Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 57 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.15 فیصد کمی ریکارڈ

    ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.15 فیصد کمی ریکارڈ

    اسلام آباد: حکومت نے مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ہفتے کمی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اسی دورانیے میں 10 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو گئیں۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مسلسل دوسرے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار 0.15 فی صد کم ہوئی ہےجب کہ ملک میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح منفی 1.26فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے میں 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی جب کہ 31اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ایک ہفتے میں پرنٹڈ لان کی قیمت میں 0.62فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں1.17 فیصد، لانگ کلاتھ کی قیمتوں میں0.29 فیصد، گڑکی قیمتوں میں0.51 فیصد، ٹماٹر کی قیمتوں میں9.62 فیصد، بیف کی قیمتوں میں 0.30فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0.13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح ویجی ٹیبل گھی کی قیمتوں میں0.10 فیصد،دال ماش کی قیمتوں میں0.56 فیصد اوردال مسور کی قیمتوں میں0.20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔علاوہ ازیں آلو کی قیمتوں میں1.47 فیصد،پیاز کی قیمتوں میں4.68 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں2.23فیصد، انڈوں کی قیمتوں میں3.87فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں0.67 فیصد، چکن کی قیمتوں میں1.29 فیصد،چینی کی قیمتوں میں0.94 فیصد اورکیلوں کی قیمتوں میں4.27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

  • یکم اپریل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا امکان، ذرائع

    یکم اپریل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا امکان، ذرائع

    اسلام آباد: یکم اپریل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا امکان ہے۔تیل کمپنیز ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل قیمت تقریباً 2 روپے فی لیٹر کم ہوسکتی ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کمی سے متعلق جلد ہی وزیرِ اعظم کی طرف سے اعلان متوقع ہے۔چین کے باؤ فورم کے دوران غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں بجلی کے نرخوں میں کمی لانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس اقدام سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، حکومت کی توجہ معیشت کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

  • اسحاق ڈار کا چینی کی قیمتوں میں کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار

    اسحاق ڈار کا چینی کی قیمتوں میں کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار

    اسلام آباد:نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت چینی کی صورتِ حال پر اجلاس ہوا۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم نے کمیٹیوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے شوگر ملز مالکان کو معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، معاہدے کے تحت ملک میں چینی کی قیمت 164 روپے فی کلو یا اس سے کم ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم نے ملک بھر میں چینی کی سپلائی اور قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

  • بجٹ 2025-26: ٹیکس محصولات کا ہدف 15 ہزار 270 ارب روپے مقرر

    بجٹ 2025-26: ٹیکس محصولات کا ہدف 15 ہزار 270 ارب روپے مقرر

    اسلام آباد:نئے مالی سال 2025-26 کے لیے بجٹ سازی کا عمل حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا جس میں بجٹ اہداف کا تعین جاری ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں بڑے اضافے کا تخمینہ لگاتے ہوئے نئے مالی سال میں ٹیکس محصولات کا ہدف 15 ہزار 270 ارب روپے مقرر کیا ہے۔رواں مالی سال کے مقابلے میں نئے مالی سال کے لیے 2 ہزار 300 ارب روپے اضافے کا تخمینہ ہے۔گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر کی ٹیکس محصولات 9 ہزار 311 ارب روپے رہیں تاہم آئندہ مالی سال کے لیے براہ راست ٹیکس وصولی کا تخمینہ 6 ہزار 570 ارب روپے ہے۔رواں مالی سال کے لیے براہ راست ٹیکس وصولی کا ہدف 5 ہزار 512 ارب روپے مقرر ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف اب اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی نگرانی کرے گا اور بجٹ کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے آئی ایم ایف کا اہم وفد 4 اپریل کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ اگلے مالی سال کے بجٹ کے خدوخال اور تجاویز کو فائنل کیا جائے گا، جس میں آمدنی کے ذرائع اور اخراجات پر کنٹرول کے اقدامات شامل ہوں گے۔

  • حکومت سولر صارفین سے بجلی خریدنے کی قیمتیں کم کرنے سے پیچھے ہٹ گئی

    حکومت سولر صارفین سے بجلی خریدنے کی قیمتیں کم کرنے سے پیچھے ہٹ گئی

    اسلام آباد: حکومت سولر صارفین سے بجلی خریدنے کی قیمتوں کو کم کرنے سے پیچھے ہٹ گئی۔وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ کابینہ نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے متعلق نئی پالیسی منظور نہیں کی، کابینہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ اس پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے۔اویس لغاری نے کہا کہ سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے گا، ای سی سی نے سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری دی تھی۔نئی پالیسی کے تحت سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے حکومت نے 10 روپے فی یونٹ بجلی خریدنی تھی، پالیسی پر غور و فکر کے بعد اس کو دوبارہ بنایا جائے گا۔

  • تجارت کی معطلی کے باوجود بھارت سے درآمدات ایک بار پھر بڑھ گئیں، سال میں چوتھی بار اضافہ

    تجارت کی معطلی کے باوجود بھارت سے درآمدات ایک بار پھر بڑھ گئیں، سال میں چوتھی بار اضافہ

    لاہور: موجودہ حکومت کے ایک سال میں بھارت سے سالانہ بنیادوں پر درآمدات میں چوتھی بار اضافہ ہوگیا۔وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق تجارت معطل ہونے کے باوجود بھارت سے درآمدات ایک بار پھر بڑھ گئیں، فروری 2025 میں بھارت سے سالانہ بنیادوں پر درآمدات میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق فروری 2025 میں بھارت سے درآمدات کا حجم 2 کروڑ 68 لاکھ ڈالرز رہا،گزشتہ سال اسی مدت میں بھارت سے درآمدات 2 کروڑ 8 لاکھ ڈالرز تھیں، رواں مالی سال اگست اور ستمبر میں بھارت سے سالانہ بنیادوں پر درآمدات میں اضافہ ہوا تھا۔حکام کے مطابق پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ تجارت معطل کردی تھی، بعدازاں پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت میں نرمی کی تھی۔حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ زندگی بچانے والی ادویات کی تجارت کرنے کی اجازت دی تھی۔

  • پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو زیادہ محصولات اور تجارتی پابندیوں کا سامنا ہے، وزیر خزانہ

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو زیادہ محصولات اور تجارتی پابندیوں کا سامنا ہے، وزیر خزانہ

    اسلام آباد:وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو زیادہ محصولات اور تجارتی پابندیوں کا سامنا ہے جو انہیں عالمی معیشت میں شامل ہونے سے روکتی ہیں۔بواؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس 2025 میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سب کے لیے جامع عالمی معیشت کے لیے راہیں اور اقدامات کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اپنی تقریر میں منصفانہ مارکیٹ تک رسائی، علاقائی روابط میں اضافے اور جامع عالمی معیشت کے فروغ کے لیے مضبوط کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت اور رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک جامع عالمی معیشت ایک ضرورت ہے، انتخاب نہیں۔ عالمی معیشت نے بلاشبہ معاشی ترقی کو آگے بڑھایا ہے تاہم یہ اب بھی انتہائی غیر مساوی اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، ایسی معیشت کا زیادہ تر فائدہ ترقی یافتہ معیشتوں کو ہوتا ہے جب کہ جنوبی ممالک کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔اپنے خطاب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے شمولیتی تجارت کے لیے عالمی اتحاد کی تشکیل کی تجویز دی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو اجتماعی طور پر منصفانہ تجارتی اصولوں اور عالمی مالیاتی اداروں میں بہتر نمائندگی کے مطالبہ کے لیے اتحاد بنانا چاہیے، ٹیکنالوجی کو مساوات کا ذریعہ بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو ترقی پذیر معیشتوں میں ڈیجیٹل شمولیت کی حمایت کے لیے عالمی سطح پر اے آئی اور فِن ٹیک فنڈز قائم کرنے چاہئیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ قرضوں کی معافی اور مالیاتی انصاف کے حصول کے لیے جی20 اور آئی ایم ایف کو خودمختار قرض کے نظام کو دوبارہ ترتیب دینا چاہیے جبکہ معاشی ترقی میں رکاوٹ بننے والے قرض کے بحرانوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ استحکام کو ایک بنیادی اصول کے طور پر اپنانا چاہیے اور ماحولیاتی انصاف کو عالمگیریت کی پالیسیوں میں شامل کیا جانا چاہیے، ترقی پذیر معیشتوں کو مناسب ماحولیاتی مالی امداد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی آسان بنائی جائے۔ مشترکہ مستقبل کے لیے متوازن عالمگیریت کی ضرورت ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے اقدامات نے تجارت کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ ہم نے بنیادی اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنایا ہے اور سرمایہ کاری کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں۔

  • امریکا نے پاکستان سمیت 8 ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دیں

    امریکا نے پاکستان سمیت 8 ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دیں

    واشنگٹن: امریکا نے پاکستان، چین، متحدہ عرب امارات، ایران، فرانس، سینیگال، برطانیہ اور افریقہ کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس میں 19 پاکستانی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا کا دعویٰ ہے کہ ان کمپنیوں کی سرگرمیاں اس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی ہیں۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب عالمی سطح پر تجارتی جنگ اور اسٹریٹیجک مقابلے میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا نے پاکستانی کمپنیوں پر اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہوں۔ 2024 میں امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک کمپنیوں پر بھی ایسی ہی پابندیاں لگائی تھیں۔2021 میں بھی امریکا نے پاکستان کی 13 کمپنیوں پر جوہری اور میزائل پروگرام میں معاونت کے الزامات لگا کر پابندیاں عائد کی تھیں۔ 2018 میں 7 پاکستانی انجینئرنگ کمپنیوں کو امریکی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق، امریکی پابندیاں نہ صرف پاکستان اور چین کی دفاعی اور تجارتی صنعت کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اقتصادی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں۔پاکستان کی جانب سے تاحال سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں پاک-امریکا تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہیں۔

  • پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، آئی ایم ایف کا اعلامیہ جاری

    پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، آئی ایم ایف کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد:پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہےآئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کی قیادت نیتھن پورٹر نے کی آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت ایک ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔18 ماہ کے دوران پاکستان نے چیلنجز کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں پیش رفت کی ہے آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں افراط زر 2015 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہے، پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور مزید بہتری کی توقع ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس پروگرام کے تحت حاصل رقم مجموعی طور پر2 ارب ڈالرہوجائے گی اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان معاشی استحکام کے لیے ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے۔آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام نے نہ صرف توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پہلے جائزے پر عمل درآمد کے حوالے سے اتفاق کیا ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک نئے ’ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلیٹی فیسلٹی‘ (آر ایس ایف) معاہدے پر بھی بات چیت مکمل کر لی ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عمل درآمد جاری ہے اور حکومت مالیاتی خسارے کو بتدریج کم کرنے، پبلک ڈیٹ کو پائیدار سطح پر رکھنے اور سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات کی جا رہی ہیں جو لاگت میں کمی لاکر اس شعبے کو مستحکم بنانے میں مدد دیں گی، جبکہ معاشی ترقی کے لیے حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کو بھی مزید تیز کیا جا رہا ہے۔نئے آر ایس ایف معاہدے کے تحت پاکستان کو قدرتی آفات کے خلاف مزاحمت بڑھانے، بجٹ اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں بہتری لاکر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، پانی کے مؤثر اور پیداواری استعمال کو یقینی بنانے، موسمیاتی خطرات کے تجزیے کے لیے معلوماتی ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات متعارف کرانے میں مدد ملے گی جو ماحولیاتی تحفظ کے اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے تحت نہ صرف معیشت کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں مالیاتی خودمختاری کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں گے۔

  • 7 آئی پی پیز کی حکومت کو بجلی سستی اور 11 ارب سے زائد کا سرچارج معاف کرنیکی مشروط پیشکش

    7 آئی پی پیز کی حکومت کو بجلی سستی اور 11 ارب سے زائد کا سرچارج معاف کرنیکی مشروط پیشکش

    اسلام آباد:7 آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ اگر ان کے خلاف مبینہ غیر معمولی منافع کی جاری تحقیقات بند کردی جائیں اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات واپس لے لیے جائیں تو وہ بجلی کے نرخ میں فی یونٹ 50 پیسے تک کمی اور تاخیر سے ادائیگی پر عائد شدہ 11ارب روپے سے زائد سرچارج معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔سی پی پی اے نے کہا ہے کہ نیپرا سے منظوری چاہیے ہوگی اور نیپرا کے سامنے سی پی پی اے نے آئی پی پیز کی درخواست کی حمایت کی ہے۔نیپرا کے سامنے ایک مشترکہ ٹیرف نظرثانی کی درخواست میں، آئی پی پیز کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایندھن اور آپریشن اینڈ مین ٹیننس (او اینڈ ایم) کی مد میں لاگت کی وصولی پہلے ہی طے ہو چکی ہے لہٰذا ریگولیٹر سے درخواست ہے کہ وہ ازخود کارروائیاں اور تحقیقات ختم کرے۔ان آئی پی پیز میں سے ایک کے نمائندے نے کہا کہ ان کی ٹیرف میں نظرثانی کی درخواست اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ان کے خلاف تمام قانونی مقدمات واپس لے لیے جائیں۔”ہماری درخواست تمام کیسز کے خاتمے سے مشروط ہے،” نمائندے نے کہا، مزید یہ بتایا کہ انہوں نے نیپرا کی جانب سے جاری کردہ تمام نوٹسز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔اسی طرح ایک اور کمپنی کے نمائندے نے بھی اپنے ادارے کے خلاف ازخود کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ان درخواستوں کی حمایت کرتے ہوئے نیپرا کو بتایا کہ مستقبل میں ایندھن اور او اینڈ ایم کی مد میں ہونے والی بچت حکومت کے ساتھ شیئر کی جائے گی تاکہ صارفین کو ریلیف دیا جا سکے۔سی پی پی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بریفنگ کے دوران کہا کہ جاری مذاکرات کے تحت یہ ساتوں آئی پی پیز تاخیر سے ادائیگی پر عائد شدہ 11 ارب روپے سے زائد سرچارج معاف کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔سی پی پی اے نے مزید کہا کہ نیپرا کی منظوری کے بعد دونوں فریق – سی پی پی اے اور آئی پی پیز – عدالتوں میں زیر التوا مقدمات واپس لے لیں گے۔نیپرا کی سماعت کے دوران کرنسی شرح تبادلہ ایڈجسٹمنٹس، ’ٹیک اینڈ پے‘ میکانزم اور انشورنس کیپ سمیت دیگر امور پر بھی گفتگو ہوئی جن پر سی پی پی اے کے مطابق سمجھوتہ ہو چکا ہے۔سی پی پی اے حکام کے مطابق، ان 7 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 50 پیسے تک کمی متوقع ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مختلف آئی پی پیز کے ساتھ وسیع تر مذاکرات کے نتیجے میں اب تک پاور پلانٹس کی عمر بھر کی مدت میں 950 ارب روپے کے مالی فوائد حاصل کیے جاچکے ہیں۔سی پی پی اے حکام نے کہا، “اب تک 29آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ہو چکے ہیں،” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کسی بھی آئی پی پی پر زبردستی نہیں کی گئی۔ “جو آئی پی پی معاہدہ کرنا نہیں چاہتا تھا، اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔مثال کے طور پر ایک پاور کمپنی نے معاہدہ نہیں کیا۔”نیپرا درخواستوں کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ جاری کرے گا۔