اسلام آباد- پی ٹی آئی کا احتجاج ختم ہونے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں صورتحال معمول پر آنے لگی تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران 4 روز سے بند موٹرویز کو ہر طرح کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہےموٹر وے حکام کے مطابق موٹروے ایم 2، اسلام آباد تا لاہور، اسلام آباد سے پشاور موٹروے ایم ون، لاہور سیالکوٹ، ایم 3 ، ایم 4 اور ایم 5 موٹرویز ہر طرح کی ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ہیں
ڈپٹی کمشنراسلام آباد عرفان میمن نے تمام اسسٹنٹ کمشنرزکو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بند راستے فوری کھولے جائیں اور تمام شاہراہوں پرصفائی کے انتظامات بھی یقینی بنائےجائیں دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پیٹرول پمپس کھولنےکی تاحال اجازت نہیں دی گئی ہےوزیرداخلہ محسن نقوی کا مختلف علاقوں کا دوروزیر داخلہ محسن نقوی نے شرپسندوں سے کلیئر کرائے گئے علاقوں کا جائزہ لیا اور سڑکوں کی فوری صفائی اور رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیامحسن نقوی کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ شرانگیزی کی سازش بری طرح ناکام ہوئی، رینجرز کے افسروں اور جوانوں نے بہادری کے ساتھ مظاہرین کو پسپا کیا، پرامن پاکستان اور پاکستانیوں کی جیت ہوئی ہےوزیر داخلہ کے احکامات کے بعد فیض آباد انٹرچینج سے کنٹینرز ہٹانے کا کام بھی شروع کردیا گیا ہےادھر فیصل آباد میں شہر کے خارجی راستوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہےیاد رہے کہ انتظامیہ نےگزشتہ روزسیکٹرجی6،جی 7 ، سیکٹر ایف 6 اور ایف 7 کے پیٹرول پمپس بند کروادیےتھے، پیٹرول پمپس بند ہونے کے باعث شہریوں کو پریشانی کا سامنا تھا
Category: اہم خبریں
-

پی ٹی آئی کا احتجاج ختم- اسلام آباد میں صورتحال معمول پر آنے لگی موٹرویز کھل گئیں
-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 3600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
گزشتہ روز 3000 سے زائد پوائنٹس کے خسارے پر بند ہونے والی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج زبردست تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں ایک موقع پر 1700 سے زائد پوائٹنس کا اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم بعد ازاں انڈیکس 3500 سے زائد پوائنٹس کے خسارے سے 94 ہزار 574 پوائنٹس پر بند ہوا آج کاروباری روز کے آغاز سے ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت آغاز دیکھنے میں آ رہا ہے اور 100 انڈیکس 3618 پوائنٹس اضافے سے 98192 پر پہنچ گیا ہے
اس حوالے سے معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ احتجاج کے خاتمے کے ساتھ 100 انڈیکس کی گراوٹ بھی ختم ہو گئی، گزشتہ رات اپوزیشن کا احتجاج ختم ہونے پر اسٹاک ایکسچینج نے بہترین ریکوری کی ہے -

علی امین، بشریٰ بی بی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے رات کہاں قیام کیا؟
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے ان کی بہن مریم وٹو اور سیکرٹری پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں گزشتہ رات اسلام آباد پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی ورکرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا اعلان کیا گیا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان وفاقی دارالحکومت سے بھاگنے پر مجبور ہو گئےاسلام آباد پولیس کے آپریشن کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ایک ہی گاڑی میں فرار ہو کر خیبر پختونخوا فرار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں تاہم رات دیر گئے بشریٰ بی بی کی بہن مریم وٹو نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی اسلام آباد میں ہی موجود ہیں، بعدازاں ان کی جانب سے ایک اور بیان سامنے آیا کہ بشریٰ بی بی کے پختونخوا پہنچنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں تاہم رات سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا، خدشہ ہے کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہےدوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل شیخ وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور محفوظ ہیں تاہم انہوں نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ دونوں اس وقت کہاں ہیں اب پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہیں اور دونوں صبح 11 بجے پریس کانفرنس کریں گےعلی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی نے رات سرکٹ ہاؤس مانسہرہ میں قیام کیا- ذرائع
اسپیکر کےپی اسمبلی بابر سلیم کے بھائی تیمور سلیم نے تصدیق کی کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اسلام آباد سے مانسہرہ پہنچ چکے ہیں تیمور سلیم خان نے کہا کہ علی امین گنڈا پور، بشریٰ بی بی اور عمر ایوب اسپیکر کےپی اسمبلی بابر سلیم کی رہائش گاہ پہنچے ہیں ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی نے رات کو سرکٹ ہاؤس مانسہرہ میں قیام کیا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور اسپیکر کےپی اسمبلی بابر سلیم سواتی بھی ان کے ساتھ موجود تھے -

پی ٹی آئی احتجاج کے دوران اسپتال لائے گئے زخمی اور جاں بحق افراد کی فہرست سامنے آگئی
اسلام آباد- پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران اسپتال لائے گئے زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد کی فہرست سامنے آگئی پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران گزشتہ روز سکیورٹی اہلکاروں اور پی ٹی آئی ورکرز کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ پورا دن جاری رہا تاہم رات دیر گئے پولیس کے آپریشن کے بعد پی ٹی آئی رہنما اور ورکرز اسلام آباد سے بھاگ گئے تھےپاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے پولیس سے جھڑپوں میں پارٹی ورکرز کی ہلاکتوں سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئےپی ٹی آئی رکن اسمبلی شیر افضل مروت کی جانب سے احتجاج کے دوران 12 ورکرز کی ہلاکت کا بتایا گیا جبکہ پی ٹی آئی ترجمان کی جانب سے 8 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیاتاہم اب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران زخمی اور جاں بحق ہونے والے افراد کی فہرست سامنے آگئی ہے
حکام پولی کلینک اسپتال کے مطابق پولی کلینک میں 2 لاشیں اور 26 زخمی لائے گئے، پولی کلینک لائے گئے تمام افراد کو گولیاں لگی ہیں، زخمیوں میں بیشتر کا تعلق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے ہےحکام پولی کلینک اسپتال کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر زخمیوں کی تعداد سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، گولیوں اورگرینیڈ سے ہلاک افراد پر سوشل میڈیاکی خبروں کی تردیدکرتے ہیں، پولی کلینک اسپتال سے متعلق ایسی غیرمصدقہ خبروں کو جعلی سمجھا جائےپمز اسپتال اسلام آباد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں 28 زخمی سویلین اور 2 لاشیں لائی گئیں، پمز اسپتال میں ایف سی کے 27 زخمی اہلکار لائے گئے، پمز اسپتال میں 3 شہید رینجرز اہلکاروں کی میتیں بھی لائی گئیں -

جولوگ شہید ہوئےہیں ان کے مقدمات میں یہ سارے لوگ نامزد ہوں گے،رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، 500 سے ساڑھے 5 سو افراد گرفتار کیے گئے ہیں میں وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران جو لوگ شہید ہوئے ہیں ان کے مقدمات میں یہ سارے لوگ نامزد ہوں گے، املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات بھی ان کے خلاف درج کیے جائیں گے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ 15 سے 20 ہزار لوگ کے پی کے سے آئے تھے، ان میں افغان شہری بھی تھے، یہ لوگ مسلح تھے، انہوں نے لوٹ مار بھی کرنی تھی رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دن کے اوقات میں آپریشن میں زیادہ جانی نقصان بھی ہوسکتا تھا اس لیے آپریشن رات میں کیا گیا، ہم خون خرابہ نہیں کرنا چاہتے تھےایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہے نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ بشریٰ بی بی اور علی امین کہاں ہیں؟ لیکن یہ پتا ہے کہ علی امین اور بشریٰ بی بی آپریشن کے دوران نکلنے میں کامیاب ہوئے تھےان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ریڈ زون میں دوبارہ اکھٹے ہوئے تو دوبارہ آپریشن ہوگا، ریڈ زون سے باہر کہیں بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرواسکتے ہیں
-

کارکن بھاگ نکلے لیکن بشریٰ بی بی اب بھی اسلام آباد ہی میں ہیں، مریم وٹو کا دعویٰ
عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم وٹو نے دوعویٰ کیاہے کہ کریک ڈاؤن شروع ہوتے ہی کارکنان بھاگ نکلے لیکن بشریٰ بی بی اب بھی اسلام آباد میں ہیں اپنے ایک بیان میں مریم وٹو نے کہا کہ کریک ڈاؤن شروع ہوتے ہی اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن بھاگ نکلے مگران کی بہن بشری بی بی اب بھی اسلام آباد ہی میں ہیں بیان دیتے ہوئے مریم وٹو انتہائی جذباتی ہوگئیں انکی آواز بھر آئی، روہانسی آواز میں اپنی بات جاری رکھی
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی ڈٹی ہوئی ہیں وہ اپنے شوہر کی رہائی کیلئے جدوجہد کرتی رہیں گی مریم ریاض وٹو کے ویڈیو بیان کے وقت اسلام آباد پی ٹی آئی مظاہرین سے خالی ہو چکا تھا خیال رہے کہ اب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کےخاندانی ذرائع نے تصدیق کردی ہے کہ علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا پہنچ چکے ہیں جبکہ بشریٰ بی بی کے خیبرپختونخوا پہنچنے کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں بتایا جا رہا ہے کہ علی امین اور بشریٰ بی بی دونوں محفوظ ہیں -

پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا ترجمان پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ حکومتی منصوبے کے تحت تحریک انصاف کے پرامن احتجاج کے فی الوقت منسوخی کا اعلان کیا جاتا ہےترجمان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گاتحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پرامن مظاہرین کےخلاف بربریت کامظاہرہ کیاگیا، انہوں نے دعویٰ کیاکہ شہیدکیےگئے8 کارکنوں کےکوائف آ چکے ہیں، کارکنوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں،کارکنان کے قتل اور آپریشن کی مذمت کرتےہیں گرینڈ آپریشن کے دوران 400 سے زائد افراد گرفتار
دوسری طرف پولیس نے اسلام آباد میں شرپسند مظاہرین کے خلاف گرینڈ آپریشن کے دوران 400 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیاترجمان پولیس کے مطابق راولپنڈی پولیس نے 26 نمبرچونگی سےملحقہ علاقےمیں گرینڈآپریشن کیا آپریشن کےدوران 400 سے زائد شرپسند گرفتار کر لیے جبکہ پنجاب بھرمیں800 کےقریب شرپسندوں کوگرفتارکیاجاچکاہےترجمان کے مطابق ملزمان سےبڑی تعداد میں اسلحہ، وائرلیس بر آمد کیے گئے جبکہ ملزمان سے غلیلیں اوربال بیرنگ بھی برآمد ہوئےپولیس ترجمان کان کہنا تھا کہ ملزمان پولیس پر حملوں، توڑپھوڑ اور جلاؤگھیراؤ میں ملوث ہیں علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی گاڑی میں بیٹھ کر فرار
خیال رہے کہ اسلام آباد میں پولیس آپریشن کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگئے جس کے ساتھ کارکن بھی بھاگ نکلے
علی امین گنڈا پور، بشریٰ بی بی بلیو ایریا میں کلثوم پلازہ کے قریب گاڑیوں میں موجود تھے اور پی ٹی آئی مظاہرین کی قلیل تعداد گاڑیوں کے پاس موجود تھے ذرائع کے مطابق بلیو ایریا میں آپریشن شروع ہوتے ہی بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور ڈی چوک ایریا سے فرار ہوگئے اور اطلاعات کے مطابق دونوں ڈی چوک ایریا سے ایک ہی گاڑی میں فرار ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اورعلی امین کس طرف گئے، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم اطلاعات کے مطابق دونوں جناح ایونیو سے ایک ہی گاڑی میں فرار ہوئےپولیس ذرائع کے مطابق پولیس علی امین گنڈاپور کے گارڈز کی گاڑی روکنے میں کامیاب، ہوگئی ہے جبکہ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی گاڑی کا پیچھا کیا گیابشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کی جانب موڑا گیا ہے اور اسلام آباد پولیس کا اسکواڈ بشری بی بی کی گاڑی کے تعاقب میں نکلا۔ قیادت کے فرار ہوتے ہی کارکن بھی جناح ایونیو اور سیونتھ ایونیو سے گاڑیاں چھوڑ کر بھاگ گئے، مظاہرین رہائشی علاقوں کی جانب جاتے رہے فرار ہونے والے مظاہرین کی گرفتاری کیلئے اٹک پل بند
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے اٹک پل بند کردیاگیا اور اٹک خورد کےمقام پرروڈ بلاک کرنےکیلئےکنٹینردوبارہ لگا دیےگئےخیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے رابطہ پل پرپولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہےاس سے قبل رینجرز نے پہنچ کر ڈی چوک کو کلئیر کیا اور کارکنوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اب پولیس اور رینجرز نے پی ٹی آئی مظاہرین سےجناح ایونیوخالی کرا لیا اور احتجاجی مظاہرین کو خیبر پلازہ سے آگے تک دھکیل دیادن بھر تحریک انصاف کے کارکنوں کی اسلام آباد کے ریڈ زون میں پولیس سے جھڑپیں ہوئیں اورآنکھ مچولی جاری رہی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ڈی چوک میں کچھ کنٹینرز رسیوں کی مدد سے ہٹائے تو کچھ کنٹینرز کو پلٹ دیا، گیس ماسک پہنے، ڈنڈوں اور غلیلوں سے مسلح کارکنوں نے پولیس پر پتھر برسائے، غلیلوں سے نشانہ بنایاخیال رہے کہ احتجاج کے دوران رینجرز اور پولیس کے 4 جوان شہید اور 100 سے زائد اہلکار زخمی ہوچکے ہیں -

لیڈر کو رہا کروانے آئے تھے، کارکنوں کو گرفتار کروا کر بھاگ گئے
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ یہ فائنل نہیں مس کال تھی، علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی ایک ہی گاڑی میں فرار ہوئے، اپنے لیڈر کو رہا کروانے آئے تھے، کارکنوں کو گرفتار کروا کر بھاگ گئےوفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ان کا اسلام آباد کو ٹیک اوور کرنے کا پلان تھا، ثبوت موجود ہیں کہ انہوں نے ریڈ زون سے داخل ہو کر پارلیمنٹ پر حملہ کرنا تھا، اہم عہدوں پر تعینات سرکاری شخصیات کو نشانہ بنانے کا پلان تھا، کنٹینر کو بھی اس لیے آگ لگائی گئی کیونکہ اس میں اہم معلومات تھیں انہوں نے کہا کہ ڈی چوک سے سیونتھ ایونیو تک ہوکر آیا ہوں، اسلام آباد ریڈ زون سے پی ٹی آئی والے جوتے، کپڑے چھوڑ کر بھاگے ہیں، بھاگنے والے پی ٹی آئی والوں کی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، پی ٹی آئی والے دم دبا کر بھاگے ہیں ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپورکا نام بھگوڑا ہونا چاہیے، علی امین گنڈاپور دوسری بار بھاگے ہیں، علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی ایک گاڑی میں فرارہوئے، گھریلو خاتون کہنے والی خاتون کا بھاگنا وطیرہ بن گیا، لیڈر کی فائنل کال تھی مگر پی ٹی آئی والے سارے بھاگ گئے۔ فرار ہونے والوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے عطا تارڑ نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں نقصان، آج اسلام آباد میں نقصان، پی ٹی آئی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی، عوام ان کے جھانسے میں نہ آئیں، اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا
-

آج کا احتجاج پی ٹی آئی کا نو مئی کے بعد ایک اور بلنڈر ہے
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ آج کا احتجاج پی ٹی آئی کا 9 مئی کے بعد ایک اور بلنڈر ہے حکومت کی بہترین حکمت عملی سے مظاہرین منتشر بھی ہوئے اور لاشیں بھی نہیں گریں طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ حکومت ناکام ہوگئی ہے لیکن ایک بار بار یہ اپنے کارکنوں کو اکیلا چھوڑ کا بلٹ پروف گاڑیوں میں فرار ہوگئےانہوں نے کہا کہ کل ان سے مذاکرات بھی کیے گئے جسے انہوں نے کمزوری سمجھا، یہ نومئی کے بعد ایک اور بلنڈر ہے، اب پی ٹی آئی کو اتنا نقصان ہوگا جتنا 2014 کے ناکام دھرنے کے بعد ہوا تھا طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اب بات چیت نہیں ہوگی، قانون نافذ کیا جائے گا، انہوں نے توڑ پھوڑ کی ہے، نقصان پہنچایا، حکومت ان کو سزا دینے کی کارروائی کرے گی ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں سیاسی سوچ رکھنے والے بھی شاید اس ٹولے کے ساتھ نہ رہ سکیں
-

پہلے سنگجانی جانے پر راضی، پھر کہا عمران کا فیصلہ نہیں مانتے، ڈی چوک جانا ہے
اسلام آباد- وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کو دو تین دن پریشانی ہوئی، ضروری ہے فوری طور پر بند سڑکوں کو کھول دیا جائے، کل سے اسکول کھل جائیں گے، موبائل فون سروس بحال ہوجائے گی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈی چوک پہنچ کر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہاؤسز پر حملے کیے، جہاں جہاں نقصان کیاہے، سی سی ٹی وی ڈھونڈلیں گے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے دھمکیاں دے کر، اربوں کا نقصان کرکے دیکھ لیا، کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی چیزیں اور کتنی بار کرنی ہیں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کا علم نہیں، لیکن علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی ابھی تک تو فرار ہیں، ہم نے دو دفعہ ان کو کہا کہ سنگجانی میں جلسہ کریں، انہوں نے سنگجانی جانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی لیکن پھر کہا کہ عمران خان کا فیصلہ نہیں مانتے، ڈی چوک جانا ہےمحسن نقوی نے اسلام آباد میں صورتحال کو کنٹرول کرنے پر پولیس اور رینجرز کے جوانوں کا شکریہ ادا کیا