لزبن:پرتگال نے بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا، کل باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر کئی ملکوں کے بعد پرتگال نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، پرتگال کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ 21 ستمبر کو فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کئی ممالک فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔پرتگال کے وزیر خارجہ نے رواں ہفتے برطانیہ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم اب وزارت خارجہ کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم سے متعلق اعلان کردیاگیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بیلجیئم بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور اس کا باقاعدہ اعلان رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متوقع ہے۔
Category: اہم خبریں
-

سکھیکی میں اکیڈمی کی چھت گر گئی، 5 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق
سکھیکی: سکھیکی میں اکیڈمی کی چھت گر گئی جس سے 5 طلبا سمیت 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔ذرائع کے مطابق بچے اکیڈمی میں تعلیم حاصل کررہے تھے کہ چھت گر گئی۔بتایا گیا ہے کہ ملبے تلے متعدد اس وقت بھی متعدد بچے دبے ہونے کی اطلاع ہے جن کو نکالنے کے لیےامدادی ٹیمیں مسلسل کام کررہی ہیں۔ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ افسوس ناک واقعے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
-

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کی افغان سفیر سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے اسلام آباد میں افغان سفیر سردار احمد شکیب سے ملاقات کی جس میں باہمی تعلقات اور خطے کی سلامتی سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں خیبر پختونخوا میں جاری بدامنی کے واقعات، پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی صورتحال اور خطے میں دیرپا امن کے قیام پر بات چیت کی گئی، بیرسٹر سیف نے افغان عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، زلزلہ متاثرین کے لیے دعا کی اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔بیرسٹر سیف نے افغان سفیر کو وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت کے امن و امان کے اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہے اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا جبکہ قبائلی جرگوں کے کردار پر بھی زور دیا گیا۔مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے بتایا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور خود قبائلی جرگے منعقد کر رہے ہیں جو امن کے قیام میں معاون ثابت ہوں گے۔افغان سفیر سردار احمد شکیب نے اس موقع پر کہا ہے کہ افغان حکومت قیام امن کے لیے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے، خطے میں پائیدار امن دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
-

جنوبی پنجاب میں لوگوں کے وارننگ سنجیدہ نہ لینے پر زیادہ نقصان ہوا: سربراہ پی ڈی ایم اے
لاہور: قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے حالیہ سیلاب کو 1956 کے بعد سب سے بڑا سیلاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران تمام اداروں نے مل کر کام کیا تاہم جنوبی پنجاب میں زیادہ نقصان اس لیے ہوا کہ وہاں لوگوں نے انتظامیہ کی وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ایک انٹرویو میں پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ اس سال 1956 کے بعد سب سے بڑا سیلاب آیا ہے، پنجاب کے تین دریا ستلج، چناب اور راوی میں ایک ہی وقت گنجائش سے زیادہ پانی سے نمٹنا بہت مشکل کام تھا۔عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر ہوا جہاں پانی کی سطح ساڑھے دس لاکھ کیوسک سے زائد ہوئی جبکہ وہاں پانی گزرنے کی گنجائش نو لاکھ کیوسک ہے۔ راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر گنجائش ڈیڑھ لاکھ ہے جبکہ پانی دو لاکھ کیوسک سے بھی زیادہ آ گیا، پھر ستلج میں پانی کی سطح ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ رہی جس سے گنڈا پور میں کئی دن تک سطح خطرناک حد تک رہی۔پی ڈی ایم اے سربراہ کے مطابق اس بار سیلاب نے زیادہ تباہی اس لیے مچائی کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح کئی دن بلند رہی، اس دریا میں راوی سدھنائی سے شامل ہوتا ہے جبکہ ستلج جلالپور پیروالہ کے مقام پر اس میں شامل ہوتا ہے، ان دونوں دریاؤں کا پانی چناب میں سطح بلند ہونے پر آگے جا نہیں سکا بلکہ چناب کا پانی واپس ان دریاؤں میں آ گیا، جس سے کئی مقامات پر شگاف ڈال کر ہیڈ ورکس بچانا پڑے۔عرفان کاٹھیا نے کہا کہ سیلاب کی دوسری بڑی وجہ آبی گزرگاہوں پر تعمیرات تھیں، جس سے پانی کا رستہ رکنے پر آبادیاں زیرآب آئیں، بالائی پنجاب کی نسبت جنوبی پنجاب میں سیلاب سے زیادہ نقصان اس لیے ہوا کہ وہاں لوگوں نے انتظامیہ کی وارننگ کو سنجیدہ نہیں لیا، جب سیلاب آیا تو پھر لوگوں کو ریسکیو کرنے کا دباؤ انتظامیہ پر بہت بڑھ گیا، اس کے باوجود لوگوں کو محفوظ مقامات پر ایمرجنسی میں ہی منتقل کر دیا گیا۔واضح رہے کہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے 47 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، سیلاب زدہ علاقوں سے مجموعی طور پر 22 لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، اس دوران تین لاکھ کچے جبکہ 83 ہزار پکے مکانات کو نقصان پہنچا ہے، مجموعی طور پر پنجاب کے کل 27 اضلاع میں سیلاب آیا، البتہ کہیں کم اور کہیں زیادہ نقصان ہوا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب متاثرین کے نقصان کے ازالے کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔عرفان علی کاٹھیا نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جن کے گھر جزوی متاثر ہوئے انہیں پانچ لاکھ، جن کے مکمل گر گئے انہیں 10 لاکھ، دودھ دینے والی بھینس کے پانچ لاکھ، دیگر جانوروں کے فی جانور ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے تک حکومت ادا کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ پہلی بار تباہ ہونے والی فصلوں کے بھی فی ایکڑ 20 ہزار روپے بھی ادا کیے جائیں گے۔عرفان کاٹھیا نے بتایا کہ ہم نے سیلاب سے پہلے ہی 25 اگست کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے تمام ایریاز کی تصاویر بنوائی ہوئی ہیں، اب سیلاب کے بعد بھی بنوائی ہیں، جن سے واضح ہے کہ کہاں کتنا سیلاب آیا، کس کا کتنا نقصان ہوا ہے، اس کے علاوہ مقامی سطح پر کمیٹیاں سروے کر کے رپورٹ پیش کریں گی۔یہ بھی بتایا کہ صوبائی سطح پر مختلف طریقوں سے موصول تفصیلات کے تحت جلد ہی ریلیف پیکج شروع کر دیا جائے گا اور متاثرین میں رقوم شفاف انداز میں ان کے اکاؤنٹس میں بھجوائی جائیں گی۔سربراہ پی ڈی ایم اے نے دعویٰ کیا کہ ہر دس سال میں ایک یا دو بار شدید سیلاب سے معیشت اور انفراسٹرکچر متاثر ہوتا ہے، اس لیے اس بار سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ نقصان سے بچا جا سکے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے غیر متوقع نتائج سے نمٹنا ایک چیلنج برقرار ضرور رہے گا البتہ ایسا بھی ممکن نہیں کہ تمام دریاؤں کے اطراف ہر جگہ انتہائی اونچی رکاوٹیں بنا دی جائیں، لیکن آبی گزرگاہوں اور بندوں کی مضبوطی کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ ملک بھر میں جون کے وسط سے جاری مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں اب تک نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں اور ہزار سے زائد زخمی ہیں جبکہ مال مویشی اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔دوسری جانب بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی پنجاب کے دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں طغیانی اور اردگرد کی آبادیوں کو متاثر کرنے کے بعد اب سندھ میں داخل ہو چکا ہے۔
-

فرانسیسی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ، فلسطین کے دو ریاستی حل پرگفتگو
پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ سعودی ولی عہد سے فلسطین کے دو ریاستی حل پر بات چیت ہوئی۔
ایمانوئل میکرون نے کہا کہ دوریاستی حل کیلئے 142 ممالک نے اقوام متحدہ کے اعلامیہ پر ووٹ دیا۔فرانسیسی صدر نے کہا کہ 142 ممالک نے اقوام متحدہ کا اعلامیہ اپنایا جو امن کیلئے سنگ میل ہے، یہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور سلامتی کی طرف ایک اہم موڑ ہے۔میکروں نے کہا کہ فرانس اور سعودی عرب پیر کو دوریاستی حل پر کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، یہ کانفرنس بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے میں مزید قدم اٹھانے کے قابل بنائے گی۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مزید کہا کہ دو قومیں ، دو ریاستیں، سب کے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہوں گی۔ -

جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان افغانستان میں پراسرار طور پر ہلاک
لاہور: جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ فتنہ الہندوستان کا دہشت گرد گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پراسرار طور پر ہلاک ہو گیا۔ذرائع نے بتایا کہ گل رحمان عرف استاد مرید جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، دہشت گرد گل رحمان فتنہ الہندوستان مجید بریگیڈ کا ٹرینر اور آپریشن کمانڈر تھا، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کے مطابق وہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں17 ستمبر 2025 کو ہلاک ہوا۔یہ بھی بتایا گیا کہ دہشت گرد گل رحمان پاکستانی سکیورٹی فورسز، چینی شہریوں، معصوم شہریوں اور مختلف اداروں پر حملوں میں ملوث تھا، فتنہ الہندوستان نے پاکستان کے نہتے معصوم شہریوں، سکیورٹی فورسز اور سی پیک نصوبوں کو نشانہ بنایا۔ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان نے جعفر ایکسپریس، کراچی میں چینی قونصلیٹ اور گوادر پی سی ہوٹل میں دہشت گردانہ کاروائیاں کیں، فتنہ الہندوستان نے خضدار سکول بس دھماکہ، کراچی میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ خود کش دھماکہ، پاکستان سٹاک ایکسچینج حملہ اور کوئٹہ ریلوے اسٹیشن میں دہشتگردانہ کاروائیاں کیں۔واضح رہے کہ امریکہ فتنہ الہندوستان کے مجید برگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور چین نے فتنہ الہندوستان کے مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کی دہشت گرد فہرست میں ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے، فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
-

اسرائیل کی جنگ بندی کی پھر خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان میں بمباری
بیروت: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک بڑی فضائی کارروائی کی اور دعویٰ کیا کہ ہدف ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے ٹھکانے تھے۔اسرائیل کی جانب سے ان اہداف کو نشانہ بنانے سے قبل بعض مقامات کو خالی کرانے کی انتباہ بھی جاری کی گئیں تھیں تاہم اس اسرائیلی فضائی حملے کے بعد فوری طور پر کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ سال نومبر میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا تاہم اُس کے باوجود آئی ڈی ایف کی جانب سے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔لبنان کے وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر زور دیں کہ وہ ان حملوں کو روکے اور اپنے جنگ بندی کے وعدوں کو پورا کرے۔آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں مائس الجبل میں بڑے پیمانے پر دھویں کے بادل دکھائی دیے جو اُن مقامات سے اُٹھ رہے تھے کہ جہاں اسرائیل نے فضائی حملے کیے۔اسرائیل نے جن اہداف کو نشانہ بنایا ہے اُس کے متعلق کوئی ثبوت تو پیش نہیں کیے گئے تاہم یہ الزام لگایا گیا کہ یہ حزب اللہ کے زیر استعمال تھے اور وہ ان کو علاقے میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔اسرائیلی دفاعی فورسز کے عربی ترجمان آویچے ادراعی نے کہا کہ ان کی فورسز نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے گوداموں پر حملہ کیا اور ان کی موجودگی اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمجھوتوں کی خلاف ورزی تھی۔لبنان کے وزیراعظم نواز سلام نے ایک پوسٹ میں بین الاقوامی برادری، خاص طور پر جنگ بندی کے حامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالیں تاکہ وہ فوری طور پر اپنی جارحیت بند کرے، فوراً لبنانی علاقے سے واپس نکلے اور قیدیوں کو رہا کرے۔
-

بچوں کا غزہ مارچ ،مسلم دنیا کو عملی اقدامات کرنا ہونگے :حافظ نعیم
کراچی: جماعت اسلامی کے تحت اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کے شکار اہل فلسطین بالخصوص بچوں سے اظہار یکجہتی کیلئے شاہراہ قائدین پرکراچی چلڈرن غزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ مارچ میں شہر بھر سے نجی و سرکاری اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی اور لبیک یا اقصیٰ کے نعرے لگاکر غزہ کے نہتے مظلوم بچوں سے اظہار یکجہتی کیا،فضا اللہ اکبر اور لبیک یا اقصیٰ کے نعروں سے گونجتی رہی ۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کو امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے جبکہ مسلم دنیا کے حکمران بے حسی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں اوراقوام متحدہ عضومعطل بن چکی ہے ، انسانی حقوق کی بات کرنے والا امریکا فلسطین میں انسانیت کے قتل عام پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ 7 اکتوبر کو بین الاقوامی سطح پر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا جبکہ 5 اکتوبر کو کراچی میں شارع فیصل پر عظیم الشان غزہ ملین مارچ ہوگا، دیگر مسلم ممالک میں بھی ملین مارچ ہوں گے ۔ اہل غزہ و فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے امریکہ و اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ بھی جاری رہے گا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے لیکن اس میں ایران اور دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہئے ۔
-

وائلڈ لائف رینجر کی‘کارروائیاں‘سبز طوطے ‘ آلات برآمد
وہاڑی :ڈی جی وائلڈ لائف رینجر پنجاب مبین الٰہی کی ہدایات پر وائلڈ لائف رینجر ضلع وہاڑی کی ٹیم نے تین مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔پہلی کارروائی ہیڈ اسلام کے مقام پر اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر مہر کلیم سرفراز نے عملہ کے ہمراہ کی، جس میں ایک مسافر بس کی چیکنگ کے دوران ایک بند کریٹ سے سبز طوطے برآمد ہوئے اور انہیں چڑیا گھر وہاڑی منتقل کرکے نامعلوم ملزم کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ دوسری کارروائی میں بٹیر کے غیر قانونی شکار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین جال، اسپیکر اور بیڑیاں قبضے میں لی گئیں۔ تیسری کارروائی رتہ ٹبہ کے قریب ہوئی، جہاں مخبر کی اطلاع پر رضوان اللہ ولد محمد شمعون کو ایئر گن کے ذریعے ناجائز شکار کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ اس موقع پر سینئر وائلڈ لائف رینجر رحمٰن اور سینئر وائلڈ لائف رینجر محمد جاوید نے کارروائی کی اور ملزم کیخلاف قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی گئی ۔
-

پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، آفاق احمد
کراچی: مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور گزشتہ 17 برسوں کے دوران ترقیاتی بجٹ کے کھربوں روپے ہڑپ کرلیے ہیں۔
گزشتہ روز اپنے بیان میں چیئرمین آفاق احمد نے کہا کہ صوبے کو ہر سال جتنا ریونیو کراچی فراہم کرتا ہے ، اس کا دس فیصد بھی شہر پر خرچ نہیں کیا جاتا۔ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ غیر مقامی افسران کی تعیناتی ہے ۔ پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ سے افسران لاکر شہر میں تعینات کر دیے ہیں جو دونوں ہاتھوں سے شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ نے کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کو جس تیزی اور تسلسل کے ساتھ تباہ کیا گیا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے پیپلز پارٹی کا عذاب کراچی اور سندھ پر مسلط کیا وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف شہر بلکہ ملک کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے کیوں کہ کراچی نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی معیشت کو سہارا دینے والا شہر ہے ۔ آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے کسی اچھائی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فارم 47 بنانے والے پیپلز پارٹی کی کرپشن، اقربا پروری اور بیڈ گورننس کا نوٹس لیں اور کراچی کو تباہ ہونے سے بچایا جائے ۔
