اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر 168 نامکمل ترقیاتی منصوبے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع کے مطابق ان منصوبوں کے لیے مزید فنڈز جاری نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے وزارت منصوبہ بندی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت 1.1 ٹریلین روپے ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد جن ترقیاتی منصوبوں کا اختیار صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، ان پر وفاقی بجٹ سے اخراجات نہیں ہونے چاہئیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان منصوبوں کی لاگت 1100 ارب روپے تھی ، اب تک ان ترقیاتی منصوبوں پر 300 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، بعض منصوبے سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ترقیاتی منصوبے قانونی مقدمات کے باعث طویل عرصے سے زیر التواء ہیں، وزارتوں نے جن منصوبوں کی نشاندہی کی تھی انہیں مکمل کرنا ترجیح ہے۔
Category: کاروبار
-

چائنا موبائل کے اعلیٰ سطح وفد کا وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کا دورہ، ڈیجیٹل جدت کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد: چائنا موبائل کمیونی کیشنز کارپوریشن (CMCC) کے چیئرمین مسٹر یانگ جے کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) کا دورہ کیا اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ سے ملاقات کی۔یہ دورہ پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات، بالخصوص CPEC کے فریم ورک اور پاکستان کے ڈیجیٹل وژن کے تحت ڈیجیٹل تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔CMCC کے وفد میں چائنا موبائل ہیڈکوارٹرز کے سینئر حکام شامل تھے جبکہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی نمائندگی سیکریٹری آئی ٹی، ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی، چیئرمین PTA اور دیگر اعلیٰ حکام نے کی۔ملاقات میں دونوں فریقین نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جن میں جدید AI سے لیس، توانائی کی بچت کرنے والے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، 5G ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، اور CPEC کے تحت پاکستان کے ذریعے پاک-چین علاقائی کنیکٹیویٹی قائم کرنا شامل ہے۔مزید برآں، چینی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مواد کی میزبانی (Content Hosting) کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تعلیم میں مہارت حاصل کرنے جیسے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔یہ اقدامات پاکستان کے ڈیجیٹل اہداف سے ہم آہنگ ہیں جن میں 100 ایم بی پی ایس انٹرنیٹ اسپیڈ کا حصول، 1 کروڑ گھروں تک فکسڈ براڈ بینڈ کی رسائی اور 85 فیصد سے زائد سمارٹ فون استعمال کی شرح کا ہدف شامل ہے۔وفاقی وزیر محترمہ شزا فاطمہ خواجہ نے CMCC کی مسلسل سرمایہ کاری کو سراہا اور وزیرِ اعظم کے ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور شمولیتی پاکستان کے وژن کو دہرایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس طرح کی شراکت داریاں پاکستان کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں رسائی، استعداد اور جدت کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
-

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
اسلام آباد: پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط کر دیئے گئے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ یو اے ای نے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر یادداشتوں پر دستخط کئے گئے، دونوں ممالک کے نائب وزرائے اعظم کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی ہوا۔اس موقع پر قومی ورثہ ثقافت ڈویژن اور وزارت ثقافت یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعاون کی یادداشت پر دستخط کئے گئے، خارجہ وزارتوں کے درمیان قونصلر امور کیلئے مشترکہ کمیٹی کے قیام پر تعاون کی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔اس کے علاوہ یو اے ای پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے قیام کیلئے تعاون کی یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے، یہ معاہدہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اور یو اے ای ایوان صنعت و تجارت کے درمیان طے پایا۔قبل ازیں یو اے ای کے نائب وزیراعظم شیخ عبداللہ بن زاید النہیان دفتر خارجہ پہنچے جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مرکزی دروازے پر معزز مہمان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا، اسحاق ڈار نے یو اے ای ہم منصب سے اپنے وفد کا تعارف کرایا۔اس موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے اعزاز میں دفتر خارجہ میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معزز مہمان کو اپنے گھر آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں، خواہش ہے کہ آپ کا دورہ پاکستان مفید ثابت ہو، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں، ہم بہت سے منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔یو اے ای کے نائب وزیراعظم شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے کہا کہ پر تپاک استقبال پر نائب وزیراعظم پاکستان اسحاق ڈار کا شکر گزار ہوں، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے، پاکستان کے لوگ یو ای اے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرماری کاری سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوگی۔خیال رہے کہ یو اے ای کے نائب وزیراعظم شیخ عبداللہ بن زاید النہیان 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں ہیں۔
-

پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، وزیراعظم کا خراج تحسین
اسلام آباد:پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی ٹیم اور نجی شعبے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے اور جولائی 2024ء سے مارچ 2025ء کے دوران برآمدات میں 9.38 فیصد اضافے کے ساتھ 13.613 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس نمایاں کارکردگی پر وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور نجی شعبے کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ صرف مارچ 2025 میں برآمدات میں 6.27 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ نہ صرف حکومتی معاشی پالیسیوں کی درست سمت کا ثبوت ہے بلکہ پاکستانی معیشت کی مضبوطی اور عالمی منڈیوں میں مصنوعات کی مانگ میں اضافے کا بھی مظہر ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ برآمدات میں بتدریج اضافہ اور دیگر مثبت معاشی اعشاریے، حکومت پاکستان اور نجی شعبے کے درمیان قریبی تعاون اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایسے تمام اقدامات جاری رکھے گی جو کاروبار دوست ماحول پیدا کریں اور برآمدات میں مسلسل بہتری لائی جا سکے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ملکی برآمدات کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے نہ صرف پالیسی سازی کر رہی ہے بلکہ کاروباری برادری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم دن رات اس کوشش میں ہے کہ پاکستان کو اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے تاکہ روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات تینوں میں توازن کے ساتھ اضافہ ہو۔
-

امریکا سے تجارتی معاہدے کرنیوالے ممالک محتاط رہیں: چین کی سخت وارننگ
بیجنگ: چین نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے والے ممالک محتاط رہیں۔چین نے دنیا بھر کے ممالک کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے کرنے سے گریز کریں جو بیجنگ کے مفادات کو نقصان پہنچائیں، یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ اپنے عروج پر ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایسے ممالک پر دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے جو امریکا سے محصولات میں کمی کے خواہاں ہیں تاکہ وہ چین کے ساتھ تجارت محدود کریں۔چین کی وزارتِ تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصالحانہ رویہ امن نہیں لاتا اور سمجھوتہ عزت نہیں پاتا۔بیجنگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی ملک اپنے وقتی مفادات کے لیے چین کے مفادات کو قربان کرتا ہے تو یہ طرز عمل ناکامی پر منحصر ہو گا اور تمام فریقین کو نقصان پہنچائے گا۔چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ چین اپنے مفادات کے خلاف کسی بھی معاہدے کی سختی سے مخالفت کرے گا اور اگر ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی تو چین بھرپور جوابی اقدامات کرے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے محصولات کا ناجائز استعمال اور دوسرے ممالک پر برابر کے محصولات کے نام پر دباؤ ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ چین نے کہا ہے کہ وہ اپنے حقوق اور مفادات کا بھرپور دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ یک جہتی مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا بھر پر 10 فیصد عمومی ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جبکہ چین پر کچھ مصنوعات پر 145 فیصد تک محصولات لگائے گئے ہیں، جواب میں چین نے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد تک ڈیوٹیز عائد کر دی ہیں۔
-

غیرملکی انوسٹرز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں: وزیراعظم شہباز شریف
لاہور:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاروبار میں آسانی حکومت کا اہم ہدف ہے اور مشترکہ منصوبوں سے ملک کا مستقبل تابناک بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک سے آئے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف لاہور میں چوتھے ہیلتھ، انجینئرنگ اور منرلز ایکسپو کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مائن اینڈ منرلز سمیت دیگر شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی پندرہ سے تیس سال کے درمیان ہے، جو کاروبار میں بہترین خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔ حکومت ان کے لیے کاروبار اور نوکریوں کے بے پناہ مواقع پیدا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے صنعت کا پہیہ تیزی سے چلے گا۔وزیر تجارت جام کمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 ممالک سے 900 سے زائد مندوبین کی شرکت حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے لیے مواقع فراہم کر رہی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے صنعتی ترقی کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کو حکومت کا احسن اور کاروبار دوست اقدام قرار دیا۔ ٹی ڈیپ کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد نے کہا کہ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک ابھرتے ہوئے ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب ایکسپو حکومت کی کامیاب اور آسان کاروباری پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ -

دنیا زراعت میں آگے بڑھ گئی، ہم قیمتی وقت گنواتے رہے: وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے زرعی نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت میں ترقی کر گئی ہے، جبکہ ہم قیمتی وقت ضائع کرتے رہے۔اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل اور محنتی کسان موجود ہیں، لیکن ہم ان وسائل سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔اجلاس میں قومی زرعی پالیسی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور نوجوانوں کو زرعی میدان میں مواقع دینے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں زرعی ماہرین، حکومتی نمائندوں اور مختلف اداروں کے ذمے داران نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ ہماری گندم کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ دنیا سے کہیں کم ہے، حالانکہ ہماری زمین زرخیز ہے اور کسان محنتی ہیں۔ اگر ہم نے وقت پر فیصلے کیے ہوتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں آف سیزن اجناس کی اسٹوریج کا نظام کمزور ہے، جبکہ ویلیو ایڈیشن کے لیے ضروری پلانٹس بھی موجود نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز اور گھریلو صنعتوں میں بے شمار امکانات ہیں جنہیں بروئے کار لا کر زراعت کو معاشی ترقی کا ستون بنایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں زراعت کے شعبے کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جن میں زرعی ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت کے استعمال، دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولیات بہتر بنانے اور کسانوں کے لیے مرکزی ڈیٹابیس بنانے جیسے اقدامات شامل تھے۔شرکا نے بلاک چین اور کیو آر کوڈ سسٹمز کے ذریعے زرعی اجناس اور ان پٹس کی ترسیل کو شفاف بنانے کی تجویز بھی دی۔ وزیراعظم نے فوری طور پر ورکنگ کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ دو ہفتوں کے اندر قابل عمل سفارشات پیش کی جائیں تاکہ عملی اقدامات جلد شروع کیے جا سکیں۔
-

ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا کرنے کیلیے ایف بی آر نے ہفتے کی چھٹی ختم کردی
اسلام آباد:فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے رواں مالی سال 2024-2025 کیلئے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ہفتے کی چھٹی منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ریونیو ڈویژن کی طرف سے تمام لارج ٹیکس آفسز (ایل ٹی اوز)، مِیڈیم ٹیکس آفسز (ایم ٹی اوز)، کارپوریٹ ٹیکس آفسز (سی ٹی اوز) اور ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز) کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تمام فیلڈ فارمشنز کو لکھے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ 30 جون 2025 تک ہفتہ کے دن معمول کے مطابق دفتری اوقات میں کام کریں گے۔مراسلے کے مطابق یہ فیصلہ محصولات کی وصولی کے عمل کو موٴثر بنانے اور اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، 30 جون 2025 تک تمام ٹیکس آفس کی بروز ہفتہ کی چھٹی منسوخ کی گئی ہے۔ایف بی آر نے اپنے تمام دفاتر پر زور دیا کہ وہ ایک جامع حکمت عملی اپنائیں، جس پر زیادہ سے زیادہ ریونیو کے سلسلے کو فوکس کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق، متعلقہ اداروں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات میں تاخیر نہ کریں تاکہ قومی خزانے کو درکار وسائل بروقت دستیاب ہو سکیں۔واضح رہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں پاکستان کو رواں مالی سال کے لیے اپنے سالانہ ٹیکس ہدف کو 12,970 ارب روپے سے کم کرکے 12,370 ارب روپے کرنے کی اجازت دی تھی اورنظرثانی کے باوجود ایف بی آر کو مسلسل دباوٴ کا سامنا ہے کیونکہ مالی سال 25 کے پہلے نو ماہ کے لیے اس کا ریونیو شارٹ فال پہلے ہی 700 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
-

برطانیہ پاکستانی معیشت کو 2 ٹریلین ڈالر تک لے جانے میں شراکت داری کیلئے تیارہے: جین میریٹ
اسلام آباد:پاکستان میں ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو 2 ٹریلین ڈالر تک لے جانے میں شراکت داری کے لیے برطانیہ تیار ہے۔لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ دنیا بھر میں فنانشل، بزنس اور ٹریڈ سروسز کا اہم ترین فراہم کنندہ ہے اور وہ پاکستان کی معیشت کو 2 ٹریلین ڈالر کی سطح پر لے جانے میں شراکت داری کے لیے تیار ہے۔جین میریٹ نے کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ اس فورم پر اتنے ذہین لوگ موجود ہیں اور یہاں مؤثر اور فکر انگیز گفتگو ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے اور دنیا بھر میں فنانشیل سروسز کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے۔ اس کے علاوہ، برطانیہ دوسرا بڑا بزنس سروسز اور تیسرا بڑا ٹریڈ سروسز فراہم کرنے والا ملک ہے۔انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو سکے کے دو رخ قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹرٹیجک پارٹنرشپ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ فی الوقت پاکستان اور برطانیہ کی باہمی تجارت 4.4 ارب پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے اور ہمارا ہدف ہے کہ اسے آئندہ برسوں میں 10 ارب پاؤنڈ تک لے جایا جائے۔جین میریٹ نے پاکستان کو نوجوان آبادی کا حامل ایک ابھرتا ہوا ملک قرار دیا اور کہا کہ اگر پاکستان اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو اسی طرح جاری رکھے تو یہ معیشت 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے حالیہ اقدامات کو سراہنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ بھی ان اقدامات کو مکمل سپورٹ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ صحت، تعلیم، انجینئرنگ اور توانائی کے شعبوں میں مکمل تعاون کر رہا ہے۔ ہم ریکوڈک جیسے بڑے منصوبوں میں بھی ساتھ دے رہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل شراکت داری کر رہے ہیں۔معاشی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانیہ 45 ملین ڈالر کے ایک پروگرام کے ذریعے پاکستان میں میکرو اکنامک ترقی پر کام کر رہا ہے۔ ہم پاور سیکٹر میں کلین اور گرین انرجی کے لیے اصلاحات اور سرمایہ کاری کے منصوبے بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔
-

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت ساڑھے 3 لاکھ روپے ہوگئی
کراچی: ملک میں مسلسل تیسرے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوگیا۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت 2 ہزار روپے بڑھ 3 لاکھ 50 ہزار روپے ہوگئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونےکی قیمت 1715روپے بڑھ کر 3 لاکھ 68 روپے ہے۔اسی طرح عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 19 ڈالر اضافے سے 3329 ڈالر فی اونس ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 8600 روپے کا بڑا اضافہ ہوا تھا۔
