Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 51 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • ترسیلات زر میں31 فیصد اضافے پر وزیراعظم کا اظہار اطمینان

    ترسیلات زر میں31 فیصد اضافے پر وزیراعظم کا اظہار اطمینان

    اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 31 فیصد اضافے پر وزیراعظم شہباز شریف نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ جولائی 2024 تا اپریل 2025 ترسیلات زر 31.2 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ اوورسیز پاکستانیوں کی حب الوطنی اور ملکی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، حکومت پاکستان ملکی معیشت کی ترقی کےلیے پر عزم ہے۔
    یاد رہے کہ سال 2025ء کے چوتھے ماہ میں بیرونِ ملک مقیم (اوورسیز) پاکستانیوں نے 3.2 ارب ڈالر ملک بھیجے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اپریل 2025ء میں ورکرز ترسیلات 3.2 ارب ڈالر رہیں۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اپریل2025ء کی ورکرز ترسیلات اپریل 2024ء کے مقابلے 13.10 فیصد زائد ہیں، مالی سال کےابتدائی 10میں ورکرز ترسیلات 30 فیصد اضافے سے31.2 ارب ڈالر رہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق سعودی عرب سے اپریل میں 72.54 کروڑ ڈالر کی ورکرز ترسیلات موصول ہوئیں جبکہ یو اے ای سے اپریل میں 65.76 کروڑ ڈالر کی ورکرز ترسیلات موصول ہوئیں۔

  • آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی بجٹ 2025-26 کی تیاری کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا ۔وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز کاروباری شخصیات اور معاشی ماہرین سے مشاورت کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحای کےلئے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی فروغ، پیداوار میں اضافہ، اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت دی کہ بجٹ کی تیاری میں برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو مرکزِ نگاہ رکھا جائے۔ محمد شہباز شریف نے زور دیا کہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دے کر انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ زراعت، آئی ٹی، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو بجٹ میں بھرپور سپورٹ فراہم کی جائے گی۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کو فروغ دینا بھی آئندہ بجٹ کی اہم ترجیح ہو گی۔ پاور سیکٹر میں حکومتی اصلاحات کے مثبت اثرات ظاہر ہو رہے ہیں اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنا اس سمت ایک اہم قدم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی نظام کو شفاف بنانے، کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ کا عمل آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہے گا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پانچ سالہ تجارتی پالیسی فریم ورک (2025-30) اور ای کامرس 2.0 فریم ورک بھی تکمیل کے قریب ہیں۔اجلاس میں شامل کاروباری شخصیات اور ماہرین نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے ان تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہدایت دی کہ قابل عمل تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا جائے۔

  • ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب کیلئےپاکستان کے پہلے گرین سکوک بانڈز کا اجراء

    ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب کیلئےپاکستان کے پہلے گرین سکوک بانڈز کا اجراء

    اسلام آباد: پاکستان نے پہلے گرین سکوک بانڈز کے اجراء کا اعلان کر دیا۔اس حوالے سے جاری کیے گئے وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق گرین سکوک سے ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب ہو گی، بانڈز کا ابتدائی اجراء 20 سے 30 ارب روپے تک ہو گا، جن کی نیلامی کی جائے گی۔اعلامیے میں وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ بانڈز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے لسٹ اور فروغ دیا جائے گا، بانڈز کے اجراء میں مختلف نجی بینک بھی جوائنٹ فنانشل ایڈوائزرز ہیں، کابینہ کی منظور کردہ پائیدار سرمایہ کاری سکوک فریم ورک کی بنیاد پر اجراء کیا گیا ہے۔وزارتِ خزانہ نے بتایا ہے کہ گرین سکوک بانڈز کے اجراء کا اقدام پاکستان کے وژن 2028ء سے ہم آہنگ ہے، اس سے سرمایہ کاروں کو ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کا منفرد موقع ملے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ پائیدار فنانس کو پاکستان کی ترقیاتی حکمتِ عملی میں ضم کرنے کا تاریخی قدم ہے، گرین سکوک وسیع تر سرمایہ کاروں کو راغب، مالیاتی منڈیوں کو گہرا کرے گا، اس سے ملک کی سبز اور لچک دار معیشت کی طرف منتقلی تیز ہو گی۔

  • بھارت اور بنگلہ دیش کی ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں

    بھارت اور بنگلہ دیش کی ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں

    دہلی/ڈھاکہ: بھارت اور بنگلہ دیش نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں۔بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بھی کشیدگی جاری ہے۔ جس کے بعد بھارت نے بنگلہ دیش کے لیے تجارتی پابندیاں عائد کر دیں۔بھارت نے بنگلہ دیش کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت روک دی۔ اس سہولت سے بنگلہ دیش اپنی برآمدات بھارتی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے دیگر ممالک تک پہنچاتا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تجارتی سرگرمیاں روکنے کے حوالے سے بھارت کا مؤقف ہے کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر رش ہونے کی وجہ سے ٹرانزٹ سہولت روکی گئی ہے۔دوسری جانب بھارتی اقدام کے جواب میں بنگلہ دیش نے بھی بھارت سے روڈ کے ذریعے سوتی دھاگے کی درآمد پر پابندی لگا دی۔ بنگلہ دیش کی جانب سے یہ پابندی سستے درآمدی دھاگے سے مقامی صنعتوں کو تحفظ دینے کے لیے لگائی گئی ہے۔

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں1 فیصد کمی کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں1 فیصد کمی کردی

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں1 فیصد کمی کردی جس کے بعد شرح سود 12 فیصد سے کم ہوکر 11 فیصد ہوگئی۔اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی ٹیرف کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عالمی غیریقینی کیفیت اور بین الاقوامی سیاسی حالات معیشت کے لیے چیلنجزہونگے۔حقیقی جی ڈی پی نمو 1.7 فیصد سال بسال رہی،جاری کھاتے میں 1.2 ارب ڈالر کا نمایاں سرپلس رہا جس کی بڑی وجہ ریکارڈ بلند ترسیلات زرہیں۔حقیقی پالیسی ریٹ ابھی تک اس قدر مثبت ہے کہ مہنگائی مستحکم ہوکر 5-7 فیصد کی حدود میں آجائےگی،لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کےشعبوں کےنتائج بدستور توقع سے کم ہیں۔تعمیرات سے منسلک شعبوں میں خاصی کمی ریکارڈ کی گئی ہے،زراعت کے شعبے میں گندم کی پیداوار ہدف کے مقابلے میں بہترریکارڈکی گئی۔جاری کھاتہ مجموعی فاضل رقم جولائی تا مارچ مالی سال 25 کے دوران 1.9 ارب ڈالر تک جا پہنچی،اپریل میں تجارتی خسارہ تیزی سے بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر جون 2025 تک بڑھ کر 14 ارب ڈالر ہو جائیں گے،جولائی تا اپریل مالی سال 25 میں ایف بی آر کے ٹیکس محاصل میں 26.3 فیصد سال بسال اضافہ دیکھا گیا۔مالی سال25 کے دوران ٹیکسٹائل، ریفائنری، کیمیکل اور کھاد کے شعبوں میں فرموں نے جاری سرمائے کی غرض سے اپنے قرضوں میں اضافہ کردیا۔آٹو فنانسنگ اور ذاتی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے،عمومی مہنگائی میں کمی کا ریکارڈ سال بہ سال بنیادوں پر 0.3 فیصد رہ گیا۔

  • آئی ایم ایف نے بھارتی مطالبہ مسترد کر دیا‘پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر پیکیج ملنے کا امکان

    آئی ایم ایف نے بھارتی مطالبہ مسترد کر دیا‘پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر پیکیج ملنے کا امکان

    اسلام آباد:آئی ایم ایف نے پاکستان مخالف بھارتی مطالبہ مسترد کردیا ہے جب کہ پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر پیکیج ملنےکا بھی امکان ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھارت کی جانب سے پاکستان کی امداد روکنے کا مطالبہ نظر انداز کردیا ہے۔ آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 9 مئی کو اپنے شیڈول کے مطابق ہی ہوگا۔نمائندہ آئی ایم ایف ماہر بنیسی نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 9 مئی کو اپنے شیڈول کے مطابق ہی ہوگا، جس میں پاکستان کی درخواست پر بھی غور ہوگا۔ ہم دوسرے ممالک کے خدشات پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔دوسری جانب وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے 2.3 ارب ڈالر پیکیج ملنے کاامکان ہے۔ بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو مجموعی طور پر 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں کلائمیٹ فنانسنگ سے متعلق 1.3 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کی منظوری متوقع ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فنڈز 28 ماہ میں اقساط میں ملیں گے۔یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 25 مارچ 2025 کو طے پایا تھا۔اس سے قبل بھارت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ اس بارے میں بھارتی حکومت کے ایک عہدیدار کے غیرملکی خبررساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو کے حوالے سے شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بھارت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دی گئی مالی امداد کا ازسرِ نو جائزہ لے، تاہم اس مطالبے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔دوسری طرف پاکستانی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام مکمل طور پر درست سمت میں گامزن ہے۔ آئی ایم ایف کا حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔

  • بھارت نے آئی ایم ایف سے پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا مطالبہ کردیا

    بھارت نے آئی ایم ایف سے پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا مطالبہ کردیا

    نیودہلی: بھارت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ بھارتی حکومت کے ایک عہدیدار نے غیرملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ بھارت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دی گئی مالی امداد کا ازسرِ نو جائزہ لے تاہم اس مطالبے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔پاکستانی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام مکمل طور پر درست سمت میں گامزن ہے، آئی ایم ایف کا حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج حاصل کیا تھا، جبکہ مارچ 2025 میں پاکستان 1.3 ارب ڈالر کا Climate Resilience Loan بھی دیا گیا تھا۔ ان امدادی پروگرامز کی بدولت ملک کی 350 ارب ڈالر مالیت کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔خیال رہے کہ بھارتی مطالبہ پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق بھارت نے حملے میں ملوث 3 افراد کی شناخت کی ہے، جن میں سے دو کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے بھارتی الزامات کی تردید کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • معاشی اصلاحات سے افراطِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پالیا گیا، وزیر خزانہ

    معاشی اصلاحات سے افراطِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پالیا گیا، وزیر خزانہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے معاشی اصلاحات سے افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پالیا ہے۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے عہدیداروں اور ممبران کے ساتھ زوم میٹنگ میں وزیر خزانہ نے حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر میٹنگ کے شرکا نے پائیدار ترقی پر زور، معاشی اصلاحات اور معاشی ترقی میں نجی شعبے کے رہنما کردار پر اتفاق کیا۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے اور پائیدار، مستحکم و جامع ترقی کے لیے جاری عزم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے معیشت کو مؤثر، شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے ٹیکس، توانائی، عوامی مالیات اور سرکاری اداروں سمیت اہم شعبوں میں جاری اصلاحات کا تذکرہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ مالی نظم و ضبط، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایسی معیشت تشکیل دینا ہے جو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات کو دہرایا کہ حکومت نہ صرف معاشی استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ نجی شعبے کو ترقی کا اہم محرک بنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ انہوں نے OICCI کی سفارشات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے بجٹ کی تیاری کے عمل میں ان پر غور کی یقین دہانی کرائی۔میٹنگ میں او آئی سی سی آئی نے بین الاقوامی شراکت داروں سے حکومت کی مؤثر بات چیت اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور ٹیکس بنیادوں کو وسعت دینے، ٹیکنالوجی و بین الادارتی رابطے کے ذریعے نظام کو مؤثر بنانے سمیت نجی شعبے کے ساتھ مستقل مشاورت کے فروغ کی سفارشات بھی پیش کیں۔چیمبر کے عہدیداروں نے گزشتہ سال کے دوران بزنس کانفیڈنس سروے میں کاروباری ماحول سے متعلق مثبت رجحان سامنے آنے کا ذکر کیا۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ حالیہ معاشی بہتری سے آئندہ مہینوں میں سرمایہ کاری کے مزید بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں ڈیجیٹل اصلاحات پر اہم اجلاس

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں ڈیجیٹل اصلاحات پر اہم اجلاس

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری ڈیجیٹل اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی و بین الاقوامی آئی ٹی ماہرین، سرمایہ کاروں، وزراء اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم نے ڈیجیٹل کوآپریشن کانفرنس کے تحت ہونے والے ڈیجیٹل انویسٹمنٹ فورم میں پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں مجموعی طور پر 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے اسے قابلِ تحسین قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی کاروباری برادری اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی آئی ٹی ماہرین عالمی مارکیٹ میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں اور اگر انہیں ان کی قابلیت کے مطابق مواقع دیے جائیں، تو وہ ملکی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ سرمایہ کاروں کو ایف بی آر میں جاری ڈیجیٹل اصلاحات میں شامل کرنے کے لیے ایک خصوصی ویبینار منعقد کیا جائے تاکہ انہیں سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع سے آگاہ کیا جا سکے۔اجلاس کے دوران شرکاء کو ایف بی آر میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارے میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، ڈیجیٹل تحقیق و تجزیات، فیس لیس ٹیکنالوجی، ڈجیٹل انوائسنگ اور کارگو ٹریکنگ جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں سے کئی اصلاحات نافذالعمل ہو چکی ہیں۔ایف بی آر میں جاری ان اصلاحات کے تحت 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش امکانات فراہم کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ ملکی سرمایہ کار برادری کو ان اصلاحاتی منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ پائیدار، دیرپا اور مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم میں نہ صرف قومی بلکہ عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کی سیکرٹری جنرل دیمہ بنت یحییٰ ال یحییٰ، معروف بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیوں کے سی ای اوز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں میں اصلاحات کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھائے گی، اور نجی شعبے کی شمولیت سے اسے مزید مستحکم کیا جائے گا-

  • وزیر اعظم سے ڈیجیٹل تعاون تنظیم کی سیکرٹری جنرل کی ملاقات، سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال

    وزیر اعظم سے ڈیجیٹل تعاون تنظیم کی سیکرٹری جنرل کی ملاقات، سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: وزیر اعظم سے ڈیجیٹل تعاون تنظیم (ڈی سی او) کی سیکرٹری جنرل دیما الیحییٰ نےملاقات کی ۔ملاقات میں ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد جدید ٹیکنالوجی کے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کا پاکستان میں جمع ہونا خطے میں پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کی نوجوان افرادی قوت ہے اور حکومت کی اولین ترجیحات میں انہیں ڈیجیٹل ہنر اور تربیت سے لیس کرنا شامل ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ 24 کروڑ افراد پر مشتمل پاکستانی معیشت ڈیجیٹل سٹارٹ اپس اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے خطے کی سب سے موزوں مارکیٹ ہے۔ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیاں اور سرمایہ کاروں کو دی جانے والی سہولیات کا مقصد ملک میں سرمائے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ہے۔انہوں نے نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ایسے منصوبے لانے کے عزم کا اظہار کیا جو نوجوان افرادی قوت کو اپنی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرنے اور باعزت روزگار حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جس سے وہ معیشت میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں۔وزیر اعظم نے ڈیجیٹل تبدیلی کو ایک ایسا انقلاب قرار دیا جو معیشتوں کو نئی شکل دے رہا ہے اور کہا کہ حکومت عالمی سطح پر ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ پاکستان کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا یہ فورم اور اس میں بین الاقوامی شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ڈیجیٹل تعاون تنظیم کی سیکرٹری جنرل دیما الیحییٰ نے پاکستان میں پہلے ڈیجیٹل شعبے کے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری فورم کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور اسلام آباد میں منعقد ہونے والے فورم کے پہلے اجلاس میں شرکت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، مشیر وزیر اعظم سید توقیر شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی-