی اخراجات 17 ہزار 36 ارب روپے تک پہنچ گئے، اس عرصے کے دوران مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا 5.4 فیصد تک محدود رہا، مالی خسارے کا حجم 7 ہزار 90 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔اس حوالے سے وزارت خزانہ نے گزشتہ مالی سال 2024ء تا 2025ء کے دوران وفاقی حکومت کے آمدن و اخراجات کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق قابل تقسیم محاصل سے صوبوں کو 6 ہزار 854 ارب روپے منتقل کئے، قرضوں پر سود کی ادائیگی میں 8 ہزار 847 ارب روہے خرچ ہوئے، حکومت آئی ایم ایف کے زیادہ تر اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر 12970 روپے کا اصل سالانہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا، گزشتہ مالی سال 11 ہزار 744 ارب ٹیکس جمع، ہدف سے 1226 ارب کم رہا، تاجر دوست اسکیم سے بھی 50 ارب روپے وصولی کا ہدف پورا نہ ہوسکا۔وزارت خزانہ کے مطابق دفاع پر 2193 ارب، وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر 1049 ارب خرچ ہوئے، ترقیاتی منصوبوں پر گزشتہ سال سے 43 فیصد زیادہ فنڈز خرچ کئے گئے، سبسڈیز کی ادائیگی پر 1297 ارب روپے خرچ کئے گئے پنشن بل 910 ارب، سول امور چلانے پر 891 ارب روپے کے اخراجات آئے۔
-

معاشی اشاریوں میں بہتری‘سٹاک مارکیٹ نے ایک لاکھ 45 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور کرلی
کراچی: معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ قائم ہونے کا سلسلہ جاری ہے، ہنڈرڈ انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 45 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور کر گیا۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، 2000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 45 ہزار 187 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔تاہم کاروباری روز کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 2051 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ ایک لاکھ 45 ہزار 88 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر انڈیکس 984 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 1 لاکھ 43 ہزار 37 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔سٹاک مارکیٹ میں آج 43 ارب 26 کروڑ 61 لاکھ 30 ہزار 525 روپے مالیت کے 38 کروڑ 35 لاکھ 14 ہزار 758 شیئرز کا لین دین ہوا۔
-

7 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج ‘پاکستان آئی ایم ایف کی 5 میں سے 3 شرائط پوری نہ کر سکا
اسلام آ باد:پاکستان نے آئی ایم ایف کی پانچ اہم مالی شرائط میں سے صرف دو کو پورا کیا ہے اور تین شرائط پوری نہ کر سکا ہے۔ یہ آئی ایم ایف نے 7 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے دوسرے جائزے کے لیے رکھی تھیں۔چاروں صوبوں نے جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران نقد اضافی رقم 1.2ٹریلین پیدا کرنے کی شرط کی خلاف ورزی کی اور وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 12.3 ٹریلین روپے کی وصولیوں اور تاجر دوست سکیم کے تحت خوردہ فروشوں سے 50 ارب روپے جمع کرنے کی اپنی دو شرائط کو پورا نہیں کیا ہے۔ تاہم وزارت خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی آپریشنز سمری کے مطابق سب سے اہم 2.4 ٹریلین روپے کا بنیادی بجٹ سرپلس رکھنے کی شرط پوری کردی گئی۔اسی طرح چاروں صوبوں کی طرف سے مجموعی محصولات کی شرط بھی پوری ہوگئی۔ اس کمی کے باوجود حکومت کو جائزہ مذاکرات کے دوران سنگین مسائل کا سامنا نہ ہونے کی توقع ہے۔ اہم شرائط پر مجموعی عمل درآمد کی وجہ سے ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کے لیے جائزہ مذاکرات اگلے ماہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت تقریباً 50 شرائط رکھی ہیں۔ ان میں سے کچھ کو سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر مانیٹر کیا جاتا ہے ۔جاری سمری کے مطابق حکومت نسبتاً مالیاتی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی اب بھی صرف دو شعبوں سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی ضروریات سے 1.2 ٹریلین روپے کم ہے۔ باقی اخراجات مزید قرضے لے کر کیے جاتے ہیں۔ 2.4 ٹریلین روپے کے بنیادی سرپلس ہدف کے مقابلے میں وفاقی حکومت نے 2.7 ٹریلین روپے کا سرپلس رپورٹ کیا جو جی ڈی پی کا 2.4 فیصد تھا۔ چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر 921 ارب روپے کا کیش سرپلس پیدا کیا جس سے آئی ایم ایف کا ہدف 280 ارب روپے کی کمی سے پورا ہونا رہ گیا۔ یاد رہے صوبائی حکومتوں نے آئی ایم ایف اور وفاقی حکومت کو 1.2 ٹریلین روپے کیش سرپلس رکھنے کی مفاہمت دی تھی۔ صوبائی کارکردگی کی خرابی ظاہر کرتی ہے کہ 4 ٹریلین روپے کی کل آمدنی کے ساتھ پنجاب نے 3.6 ٹریلین روپے خرچ کیے ۔ اس طرح 348 بلین روپے کا سرپلس ہوا۔تاہم صوبے میں 41 ارب روپے کا شماریاتی تضاد ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ نے 2.3 ٹریلین روپے خرچ کرنے کے بعد 283 ارب روپے کا کیش سرپلس دیا۔ صوبے نے 48 ارب روپے کے اعدادوشمار میں تضاد بھی بتایا۔ خیبرپختونخوا نے 176 ارب روپے کا بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا۔اس کی آمدنی 1.5 ٹریلین روپے رہی اور اخراجات 1.3 ٹریلین رہے ۔ یہاں بھی بھی 155 ارب روپے کا شماریاتی تضاد تھا۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر اعظم کو تجویز دی ہے کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ میں نئے معیارات اور جائزے کے پیرامیٹرز کو شامل کر کے اس میں ترمیم کی جائے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوام کی فلاح و بہبود پر بھاری وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ صوبوں نے گزشتہ مالی سال میں 979 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ریکارڈ کی تھی جو آئی ایم ایف کے ہدف سے 58 ارب روپے زیادہ تھا۔ آئی ایم ایف کی طرف سے 12.32 ٹریلین روپے سے زائد کے محصولاتی ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر صرف 11.74ٹریلین روپے جمع کرسکا۔
-

پاکستان کے مالی خسارے، سود اخراجات اور محصولات پر اقتصادی تھنک ٹینک کی رپورٹ جاری
اسلام آباد:معروف اقتصادی تھنک ٹینک ٹاپ لائن ریسرچ نے بتایا ہے کہ پاکستان کے مالی خسارے اور سود اخراجات میں نمایاں کمی جبکہ محصولات میں اضافہ ہوا اور گزشتہ مالی سال کے معاشی اشاریے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی توقعات سے بھی بہت بہتر رہے ہیں۔ٹاپ لائن ریسرچ نے پاکستان کی معاشی صورت حال پر رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے مالی خسارے اور سود اخراجات میں نمایاں کمی ہوئی ہے جبکہ محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 25-2024 میں پاکستان کا مالی خسارہ 9 سال کی کم ترین سطح پر آگیا، مالی خسارہ مجموعی قومی پیداوارکا صرف 5.38 فیصد رہا اور یہ کامیابی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو میں 36 فیصد سالانہ اضافے کی وجہ سے ہوئی ہے۔اقتصادی تھنک ٹینک نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اخراجات میں بھی صرف 18 فیصد اضافہ ہوا۔ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق خسارہ حکومت کی نظرثانی شدہ 5.6 فیصد اور آئی ایم ایف کی پیش گوئی سے بہتر رہا ہے اور ابتدائی بجٹ میں خسارے کا تخمینہ 5.9 فیصد لگایا گیا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال نان ٹیکس آمدن میں 66 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، اسٹیٹ بینک سے حاصل ریکارڈ 2.62 ٹریلین روپے کے منافع سے ممکن ہوا ہے جبکہ اس سے پچھلے سال اسٹیٹ بینک کا منافع ایک ہزار ارب روپے سے بھی کم تھا۔
-

ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت پر آئندہ 24 گھنٹے میں مزید ٹیرف لگانے کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر آئندہ 24 گھنٹے میں مزید ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا۔امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرچکے ہیں لیکن اس میں نمایاں اضافے کریں گے جس کا اعلان 24 گھنٹے میں متوقع ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایک سال میں امریکا میں درآمد ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں 150 سے 250 فیصد تک اضافہ ہوگا۔آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ٹیرف عائد کرنے کا متوقع اعلان بھارت کی برآمدی صنعت، خاص طور پر ٹیکسٹائل، فارما اور آٹو پارٹس جیسے شعبوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔یاد رہےکہ گزشتہ روز بھی صدر ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر عائد ٹیرف مزید بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت نہ صرف بڑی مقدار میں روسی تیل خرید رہا ہے بلکہ اسے فروخت کرکے منافع بھی کما رہا ہے، بھارت کو کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی فوج کے ہاتھوں کتنے لوگ مارے جارہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی دباؤ کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جس کا مقصد بھارت کو روس سے تیل کی خریداری محدود کرنے پر مجبور کرنا ہے، تاہم بھارت پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی قومی ضروریات کے تحت آزادانہ فیصلے کرے گا۔
-

پاکستان کیلئے امریکا سب سے بڑا برآمدی ملک بن گیا‘ تجارتی سرپلس 4 سال میں 14 ارب ڈالرز جا پہنچا
اسلام آباد: پاکستان کے لیے امریکا سب سے بڑا برآمدی ملک بن گیا۔ذرائع وزارت تجارت کے مطابق پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 4 سال میں 14 ارب 44 کروڑ ڈالرز پر پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکا کے لیے 4 سال میں پاکستانی برآمدات 23 ارب 24 کروڑ ڈالرز رہیں جبکہ اسی عرصے میں پاکستانی درآمدات 8 ارب 80 کروڑ ڈالرز رہیں۔ ذرائع وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 4 ارب 9 کروڑ ڈالرز تھا جبکہ برآمدات 5 ارب 84 کروڑ ڈالرز تھیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ گزشتہ مالی سال امریکا سے درآمدات کا حجم ایک ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز رہا جو 24-2023 میں تجارتی سرپلس 4 ارب2کروڑ ڈالرز تھا۔ ذرائع کے مطابق مالی سال 24-2023 میں امریکا کے لیے پاکستانی برآمدات کا حجم 5 ارب 29کروڑ ڈالرز تھا جبکہ پاکستان نے 24-2023 میں امریکا سے درآمدات ایک ارب 26 کروڑ ڈالرز کی تھیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ سال 23-2022 میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سر پلس 3 ارب 25 کروڑ ڈالرز تھا، امریکا کے لیے 23-2022 میں پاکستانی برآمدات 5 ارب 28کروڑ 50 لاکھ ڈالرز تھیں جبکہ اسی دور میں پاکستان نے 2 ارب 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی درآمدات کی تھیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مالی سال 22-2021 میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 3 ارب 7 کروڑ ڈالرز تھا جبکہ 22-2021 میں پاکستانی برآمدات کا حجم 6 ارب 83 کروڑ ڈالرز تھا، مالی سال 22-2021 میں امریکا سے پاکستانی درآمدات کا حجم 3 ارب 76کروڑ ڈالرز تھا۔
-

نائب وزیرِاعظم کی زیر صدارت اجلاس، ضبط شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں سے متعلق قوانین و پالیسیوں کا جائزہ
اسلام آباد: نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارکی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضبط شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں سے متعلق موجودہ قوانین اور پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس موقع پر قانونی دفعات پر مشتمل ایک جامع بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران ضبط شدہ گاڑیوں کی نیلامی، طریقہ کار کی بہتری اور ٹمپرڈ گاڑیوں کے استعمال سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔نائب وزیرِاعظم نے ہدایت جاری کی کہ ایسی گاڑیوں کی جلد از جلد نیلامی کو یقینی بنایا جائے، نیلامی کے عمل کو ڈیجیٹلائز اور آؤٹ سورس کیا جائے، اور شفافیت و کارکردگی میں بہتری کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار اپنائے جائیں۔اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف، معاونِ خصوصی وزیرِاعظم، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکریٹری اطلاعات، چیئرمین ایف بی آر اور کسٹمز کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
-

سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ: بجلی کی قیمتوں میں 1 روپیہ 80 پیسے فی یونٹ ریلیف ملنے کا امکان
اسلام آباد: سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں 1 روپیہ 80 پیسے ریلیف ملنے کا امکان ہے۔نیپرا علامیہ کے مطابق ڈسکوز کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر نیپرا میں سماعت مکمل ہو گئی، درخواست میں 53 ارب روپے سے زائد کا ریلیف صارفین کے لیے مانگا گیا تھا۔نیپرا کے مطابق ڈسکوز نے مالی سال 25-2024 کی چوتھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست دی تھی، منظوری کی صورت صارفین کو فی یونٹ 1 روپے 80 پیسے کا ریلیف ملے گا۔اتھارٹی ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت سرکاری ڈسکوز پر بھی ہوگا، اتھارٹی کو بتایا گیا کہ سرکلر ڈیٹ 780 ارب روپے کم ہو گیا ہے۔حکام نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ 2300 ارب روپے کم ہو کر 1600 ارب روپے رہ گیا ہے، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہونے سے 200 ارب روپے سرکلر ڈیٹ کم ہوا، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ بند ہونے سے 18 ارب روپے کا فرق آیا ہے۔حکام کے مطابق ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز میں بھی کمی ہوئی ہے، تمام ڈسکوز کی بجلی کی کھپت میں اوسطاً 31 فیصد اضافہ ہوا ہے، صرف کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کی بجلی کی فروخت کم ہوئی ہے۔اتھارٹی نے بجلی کی صنعتی گروتھ میں اضافے کے سوال اٹھائے، ڈسکوز کا کوئی بھی سی ای او اتھارٹی کو تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔حکام نے کہا کہ حکومت ڈائریکٹ سبسڈی اور کراس سبسڈی میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے، بینکوں سے 1275 ارب روپے کا قرضہ لے کر واپسی کیلئے کوئی الگ سرچارج نہیں لگے گا۔
