واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کمپنی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایپل اپنے آئی فونز امریکہ میں تیار نہیں کرے گا تو ان پر25 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایپل کمپنی کے سی ای او ٹِم کُک کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ جو آئی فونز امریکہ میں فروخت کیے جائیں گے، وہ امریکہ میں ہی بننے چاہئیں۔ بھارت یا کسی اور جگہ سے تیار شدہ فون ناقابل قبول ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےپوسٹ کرنے کے بعد ایپل کے شیئرز فوراً بعد 3.5 فیصد گر گئے جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ S\&P 500 فیوچرز میں بھی 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ تجزیہ کار فواد رضا قضا کے مطابق چند لمحوں میں سارا سرمایہ کارانہ اعتماد ریزہ ریزہ ہو گیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرفعائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو یکم جون سے کاریں، ادویات، لگژری سامان اور دیگر یورپی مصنوعات پر سخت ٹیکس نافذ ہو جائیں گے۔جرمن آٹو کمپنیوں جیسے بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز اور پورشے کے شیئرز 4 فیصد سے زائد گر گئے ہیں سن گلاسز بنانے والی کمپنی EssilorLuxottica کی اسٹاک ویلیو 5.5 فیصد کم ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ ایپل ہر سال امریکہ میں 60 ملین سے زائد آئی فونزفروخت کرتا ہےمگر ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر امریکی سرزمین پر تیار نہیں ہوتا۔ بیشتر پیداوار چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک میں کی جاتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی کے مطابق امریکہ میں فروخت ہونے والی اشیاء کو مقامی طور پر تیار کیا جانا چاہیے تاکہ امریکی مینوفیکچرنگ اور روزگار کو فروغ مل سکے۔
Category: کاروبار
-

وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش ہوگا،ترجمان وزارت خزانہ
اسلام آباد: ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔خیال رہے کہ بجٹ 26-2025ء کے حوالے سے پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے سپر ٹیکس میں کمی، ریئل اسٹیٹ کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے، تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبوں کے لیے بھی حکومت کی جانب سے ریلیف مانگا جا رہا ہے، آئی ایم ایف نے تاحال کسی ممکنہ ریلیف پر انکار یا اقرار نہیں کیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ نئے مالی سال ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 2 حصوں پر مبنی ہو گا، حکومت نے آئی ایم ایف کو 14 ہزار ارب روپے سے زیادہ سالانہ ٹیکس ہدف مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے عدالتی کیسز سے حاصل ممکنہ ریونیو بھی مدِنظر رکھنے پر زور دیا ہے، مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلق 770 ارب کے مقدمات زیرِ التواء ہیں، 30 جون تک 250 ارب روپے کے کیسز کے فیصلے حق میں آنے کا امکان ہے، اگلے مالی سال کم از کم 500 ارب روپے مالیت کے مقدمات کے فیصلے متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف سے سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کا مطالبہ کر دیا ہے، ریئل اسٹیل، پراپرٹی، تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ریلیف مانگا ہے، معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف کے ساتھ تاحال کسی ریلیف پر انڈراسٹینڈنگ نہیں ہو سکی ہے۔
-

وزیراعظم سے چیمبرز آف کامرس کے صدور کی ملاقات، معاشی ترقی کیلئے حکومتی عزم کا اعادہ
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک بھر کے چیمبر آف کامرس کے صدور پر مشتمل وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی معیشت، کاروباری ماحول، اور نجی شعبے کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وزیراعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “معرکہ حق میں کامیابی کے بعد اب معاشی میدان میں تاریخ ساز فتح کے لیے حکومت اور پوری قوم پرعزم ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبے کو متحرک کر کے پاکستان کو جلد ایک عالمی معاشی طاقت بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح کاروباری برادری کے حقوق کا تحفظ اور انہیں ایک منافع بخش و سازگار ماحول کی فراہمی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے متعدد حکومتی اقدامات جاری ہیں۔وزیراعظم نے کاروباری لاگت میں کمی، آسان کاروبار کی پالیسی پر عمل درآمد، قرضوں کے حصول میں آسانی، اور بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور خواتین کاروباری افراد کو معاشی سرگرمیوں میں بھرپور تعاون دینے کے حکومتی عزم کو بھی دہرایا۔وفد نے وزیراعظم اور پاک فوج کو “معرکہ حق” میں فتح پر خراج تحسین پیش کیا اور حکومتی معاشی پالیسیوں کی بدولت معیشت میں بہتری پر اظہار تشکر کیا۔ وفد نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی میں بہتری حکومت کی درست معاشی سمت کی عکاس ہے۔
-

اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل فسکل پیکٹ پر عملدرآمد کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد: ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل فسکل پیکٹ (NFP) پر عملدرآمد کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرائے خزانہ، منصوبہ بندی، قانون، خوراک و تحفظ، اقتصادی امور ڈویژن (EAD)، ڈپٹی وزیر اعظم کے معاون خصوصی، اٹارنی جنرل پاکستان، رکن قومی اسمبلی نوید قمر، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میںنیشنل فسکل پیکٹ پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور وفاقی حکومت کو درپیش مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے وفاقی وسائل کے مالیاتی دائرہ کار کو بہتر بنانے اور بڑھانے کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا۔ اجلاس میں مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا تاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر کیا جا سکے اور وفاقی حکومت کو مستحکم مالی بنیاد فراہم کی جا سکے۔شرکاء نے نیشنل فسکل پیکٹ پر مکمل عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مالی مشکلات کا قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
-

پاکستان کو دس ماہ میں 6 ارب ڈالر کے فنڈز موصول
اسلام آباد : پاکستان کو رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 6 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی مالی معاونت موصول ہوئی، جو کہ مالی سال کے مجموعی ہدف 19.39 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ذرائع اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق پاکستان کو اس عرصے میں 5 ارب 92 کروڑ ڈالر قرض کی صورت میں جبکہ 15 کروڑ 83 لاکھ ڈالر گرانٹس کی مد میں موصول ہوئے۔
عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کو جولائی2024 تا اپریل2025کے دوران 2 ارب 97 کروڑ ڈالر موصول ہوئے جبکہ چین اور امریکا سمیت دیگر ممالک سے دو طرفہ قرضوں کی مد میں 37 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے۔
کمرشل قرضوں کی مد میں پاکستان نے 76 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیا اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے 1 ارب 61 کروڑ ڈالر کی آمد ہوئی۔
بجٹ سپورٹ کی مد میں 3 ارب ڈالر سے زائد جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب 63 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔
اگر آئی ایم ایف کی فنانسنگ اور دوست ممالک کے رول اوورز کو شامل کیا جائے تو پاکستان کو رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں مجموعی طور پر 14.1 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق 10 ماہ میں آئی ایم ایف سے ملنے والے 2.1 ارب ڈالر اس کے علاوہ ہیں جبکہ سعودی عرب، یو اے ای اور چین نے 6 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس رول اوور بھی کیے۔ -

حکومت کا آئی ایم ایف سے سپر ٹیکس، ریئل اسٹیٹ اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا مطالبہ
اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ 2025-26ء سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے سے سپر ٹیکس میں کمی، ریئل اسٹیٹ اور تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبوں کو ریلیف دینے کا مطالبہ کردیا۔ آئی ایم ایف نے صوبوں کے اخراجات کم کرنے، آمدن بڑھانے اور زرعی انکم ٹیکس وصولی کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مالی سال 2025-26ء کے بجٹ سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف سے سپر ٹیکس میں کمی، ریئل اسٹیٹ کو ریلیف دینے کا مطالبہ کردیا جبکہ تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبوں کیلئے بھی ریلیف مانگا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ریلیف کے معاملے پر سخت مزاحمت کا سامنا ہے، معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف کے ساتھ تاحال کسی ریلیف پر انڈراسٹینڈنگ نہیں ہوسکی۔ذرائع کے مطابق حکومت عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاہدے کی پابند ہے، فیصلے رضامندی سے ہوں گے، آئی ایم ایف ٹیکس رعایت پر ڈیٹا اور حکمت عملی دیکھ کر فیصلہ کرے گا، ابھی آئی ایم ایف ہر چیز کا ڈیٹا مانگ رہا ہے جو معاشی ٹیم فراہم کررہی ہے، آئی ایم ایف ٹیم کی جانب سے ڈیٹا پر سوالات کے جوابات بھی دیے جارہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی نئی شرائط بھی طے نہیں ہوسکیں، آئی ایم ایف نے صوبوں کے اخراجات کم کرنے، آمدن بڑھانے کا مطالبہ کیا جبکہ عالمی مالیاتی ادارے نے زرعی انکم ٹیکس وصولی کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کیلئے ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف دو حصوں پر مبنی ہوگا، 14 ہزار ارب سے زیادہ سالانہ ٹیکس ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے، آئی ایم ایف نے عدالتی کیسز سے حاصل ممکنہ ریونیو بھی مد نظر رکھنے پر زور دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلق 770 ارب کے مقدمات زیر التواء ہیں، 30 جون تک 250 ارب کے کیسز کے فیصلے حق میں آنے کا امکان ہے، اگلے مالی سال کم از کم 500 ارب روپے مالیت کے مقدمات کے فیصلے متوقع ہیں۔
-

پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں عالمی بینک کی حمایت قابلِ تحسین ہے، احد چیمہ
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور، احد چیمہ نے پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں عالمی بینک کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بینک کا تعاون ملکی معاشی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔یہ بات انہوں نے آج اسلام آباد میں عالمی بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز، محترمہ اینا بیئرڈے (Anna Bjerde) سے ملاقات کے دوران کہی۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے جاری منصوبوں کی فعالیت بڑھانے کے اقدامات اور پاکستان کے لیے عالمی بینک کے نئے “کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF)” کے تناظر میں آئندہ تعاون کے شعبہ جات پر تبادلہ خیال کیا۔احد چیمہ نے پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری آفس، خصوصاً سبکدوش ہونے والے کنٹری ڈائریکٹر نازی بن حسین (Najy Benhassine) کی قیادت اور معاونت کو سراہا۔احد چیمہ نے موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کی بدولت پاکستان کی معیشت میں قلیل مدت میں حاصل ہونے والی قابلِ ذکر بہتری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات کی بدولت ملک میں پائیدار اقتصادی استحکام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔عالمی بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی حکومت کی آئی ایم ایف سے کامیاب شراکت اور معاشی بحالی کے حوصلہ افزا اشاروں کو سراہا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کی تیاری اور انسانی ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔دونوں فریقین نے CPF کے مؤثر نفاذ کے لیے جلد از جلد ایک عملی فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا تاکہ متوقع اہداف حاصل کیے جا سکیں اور آئندہ دو سال کے لیے منصوبہ جات کی پائپ لائن کو مضبوط بنایا جا سکے۔عالمی بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کو اہم شعبوں میں تکنیکی معاونت اور مسلسل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔
-

آئی ایم ایف نے نئے مالی سال کا بجٹ قرض معاہدے کے نکات سے مشروط کردیا
اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ عملے کی سطح پر طے پانے والے معاہدے کے نکات سے مشروط کردیا ہے۔آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا جہاد ازعور پاکستان کے دورے پر پہنچ گئے ہیں اور وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے اہم ملاقات کی اور اس کے علاوہ وزیراعظم سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اسٹاف سطح کے معاہدے میں طے شدہ نکات اور شرائط کی روشنی میں ہونا چاہیے اور حتمی بجٹ مسودہ اسٹاف سطح کے معاہدے میں طے پانے والے نکات اور شرائط سے مشروط کیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت کی بجٹ سازی پر اختیار محدود ہو گیا ہے البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے بجٹ کا حجم 17 ہزار 600 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے وزیراعظم کو ٹیکسیشن تجاویز پیش کر دی ہیں اور اگلے مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14.07 ٹریلین روپے ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے انکم ٹیکس ریلیف کو ناکافی قرار دیا ہے اس لیے اب آئی ایم ایف کو ریلیف کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ریلیف کی صورت میں ہونے والے ریونیو کے نقصان کو متبادل ذرائع سے پورا کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور توقع ہے اس بارے جلد اتفاق رائے ہو جائے گا۔
-

وفاقی وزیرخزانہ کی نیدرلینڈز کی سفیر ہینی ڈی ویریز سے ملاقات‘ سرمایہ کاری کا خیرمقدم
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔اسلام آباد میں نیدرلینڈز کے سفیر ہینی ڈی ویریز سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان میں ڈچ کمپنیوں کی مسلسل دلچسپی اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے پاکستان کو مختلف شعبوں، خصوصاً ترقیاتی اور استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں میں نیدرلینڈز کی جانب سے فراہم کی جانے والی تکنیکی و مالی معاونت کو بھی سراہا۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان اقتصادی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
-

فضائی حدود بندش: بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری بحران کا شکار، ایئرلائنز کو اربوں کا نقصان
اسلام آباد: پہلگام واقعے اور پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان کی جانب سے بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش آج 22ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے فضائی حدود پر پابندی کے باعث بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے بھارتی ایئرلائنز کو تقریباً 5 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔پاکستانی فضائی حدود کی بندش نہ صرف بھارتی ایئرلائنز بلکہ کارگو سروس کو بھی متاثر کر رہی ہے، جس سے بھارت کی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی پروازوں کو امریکا، یورپ اور کینیڈا جانے کے لیے طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔اس تبدیلی سے ہر پرواز کو ڈھائی سے 3 گھنٹے زیادہ لگ رہے ہیں، جس سے ایندھن کے اخراجات، عملے کی ڈیوٹی ٹائم اور مسافروں کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لاکھوں بھارتی مسافر جو بیرونِ ملک سفر کر رہے ہیں، پروازوں کی تاخیر اور پیچیدہ روٹس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔کارگو سروسز کی بندش سے بھارتی برآمدات پر منفی اثرات پڑے ہیں، جس کے باعث کئی تجارتی معاہدے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات معمول پر نہیں آتے، بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند رہیں گی۔بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ہوا بازی کے شعبے کی کمر توڑ دی ہے اور اگر بندش مزید جاری رہی تو بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
