Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 50 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • وزیراعظم کا برآمدات، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ٹیرف میں نمایاں کمی کا فیصلہ

    وزیراعظم کا برآمدات، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ٹیرف میں نمایاں کمی کا فیصلہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے درآمدی محصولات میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل ٹیرف پالیسی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے درآمدی محصولات (ٹیرِف) میں بتدریج مگر نمایاں کمی کی منظوری دے دی ہے۔اس اقدام کو معاشی بہتری کے حصول کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے جو کہ برآمدات پر مبنی ترقی کو ممکن بنائے گا، زیرِ نظر فیصلے سے نہ صرف بیروزگاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ مہنگائی کی شرح کو بھی قابو میں رکھا جا سکے گا۔مزید برآں اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، حکومت عوام کو روزگار کی فراہمی اور خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار مہیا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔وزیرِ اعظم نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت مضبوط معیشت کے حصول، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مہنگائی کے دیرپا اور مکمل خاتمے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی، ملکی و غیر ملکی ماہرینِ معیشت سے سیر حاصل مشاورت کے بعد بنیادی معاشی اصلاحات کیلئے ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا جا چکا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم نے اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو اگلے چار سے پانچ سال میں مکمل طور پر ختم کرنے کی ہدایت دی ہے۔وزیراعظم نے کسٹمز ڈیوٹی کو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک محدود کرنے کے حق میں فیصلہ کیا ہے، جبکہ فی الحال بعض اشیاء پر یہ شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں (سلیبز) کو چار تک محدود کر دیا گیا ہے، جس سے درآمدات سے متعلق قانونی پیچیدگیوں میں نمایاں کمی آئے گی اور مختلف صنعتوں کو برابر کے مواقع میسر آ سکیں گے۔وزیر اعظم کے اس تاریخی فیصلے سے معیشت غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے کھلے گی اور ملکی صنعتوں کو خام مال، درمیانی اشیاء اور سرمایہ جاتی سامان بآسانی اور سستے داموں دستیاب ہوگا۔اس کے علاوہ مسابقت میں اضافے کی وجہ سے مقامی صنعتیں زیادہ مؤثر اور مسابقتی بنیں گی، جو ملک کیلئے برآمدی آمدنی بڑھانے میں مدد دے گا، اس طرح مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔وزیراعظم نے اس تجویز کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا، ٹیرف میں کمی نہ صرف جاری کھاتے کے خسارے کو مستحکم کرے گی بلکہ کسٹمز ڈیوٹی سے زیادہ محصولات حاصل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔اسی اجلاس میں وزیراعظم نے ایک عمل درآمد کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، وزیر اعظم نے اعادہ کیا کہ ملک کی معاشی بہتری ان کی اولین ترجیح ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • قومی اسمبلی سے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور

    قومی اسمبلی سے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔انکم ٹیکس ترمیمی بل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا، اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی۔ اجلاس کے دوران متعدد دیگرقراردادیں بھی منظور کر لی گئیں۔قومی اسمبلی نے سی ایس ایس امتحانات میں عمر کی حد 5 سال بڑھانے کی قرارداد بھی منظور کرلی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ کسی بھی امیدوار کو پانچ مرتبہ مقابلے کی امتحان میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔سی ایس ایس امتحانات میں حصہ لینے والے امیدوار کیلئے زیا دہ سے زیا دہ عمر کی حد 30 کی بجائے 35 سال کی جائے۔یہ قرارداد ن لیگ کی رکن اسمبلی نوشین افتخار کی جانب سے پیش کی گئی۔قومی اسمبلی میں تحویل ملزمان ترمیمی بل 2025 اور پاکستان شہریت بل 2024 کو بھی منظور کر لیا گیا، دونوں بل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیش کیے، پاکستان شہریت بل کے تحت شہریت ایکٹ کی سیکشن 14 A اور سیکشن 4 میں ترامیم کی گئی ہیں۔اسمبلی اجلاس میں ایف بی آئی ایس ای ترمیمی بل 2024 بھی منظور کیا گیا، یہ بل فرح ناز اکبر نے پیش کیا، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے شق 3، 4 اور 6 میں ترامیم کی تجویز دیں جو منظور کر لی گئیں۔ایوان نے قومی اسمبلی رول 288 میں ترمیم بھی کثرت رائے سے منظور کی، پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی کی طرف سے پیش کیا گیا چائلڈ میرج پر پابندی سے متعلق بل بھی قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا۔بعد ازاں اجلاس پیر شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

  • ٹرمپ نے ایپل ‘آئی فون بنانیوالی کمپنی کو بھارت میں فیکٹریاں لگانے سے روک دیا

    ٹرمپ نے ایپل ‘آئی فون بنانیوالی کمپنی کو بھارت میں فیکٹریاں لگانے سے روک دیا

    دوحہ: بھارت کو کو بہت بڑا جھٹکالگ گیا،امریکی صدر ٹرمپ نے آئی فون بنانے والی (ایپل) کمپنی کو انڈیا میں فیکٹریاں لگانے سے روک دیا۔دوحہ کےدورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کےسی ای او ٹِم کُک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، بھارت میں کمپنی کی بڑھتی ہوئی پیداواری سرگرمیوں پربرہمی کا اظہارکیا،ٹرمپ نےکہا کہ ایپل کو اپنی توجہ واپس امریکا میں مینوفیکچرنگ پر مرکوز کرنی چاہیے۔ ٹرمپ نے ایپل پر زور دیا کہ وہ امریکہ میں پیداواری مراکز کو ترجیح دے،ان کا کہناتھا کہ ’’میں نے ٹِم سے کہا،ہم نے تمہیں چین میں لگائی گئی فیکٹریوں پر برداشت کیا،لیکن ہم نہیں چاہتے کہ تم بھارت میں بھی یہی کرو۔ بھارت اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے، وہ بہت اچھا کر رہا ہے، ہمیں تمہاری پیداوار یہاں (امریکہ) چاہیے۔‘

  • پاکستان کی امریکا کو منتخب تجارتی اشیاء پر  دو طرفہ زیرو ٹیرف تجارتی معاہدے کی پیشکش

    پاکستان کی امریکا کو منتخب تجارتی اشیاء پر دو طرفہ زیرو ٹیرف تجارتی معاہدے کی پیشکش

    اسلام آباد: پاکستان نے امریکا کو دو طرفہ زیرو ٹیرف تجارتی معاہدے کی پیشکش کردی، سرکاری ذرائع نے اس پیشکش کی تصدیق کی ہے۔اعلیٰ سطح کے ذرائع سے جب اس نئی پالیسی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکا کو یہ پیشکش کر رہا ہے کہ منتخب تجارتی اشیاء پر زیرو ٹیرف کی بنیاد پر دو طرفہ معاہدہ کیا جائے جو باہمی مفادات پر مبنی ہو تاکہ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تجارت کو وسعت دی جا سکے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔جنگ بندی کے بعد کی گئی ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کی قیادت کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں ممالک سے کافی زیادہ تجارت کریں گے۔یہ لڑائی گزشتہ بدھ کو اس وقت شروع ہوئی جب بھارت نے پہلگام میں ہوئے حملے کو بے بنیاد جواز بنا کر پاکستان میں حملے کیے۔بھارتی حملے کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی، جس کا نام آپریشن بُنیان مرسوس رکھا گیا، جس میں بھارت کے کئی فوجی اہداف کو مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔حکام کے مطابق یہ حملے درست تھے جو بھارت کی مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے جو کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور پاکستانی علاقے کے اندر جاری تھی۔جوہری طاقت کے حامل ان دونوں حریف ممالک نے تقریباً تین دہائیوں کے بدترین فوجی تصادم کے بعد گزشتہ ہفتے کے روز جنگ بندی کا اعلان کیا، اس تصادم نے دنیا بھر میں ان خدشات کو جنم دیا تھا کہ کہیں یہ مکمل جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔

  • عالمی مالیاتی جریدے نے اقتصادی میدان میں پاکستان کی کارکردگی کو ’ کرشمہ‘ قرار دے دیا

    عالمی مالیاتی جریدے نے اقتصادی میدان میں پاکستان کی کارکردگی کو ’ کرشمہ‘ قرار دے دیا

    نیویارک: صف اوّل کے عالمی مالیاتی جریدے نے اقتصادی میدان میں پاکستان کی کارکردگی کو ’معاشی کرشمہ‘ قرار دے دیا۔رپورٹ کے مطابق معروف اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی سسٹر آرگنائزیشن بیرن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کی طرف توجہ نہ دی تو شاید سرمایہ کار بعد میں پچھتائیں، 25 کروڑ 50 لاکھ آبادی والا یہ ملک گزشتہ دو سال میں معاشی کرشمہ کر چکا ہے۔بیرن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سالانہ 40 فیصد مہنگائی، اب تقریباً صفر ہو چکی ہے، 2031 میں میچور ہونے والے پاکستانی یوروبانڈز کی قیمت 40 سینٹ فی ڈالر سے بڑھ کر 80 سینٹ ہو گئی ہے، کراچی اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تین گنا ہو چکا ہے۔ بیرن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ شہباز شریف حکومت نے ستمبر میں آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے استحکام کے معاہدے پر دستخط کیے، 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم پاکستان کو جاری کی جا چکی ہے۔سینڈ گلاس کیپیٹل مینجمنٹ کے سرمایہ کاری کے شعبے کے سربراہ جینا لوزوسکی نے تبصرہ کیا کہ ”Pakistan is a good story“۔معاشی ماہر خالد سلامی نے کہا کہ بھارت سے تنازع پاکستان کی معاشی بحالی متاثر نہیں کرے گا، ملک کی اپنی کمزور بنیادیں معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔بیرن رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کا حالیہ استحکام 2022-23 کے قریب دیوالیہ ہونے کے تجربے سے شروع ہوا۔والٹن کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ایلسن گراہم نے تجزیہ کیا کہ سب کا خیال تھا کہ سری لنکا کی طرح پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سود کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دی، جس سے ملک کساد بازاری میں تو چلا گیا، لیکن مہنگائی پر قابو پا لیا گیا۔ایلسن گراہم نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کی شرح گزشتہ سال 2.5 فیصد تک واپس آئی، مالیاتی کھاتے غیرمعمولی طور پر متوازن ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ مثبت ہے، پرائمری فسکل سرپلس موجود ہے، ایسا ہم نے کئی سالوں میں نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس کی آمدنی میں پچاس فیصد اضافہ کرنا ہے، بجلی کی سبسڈی کم کرنی ہے، اور دیگر مشکل فیصلے لینے ہیں۔بیرن نے کہا کہ حالات نے شہباز شریف اور ان کے فوجی اتحادیوں کو معاشیات اور زندگی کا بہترین محرک فراہم کیا ہے۔

  • نوازشریف کے صاحبزادےحسن نواز کے برطانیہ میں تمام کاروبار ٹھپ،کمپنیاں تحلیل

    نوازشریف کے صاحبزادےحسن نواز کے برطانیہ میں تمام کاروبار ٹھپ،کمپنیاں تحلیل

    لندن: سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے برطانیہ میں تمام کاروبار ٹھپ ہو گئے،تمام کمپنیاں تحلیل کردی گئی ہیں۔حسن نواز 7 کمپنیوں کے ڈائریکٹر تھے، ساتوں تحلیل کر دی گئیں،حسن نواز کی بڑی کمپنی فلیگ شپ انویسٹمنٹس لمیٹڈ تحلیل ہوگئی، 20 مئی سے اطلاق ہو گا۔2007 سے قائم کمپنی کوئینٹ پیڈنگٹن لمیٹڈ بھی 20 مئی کو تحلیل ہوجائے گی،حسن نواز کی 4کمپنیز 3 دسمبر 2024 کو تحلیل ہوئیں۔حسن نواز کی ایک کمپنی دسمبر 2016 میں تحلیل ہوئی،وہ اب برطانیہ میں کسی بھی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں ہیں۔انہیں پہلے ہی برطانیہ میں ٹیکس ڈیفالٹر قرار دیا جا چکا ہے،ان پر 5.2 ملین پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا تھا،حسن نواز کو اپریل 2024 میں بینک کرپٹ قرار دیا گیا تھا۔

  • پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی قسط موصول

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی قسط موصول

    کراچی: پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے موجودہ قرض پروگرام کی دوسری قسط موصول ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کر دیئے، آئی ایم ایف کی جانب سے ای ایف ایف پروگرام کی دوسری قسط جاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے سے رقم موصول ہونے کی تصدیق کر دی۔سٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے پاکستان کی معیشت کا جائزہ لینے کے بعد قسط جاری کرنے کی سفارش کی تھی، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ ہفتے 9 مئی کو بھارتی مخالفت کے باوجود پاکستان کیلئے رقم جاری کرنے کی منظوری دی تھی، دوسری قسط کی رقم 16 مئی 2025 کے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہوگی۔آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کیلئے 2.4 ارب ڈالر کی منظوری دینے کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔اعلامیہ کے مطابق موجودہ قرض پروگرام کی دوسری قسط کیلئے ایک ارب ڈالر منظور کر لئے گئے ہیں، موجودہ قرض پروگرام میں پاکستان کیلئے 7 ارب ڈالر میں سے 2.1 ارب ڈالر منظور کئے گئے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے 1.4 ارب ڈالر ملیں گے، جبکہ پاکستان کو اصلاحات پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے معاشی اہداف کے حصول میں شاندار کارکردگی دکھائی، آئندہ مالی سال سے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانا ہوگا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان کا بجٹ سرپلس 30 جون تک 2.1 فیصد ہونا چاہیے، رواں مالی سال 30 جون تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 13.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔

  • وفاقی حکومت پر کتنے ہزار ارب کا قرض ہوگیا؟ تفصیل سامنے آگئی

    وفاقی حکومت پر کتنے ہزار ارب کا قرض ہوگیا؟ تفصیل سامنے آگئی

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے وفاقی حکومت کے قرض کی تفصیلات جاری کردیں۔ایس بی پی اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت نے مارچ 2025ء میں 652 ارب روپے قرض لیا ہے۔اعلامیے کے مطابق حکومت نے ماہ مارچ میں 496 ارب مقامی اور 156 ارب روپے کا بیرونی قرض لیا۔ مارچ 2025ء تک حکومت کا مجموعی قرض 73 ہزار 688 ارب روپے ہوگیا ہے۔اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت کا مقامی قرض 51 ہزار 518 ارب جبکہ بیرونی قرض 22 ہزار 170 ارب روپے ہوگیا ہے۔ایس بی پی اعلامیے کے مطابق حکومت کا قرض سال در سال 12 اعشاریہ 7 فیصد سے 8 ہزار 314 ارب روپے بڑھا ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے تمام سابقہ ریکارڈز ٹوٹ گئے

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے تمام سابقہ ریکارڈز ٹوٹ گئے

    کراچی: پاک بھارت جنگ بندی کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے تمام سابقہ ریکارڈز ٹوٹ گئے۔100 انڈیکس 9929 پوائنٹس کے اضافے سے 117174 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔مارکیٹ میں 9اعشاریہ 26فیصد ریکارڈ اضافےپرمارکیٹ کوایک گھنٹےکیلئےبندکردیا گیا۔تاریخ میں پہلی بارمارکیٹ ٹریڈنگ کےدوران 9ہزار929پوائنٹس اضافےتک ایک ساتھ ٹریڈ ہوئی،کاروبار کے آغاز پر ریکارڈ تیزی پر کاروباری سرگرمیوں کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک گھنٹے کی معطلی کے بعد کاروبار کا آغاز ہوا جس کے بعد بھی تیزی برقرار رہی، 100 انڈیکس 9475 پوائنٹس کے اضافے سے 116650پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔گزشتہ کاروباری روز میں 100 انڈیکس مثبت رہا۔ گزشتہ کاروباری دن 100 انڈیکس 3 ہزار 647 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 7174 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔آج انٹربینک میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر 19 پیسے سستا ہو گیا، انٹربینک میں ڈالر 281 روپے 52 پیسے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  • چین، امریکا تجارتی مذاکرات میں اہم پیشرفت، ٹیرف میں بڑی کمی پر اتفاق

    چین، امریکا تجارتی مذاکرات میں اہم پیشرفت، ٹیرف میں بڑی کمی پر اتفاق

    واشنگٹن: چین اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جب کہ دونوں ممالک نے باہمی ٹیرف میں بڑی کمی پر اتفاق کیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری تجارتی مزاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔حکام کے مطابق مذاکرات میں امریکی نائب صدر، 2 وزراء اور سفیر شریک ہوئے جب کہ امریکی صدر کو مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کر دیا گیا۔اس حوالے سے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور تجارتی معاہدے کی تفصیلات کل صبح جاری کی جائیں گی۔امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریز کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ہوئی، معاہدہ تجارتی خسارہ کم کرنے میں مددگار ہوگا۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین نے 90 دن کے لیے ایک دوسرے کے سامان پر 115 فیصد ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ادھر چینی وزارت تجارت نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں پیشرفت ہوئی، ٹیرف میں کمی دونوں ممالک اور دنیا کے مشترکہ مفاد میں ہے، امید ہے امریکا تجارت کے معاملے پر مل کر کام کرتا رہےگا۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں طے پایا کہ امریکا درآمد ہونے والی چینی مصنوعات پر30 فیصد ٹیرف عائد ہوگا اور چین درآمد ہونے والی امریکی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف ہوگا۔