Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اہم خبریں – Page 118 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: اہم خبریں

  • کراچی میراتھون 2025 کے فنشر میڈلز کی رونمائی، عالمی معیار کی دوڑ کی تیاری مکمل

    کراچی میراتھون 2025 کے فنشر میڈلز کی رونمائی، عالمی معیار کی دوڑ کی تیاری مکمل

    کراچی میراتھون 2025 کے فنشر میڈلز کی رونمائی کی تقریب میں سنہری میڈل کی خاص بات اس پر میراتھون روٹ کے اطراف کا نقشہ اور اہم مقامات کی موجودگی ہے، جو اسے ایک منفرد یادگار بناتا ہے۔ اس سال کی میراتھون میں ہر فنشر کو عالمی معیار کے مطابق میڈل دیا جائے گا، جو ان کی محنت اور عزم کی نشانی ہوگی۔

    کراچی میراتھون 2025 کا آغاز 5 جنوری کو سی ویو پر نشانِ پاکستان سے ہوگا، جہاں ایونٹ کے مختلف حصے منعقد ہوں گے جن میں فل میراتھون، ہاف میراتھون، 10 کلومیٹر ریلی اور 5 کلومیٹر فن ریس شامل ہیں۔ یہ ایونٹ کراچی کے لوگوں اور دنیا بھر کے رنرز کے لیے ایک اہم موقع ہوگا۔

    کراچی میراتھون 2025 کو ورلڈ ایتھلیٹکس سے منظوری حاصل ہے، جو اس ایونٹ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بناتا ہے۔ اس دوڑ کا مقصد نہ صرف صحت مند زندگی کی ترویج کرنا ہے بلکہ کراچی کی ثقافت اور اس کے اہم مقامات کو بھی دنیا کے سامنے لانا ہے۔

    کراچی میراتھون کے دوران رنرز کا عزم اور جذبہ جیو پر نشر کیا جائے گا، تاکہ پوری دنیا کو پاکستان کے اس کھیل کے شوقین افراد کی محنت اور جذبے کا اندازہ ہو سکے۔ اس ایونٹ کا مقصد عالمی سطح پر کراچی کی پہچان کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    یہ ایونٹ نہ صرف رنرز کے لیے ایک چیلنج ہوگا بلکہ کراچی کے عوام کے لیے ایک جشن کی طرح ہوگا، جہاں ہر ایک کا حصہ ہونا اور اس کامیابی کا حصّہ بننا اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی میراتھون 2025 ایک نہ صرف اسپورٹس ایونٹ بلکہ ایک عظیم ثقافتی اور سماجی میلہ بھی بننے جا رہا ہے۔

  • جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری: ججز کی تقرری کے نئے قواعد

    جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری: ججز کی تقرری کے نئے قواعد

    پاکستان میں جوڈیشل کمیشن رولز 2010 کو منسوخ کر کے جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد عدلیہ کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ سازی کو یقینی بنانا ہے۔ نئے رولز کے تحت ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں جو عدلیہ کی سطح پر اصلاحات کی طرف ایک بڑا قدم ہیں۔

    جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا سیکرٹریٹ سپریم کورٹ یا چیئرپرسن کے متعین کردہ کسی اور مقام پر قائم ہوگا۔ رولز میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیشن کی کارروائیاں انتہائی منظم اور شفاف ہوں گی، اور ججز کی تقرریوں میں پیشہ ورانہ قابلیت، تجربہ، قانونی مہارت اور اخلاقی معیار کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، کسی فرد کی جج کے طور پر تقرری کی نامزدگی میں اس کی کارکردگی، ابلاغی مہارت، اور دیانت داری کو بھی اہمیت دی جائے گی۔

    نئے رولز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججز کی تقرری کے لئے تمام نامزدگیوں کی جانچ پڑتال وکلا اور عدالتی افسران کی مناسب نمائندگی کے ساتھ کی جائے گی تاکہ ہر فرد کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لئے ان کے فیصلوں کی تعداد، معیار اور اخلاقی معیار کا جائزہ لیا جائے گا۔

    جوڈیشل کمیشن رولز 2024 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ کمیشن کو ججز کی تقرری کے لئے درکار تمام ضروری ریکارڈ فراہم کرے گا۔ اس میں سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری کے لئے خالی آسامیوں کی تعداد کا تعین اور نامزدگیاں طلب کرنے کا عمل شامل ہے۔ اگر کسی رکن نے سب سے سینیئر جج کو نامزد نہیں کیا تو اس کی وجوہات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ اسی طرح، کمیشن میں سب سے سینیئر جج کو چیف جسٹس مقرر کرنے کی صورت میں بھی وجوہات بتانی ہوں گی۔

    مزید برآں، جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں میں ججز کی تقرریوں کے بارے میں غور کیا جائے گا اور نامزدگیوں پر ووٹنگ کے ذریعے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر کسی نامزد فرد کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہو، تو کمیشن ایک اضافی ووٹنگ کا عمل منعقد کرے گا۔ اجلاس کی کارروائی، فیصلے، اور ووٹنگ کے نتائج کو کمیشن کے آفیشل ویب سائٹ پر مختصر طور پر شائع کیا جائے گا، اور تمام کارروائیاں بند کمرے میں کی جائیں گی تاکہ فیصلوں میں کوئی بیرونی اثرات نہ پڑیں۔

    جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کے مطابق کمیشن کے خصوصی یا عمومی احکامات کمیشن کے دو تہائی اراکین کی منظوری سے جاری کیے جائیں گے، اور ان کا ریکارڈ سیکرٹریٹ میں محفوظ کیا جائے گا۔ ان نئے قواعد کا مقصد عدلیہ کی تقرریوں میں میرٹ، شفافیت اور دیانت داری کو فروغ دینا ہے، جس سے عدلیہ کے نظام پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔

  • عطا تارڑ کا 9 مئی کے کرداروں کی سزا اور سیاسی دہشت گردی کے خلاف بیان

    عطا تارڑ کا 9 مئی کے کرداروں کی سزا اور سیاسی دہشت گردی کے خلاف بیان

    لاہور میں اپنے حلقہ انتخاب گرین ٹاؤن میں لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ 9 مئی کے بعض کرداروں کو سزا مل گئی ہے اور اب مرکزی کردار کی باری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت انتشار اور تقسیم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ سیاسی مذاکرات کے قائل ہیں، تاہم ملک میں سیاسی دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ ناقابل معافی جرم ہے، جس میں ملک کے دفاعی تنصیبات، شہدا کی یادگاروں اور دفاعی نظام پر حملے کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسٹر مائنڈ کو بھی سزا ملے گی اور جو دشمن کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کرے گا، وہ سزا سے بچ نہیں پائے گا۔

    وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سیاست میں اختلافات سیاسی سطح پر ہونے چاہئیں، لیکن شہدا کے ساتھ دشمنی نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جماعت نے ملک میں مہنگائی کم کی اور معیشت کے تمام اعشاریے مثبت ہیں، مزید مہنگائی کم ہو گی اور عوام کی مشکلات حل کی جائیں گی

  • گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی پنجاب حکومت پر تنقید، عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی پنجاب حکومت پر تنقید، عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کوئی ایسا اسپتال نہیں جہاں غریبوں کا فری علاج ہو سکے، جبکہ سندھ کے تمام اسپتالوں میں غریب مریضوں کا علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ اٹک میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے پورے پنجاب میں ہونے چاہئیں، اور لاہور کو تمام ترقی کا مرکز نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اٹک، چکوال، جہلم، راجن پور اور ڈی جی خان جیسے اضلاع کو بھی ترقی دی جائے، کیونکہ یہ تمام اضلاع بھی پنجاب کا حصہ ہیں۔

    سلیم حیدر خان نے مزید کہا کہ پنجاب کے حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں عوام کی ضروریات پورا کرنے میں ناکام ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کا سب سے بڑا فرض صحت اور تعلیم کی مفت سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ خاموش رہیں تو پنجاب میں اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں ہے اور عوامی نمائندوں سے سوال کیا کہ اسپتالوں میں ڈاکٹر کیوں نہیں ہیں۔

    گورنر پنجاب نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنائیں گے اور اٹک کی مختلف یونین کونسلز سے مختلف برادریوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 3790 پوائنٹس گرگیا

    اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 3790 پوائنٹس گرگیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار میں شدید مندی کا رجحان رہا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100انڈیکس 3700 پوائنٹس سے زائد گرگیا۔ کاروبار کے دوران 100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار 896 پوائنٹس تک گرا تاہم کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 3790 پوائنٹس کی کمی کے بعد 1 لاکھ 11 ہزار 70 پوائنٹس پر بند ہواحصص بازار میں 1.11 ارب شیئرز کے سودے طے ہوئے جن کی مالیت 60 ارب روپے رہی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 437 ارب روپے کم ہوکر 14145 ارب روپے ہے

  • سول نافرمانی تب شروع ہوگی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا، شیر افضل مروت

    سول نافرمانی تب شروع ہوگی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا، شیر افضل مروت

    پشاور- پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ جن پاکستانیوں کو مارا گیا ہے ان کا خون بہا ادا کیا جائے اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی جائے، سول نافرمانی تب شروع ہوگی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا شیر افضل مروت نے کہا کہ سول نافرمانی تب شروع ہوگی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا، اس وقت سیاسی عدم استحکام ہے، ہزاروں ورکرز جیلوں میں بند ہیں جب کہ معاشی استحکام سےبڑھ کر پاکستان کو آزاد عدلیہ کی ضرورت ہےپی ٹی آئی رہنما نےکہا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رکھنے کی ضرورت ہے، مسائل سنگین صورتحال اختیار کرچکےہیں، مذاکرات ناگزیر ہیں، 50، 50 افراد کےقتل کے بعد بھی ہم جرگےکرتے ہیں، یہ رواج ہےشیر افضل نے کہا کہ جن پاکستانیوں کو مارا گیا ہے ان کا خون بہا ادا کیا جائے، یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، سوگوار خاندانوں سے تعزیت کریں

  • پاکستانی خاندان نے شادی اور 7 بچوں کی پیدائش ایک ہی دن ہونے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

    پاکستانی خاندان نے شادی اور 7 بچوں کی پیدائش ایک ہی دن ہونے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

    سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے 3 عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیے دنیا کے ہر خاندان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے خاندان کا نام عالمی سطح پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بنے مگر لاڑکانہ کے ایک خاندان نے ایک نہیں3 عالمی ریکارڈ قائم کرکے انوکھی مثال قائم کر دی ہے لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ٹیچر امیر آزاد منگی کی پیدائش، شادی ، اہلیہ کی پیدائش اور 7 بچوں کی پیدائش سمیت سب یکم اگست کو ہوئی، اب سالگرہ بھی سب گھر والے ایک ہی کیک پر مناتے ہیں امیر آزاد منگی کو شکوہ ہے کہ 3عالمی ایوارڈ حاصل کرنے کے باوجود حکومتی سطح پر ان کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی

  • فواد چوہدری کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات، فوج کیساتھ کشیدگی کم

    فواد چوہدری کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات، فوج کیساتھ کشیدگی کم

    اسلام آباد – جیل میں قید تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت معاملے میں درجہ حرارت میں کمی لائیں فواد چوہدری نے پیر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی، اپنی اس ملاقات کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمران خان سے کہا کہ انہیں اور تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ افراد کے بجائے ایشوز پر توجہ دیں اور فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاست میں تحریک انصاف کو جائز اسپیس مل سکے فواد چوہدری نے کہا کہ انہوں نے عمران خان سے پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے بیرون ملک سے اپنے ایکس (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ کا کنٹرول پاکستان واپس لانے کو بھی کہا۔ عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ آرمی چیف سمیت ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے فواد چوہدری کی طرح پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنما بھی یہی چاہتے ہیں کہ عمران خان کا جارحانہ انداز سے استعمال ہونے والا ایکس اکاؤنٹ کنٹرول میں رکھا جائے کیونکہ اس اکاؤنٹ اور پارٹی کے سوشل میڈیا کو فوج مخالف مہمات کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تاہم، وہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر ممکنہ ردعمل کے خوف سے عوام میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ان میں عمران خان پر فوج اور اس کی اعلیٰ کمان پر حملے بند کرانے کیلئے اصرار کرنے کی جرأت ہے

  • مدارس رجسٹریشن پر رضامند کرنے کیلئے متحدہ کا وفد مولانا کی رہائش گاہ پہنچ گیا

    مدارس رجسٹریشن پر رضامند کرنے کیلئے متحدہ کا وفد مولانا کی رہائش گاہ پہنچ گیا

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مدارس رجسٹریشن ایکٹ پر رضامند کرنے کیلئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان متحرک ہوگئی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، ڈاکٹر فاروق ستار اور سید امین الحق پر مشتمل ایم کیو ایم کے وفد نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ کر ان سے ملاقات کی، وفد میں شامل تھے ایم کیو ایم وفد سے ملاقات کے بعد بھی مدارس رجسٹریشن ایکٹ پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے، ایم کیو ایم نے مولانا کے مطالبات کو جائز قرار دے دیا ایم کیوایم کے ارکان سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا مدارس کے معاملے کو ایوان صدر نے الجھایا ہے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دینی مدارس ایکٹ پر نوٹیفکیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، ایم کیو ایم ہمارا مطالبہ حکومت تک پہنچا دے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اور حکومت کے مذاکرات پر اپنا کردار بھی واضح کیا دوران گفتگو صحافی نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ کیا آپ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اپنا کردار ادا کریں گے؟ جس پر مولانا نے جواب دیا کہ جو بات مجھ تک نہیں پہنچی اس پر فی الحال تبصرہ نہیں کرسکتا ہوں

  • بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی: علی امین گنڈاپور

    بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی: علی امین گنڈاپور

    پشاور- وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نےکہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مجھےگزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سےملاقات نہیں کرنے دی گئی، مجھے کہا گیا کہ آپ کو ملاقات کی اجازت نہیں ہےانہوں نے کہا کہ میں پورے خیبرپختونخوا کا نمائندہ ہوں، مجھے کسی سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں، جو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں کیا ان کی کلیئرنس ہے؟سول نافرمانی سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی، ان کے احکامات آئیں گے پھر اس پرعمل ہوگاواضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کل عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے مگر انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی