Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اہم خبریں – Page 36 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: اہم خبریں

  • پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملے ناکام بنا دیئے، 50 طالبان ہلاک

    پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملے ناکام بنا دیئے، 50 طالبان ہلاک

    راولپنڈی: پاک فوج نے چمن کے علاقے سپن بولدک میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 50 افغان طالبان کو ہلاک کر دیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان کا سپن بولدک میں بہیمانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور پاکستانی افواج نے مؤثر جوابی کارروائی میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔15 اکتوبر بروز بدھ کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے سپن بولدک کے 4 مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی فورسز نے مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملے مقامی بٹی ہوئی بستیوں کے ذریعے منظم کیے گئے تھے، جن میں شہری آبادی کی جان و مال کی پرواہ نہیں کی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق افغان فورسز نے چمن میں سول آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس پر پاکستان نے مؤثر جواب دیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے اپنی جانب سے پاک-افغان فرینڈشپ گیٹ کو بھی تباہ کرنے کی کوشش کی جو کہ سرحدی تجارت اور قبائلی آمد و رفت میں سہولت کے لیے اہم ہے۔بیان کے مطابق پاکستانی جوابی کارروائی میں 15 تا 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے سٹیجنگ پوائنٹس پر اضافی تعیناتیوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ سپن بولدک پر حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں تھا، 14 اور 15 اکتوبر کی درمیانی شب کو افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی سرحدوں پر حملے کی کوشش کی، جسے بھی مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان مراکز کو بھاری نقصان پہنچا۔ آٹھ پوسٹس، جن میں چھ ٹینک بھی شامل تھے، تباہ کیے گئے اور اندازے کے مطابق 25 تا 30 افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجو ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ حملہ پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا، اس تاثر کو گھناؤنا اور واضح جھوٹ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ طالبان انتظامیہ کے اس پروپیگنڈے کو عام حقائق کی روشنی میں باآسانی بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پاک افواج ملکی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کے لیے پختہ عزم رکھتی ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • 26 ویں ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بن پاتے : جسٹس جمال مندوخیل   جس ترمیم کے تحت یہ بینچ بنااسی پر اعتراض تو فیصلہ کون کریگا؟ ترمیم سے قبل ججز کا فل کورٹ کیوں چاہتے ہیں؟ استفسار فل کورٹ کوبینچ کہاجاتا:جسٹس مندوخیل،یہ بینچ نہیں ہوتا:جسٹس عائشہ ، آرٹیکل 191 A میں فل کورٹ کا لفظ نہیں:جسٹس نعیم کیا آئینی بینچ فل بینچ کا آرڈر کر سکتا ہے ؟ جسٹس مسرت،ہم آئین کے ماتحت ہیں:جسٹس امین الدین، دلائل جار ی

    26 ویں ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بن پاتے : جسٹس جمال مندوخیل جس ترمیم کے تحت یہ بینچ بنااسی پر اعتراض تو فیصلہ کون کریگا؟ ترمیم سے قبل ججز کا فل کورٹ کیوں چاہتے ہیں؟ استفسار فل کورٹ کوبینچ کہاجاتا:جسٹس مندوخیل،یہ بینچ نہیں ہوتا:جسٹس عائشہ ، آرٹیکل 191 A میں فل کورٹ کا لفظ نہیں:جسٹس نعیم کیا آئینی بینچ فل بینچ کا آرڈر کر سکتا ہے ؟ جسٹس مسرت،ہم آئین کے ماتحت ہیں:جسٹس امین الدین، دلائل جار ی

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں میں پاکستان بار کونسل کے چھ سابق صدور کے وکیل عابد زبیری کے دلائل مکمل نہ ہوسکے ۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے آپ پسند کریں یا نہ کریں، آرٹیکل 191 اے موجود ہے ، فل کورٹ کا لفظ آرٹیکل 191اے میں موجود نہیں۔ آرٹیکل 191اے کے ہوتے ہوئے کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آئینی بینچ کے ججز ہی فل کورٹ کو مکمل کرتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے جس ترمیم کے تحت آئینی بینچ بنا ہے ، اس پر اعتراض ہوگا تو فیصلہ کون کرے گا؟ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی،پاکستان بار کونسل کے چھ سابق صدور کے وکیل عابد زبیری فل کورٹ تشکیل دینے کے حوالے سے دلائل دیئے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کیا کسی جماعت کا حق ہوتا ہے کہ بینچ کو ہٹا کر دوسرا بینچ بنا دیا جائے ؟ کیا ہم پابند ہیں کہ بینچ تبدیل کریں؟ کیا جماعت چاہتی ہے کہ ہمیں مخصوص بینچ، یا ججز دیئے جائیں؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اختیار کیا کہ میں نے ہمیشہ فل کورٹ بنانے کا کہا۔ جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کیوں چاہتے ہیں کہ فل کورٹ بنایا جائے ؟ عابد زبیری نے کہا آپ کے اپنے فیصلے ہیں کہ فل کورٹ ہونا چاہیے ۔جسٹس جمال مندو کیل نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں کتنے ججز ہیں؟ فل کورٹ ہو تو کیا ہوگا؟ وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں چوبیس ججز موجود ہیں۔ میں کسی جج کو غلط نہیں کہہ رہا، سب ججز عزت کے قابل ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا آپ کی درخواست کیا ہے ؟ عابد زبیری نے کہا ہماری درخواست ہے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل موجود ججز کو ہی کیس سننا چاہیے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا آپ کیوں چاہتے ہیں کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل ججز پر مبنی فل کورٹ بنے ؟ عابد زبیری نے کہا چھبیسویں آئینی ترمیم کو خود چیلنج کیا گیا ہے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا چیف جسٹس کا کیا ہوگا؟ کیا چیف جسٹس بینچ میں نہیں بیٹھیں گے ؟ عابد زبیری نے کہا چیف جسٹس کو بینچ میں بیٹھنے کا خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے چیف جسٹس چھبیسویں آئینی ترمیم کے تحت بنے ہیں، اگر چھبیسویں آئینی ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بنتے ، کیونکہ وقت مقرر تھا، سینئر پیونی کو چیف جسٹس ہونا تھا لیکن نہیں بن سکے ۔ ہم اگر بینیفیشری ہیں تو کیا ہم بینچ میں بیٹھ سکتے ہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا تو پھر کیس کو سنے گا کون؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اپنایا میں نے تو نہیں کہا کہ آپ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بینیفشری ہیں۔جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے یعنی آپ کہہ رہے کہ آٹھ ججز بیٹھ کر کیس کا فیصلہ کریں گے تو غلط ہوگا، آٹھ ہم بیٹھیں یا فل کورٹ میں بیٹھیں،بات تو ایک ہی ہوگی نا، آپ کو لگتاہے کہ آئینی بینچ میں ابھی آٹھ ججز بیٹھ کر متعصب ہوجائیں گے ؟ جس ترمیم کے تحت آئینی بینچ بنا ہے ، اس پر اعتراض ہوگا تو فیصلہ کون کرے گا؟ جو بھی آیا مخصوص ججز کا نہیں بتایا، بس فل کورٹ کا کہتے ہیں۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے ہم آئین کے ماتحت ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے آرٹیکل 191 اے فل کورٹ پر بات نہیں کرتا، بینچ پر بات کرتاہے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے کہا فل کورٹ کو بھی بینچ ہی کہاجاتا ہے ۔ جسٹس عائشہ ملک نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کو بینچ نہیں کہا جاسکتا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آرٹیکل 191 اے صرف آئینی بینچ سے متعلق ہے ، آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن نامزد کرتا ہے ، کیا ہم ایسے ججز کو شامل کرسکتے ہیں جو آئینی بینچ کا حصہ نہ ہوں، کیا آئینی بینچ فل کورٹ تشکیل دے سکتا ہے ؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اپنایا آئینی بینچ جوڈیشل آرڈر پاس کرسکتا ہے ، بات صرف آئینی بینچ کی ہورہی ہے ، فل کورٹ بینچ نہیں ہے ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ہم آئینی بینچ ہیں، آپ ہم سے فل کورٹ کی استدعا کر رہے ہیں۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے اگر ہمارا دائرہ اختیار نہیں تو کیسے جوڈیشل آرڈر کیسے پاس کرسکتے ہیں، ہم صاف کہیں گے کہ دائرہ اختیار نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کیا جوڈیشل آرڈر پاس کرنے پر قدغن ہے ؟ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آپ کہہ رہے کہ فل کورٹ کا معاملہ سینئر پیونی جج کو بھیجا جائے گا؟ وکیل عابد زبیری نے کہا فل کورٹ کا معاملہ پہلے چیف جسٹس کو جائے گا، اگر چیف جسٹس معاملے کو دیکھنے سے معذرت کریں گے تو سینئر پیونی جج کو بھیجا جائے گا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے چیف جسٹس کو کیسے بھیجا جائے گا؟ چیف جسٹس روسٹر کے سربراہ نہیں ہیں۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا فل کورٹ اور بینچ میں فرق ہے ؟ دونوں میں فرق واضح کریں؟ بینچز کا کانسیپٹ کہاں سے آیا؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اختیار کیا کہ جو دستیاب ججز ہوں گے ان پر مشتمل فل کورٹ ہوگا، اگر آپکا اختیار نہیں تو فل کورٹ آج تک بنے کیسے ؟ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کیا چیف جسٹس فُل کورٹ بنانے کے پابند ہیں؟ عابد زبیری نے کہا کہیں پابندی نہیں کہ فل کورٹ نہیں بن سکتا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اعتراض اٹھایا جارہا کہ چیف جسٹس اور موجودہ آئینی بینچ چھبیسویں آئینی ترمیم کا نتیجہ ہیں، کیا آئینی بینچ فل بینچ کا آرڈر کر سکتا ہے ؟ وکیل نے موقف اپنایا آئینی بینچ جوڈیشل آرڈر پاس کرے گا، بینچ کی تشکیل ایڈمنسٹریٹو آرڈر ہوتاہے ،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ چیف جسٹس اور آئینی بینچ پر اعتراض ہے تو کیسے جوڈیشل آرڈر پاس کر سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا ہم بطور آئینی بینچ بیٹھے ہیں، آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی بینچ بنایا گیا، کیا چیف جسٹس کو ڈائریکشن دے سکتے ہیں کہ مخصوص ججز کو لگا دیں اور مخصوص ججز کو بینچ میں نہ لگائیں؟ وکیل نے موقف اپنایا آئینی بینچ کے پاس فل کورٹ کی تشکیل کی ڈائریکشن پاس کرنے کا اختیار ہے ۔جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا اگر آئینی بینچ ہے جس کے سامنے ایک ریگولر کیس مقرر ہے ، کیا ہم سن سکتے ہیں؟ وکیل نے کہا آئینی بینچ ریگولر کیس نہیں سن سکتا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے آپ کہہ رہے ہیں کہ آئینی بینچ کیس سن تو سکتا ہے لیکن سننا نہیں چاہیے ۔ وکیل نے کہا چھبیسویں آئینی ترمیم اہم کیس ہے ، کبھی ترمیم کامیابی سے چیلنج نہیں ہوئی۔ جسٹس جمال مندو کیل نے ریمارکس دیئے پِک اینڈ چوز نہ کریں، اصول پر بات کریں۔ جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا فل کورٹ کی استدعا کرتے ہیں تو فل کورٹ کی تشکیل میں کہیں کوئی قدغن ہے ؟ ماضی میں کئی بار فل کورٹ کی تشکیل ہوچکی ہے ، فل کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں تھا، آپ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل کے ججز پر مبنی فل کورٹ چاہتے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے وزیراعظم اور کابینہ حکومت ہوتی ہے ، چیف جسٹس اور ججز سپریم کورٹ ہوتے ہے ۔ آپ فل کورٹ چاہتے لیکن محدود کررہے ہیں، چوبیس ججز پر مبنی فل کورٹ کیوں نہیں کہہ رہے ؟ آپ فلاں فلاں ججز پر مبنی فل کورٹ نہیں کہہ سکتے ، آپ صرف فل کورٹ کی استدعا کریں۔چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل والے ججز پر فل کورٹ چاہیے تو سپریم کورٹ سے کچھ ججز کو نکالنا ہوگا،عابد زبیری نے کہا میں یہ نہیں کہہ رہاکہ سپریم کورٹ سے ججز کو نکال دیں،فل کورٹ کے ذریعے معاملے پر تمام ججز کی اجتماعی دانش آجائے گی۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا آپ بتائیں 17 ججز کا ہی فل کورٹ کیوں؟ 24 ججز کا کیوں نہیں؟ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے آپ پسند کریں یا نہ کریں، آرٹیکل 191اے موجود ہے ، فل کورٹ کا لفظ آرٹیکل 191اے میں موجود نہیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ چیف جسٹس کو معاملہ بھیجیں کہ وہ فل کورٹ بنائیں، آرٹیکل 191 اے کے تحت اب چیف جسٹس کا اختیار ہی نہیں رہا، آپ کہہ رہے ہیں کہ چھبیسویں ترمیم والے ججز کو فل کورٹ کا حصہ نہ بنائیں، آپ جن ججز کو فل کورٹ میں لانا چاہ رہے ہیں وہ ججز تو ہیں لیکن آئینی بینچ کے ججز نہیں، آرٹیکل 191 اے میں قدغن ہے ، آئینی معاملات آئینی بینچ ہی سنے گا، آرٹیکل 191اے کے ہوتے ہوئے کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آئینی بینچ کے ججز ہی فل کورٹ کو مکمل کرتے ہیں؟ آئندہ سماعت پر اس سوال کا جواب دیں۔ بعد ازاں سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔

  • قومی بولر نعمان علی نے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا

    قومی بولر نعمان علی نے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا

    لاہور:قومی کرکٹ ٹیم کے لیفٹ آرم سپنر نعمان علی نے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا۔لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میں نعمان علی نے جنوبی افریقا کیخلاف چھ وکٹیں حاصل کیں، یہ نواں موقع تھا جب انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔نعمان علی پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے لیفٹ آرم سپنر بن گئے ہیں۔اس سے قبل یہ اعزاز اقبال قاسم کے پاس تھا جنہوں نے آٹھ مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کی تھیں۔

  • ٹی ایل پی کے دفاتر،سٹورز پر چھاپے : کروڑوں روپے ، طلائی زیورات اور قیمتی سامان ضبط

    ٹی ایل پی کے دفاتر،سٹورز پر چھاپے : کروڑوں روپے ، طلائی زیورات اور قیمتی سامان ضبط

    لاہور: پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنان کے دفاتر اور سٹورز پر چھاپے مارے۔پولیس نے کارروائی کے دوران اسلحہ، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دستاویزات قبضے میں لیں، کارروائی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت حساس انٹیلی جنس رپورٹ پر کی گئی جب کہ سامان کی ضبطی پولیس ایکٹ اور انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت ہوئی۔کارروائی میں سی ٹی ڈی، ایس پی آپریشنز اور مقامی تھانے کی ٹیمیں شامل تھیں جب کہ موقع پر موجود مجسٹریٹ نے ضبطی کارروائی کی نگرانی کی،ضبط شدہ ریکارڈ کو فرانزک ٹیم کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ضبط سامان میں لیپ ٹاپس، ہارڈ ڈرائیوز، موبائل فونز، سوشل میڈیا ڈیٹا، پارٹی لٹریچر، چندہ رجسٹر، تنظیمی مواد ،حساس نوعیت کی ویڈیوز اور رابطے شامل ہیں۔علاوہ ازیں ضبط ہونے والی اشیا میں طلائی چوڑیاں اور کڑے 445 گرام، بریسلٹ کانٹے ہار چین اور لاکٹ 490 گرام،انگوٹھیاں بریسلٹ اور دیگر اشیا 355 گرام شامل ہے ، یعنی کل سونا 1922 اعشاریہ 5گرام جب کہ چاندی 898 گرام بھی برآمد ہوئی۔ضبط ہونے والے سامان میں مختلف برانڈز کی 69 گھڑیاں ، متفرق چیزیں 72 عدد برآمد ہوئیں جن کا کل وزن 355 گرام ہے ، اس کے علاوہ برآمد ہونے والی غیر ملکی کرنسی میں 5000 انڈین روپے ،2885 یوروز ،8592 ریال ،4250پاونڈز ، 2500ہانک کانگ ڈالر بھی شامل ہیں۔اسی طرح کنیڈین 200ڈالر، یو اے ای درہم 1440، ملیشن کرنسی 84،1یوایس ڈالر،عراقی دینار 250 جوکہ پاکستانی 7کروڑ 17لاکھ65ہزار بنتے ہیں اںہیں ضبط کر لیا گیا۔

  • فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے: شاہ اردن

    فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے: شاہ اردن

    عمان: اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے، جب تک ایسا امن عمل شروع نہیں کیا جاتا جس کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو، مشرق وسطیٰ کی تباہی یقینی ہے۔شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس مسئلے کو حل نہیں کرتے، اگر ہم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مستقبل اور اسرائیل کے ساتھ عرب اور مسلم دنیا کے تعلقات قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتے، تو ہماری تباہی یقینی ہے۔اردن کے بادشاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس خطے میں امن کے لیے کئی کوششیں کی گئی جو ناکام ہوئیں، دو ریاستی حل جس میں اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس کا واحد حل ہے۔شاہ عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ سیاسی بصیرت کے ساتھ صورتحال کو واپس پہلے کی پوزیشن پر واپس لے سکیں گے کیونکہ اگر ہم اس مسئلے کو حل نہیں کرتے ہیں، تو ہمیں دوبارہ اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • خیبر پختونخوا :جس شخص پر مقدمات کی بھر مار ہو ا سے صوبے کی کمان دینے سے پہلے سوچنا پڑیگا:وزیراعظم   اب وہ دن گئے جب احتجاج اور لانگ مارچز کر کے ملک میں ترقی کا عمل روکا جاتا تھا اور یہاں تماشہ لگایا جاتا ،راستے بند کرنے والوں کے راستے بند کرنا ہوں گے بھارت دوبارہ جارحیت نہیں کریگا ،اس حوالے سے کوئی ملک اس کیساتھ نہیں،ٹرمپ کیساتھ کھڑے ہوکر غزہ جنگ ختم کرائی ،آج دنیا امن معاہدے کے پیچھے کھڑی ہے افغان انتظا میہ کو بتا دیا دہشتگردی پر اب خاموش نہیں رہیں گے ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات قابل تعریف ، ملکرملک کو آگے لیجانے کیلئے سر گرم :دنیانیوز سے گفتگو

    خیبر پختونخوا :جس شخص پر مقدمات کی بھر مار ہو ا سے صوبے کی کمان دینے سے پہلے سوچنا پڑیگا:وزیراعظم اب وہ دن گئے جب احتجاج اور لانگ مارچز کر کے ملک میں ترقی کا عمل روکا جاتا تھا اور یہاں تماشہ لگایا جاتا ،راستے بند کرنے والوں کے راستے بند کرنا ہوں گے بھارت دوبارہ جارحیت نہیں کریگا ،اس حوالے سے کوئی ملک اس کیساتھ نہیں،ٹرمپ کیساتھ کھڑے ہوکر غزہ جنگ ختم کرائی ،آج دنیا امن معاہدے کے پیچھے کھڑی ہے افغان انتظا میہ کو بتا دیا دہشتگردی پر اب خاموش نہیں رہیں گے ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات قابل تعریف ، ملکرملک کو آگے لیجانے کیلئے سر گرم :دنیانیوز سے گفتگو

    لاہور:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پختونخوا میں تبدیلی کا عمل آئین قانون کے مطابق ہوگا لیکن اگر کوئی سمجھے کہ کسی ایسے شخص کو یہاں مسلط کر دیا جائے جو سمگلنگ ، جرائم پیشہ سرگرمیوں کا حصہ ہو اور اس پر مقدمات کی بھرمار ہو تو اسے حساس صوبہ کی کمان دیتے ہوئے سوچنا پڑے گا ۔ایسا کرنے والے کیا یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انارکی ہو، اب وہ دن گئے جب احتجاج اور لانگ مارچز کر کے ملک میں ترقی کا عمل روکا جاتا تھا اور یہاں ماشہ لگایا جاتا تھا، اب ایسا نہیں ہوگا۔اگر کوئی پاکستان کے اندر انتشار، خلفشار گھیراؤ جلاؤ کو ہوا دینا چاہتا ہے تو وہ دن گئے ، اب ایسا نہیں چلے گا۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت اور انتظامی مشینری کی بنیادی ذمہ داری ہے اور وہ ذمہ داری ادا کریں گے تو امن قائم ہوگا،راستے بند کرنے والوں کے راستے بند کرنا ہونگے آج کا پاکستان ان انتہا پسندانہ رجحانات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دنیا نیوز سے اپنی رہائش گاہ پر خصوصی بات چیت کر تے ہوئے انہوں نے کہا افغانستان کی جانب سے حملہ اور اس پر پاکستان کے موثر ردعمل پر سعودی عرب، قطر اور دوست ممالک نے ہم سے رابطہ کیا ہے ہم نے انہیں باور کرا دیا ہے کہ افغانستان دشمن ملک نہیں لیکن افغان سرزمین سے دشمنی کے مرتکب دہشتگردوں کو انکے انجام پر پہنچانا ہم پر فرض ہے ، ہم نے ہر قیمت پر انہیں انکے انجام پر پہنچانا ہے ، افغان انتظامیہ کو باور کرایا کہ انکی گرفت کریں انکے مراکز ختم کریں انکی سرگرمیوں کا توڑ کریں اگر وہ ایسا نہیں کر سکے اور یہ ہماری سرزمین پر مذموم کھیل کھیلیں گے ، قتل و غارت میں ملوث ہوں گے تو ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں ۔انہوں نے کہا پاکستان نے کبھی مذاکرات کا آپشن نہیں چھوڑا، بار بار بار کہا گیا کہ یہ سلسلہ اس سرزمین سے بند کردیں آخر ایک حد ہوتی ہے اور وہ حدیں کراس کرتے جا رہے تھے تو انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان کی پیشہ ورانہ تربیت کی حامل فوج جب ردعمل دیتی ہے تو پھر یہ نتیجہ خیز ہوتا دنیا کو نظر آتا ہے ، لہذا افغان فورسز کے حملہ کے جواب میں اسے پیغام دیا گیا ہے کہ وہ باز آ جائیں ورنہ اپنے شرمناک انجام کیلئے تیار رہیں۔ افغان انتظامیہ کو بتایا کہ دہشتگردی کے مراکز آپکی سرزمین پر ہیں ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارے آئیں اور ہمارے بچوں کو خون میں نہلائیں اور ہم خاموش رہیں، بہت برداشت کیا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ان کی جڑیں بھی کاٹیں گے اور دہشتگردی کی کمر توڑ کر رکھیں گے ۔ اب دہشتگردی ہمارا ہدف ہے جو بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا اسکے خلاف طاقت کا استعمال ہوگا۔ بھارت کا مغربی بارڈر پر دہشت گردی کا گٹھ جوڑ ہے اور یہ سلسلہ علاقہ میں امن کو متاثر کر رہا ہے ۔نریندر مودی کی دھمکیاں گیڈر بھبھکیاں ہیں ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور دشمن کو دھول چٹانے کا فن بھی ہماری پیشہ ورانہ فوج کے پاس ہے ۔ بھارت نے پھر جارحیت کی کوشش تو منہ کی کھانا پڑے گی مگر میں نہیں سمجھتا کہ اب کہ وہ ایسا کرے اس لئے کہ دنیا میں کسی بھی ملک نے ان کے اس طرز عمل کی تائید نہیں کی کوئی بھی ملک انکے ساتھ نہیں۔ انہوں نے مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کردار اور خدمات کی تعریف کرتے کہا کہ آج ہم ملکر جہاں ملک کو آگے لے جانے کیلئے سرگرم ہیں۔ وہاں پاک سرزمین کو ہر طرح کی دہشتگردی ، تخریب کاری اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں ۔ وزیراعظم نے غزہ پرامن معاہدہ میں صدر ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے کہا کہ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ جنگ بندی چاہتے ہیں اور ہم نے بھی انکے ساتھ کھڑے ہو کر جنگ بندی یقینی بنائی، ہم غزہ میں بچوں کو خون میں نہاتا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ آج امن معاہدے کے پیچھے دنیا کھڑی ہے ۔ آج مصر کا دورہ اہم ہے ۔ مصر میں آج مسلم ممالک اور یورپین ممالک مل کر معاہدہ پر عملدرآمد بارے غورکرینگے ، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ دنیا غزہ جیسی صورتحال کی متحمل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کسی کو نسل کشی اور قتل عام کی آزادی دی جا سکتی ہے ۔ شہباز شریف نے کہا کہ آج اگر دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہے تو ہم نے اس طاقت کو معاشی حوالہ سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے کیلئے لگانا ہے اور ۔انہوں نے سی پیک کے مستقبل پرکہا سی پیک ہمارا معاشی مستقبل ہے اور پاکستان اور چین کے درمیان اس حوالے سے ہم آہنگی ہے اور سی پیک پر کام چل رہا ہے ۔ پاکستان کا ترقی کا عمل دشمن کو ہضم نہیں ہو پا رہا۔ دشمن کے ناپاک عزائم پورے نہیں ہونگے ۔ علاوہ ازیں اتوار کو وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہاہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا ناصرف بھرپور جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے ، ان کو پسپائی پر مجبور کیا۔پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے ۔ سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے بھرپور اور مؤثر کاروائی پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا اورکہا پوری قوم پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے ۔ پاکستان نے کئی دفعہ افغانستان کو وہاں موجود فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے دہشتگرد عناصر بارے معلومات دی ہیں، جو افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے جامِ شہادت نوش کرنے والے 23 جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اورشہدا کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہوئے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور دہشتگردوں کیخلاف کارروائیوں میں زخمی جوانوں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی ۔

  • منعم ظفر کی پروفیسر محمد علی بلوچ کے اہلخانہ سے تعزیت

    منعم ظفر کی پروفیسر محمد علی بلوچ کے اہلخانہ سے تعزیت

    کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جماعت اسلامی کے رکن پروفیسر محمد علی بلوچ اورجماعت اسلامی ضلع گڈاپ کے نائب قیم حاجی طور خان کے بڑے بھائی کے انتقال پر ان کے گھر جاکر علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور مرحومین کے اہل خانہ ولواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔منعم ظفر خان نے پروفیسر محمد علی بلوچ کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت و دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اقامت دین کی جدوجہد میں گزاردی ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔

  • جنگ ختم، مشرق وسطی میں ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہوچکا: ٹرمپ

    جنگ ختم، مشرق وسطی میں ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہوچکا: ٹرمپ

    تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطی کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہے۔اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کو لگ رہا تھا ہم غزہ میں امن کی کوششوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں، غزہ میں توجہ اب تعمیر نو کی طرف ہونی چاہیے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تاریخ ساز لمحہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بندوقیں خاموش ہو رہی ہے، امن آرہا ہے، عرب اور مسلم ممالک نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے زور ڈالا ہے، لوگوں کو لگ رہا تھا ہم غزہ میں امن کی کوششوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے وہ سب کچھ جیت لیا ہے جو طاقت کے بل پر جیتا جا سکتا تھا، وقت آگیا ہے کہ میدانِ جنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے خوشحالی کے حتمی انعام میں تبدیل کیا جائے، اسٹیو وٹکوف نے امن معاہدے کے لیے بہت محنت کی۔امریکی صدر نے اپنا خطاب میں کہا کہ غزہ امن معاہدے میں عرب اور مسلم ممالک نے اہم کردار ادا کیا، عرب ممالک اور مسلم رہنماؤں نے مل کر حماس پر دباؤ ڈالا کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کرے، اور اس سے ہمیں بہت مدد ملی، بہت سے لوگوں کی جن سے آپ کی توقع نہیں ہوگی، اور میں ان سب کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

  • شہباز شریف کی شرم الشیخ میں فلسطینی صدر سے ملاقات، جنگ بندی پر اظہار اطمینان

    شہباز شریف کی شرم الشیخ میں فلسطینی صدر سے ملاقات، جنگ بندی پر اظہار اطمینان

    شرم الشیخ: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ خوشگوار ملاقات ہوئی۔بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ بھی ملاقات و گفتگو میں شریک تھے، صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کا ہمیشہ سے ساتھ دینے اور ان کی سیاسی و سفارتی محاذ پر مدد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔دونوں رہنماؤں کی شرم الشیخ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط سے پہلے گرمجوشی سے غیر رسمی ملاقات اور گفتگو ہوئی۔

  • گورنر نے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی قرار دیدیا، اپوزیشن کا چیلنج کرنے کا اعلان

    گورنر نے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی قرار دیدیا، اپوزیشن کا چیلنج کرنے کا اعلان

    پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کا آج ہونے والا انتخاب غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک علی امین کا استعفیٰ منظور نہیں ہوتا، وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی تصور ہوگا جبکہ اپوزیشن لیڈر نے سہیل آفریدی کے انتخاب کو کل عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سوال کیا کہ نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نوٹیفکیشن کون کرے گا، علی امین گنڈاپور کے استعفے سے مطمئن نہیں ہوں، اطمینان میرا آئینی حق ہے، علی امین پرسوں بدھ کو میرے پاس آجائیں، انہیں چائے بھی پلاؤں گا اور استعفیٰ بھی منظور ہو جائے گا۔اس سے قبل گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفیٰ پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ میرے آفس کو آپ کے استعفوں کی دو کاپیاں موصول ہوئیں، آپ کے استعفوں کی کاپیوں پر کئے گئے دستخط ایک جیسے نہیں ہیں۔دوسری طرف خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کل وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف عدالت جائے گی، ہم تو کل تک سمجھ رہے تھے کہ استعفیٰ منظور ہوا، اس لیے امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے۔ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب غیرآئینی ہے، ان کے وکیل کہہ رہے ہیں یہ ٹھیک ہے، ہم کہہ رہے ہیں یہ غلط ہے، ہم سمجھ رہے تھے کہ استعفیٰ منظور ہو گیا اس لیے امیدوار لائے۔واضح رہے کہ محمد سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے جبکہ اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔