Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 43 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • حکومت کا الیکٹرک بائیکس 2 سال کی اقساط پر دینے کا فیصلہ

    حکومت کا الیکٹرک بائیکس 2 سال کی اقساط پر دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پیٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس 2 سالوں کی اقساط پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس کے لیے اقساط اور سبسڈی اسکیم تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہوگئی، وزیر اعظم شہباز شریف یوم آزادی پر نئی ای وی پالیسی اسکیم کا اعلان بھی کریں گے۔اسٹیٹ بینک اور بینک ایسوسی ایشن کی جانب سے اسکیم تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت فی الیکٹرک بائیکس اور رکشہ پر 50 ہزار کی سبسڈی دی جائے گی۔ اسکیم کے تحت اہلیت کے لیے عمر کی حد 18 سے 65 سال تک ہوگی۔فی الیکٹرک بائیک کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار روپے تک مقرر ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ 50 ہزار کی سبسڈی اور بقیہ 2 لاکھ سے زائد رقم اقساط میں ادا کرنا ہوں گی۔

  • شوگر ملز مالکان اور چینی برآمد کرنیوالوں کا ریکارڈ طلب، حکومت نام دینے سے گریزاں

    شوگر ملز مالکان اور چینی برآمد کرنیوالوں کا ریکارڈ طلب، حکومت نام دینے سے گریزاں

    اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تمام شوگر ملز مالکان اور چینی برآمد کرنے والوں کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر طلب کر لیا۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر کی زیر صدارت پی اے سی کا اجلاس ہوا جس میں عمر ایوب، ریاض فتیانہ اور سینیٹر فوزیہ ارشد سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔اجلاس میں چینی کے بحران پر بحث ہوئی، ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ کراچی میں چینی کی قیمت 210 روپے فی کلو جبکہ ہری پور میں 215 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک بھر میں چینی کی اوسط قیمت 173 روپے فی کلو بتائی گئی ہے۔کمیٹی میں سیکرٹری فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔سیکرٹری صنعت و پیداوار کی بریفنگ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں حکومت نے 5.09 ملین ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جبکہ حقیقتاً 3.927 ملین ٹن چینی برآمد کی گئی۔سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ چینی کی برآمد سے 40 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل کیا گیا اور نومبر تک کے لیے ملکی ضروریات کے مطابق سٹاک موجود ہے۔کمیٹی ارکان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں سے یہی ڈرامہ جاری ہے، کبھی چینی برآمد کی جاتی ہے، کبھی درآمد۔ریاض فتیانہ اور سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے قوم کو 287 ارب روپے کا دھوکہ دیا گیا، مارکیٹ سے چینی غائب ہو چکی ہے اور جو دستیاب ہے وہ انتہائی مہنگی ہے۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ شوگر ملز مالکان کو برآمد کیلئے سبسڈی کیوں دی گئی؟ ریاض فتیانہ نے کہا کہ کیا وجہ تھی کہ راتوں رات ایس آر او جاری کر کے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی۔معین پیرزادہ نے کہا کہ ملک کے صدر اور وزیراعظم عوام کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں، فساد کی جڑ شوگر ایڈوائزری بورڈ ہے، شوگر مافیا حکومتوں کا حصہ ہے۔اس موقع پر حکومت شوگر ملز مالکان کے نام فراہم کرنے سے گریزاں رہی، چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ہم نے آپ سے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کی تھیں؟ کہاں ہیں تفصیلات؟ سیکرٹری صنعت نے کہا کہ ہمارے پاس شوگر ملز کی فہرست ہے۔پی اے سی نے شوگر ملز مالکان کے ناموں کی فہرست فوری طلب کر لی اور کہا کہ شوگر ملز نہیں مالکان اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات دیں۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ کچھ دیر میں شوگر ملز مالکان کے نام نہ آئے تو تحریک استحقاق لائیں گے، حکام وزارت صنعت و پیداوار نے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں چینی کی پیداوار 76 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن تھی، اس میں سے 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ چینی سرپلس رہی۔حکام وزارت صنعت و پیداوار نے کہا کہ پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی اگلے سال کیلئے ریزرو رکھی گئی، وفاقی کابینہ اور ای سی سی نے تین مراحل میں 7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی، چینی برآمد کرکے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ کمایا گیا۔بریفنگ میں کہا گیا کہ جب چینی ایکسپورٹ کی گئی مقامی مارکیٹ میں قیمت 143 روپے کلو تھی، اس وقت مارکیٹ میں قیمت 173 روپے فی کلو ہے، مارکیٹ میں قیمت بڑھنے پر وزیراعظم نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی۔

  • حکومت چینی کی قیمتوں میں استحکام اور وافر فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے،رانا تنویر حسین

    حکومت چینی کی قیمتوں میں استحکام اور وافر فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے،رانا تنویر حسین

    اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے ) اور چاروں صوبوں کے اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شوگر سپلائی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ کئی شوگر ملز طے شدہ معاہدے کے تحت چینی کی فراہمی اور سٹاک کے اجرا ءپر عمل نہیں کر رہیں۔متعدد یقین دہانیوں کے باوجود چینی کی بروقت ترسیل اور دستیابی میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ اب حکومت تمام شوگر ملز کے سٹاکس کی کڑی نگرانی کرے گی۔ اس مقصد کے لیے ہر شوگر مل پر سرکاری افسران تعینات کیے جائیں گے تاکہ چینی کے سٹاک کی صورتحال کو مانیٹر کیا جا سکے اور چینی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر پی ایس ایم اے کے چیئرمین نے بھی شوگر مل مالکان کو درپیش مسائل اور خدشات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔اس سلسلے میں شکایتی کمیٹی کے قیام کی ہدایت جاری کی گئی جبکہ واٹس ایپ گروپ بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ روزانہ کی بنیاد پر حکومت اور شوگر انڈسٹری کے درمیان موثر رابطہ قائم رہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت چینی کی قیمتوں میں استحکام اور وافر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔معاہدوں کی خلاف ورزی یا لاپروائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم صنعت کے ساتھ مل کر جائز مسائل کو بھی حل کریں گے۔ وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چینی کے سٹاکس کی شفاف مانیٹرنگ، قیمتوں کے استحکام اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے صارفین اور پیدا کنندگان، دونوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

  • پی ٹی اے نے 8 لاکھ 26 ہزار چوری شدہ موبائل فونز بلاک کر دیے

    پی ٹی اے نے 8 لاکھ 26 ہزار چوری شدہ موبائل فونز بلاک کر دیے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 8 لاکھ 26 ہزار چوری شدہ موبائل فونز بلاک کر دیے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بلاکنگ نظام ڈی آئی آر بی ایس کے تحت رپورٹ شدہ ڈیوائسز پر کارروائی کی گئی ہے۔5 کروڑ 50 لاکھ جعلی یا نقل شدہ موبائل فونز بھی بلاک کردیئے گئے۔رپورٹ کے مطابق 2019 سے اب تک 13 کروڑ 60 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر تیار ہوئے،پاکستان میں تیار شدہ فونز میں 37 فیصد اسمارٹ فونز شامل ہیں۔2024 میں 3 کروڑ 13 لاکھ 80 ہزار فونز مقامی سطح پر تیار کیے گئے، 2025 کے پانچ ماہ میں 1 کروڑ 20 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر تیار ہوئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز کی کمرشل درآمدات کم ہوکر صرف 7 لاکھ رہ گئی،موبائل فونز کی کمرشل درآمدات 2019 میں 1 کروڑ 62 لاکھ تھیں۔مقامی سطح پر موبائل فونز تیار کرنیوالی کمپنیوں کی تعداد 36 ہو گئی، موبائل فونز کی مقامی سطح پر تیاری سے 60 ہزار نوکریاں پیدا ہوئیں۔ انفرادی درآمدی کیٹیگری سے گزشتہ 6 سالوں میں حکومت کو 83 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک سالہ تجارت کاترجیحی معاہدہ طے پا گیا

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک سالہ تجارت کاترجیحی معاہدہ طے پا گیا

    اسلام آباد:پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی معاہدہ(پی ٹی اے) طے پا گیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جہاں پاکستان کے سیکریٹری تجارت جواد پال اور افغانستان کی جانب سے افغان ڈپٹی وزیر تجارت ملا احمد اللہ زاہد نے معاہدے پر دستخط کیے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی درآمدی اشیا پر ٹیرف میں نمایاں کمی کریں گے اور معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ٹیرف کی شرح 60 فیصد سے کم کر کے 27 فیصد تک لانے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں ممالک کا یہ اقدام دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور خطے میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والا تجارتی معاہدہ یکم اگست 2025 سے نافذ العمل ہوگا اور ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے مؤثر رہے گا۔معاہدے کے تحت پاکستان افغانستان سے درآمد کیے جانے والے انگور، انار، سیب اور ٹماٹر پر ڈیوٹی کم کرے گا جبکہ افغانستان پاکستان سے آنے والے آم، کینو، کیلے اور آلو پر ٹیرف میں کمی کرے گا۔

  • پاکستان کی اقتصادی اصلاحات قابل ستائش‘ معاشی سطح پر مکمل معاونت کریں گے: عالمی بینک

    پاکستان کی اقتصادی اصلاحات قابل ستائش‘ معاشی سطح پر مکمل معاونت کریں گے: عالمی بینک

    اسلام آباد:عالمی بینک کا کہنا ہے کہ معاشی سطح پر حکومت پاکستان کی مکمل معاونت کریں گے سی پی ایف اور اقتصادی اصلاحات میں ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے قابل ستائش اقدامات کئے گئے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی بینک کے نائب صدر برائے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان (ایم ای این اے اے پی) ریجن عثمان ڈیون نے وزارت اقتصادی امور میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں احد چیمہ اور عثمان ڈیون کے درمیان کنٹری شراکت داری فریم ورک کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی۔وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا اور افغانستان ریجن کے ساتھ شامل کرنا اچھا فیصلہ ہے، کنٹری شراکت داری فریم پر عمل درآمد کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت چلیں گے۔احد چیمہ نے کہا کہ عالمی بینک کا کنٹری آفس حکومت پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہے معاشی اصلاحات میں عالمی بینک کا تعاون قابل تحسین ہے غیرمتزلزل سپورٹ پر عالمی بینک کی لیڈرشپ کے مشکور ہیں وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے سی پی ایف کو موثر طور پر ایمپلیمنٹ کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔عالمی بینک کے نائب صدر برائے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان (ایم ای این اے اے پی) ریجن عثمان ڈیون کا کہنا تھا کہ معاشی سطح پر حکومت پاکستان کی مکمل معاونت کریں گے، سی پی ایف اور اقتصادی اصلاحات میں ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے قابل ستائش اقدامات کیے گئے۔

  • وفاقی حکومت کے قرضے بلند ترین سطح پر ، 76 ہزار ، 45 ارب روپے ہو گئے

    وفاقی حکومت کے قرضے بلند ترین سطح پر ، 76 ہزار ، 45 ارب روپے ہو گئے

    اسلام آباد: وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 76 ہزار 45 ارب کی سطح پر پہنچ گئے۔
    اسٹیٹ بینک نے مئی 2025 تک کے وفاقی حکومت کے قرضوں کے اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں جس کے مطابق حکومت کا مقامی قرضہ 53 ہزار 460 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضہ 22 ہزار 585 ارب روپے ہو گیا۔
    دستاویز کے مطابق ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 8 ہزار 312 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 25-2024 کے پہلے 11 ماہ میں حکومت کا قرضہ 7 ہزار 131 ارب روپے بڑھا، مئی میں قرضے میں 1109 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
    اپریل 2025 تک حکومتی قرضے 74 ہزار 936 ارب روپے جبکہ مئی 2024 تک حکومتی قرضے 67 ہزار 733 ارب روپے تھے۔

  • پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات‘ اہم مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا

    پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات‘ اہم مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا

    اسلام آباد: پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کے حالیہ دور میں ایک اہم مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جو برآمدی شعبے کے مستقبل کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔9 جولائی کی ڈیڈ لائن سے قبل یہ کامیابی پاکستانی مصنوعات، بالخصوص ٹیکسٹائل اور زرعی اشیا پر دوبارہ بھاری ٹیرف عائد ہونے کے خطرے کو مؤثر طور پر ٹال سکتی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری تجارت جاوید پال کی قیادت میں پاکستانی وفد نے واشنگٹن میں 4 روزہ مذاکرات کامیابی سے مکمل کیے، اور اب وہ وطن واپسی کی تیاری میں مصروف ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان فریم ورک پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم باضابطہ اعلان اُس وقت کیا جائے گا جب امریکا اپنے دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ جاری مذاکرات کو حتمی شکل دے گا۔پاکستانی وفد کا بنیادی ہدف ایک طویل مدتی دو طرفہ ٹیرف معاہدہ تھا، جس کے تحت رواں سال کے آغاز میں عارضی طور پر معطل کردہ 29 فیصد ٹیرف مستقل طور پر ختم کر دیا جائے۔ حکام کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوتے تو 9 جولائی کے بعد یہ رعایت واپس لی جا سکتی تھی، جس سے پاکستانی برآمدات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات نہ صرف کامیاب رہے بلکہ فریقین نے ایک وسیع اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔معاہدے کے تحت نہ صرف امریکی خام تیل کی پاکستان درآمد میں اضافہ ممکن ہو گا بلکہ کان کنی، توانائی اور انفرااسٹرکچر جیسے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھلیں گے۔یہ اہم معاہدہ امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کے ذریعے دو طرفہ معاشی شراکت داری کو مزید وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اگرچہ امریکا کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے قبل ازیں عندیہ دیا تھا کہ مثبت پیش رفت کی صورت میں ڈیڈ لائن میں نرمی کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے، تاہم پاکستانی حکام نے اس عمل کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کیا جا سکے۔ماہرین اور حکام پُرامید ہیں کہ اس مفاہمتی پیش رفت سے پاکستان کی امریکی منڈی تک رسائی بدستور قائم رہے گی اور ان دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں وہ توازن دوبارہ بحال ہو سکے گا۔

  • حکومت کا یوٹیلیٹی اسٹورز کو 10 جولائی سے مکمل بند کرنے کا فیصلہ‘ یکم اگست کو خالی کرنیکا نوٹس

    حکومت کا یوٹیلیٹی اسٹورز کو 10 جولائی سے مکمل بند کرنے کا فیصلہ‘ یکم اگست کو خالی کرنیکا نوٹس

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 10 جولائی سے مکمل بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔میڈیا اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین کو ادارے کی بندش پر وی ایس ایس پیکج کی فراہمی کی ہدایت کر دی۔دستاویز کے مطابق وزیراعظم کی تمام ملازمین کو رضاکارانہ طور پر علیحدہ ہونے کا پیکج دینے کی ہدایت کی ہے۔تمام فعال یوٹیلیٹی اسٹورز کل سے ملک بھر میں آپریشنز بند کرنا شروع کر دیں گے، ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے زیرِ صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ اسٹورز پر موجود سامان کو وئیر ہاؤسز میں منتقل کیا جائے گا جبکہ وئیر ہاؤسز سے سامان حکام کی سرپرستی میں دکانداروں کو واپس کیا جائے گا۔فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے اسٹورز اور دیگر دفاتر میں موجود آئی ٹی سامان بھی لوٹایا جائے گا، اسی طرح ریکس اور دیگر سامان کی شفاف عمل کے ذریعے نیلامی کی جائے گی۔اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ کرائے پر دیے گئے اسٹورز کو یکم اگست سے خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے جائیں گے، یوٹیلیٹی اسٹورز کے اثاثوں کے تعین کے لیے جنرل منیجرز آئی ٹی کے ذریعے تخمینہ لگوایا جائے گا۔واضح رہے کہ مارچ 2025 میں حکومت نے خسارے کا شکار 1700 یوٹیلٹی اسٹورز بند اور کنٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔سینیٹر عون عباس بپی کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی وزارت صنعت و پیداوار کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھا۔اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کاپوریشن کے مستقبل پر بریفنگ دی گئی تھی، ایم ڈی یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے بتایا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز حکومت کی نجکاری لسٹ میں ہے، 2 سالہ آڈٹ نہ ہونے کے باعث نجکاری کا عمل رک گیا ہے، اگست 2025میں 2 سالہ آڈٹ مکمل کرنے کا ہدف ہے، یوٹیلیٹی اسٹورڑ کی پراپرٹی کی ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن حکومت کی سیکنڈ نجکاری لسٹ پر ہے، خسارے میں جانے والے 1700 یوٹیلٹی اسٹورز بند کیے جا رہے ہیں، نجکاری کے بعد کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین فارغ ہوں گے۔ایم ڈی یوٹیلٹی اسٹورز کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت یوٹیلیٹی اسٹورز کے 5 ہزار ملازمین مستقل ہیں جنہیں سرپلس پول میں بھیجاجائے گا۔

  • اختیارات کا غلط استعمال کہیں نہیں ہونے دیں گے ،چیئرمین ایف بی آر

    اختیارات کا غلط استعمال کہیں نہیں ہونے دیں گے ،چیئرمین ایف بی آر

    اسلام آباد: چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کا کہنا ہے کہ ادارے میں اصلاحات کی گئی ہیں جس کا مقصد شفافیت لانا ہے ،اختیارات کا غلط استعمال کہیں نہیں ہونے دیں گے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے دروازے تمام ٹیکس دہندگان کیلئے کھلے ہیں ،ایف بی آر میں ایمانداری کے کلچر کو فروغ دینا ہے ،ٹیکس فراڈ کرنےوالوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔پچھلے سال کمپلائنس ریٹ بڑھا کر ٹیکس محصولات کو بڑھایا گیا ،پچھلے سال 105بلین روپےانفورسمنٹ سے آئے،اس سال انفورسمنٹ سے 865بلین روپے جمع ہوئے۔جن لوگوں کی شہرت اچھی نہیں انہیں ہٹایا گیا ،پر فارمنس کی بنیاد پر افسران کی تنخواہیں بڑھائی گئیں ،جن کی شہرت ٹھیک نہیں ان کو پروموٹ نہیں کر رہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کے ٹیکس نیٹ میں اضافے کو سراہاہے،گزشتہ سال ایف بی آر کے ریونیو میں 10سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ،ایف بی آر کے اقدامات سے لوگوں کے رویے میں تبدیلی آئی۔