اسلام آباد: کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان ہے جب کہ پاور ڈویژن کی ملک بھر میں یکساں ٹیرف کے لیے درخواست پر سماعت شروع ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ایک روپے سولہ پیسے کمی کا امکان ہے، پاور ڈویژن کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے بنیادی ٹیرف میں کمی کی تجاویز تیار کرلی۔گھریلو صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف 48.84 سےکم ہوکر 47.69 روپے تک رہے گا۔ماہانہ 50 یونٹ تک کے گھریلو لائف لائن صارفین کے لیے 3.95 روپے فی یونٹ کا ٹیرف برقرار رکھںے کی تجویز ہے۔ماہانہ 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے ٹیرف 7.74 روپے فی یونٹ برقرار رکھںے اور ایک سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کا ٹیرف 1.15 روپے کمی سے 10.54 روپے فی یونٹ کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کا ٹیرف 13.01 روپے فی یونٹ، ایک سے 100 یونٹ تک نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کا ٹیرف 22.44 روپےکرنے کی تجویز ہے۔ماہانہ 101 سے 200 یونٹ تک کا ٹیرف 1.16 روپےکمی سے 28.91 روپے فی یونٹ اور ماہانہ 201 سے 300 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 33.10 روپےفی یونٹ کی تجویز ہے۔ماہانہ 301 سے 400 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 37.99 روپے فی یونٹ، ماہانہ 401 سے 500 یونٹ کا ٹیرف 1.14 روپے کمی سے 40.22 روپے فی یونٹ اور ماہانہ 501 سے 600 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 41.62 روپے فی یونٹ ہوگا۔ماہانہ 601 سے 700 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 42.76 روپے اور ماہانہ 700 یونٹ سے زیادہ کا ٹیرف 1.15 روپے کمی سے 47.69 روپےکرنے کی تجویزہے۔نیپرا سماعت کے دوران حکام پاور ڈویژن نے کہا کہ کرنسی میں استحکام اور عالمی سطح پر فیول پرائسز میں کمی کی وجہ سے ٹیرف کم ہورہا ہے، نیپرا نے بھی بنیادی ٹیرف میں کمی تجویز کی ہے۔ پاور ڈویژن نے کہا کہ اوسط بنیادی ٹیرف 35روپے 50پیسے سے کم ہوکر 34روپے پر آگیا، کیپسٹی چارجز میں ایک سال کے دوران 1روپے 34پیسے کمی آئی ہے، بجلی کی پیداواری لاگت میں 1روپے 27پیسے کمی آئی ہے۔اتھارٹی حکومتی درخواست پر بنیادی ٹیرف سے متعلق درخواست پر سماعت مکمل کر لی۔نئے مالی سال کیلئے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 15 پیسے کمی کا امکان ہے جب کہ نیپرا حکومتی درخواست پر اعداد وشمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کرے گا۔حکومت نے نئے مالی سال کیلئے بنیادی ٹیرف میں کمی کی درخواست کر رکھی ہے۔
Category: کاروبار
-

فنانس ایکٹ 2025 آج سے نافذ،312 ارب کے نئے ٹیکس لگ گئے
اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ 2025 کے تحت آج(منگل) سے 389 ارب کے انفورسمنٹ اقدامات اور 312 ارب کے نئے ٹیکس لگ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق میوچل فنڈ کے ذریعے سرمایہ کاری پر عائد 25 فیصد ٹیکس بڑھ کر 29 فیصد ہو گیا ہے جبکہ سولر پینلز کی فروخت پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے بجٹ 26-2025 کے بعد ایف بی آر کو کاروبار کیلئے رجسٹرڈ شناختی کارڈ نمبر کی ٹرانزیکشنز چیک کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) حکام کا کہنا ہے کہ فنانس ایکٹ 2025-26 منگل سے سے باضابطہ طور پر لاگو کردیا گیا ہے۔فنانس ایکٹ کے تحت کی جانے والی ترامیم اور متعارف کروائی جانے والی نئی شقوں کے تحت انففورسمنٹ بھی بڑھائی جائے گی۔نئے اقدامات کے تحت ٹی بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں سرمایہ کاری پر بھی ٹیکس عائد کر دیا ہے جب کہ ای کامرس اور آن لائن کاروبار کرنے والوں کیلئے ایف بی آر رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دے دی گئی ہے۔دوسری جانب حکومت کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی شرح 90 روپے تک بڑھانے کی اجازت مل گئی ہے، نئے مالی سال کیساتھ ہی تنخواہوں پر نئی ٹیکس سلیب پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کاربن لیوی، سولرپینلز کی درآمد پر 10 فیصد سیلز ٹیکس، ہائی برڈ گاڑیوں کے پرزوں پر 4 فیصد اور زرعی ٹریکٹرز پر15 فیصد ڈیوٹی، آئی ڈراپس سمیت آنکھوں کی ادویات اور گلوکوز پر 10فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کردی ہے۔تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی کا بھی اطلاق ہو گیا ہے اور ساتھ ہی 109اداروں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ایک لاکھ روپے تک آمدن والے ملازمین کو ایک فیصد انکم ٹیکس دینا ہو گا جب کہ ساڑھے 8 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ پینشن پر اب انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد اور 70 لاکھ سے مہنگی گاڑی خریدنے کیلئے ایف بی آر سے سرٹیفکیٹ لینا ہوگا۔اس کے علاوہ سیکڑوں اشیاء کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی،ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں بھی کمی کا اطلاق کردیا گیا ہے جس سے صنعتی خام مال کی درآمد سستی ہوگی اور کاروباری لاگت و پیداواری لاگت میں کمی اور مینفویکچرنگ کو فروغ ملنے کے امکانات ہیں۔نئے اقدامات کے تحت ٹیکس نیٹ سے باہر شہری اب صرف سادہ اکاوٴنٹ ہی رکھ سکیں گے بینک اکاوٴنٹ سے محدود رقم نکالنے کی اجازت ہوگی۔سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہ ہونے والے بڑے دکانداروں کے خلاف کارروائی ہوگی، سیلز ٹیکس کے غیررجسٹرڈ افراد کا کاروبار سیل یا پراپرٹی ضبط ہو سکتی ہے۔پانچ کروڑ سے زائد ٹیکس فراڈ پر کمیٹی کی اجازت سے گرفتاری بھی ہو سکے گی اسی طرح ٹیکس نیٹ سے باہر شہریوں کے سیونگ یا کرنٹ اکاونٹ کھولنے پر پابندی ہوگی وہ اب صرف سادہ بینک اکاونٹ ہی رکھ سکیں گے اور انہیں اکاوٴنٹ سے خاص حد تک ہی رقم نکالنے کی اجازت ہو گی۔اس کے علاوہ مشترکہ بارڈر مارکیٹ میں فروخت ہونے والی 122 اشیا ء کو بھی تین کیٹگریز میں تقسیم کردیا گیا۔جن میں پہلی کٹیگری میں شامل اشیا پر 5فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے اور دوسری کٹیگری پر 10 فیصد اور تیسری پر 20فیصد کسٹمز ڈیوٹی لی جائے گی۔اسی طرح ٹیکسٹائل سیکٹر کے آلات اور مشنیری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی زیرو، کینسر ، ہیپاٹائٹس بی کی ادویات اور ویکسینز جبکہ ادویات میں استعمال ہونے والے 380 اقسام کے خام مال کی درآمد پر بھی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔
-

نئے مالی سال کا شاندار آغاز! سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، نیا ریکارڈ قائم
کراچی: نئے مالی سال کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔کاروباری ہفتے کے دوسرے روز اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان رہا ، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 2522 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 28 ہزار 149 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی جس کے باعث 100 انڈیکس 1248 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 25 ہزار 627 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز 20 ارب 30 کروڑ 13 لاکھ 57 ہزار 542 روپے مالیت کے 25 کروڑ 89 لاکھ 93 ہزار 624 شیئرز کا لین دین ہوا تھا۔
-

ریکوڈک منصوبے سے 75 ارب ڈالرز سے زائد منافع متوقع ہے: نیتالی اے بیکر
اسلام آباد: امریکی ناظم الامور نیتالی اے بیکر کا کہنا ہے کہ ریکوڈک منصوبے سے آئندہ برسوں میں 75 ارب ڈالرز سے زائد منافع متوقع ہے۔پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے لیے اہم معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر آن لائن سیشن سے خطاب کرتے ہوئے نیتالی اے بیکرنے کہا کہ امریکی کمپنیوں کو اہم معدنی وسائل اور تعاون کے امکانات سے آگاہ کیا گیا۔امریکی ناظم الامور نے کہا کہ وزیرِ توانائی علی پرویز ملک اور دیگر حکام نے معدنی شعبے میں حکومتی پالیسی پر بریفنگ دی، پاکستان میں تانبا، سونا، لیتھیئم سمیت وسیع معدنی ذخائر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سرمایہ کاروں کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی ہیں، ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے معدنی شعبے کی صلاحیت کا شاندار مظہر ہے۔امریکی ناظم الامور نیتالی اے بیکرنے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ امریکی کمپنیوں کے لیے 1 ارب ڈالرز کے برآمدی مواقع فراہم کرے گا، امریکی مشن پاکستان میں مضبوط اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیاں جدید سروے، انفرااسٹرکچر اور منصوبہ بندی میں مہارت رکھتی ہیں، امریکی سفارتخانہ پاکستان میں کاروبار کے لیے امریکی کمپنیوں کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ نیتالی اے بیکر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں نئے منصوبوں کے لیے امریکی کمپنیوں کی شراکت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، ریکوڈک کے قریب تانبے اور سونے کے نئے ذخائر کی تلاش جاری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں انتیمونی کے نئے ذخائر کے لیے شراکت داروں کی تلاش جاری ہے، پاکستان اور امریکا کے معدنی شعبے میں تعاون سے دونوں ممالک کو ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
-

قومی اسمبلی اجلاس: 33 وزارتوں اور ڈویژنوں کا مطالبات زر کی منظوری کا عمل مکمل
اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس 33وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں نے مطالبات زر کی منظوری کا عمل مکمل کرلیا گیا۔اجلاس کےدوران وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے 9ہزار 951ارب22کروڑ سے زائد کے 136 مطالبات زر منظور کرلیے گئے، اپوزیشن کی ساڑھے 7سو سے زائد کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔اسی طرح غذائی تحفظ ڈویژن کے 34 ارب 4 کروڑ کے تین مطالبات زر منظور، کٹوتی کی 98 تحاریک مسترد کیں، آج کے اجلاس میں چار وزارتوں اور ڈویژنوں کے4ہزار814 ارب روپے سے زائد کے مطالبات زر منظور کیے گئے۔دوسری جانب قومی اسمبلی کل فنانس بل کی منظوری دے گی جب کہ اجلاس کل 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
-

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تعاون کے مختلف شعبوں پر اتفاق
ابوظہبی: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا بارہواں اجلاس ابوظہبی میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور یو اے ای کے نائب وزیراعظم شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے کی۔اجلاس سے قبل وزیراعظم پاکستان کے خصوصی معاون طارق باجوہ اور یو اے ای کے وزیر مملکت احمد علی السیاگ کی زیر صدارت ورکنگ گروپ کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ہوابازی، تحفظ خوراک، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت سمیت متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر ویزہ فری انٹری، مشترکہ سرمایہ کاری ٹاسک فورس،مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کیلئے تعاون کی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔اجلاس میں علاقائی اور عالمی پیش رفت، نیز خطے میں امن و استحکام کے فروغ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔مشترکہ وزارتی کمیشن کا کامیاب انعقاد پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے، دوستانہ اور سٹریٹجک تعلقات کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

-

وزارت تجارت کے 26 ارب 99 کروڑ 85 لاکھ 74 ہزار روپے کے دو مطالبات زر منظور
اسلام آباد:قومی اسمبلی نے وزارت تجارت کے 30 جون 2026ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کیلئے 26 ارب 99 کروڑ 85 لاکھ 74 ہزار روپے کے دو مطالبات زر منظور کر لئے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی کٹوتی کی 67 تحاریک مسترد کر دی گئیں۔قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایوان میں شعبہ تجارت کے اخراجات پورے کرنے کیلئے 26 ارب 94 کروڑ 85 لاکھ 74 ہزار روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 64 تحاریک جمع کرائی گئی تھیں۔کٹوتی کی تحریکیں عالیہ کامران، اسلم گھمن، احد علی شاہ نے پیش کیں جن کی وزیر خزانہ کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ وزیر خزانہ نے شعبہ تجارت کے ترقیاتی اخراجات پورے کرنے کیلئے 50 کروڑ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 3 تحریکیں جمع کرائی گئیں۔ عالیہ کامران نے تحریک پیش کی جس کی وزیر خزانہ نے مخالفت کی۔وزیر تجارت جام کمال خان نے کٹوتی کی تحاریک پربحث کوسمیٹتے ہوئے کہاکہ جاری مالی سال کے دوران ملکی برآمدات 30.3 ارب ڈالرریکارڈکی گئی ہے، پاکستان پانچ سال کے دوران پہلی مرتبہ ریکارڈ باسمتی چاول برآمد کر رہا ہے، چاول کے دیگر اقسام کی برآمدات گزشتہ سال کی سطح پر ہے، پاکستانی برآمد کنندگان کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے وزارت تجارت کے ساتھ مل کرچاول کی برآمدات کے حجم میں اضافہ کو ممکن بنایا۔انہوں نے کہاکہ تجارت اور برآمدات میں اضافہ کیلئے جوپالیسی بنائی جارہی ہے اس کیلئے بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، نئی پالیسی میں عملی اقدامات پرتوجہ دی جارہی ہے، نئی پالیسی میں تمام شراکت داروں سے مشاورت کی جارہی ہے۔تجارت اوربرآمدات میں اضافہ کیلئے 17 سیکٹوریل اجلاس منعقد ہوئے ہیں جس میں تمام متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ ان تجاویز اورسفارشات کی روشنی میں برآمدات کو60ارب تک بڑھانے کی پالیسی وضع کی گئی ہے۔
-

ایران، اسرائیل جنگ بندی‘ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ کی دوسری سب سے بڑی تیزی
کراچی: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، جسے مارکیٹ کی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی تیزی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ایک ہی دن میں ہنڈریڈ انڈیکس نے 6500 پوائنٹس کی شاندار چھلانگ لگائی اور 116,000 سے بڑھ کر 122,246 پوائنٹس پر بند ہوا۔منگل کو کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں 4000 سے زائد پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی اور کے ایس ای-30 انڈیکس میں 5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ یہ مسلسل پانچ منٹ تک اسی سطح پر ٹریڈ ہوتا رہا جس کے باعث قواعد کے مطابق ٹریڈنگ کو ایک گھنٹے کے لیے روکنا پڑا۔سابق ڈائریکٹر پی ایس ایکس ظفر موتی نے اسے “کولنگ پیریڈ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران سودوں کی سیٹلمنٹ ہوتی ہے۔سابق ڈائریکٹر پی ایس ایکس عابد علی حبیب نے کہا کہ یہ غیر معمولی تیزی ایران، اسرائیل جنگ بندی اور پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے حل کے مشترکہ اثر کا نتیجہ ہے۔انہوں نے پیش گوئی کی کہ مارکیٹ جلد ہی 135,000 سے 140,000 پوائنٹس کی سطح کو چھو سکتی ہے۔ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد جب مارکیٹ دوبارہ کھلی تو تیزی کا رجحان مزید بڑھ گیا اور ایک ہی دن میں چھ نفسیاتی حدیں بحال ہوگئیں۔اسٹاک تجزیہ کار شہریار بٹ نے کہا کہ یہ دن مارکیٹ کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل رہا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 6079 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 122,246 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ 37.5 ارب روپے مالیت کے 80 کروڑ شیئرز کا نمایاں لین دین ہوا۔
-

شوگرملز مالکان کی من مانی ختم کرنے کیلئے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دیدی گئی
اسلام آباد: ملک میں چینی کی فراہمی اور قیمتوں پر قابو پانے کے لیے شوگر ایڈوائزری بورڈ نے پانچ لاکھ ٹن چینی درآمدکرنیکی منظوری دے دی ہے۔وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں شوگر ایڈوائزری بورڈ نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمدکرنیکی منظوری دے دی ہے حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شوگر مل مالکان کی من مانی کو قیمتوں میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔اجلاس میں چینی کی فراہمی اور قیمتوں پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ چند روز میں درآمدی چینی سے متعلق رسمی کارروائیاں مکمل کرلی جائیں گی۔رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے درآمدکا فیصلہ ناگزیر ہوگیا ہے، ملک بھر میں چینی کی سپلائی میں کمی کا سامنا ہے۔رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ چینی کی قلت پرقابو پانیکے لیے فوری اقدامات جاری ہیں، درآمدی چینی کو جلد مارکیٹ میں لایا جائیگا تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔
-

معیشت میں شفافیت کیلئےیجیٹل لین دین کا نظام قائم کرنا انتہائی اہم ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس اکانومی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈوپشن کمیٹی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی، اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ ان خصوصی سب کمیٹیوں کا مقصد عوام اور کاروباری افراد کے درمیان ادائیگیوں کے لیے سہولیات فراہم کرنا، ڈیجیٹل نظام سے متعلق آگاہی دینا، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو فعال کرنا، ایک قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان بنانا، حکومت اور نجی شعبے کے درمیان لین دین کو آسان بنانے کے حوالے سے سفارشات پیش کرنا ہے۔وزیراعظم نے کیش لیس نظام کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل لین دین کو عوام کے لیے نقد ادائیگیوں کی نسبت ارزاں اور آسان بنانے کی ہدایت کی اور ادائیگیوں کے ڈیجیٹل نظام راست (RAAST) کو وفاق سمیت تمام صوبوں میں قائم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ معیشت میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل لین دین کا نظام قائم کرنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ پوری دنیا میں ترقی یافتہ ممالک اور کامیاب معیشتوں میں کیش لیس نظام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے لین دین اور ادائیگیوں کے ڈیجیٹل نظام کے قیام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا، یہ بھی کہا کہ بینکاری نظام کے تحت گردش کرنے والی رقوم کو حکومتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے سرکاری اور نجی شعبوں کے مابین لین دین کو کیش لیس بنانے کی بھی ہدایت دی۔اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں کیش لیس نظام قائم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت راست سسٹم سے 4 کروڑ صارفین مستفید ہو رہے ہیں، جن کی تعداد بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے تمام مالی لین دین راست سسٹم کے ذریعے کیے جا رہے ہیں اور یہ نظام صوبوں میں بھی لاگو کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ فنٹیک (FINTECH) اس ایکو سسٹم کی ایک اہم کڑی ہے، اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کی جا چکی ہے جس کے تحت ملکی معیشت کو کیش لیس بنانے پر کام جاری ہے۔ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی وفاقی وزارت آئی ٹی کی قیادت میں کام کرے گی، جبکہ کیش لیس پاکستان اسٹیئرنگ کمیٹی وزارت آئی ٹی سیکریٹریٹ میں قائم ہے۔ سمارٹ اسلام آباد پائلٹ منصوبے کے تحت وزارت آئی ٹی اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا کیش لیس شہر بنانے کے لیے اقدامات لے رہی ہے۔اس اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
