Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 60 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • بجلی صارفین سے دو سال کے دوران ٹیلی ویژن فیس کی مد میں اربوں روپے وصول کرنے کا انکشاف

    بجلی صارفین سے دو سال کے دوران ٹیلی ویژن فیس کی مد میں اربوں روپے وصول کرنے کا انکشاف

    اسلام آباد: بجلی صارفین سے دو سال کے دوران ٹیلی ویژن فیس کی مد میں اربوں روپے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ٹی وی فیس سے متعلق تحریری جواب دیا۔انہوں نے اپنے جواب میں کہا کہ دو سالوں میں بجلی صارفین سے 18 ارب 86 کروڑ روپے سے زائد وصول کیے گئے۔وزیر اطلاعات نے اپنے جواب میں بتایا کہ پیپکو نے ٹی وی فیس کی مد میں دو سالوں میں بجلی بلوں کے ذریعے 16 ارب 64 کروڑ روپے سے زائد وصول کیے۔کے الیکٹرک نے دو سالوں کے دوران بجلی صارفین سے ٹی وی فیس کی مد میں 2 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد وصول کیے۔

  • عوام کو بجلی کی قیمتوں میں بڑا ریلیف ملنے کا امکان

    عوام کو بجلی کی قیمتوں میں بڑا ریلیف ملنے کا امکان

    اسلام آباد: اپریل سے عوام کو بجلی کی قیمتوں میں بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق 23 مارچ کو وزیر اعظم شہباز شریف آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد بجلی کے نرخ میں 8 روپے فی یونٹ کمی کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ذرائع کے مطابق قیمتوں میں کمی یکم اپریل 2025 سے موثر ہوگی جب کہ مئی میں عوام کوکم کئے گئے بل موصول ہوں گے۔8 روپے فی یونٹ میں سے 4.73 روپے فی یونٹ کی کمی مستقل بنیادوں پر جاری رہے گی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کا تخمینہ 168 ارب روپے لگایا گیا ہے جو بجلی کے ٹیرف میں 1.30 روپے فی یونٹ کمی کیلئے استعمال ہوں گے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کے اعلیٰ حکام کوتین ماہ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ کرنے کے نتیجے میں 250 ارب روپے تک کے اثرات کے بدلے ریلیف حاصل کرنے کی منظوری دی ہے لیکن اس کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں کمی ہونا شرط ہے۔

  • عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 102 ملین ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 102 ملین ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    اسلام آباد:عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 10 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی ہے۔ورلڈ بینک کےمطابق قرض کی رقم میکروکریڈٹ اورمیکروفنانس کے لیے استعمال ہوگی۔ قرض کی رقم سے 18 لاکھ 90 ہزار افراد مستفید ہو سکیں گے اور اس سے غریب اورکم آمدن والے گھرانوں کو قرض دیا جا سکے گا۔پاکستان کوامداد نئےکنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت دی گئی ہے اور قرض کی یہ رقم وزارت خزانہ مرکزی بینک کےذریعے استعمال میں لائے گا۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رقم کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ افراد کی آمدن بڑھانا ہے۔ یہ رقم عالمی بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ پروگرام کا حصہ ہے۔اعلامیے کے مطابق منصوبہ چھوٹے کاروباروں اور دیہی علاقوں میں مالیاتی شمولیت بڑھانے میں مدد دے گا۔ عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرکا کہنا ہے کہ مائیکرو فنانس غریب طبقے کی مالی مدد کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس منصوبے سے 10 لاکھ خواتین سمیت 18 لاکھ 90 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کے مطابق پاکستان میں ورلڈ بینک کے تعاون سے 54 منصوبے جاری ہیں۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کل سرمایہ کاری 15.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

  • برطانیہ میں حسن نواز ٹیکس ڈیفالٹرقرار‘ 52 لاکھ پاؤنڈز کا جرمانہ

    برطانیہ میں حسن نواز ٹیکس ڈیفالٹرقرار‘ 52 لاکھ پاؤنڈز کا جرمانہ

    لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کو برطانیہ میں ٹیکس ڈیفالٹر قرار دے کر 52 لاکھ پاؤنڈز کا ٹیکس جرمانہ عائد کردیا گیا۔برطانوی حکومت نے اپنی جاری کردہ تازہ فہرست میں حسن نواز کو ٹیکس ڈیفالٹر قرار دے دیا۔رپورٹ کے مطابق حسن نواز نے 5 اپریل 2015 سے 6 اپریل 2016 تک تقریبا 94 لاکھ پاؤنڈز کا ٹیکس ادا نہیں کیا۔برطانوی ٹیکس اتھارٹی نے حسن نواز پر جرمانہ عائد کیا، اس حوالے سے برطانوی حکومت نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر بھی تفصیلات شیئر کردیں۔

  • چینی بحران: کمپٹیشن کمیشن کی ممکنہ کارٹلائزیشن پر سخت کارروائی کی وارننگ

    چینی بحران: کمپٹیشن کمیشن کی ممکنہ کارٹلائزیشن پر سخت کارروائی کی وارننگ

    اسلام آباد: کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر ممکنہ کارٹلائزیشن کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ جاری کردی۔ کمیشن چینی کی قیمتوں میں اضافے کی روزانہ نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی غیر مسابقتی سرگرمی یا ممکنہ گٹھ جوڑ کی نشاندہی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق 2021 میں شوگر ملز اور شوگر ملز ایسوسی ایشن پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، شوگر ملز اور ایسوسی ایشن کی اپیل پر سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے حکم امتناع جاری کیا۔ 2009 میں بھی شوگر ملز کے گٹھ جوڑ کے شواہد سامنے آئے تھے۔ کمپٹیشن کمیشن نے گنے کی امدادی قیمتوں کا نظام ختم کر کے مارکیٹ بیسڈ میکانزم متعارف کرانے کا مشورہ دیا ہے ۔ حکومت چینی کی مارکیٹ میں مداخلت کم کرے اور قیمتوں کا تعین طلب و رسد کے اصولوں پر چھوڑا جائے۔ کارٹلائزیشن کیسزمختلف عدالتوں میں چینی سیکٹر سے متعلق 127 مقدمات زیر التوا ہیں ۔سپریم کورٹ میں 24، لاہور ہائی کورٹ میں 25، سندھ ہائی کورٹ میں 6 اور سی اے ٹی میں 72 کیسز زیر التوا ہیں ۔

  • اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو نئے نوٹ جاری کرنا شروع کر دیئے

    اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو نئے نوٹ جاری کرنا شروع کر دیئے

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے عیدالفطر پر نئے کرنسی نوٹ کمرشل بینکوں کو جاری کرنا شروع کر دیئے۔اسٹیٹ بینک پاکستان نے عیدالفطر پر نئے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ کمرشل بینکوں کو عوام کے لیے نئے کرنسی نوٹوں کی فراہمی جاری ہے۔اسٹیٹ بینک اس وقت بینکوں کے وسیع، ملک گیر برانچ نیٹ ورک کے ذریعے عوام کو نئے بینک نوٹوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ بیان میں اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں سال ماہ رمضان کے دوران اب تک کمرشل بینکوں کی 17 ہزار برانچوں کو تمام مالیتوں میں 27 ارب روپے کے نئے بینک نوٹ فراہم کیے گئے ہیں۔بینکوں کا اے ٹی ایم نیٹ ورک مذہبی تہوار کے موقع پر عوام کو بلا تعطل معیاری اور صاف ستھرے بینک نوٹ جاری کرے گا۔ تاکہ عوام کو نئے بینک نوٹوں کی باآسانی اور مؤثر فراہمی ہو۔ اس کے لیے کیش مانیٹرنگ ٹیمیں بھی تعینات کی ہیں۔اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ کمرشل بینکوں کی شاخیں عوام کو عید کے لیے نئے کرنسی نوٹ فراہم کریں گی۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان سے اقتصادی پالیسیوں کی یادداشت کا مسودہ شیئر کردیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان سے اقتصادی پالیسیوں کی یادداشت کا مسودہ شیئر کردیا

    اسلام آباد:آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی پالیسیوں کی یادداشت کا مسودہ شیئر کردیا۔پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں جب کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی پالیسیوں کی یادداشت کا مسودہ بھی شیئر کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق تعمیراتی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے کچھ ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ریلیف فوری دیا جائے گا یا آئندہ بجٹ میں شامل ہوگا؟ اس حوالے سے فیصلہ کیا جانا تاحال باقی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہوئے تھے جب کہ ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا سے قبل اسٹاف لیول معاہدہ ناگزیر ہے۔ اُدھر آئی ایم ایف نے مالیاتی نظم و ضبط کے لیے سخت شرائط عائد کی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولی ہدف کم رہا، اخراجات میں کٹوتی کی گئی ہے اور پرائمری سرپلس حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی 70 روپے فی لیٹر اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سوال کیا گیا ہے کہ حکومت گردشی قرضوں کا سامنا کیسے کرے گی؟۔ کراس سبسدی کا ماڈل ماضی میں ناکام رہا تھا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو توانائی کے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے 6 سالہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے منظوری کے نتیجے میں حکومت کو مالیاتی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

  • گزشتہ 5 سال کے خسارے کی تفصیلات ایوان میں پیش

    گزشتہ 5 سال کے خسارے کی تفصیلات ایوان میں پیش

    اسلام آباد: وزارت تجارت نے گزشتہ 5 سال کے خسارے کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دیں۔قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران 154 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔ اور 136 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ گزشتہ 5 سال کے دوران 291 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ درآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ معاشی نمو ہے۔مالی سال 2020 میں تجارتی خسارہ 23 ارب 16 کروڑ ڈالر ہوا۔ اور مالی سال 2021 میں تجارتی خسارہ 31 ارب 8 کروڑ ڈالر ہوا۔ جبکہ مالی سال 2022 میں تجارتی خسارہ 48 ارب 35 کروڑ ڈالر ہوا۔ مالی سال 2023 میں تجارتی خسارہ 27 ارب 47 کروڑ ڈالر ہوا۔ اور گزشتہ مالی سال 2024 میں تجارتی خسارہ 24 ارب 11 کروڑ ڈالر ہوا۔مالی سال 2025 میں سولر پینل، ٹرانسفارمرز اور بجلی کے ترسیلی آلات میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ بجلی کے ترسیلی آلات کی درآمدات 31 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں۔دستاویزات کے مطابق صنعتی مشینری کے آلات میں 20 فیصد، ٹیکسٹائل مشینری میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ آٹو پارٹس کی درآمدات میں 58 فیصد اضافہ ہوا۔

  • امریکی  آئی ٹی کمپنی کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات، سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

    امریکی آئی ٹی کمپنی کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات، سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے معروف امریکی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی Afiniti کے سی ای او جیرومی کیپیلس (Jerome Kapelus) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد کی ملاقات کی جس میں انہوں نے Afiniti کے پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیر مقدم کیا۔وزیرا عظم آفس سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے آئی ٹی شعبے کی باصلاحیت افرادی قوت میں عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنیاد پر کام کرنے کی استعداد موجود ہے۔ وزیراعظم نے Afiniti پاکستان کو قومی اور بین الاقوامی صارفین کے لئے پاکستان میں عالمی معیار کا کال سینٹر قائم کرنے کی تجویز دی۔شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی اور دیگر جدید تکنیکی صلاحیتوں سے لیس کرنے کے پروگرام کی خود نگرانی کر رہا ہوں، آئی ٹی شعبے میں 25 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے آئی ٹی کمپنیوں کو تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔وفد نے پاکستانی آئی ٹی شعبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کی قابلیت اور شعبے کی ترقی کے لیے ان کی محنت کی تعریف کی، جیریمی کیپیلس نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی شعبہ سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے انتہائی موزوں ہے، اس وقت Afiniti پاکستان میں 1000 سے زیادہ انتہائی باصلاحیت اور قابل پاکستانی ماہرین کام کر رہے ہیں، پاکستانی نوجوانوں میں آئی ٹی شعبے کی ترقی کے لیے کام کرنے کی لا تعداد استعداد موجود ہے۔ جیریمی کیپیلس نے کہا کہ پاکستان کی پیشہ ور اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی بدولت ہی Affinity خطے کی کامیاب کمپنی ہے۔ ملاقات میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سرکاری افسران شریک تھے۔

  • اٹک میں سوغری بلاک سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت

    اٹک میں سوغری بلاک سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت

    اٹک: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی ( او جی ڈی سی ایل ) نے پنجاب کے ضلع اٹک میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کر لیے۔او جی ڈی سی ایل کے مطابق یہ ذخائر ضلع اٹک میں واقع سوغری بلاک سے دریافت ہوئے ہیں۔ نئے ذخائر کی گیس کی ابتدائی پیداوار کا تخمینہ 13.95 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جبکہ تیل کی پیداوار کا اندازہ 430 بیرل یومیہ لگایا گیا ہے۔او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ نئی دریافت او جی ڈی سی ایل کے ہائیڈروکاربن ذخائر میں اضافے کا سبب بنے گی۔یہ دریافت پاکستان کی توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی جانب ایک اور مثبت قدم ہے، جس سے نہ صرف توانائی کی فراہمی میں بہتری آئے گی بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔