Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اہم خبریں – Page 92 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: اہم خبریں

  • شیر افضل مروت اور بانی پی ٹی آئی کی دھاندلی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور

    شیر افضل مروت اور بانی پی ٹی آئی کی دھاندلی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شیر افضل مروت اور بانی پی ٹی آئی کی دھاندلی کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور کر لیں۔عدالت نے درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر دیے اور رجسٹرار آفس کو درخواستوں کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر وکلاء تیاری کرکے پیش ہوں، شیر ا فضل مروت کے وکیل کی اعتراضات ختم کرنے کی استدعا منظور کر لی گئی، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

  • پہلگام واقعے پر ’’را‘‘ کی خفیہ دستاویز لیک، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ برطرف

    پہلگام واقعے پر ’’را‘‘ کی خفیہ دستاویز لیک، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ برطرف

    اسلام آباد:پہلگام واقعے پر ’’را‘‘ کی خفیہ دستاویز لیک ہونے کے بعد بھارت کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس رانا اندمان و نکوبار (المعروف کالا پانی) میں جبری بھیج دیے گئے۔ ڈی ایس رانا کے تبادلے کو خفیہ ’’را‘‘ دستاویزات سے جوڑا جا رہا ہے جو کہ ٹی آر ایف نے بھی حاصل کر لی اور تمام دنیا کو دکھا دی۔لیک دستاویز نے ’’را‘‘ کا عالمی سطح پر مذاق بنا دیا اور پہلگام آپریشن کی صداقت پر بھارتی حکومت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔دستاویز میں اعلیٰ سطح کے جھوٹے آپریشنز میں فوجی و سیکیورٹی اداروں کا کردار سامنے آیا ہے۔ لیکڈ فائل جنرل رانا کی ذاتی حفاظت میں دی گئی تھی۔بھارتی حکومتی تحقیقات کے مطابق لیک فائلز جنرل رانا کے دفتر سے میڈیا تک پہنچیں جس پر جنرل رانا کو فوری طور پر ڈی آئی اے کی سربراہی سے ہٹانے کا حکم جاری کیا گیا۔جنرل رانا کا تبادلہ اندیمان نکوبار میں کیا گیا جو بیماریوں، تنہائی اور ناکافی سہولیات والا سخت فوجی اسٹیشن ہے۔ جنرل رانا کی بے توقیری اور اختیار سے اس طرح کی بےعزتی کے ساتھ ہٹایا جانا بھارتی قیادت اور سپاہیوں پر ذہنی دباؤ ڈالے گا۔

  • واہگہ بارڈر پاکستانی شہریوں کیلئے کھلا رہے گا، دفتر خارجہ کی بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید

    واہگہ بارڈر پاکستانی شہریوں کیلئے کھلا رہے گا، دفتر خارجہ کی بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید

    لاہور:پاکستانی شہریوں کی بھارت سے واپسی کے لیے واہگہ بارڈر کی دستیابی سے متعلق دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ بارڈر آئندہ بھی پاکستانی شہریوں کے لیے کھلا رہے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہا ہے۔میڈیا کے سوالات کے پر ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ واہگہ اٹاری بارڈر سے عبور کرنے کی آخری تاریخ 30 اپریل تھی اور اس تناظر میں ہمیں کچھ پاکستانی شہریوں کے اٹاری پر پھنسے ہونے کی میڈیا رپورٹس کا علم ہے۔ترجمان نے کہا کہ اگر بھارتی حکام اپنی طرف سے پاکستانی شہریوں کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ہم ان کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، واہگہ بارڈر آئندہ بھی پاکستانی شہریوں کے لیے کھلا رہے گا۔شفقت علی خان کے مطابق کئی مریض، جن کی صحت نازک تھی، اپنا علاج مکمل کیے بغیر پاکستان واپس آنے پر مجبور ہوئے، خاندانوں کے بچھڑنے اور بچوں کے ایک والدین سے جدا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ بھارت سے 20 پاکستانی آج بھی واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے گزشتہ روز واضع کیا تھا کہ بھارت میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے واہگہ بارڈر کھلا رہے گا۔بھارتی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو واپسی کے لیے 30 اپریل کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

  • پورا خطہ بھارتی اقدامات کی وجہ سےخطرے میں ہے: وزیر خارجہ اسحاق ڈار/ ہم پہلگام واقعہ کے حقائق پر جائیں گے الزامات پر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    پورا خطہ بھارتی اقدامات کی وجہ سےخطرے میں ہے: وزیر خارجہ اسحاق ڈار/ ہم پہلگام واقعہ کے حقائق پر جائیں گے الزامات پر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ پورا خطہ بھارت کے غیر ذمہ درانہ اقدامات کی وجہ سےخطرے میں ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کا مقصد موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کرتے ہیں، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، معصوم شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی برادری سے اس خطرے سے متعلق رابطے میں ہیں، بھارت خطے میں جان بوجھ کرحالات کوکشیدہ کر رہا ہے، پاکستان سمیت کئی ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، بھارت دوسروں پر انگلی اٹھانےکے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے، پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ درانہ رویہ اور اقدامات کیے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات جارحیت پرمبنی ہیں، پاکستان نہ پہلگام واقعے میں ملوث ہے، نہ پہلگام واقعےکا بینیفشری ہے، پاکستان نے پہلگام واقعےکی غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے، بھارت میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ بھارت کا اپنا ڈرامہ ہوتا ہے، بھارت میں ایسے واقعات اس وقت ہوتے ہیں جب وہاں کوئی اہم شخصیت دورہ کرتی ہے، بھارت بتائےکسی اہم شخصیت کے دورے پر ہی ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ پہلگام واقعے پر بھارت نے فوری طور پر پاکستان پر الزام لگا دیا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنےکی کوئی شق نہیں ہے، قومی سلامی کونسل کا واضح پیغام ہےکہ پانی روکنےکا اقدام جنگ تصور کیا جائےگا، بھارتی اقدام سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکارہوگیا ہے، بھارت کے کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ہم واضح کرتے ہیں پاکستان کشیدگی بڑھانے میں پہل نہیں کرے گا، واضح کرتے ہیں اگر بھارت نے کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی سے جوڑناچاہتا ہے، ہماری افواج الرٹ ہیں، ہم چوکس ہیں، بھارت مخصوص مقاصد کے لیے پاکستان پر الزام لگاتا ہے، پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے لائف لائن ہے، غورکرنا ہوگا بھارت نے یہ مہم جوئی کیوں کی اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلگام ایل او سی سے 230 کلومیٹر دور ہے، پہلگام کا راستہ دشوار گزار ہے، پہلگام سے اگر کوئی تھانے تک جاتا ہے تو اس کو 30 منٹ چاہئیں۔ پہلگام واقعے کے 10منٹ کے اندر ایف آئی آر درج کرلی گئی، 10 منٹ میں یہ کیسے ہوگیا؟
    پاکستان کے پہلگام معاملے پر عالمی برادری سے 6 سوالات:
    1-وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پہلگام معاملے پر عالمی برادری سے 6 سوالات کیے۔
    2-کیا یہ وقت نہیں کہ پاکستان سمیت دنیا میں بھارت کی جانب سے شہریوں کے قتل کا احتساب کیا جائے؟
    3-کیا یہ اہم نہیں کہ پہلگام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور بھارت کی جارحیت میں تفریق کی جائے؟
    4-کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی حملےکے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟
    5-کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے سےخطےکی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟
    6-کیا یہ وقت نہیں کہ عالمی برادری مذہبی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا پربھارت کی مذمت کرے؟کیا ہم آگاہ ہیں کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ خطرناک ہوسکتا ہے؟
    دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے کے حقائق پر جائیں گے الزامات پر نہیں۔ پہلگام واقعے کی جگہ ایل او سی سے 230 کلومیٹر دور ہے، یہ کیسے ممکن ہے دس منٹ کے اندر اتنے دشوار گزار راستے سے کوئی پہنچ جائے،بھارتی بیانیہ یہ ہےکہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے،کہا جا رہا ہےکہ مسلمانوں نے فائرنگ کی،کہا جارہا ہےکہ ہندوؤں پر فائرنگ کی گئی، بھارت کی جانب سے یہ بیانیہ کیوں چلایا جا رہا ہے؟ وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیے پر سوال اٹھایا ہے، ہمارا مؤقف واضح ہےکہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں نے یہ واقعہ کرایا، بھارتی الزامات واقعےکے چند منٹ بعد ہی سامنے آنا شروع ہوگئے، زپ لائن آپریٹر کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ، بھارتی میڈیا نے واقعےکے فوری بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کی، جعفر ایکسپریس واقعے پر بھی بھارت کے اسی اکاؤنٹ سے پہلے بیان آیا، اس اکاؤنٹ سے پہلے بتایا جاتا ہےکہ چند گھنٹے میں حملہ ہوگا، بتایا جاتا ہےکہ حملہ کب اورکہاں ہوگا، پھر جب حملہ ہوتا ہے تو وہی بھارتی مخصوص اکاؤنٹ حملےکا بتاتا ہے، بھارتی میڈیا اسی اکاؤنٹ کو لےکرپھر بڑھا چڑھا کرپیش کرتا ہے، یہ وہ سوالات ہیں جس پر ہم غور کر رہے ہیں اور دنیا غور کر رہی ہے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعےکو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کا وتیرہ ہے، بھارت پچاس سال سے اسی ڈگر پر چل رہا ہے، پاکستان پر الزام لگاؤ، کریڈٹ لو اور الیکشن جیتو، یہ ہے ان کا مقصد۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں سیکڑوں پاکستانی غیرقانونی قید ہیں، بھارت ان قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کر رہا ہے۔

  • پہلگام واقعہ، بلوچستان اسمبلی میں بھارتی اقدامات کیخلاف قرارداد پیش

    پہلگام واقعہ، بلوچستان اسمبلی میں بھارتی اقدامات کیخلاف قرارداد پیش

    کوئٹہ:پہلگام واقعے اور بھارت کی آبی جارحیت سمیت پاکستان مخالف مہم جوئی پر بلوچستان اسمبلی میں قرار داد پیش کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پہلگام واقعے کے حوالے سے زرین مگسی نے قرارداد پیش کی، جس میں پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر لگانے کے الزام کی مذمت کی گئی ہے۔قرارداد کے متن میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بھارت نے مہم جوئی کی تو منہ توڑ جواب ملے گا۔قرارداد میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی مذمت گئی جبکہ کشمیر عوام کے حقوق کی مکمل حمایتک ا اعلان کیا گیا ہے۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مجید بادینی نے کہا کہ اگر انڈیا نے کوئی حرکت کی تو اسے ایسا سبق سکھائیں گے جو اس کی نسلیں یاد رکھیں گی جبکہ صوبائی وزیر عبدرالرحمان کھیتران نے کہا کہ مودی سرکار کی الزام تراشی کاپیلا واقعہ نہیں ہے، واقعے کے دس منٹ کے بعد پاکستان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے، پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے ہم سب ایک پیج پر ہیں۔رکن اسمبلی مینا مجید بلوچ نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارتی جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیاہے۔ اقلیتی رکن سنجے کمار نے کہا کہ مودی سرکار بدحواسی کا شکار ہے، بھارت جوالزام لگاتا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اگر بھارت نے جنگ کا سوچا تو اقلیت اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔رکن اسمبلی علی مدد جتک نے کہا کہ پاک فوج تو سبق سکھائے گی بلوچستان کے عوام بارڈر پر بھارت کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج تو دور کی بات ہے ہمارا گلو بٹ ہی بھارت کے لئے کافی ہے۔اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے کہا کہ اگر بھارت کو سیکورٹی میں چائے پینے کا شوق ہے تو ہمیں بھی دیوبند میں ناشتہ کرنے کا شوق ہے، بھارت کو پتھر کا جواب اینٹ سے دیں گے۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ خلاف ہے۔

  • پاک فوج کی جنگی تیاریاں عروج پر، سیالکوٹ، نارووال، ظفر وال میں مشقیں جاری

    پاک فوج کی جنگی تیاریاں عروج پر، سیالکوٹ، نارووال، ظفر وال میں مشقیں جاری

    لاہور: پہلگام فالس فلیگ صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کی جنگی تیاریاں عروج پر، پاک فوج کی مختلف علاقوں میں جنگی مشقیں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جنگی مشقوں میں چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں سمیت ٹینکوں، توپ خانہ اور انفنٹری نے حصہ لیا۔یہ جنگی مشقیں سیالکوٹ، نارووال، ظفروال اور شکر گڑھ سمیت دیگر علاقوں میں کی جا رہی ہیں، پاک فوج کے جوان دفاع وطن کے لئے پُرعزم ہیں۔ذرائع کے مطابق ملک کی سلامتی اور دفاع کے لئے پاک فوج کے جوان قربانی دینے کو تیار ہیں، پاک فوج ہمہ وقت چوکس اور فرض شناسی کے جذبے سے ہر وقت سرشار ہے۔

  • واہگہ بارڈر کے راستے مزید 315 مسافربھارت روانہ، 201 پاکستانی بھی وطن لوٹ آئے

    واہگہ بارڈر کے راستے مزید 315 مسافربھارت روانہ، 201 پاکستانی بھی وطن لوٹ آئے

    لاہورسے واہگہ بارڈر کے راستے مزید 315 مسافربھارت روانہ ہوگئے اور بھارت سے 201پاکستانی لاہورپہنچ گئے۔پاک بھارت کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے شہریوں کی وطن واپس کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں مزید 315 بھارتی شہری آج واہگہ کے راستے بھارت چلے گئے جب کہ 201 پاکستانی شہری واپس لاہور آئے۔ حکام کے مطابق شادی کے بعد بھارت جانے والی 2 پاکستانی خواتین کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے۔ایک خاتون نے بتایا کہ وہ شادی کےبعد بھارت گئی تھی جہاں بیٹا پیدا ہوا تاہم پاکستانی شہریت ہونے کے باعث اسے زبردستی واپس بھیج دیا گیا اور اب ان کا4 ماہ کا بیٹا شوہر کے پاس ہے۔دوسری خاتون نے بھی بتایا کہ وہ شادی کےبعد بھارت گئی تھیں جہاں ان کے 4 بچے پیدا ہوئے مگر پاکستانی شہریت ہونےکےباعث اسے بھی زبردستی بے دخل کردیا گیا۔

  • پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کےلیے مقرر کردی گئی ہے۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 13 رکنی آئینی بینچ 6 مئی کو سماعت کرے گا، سپریم کورٹ نے 12 جولائی 2024ءکے فیصلے میں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا تھا۔آئینی بینچ کے لیے نامزد ہونے والے تمام ججز نظرثانی کیس کے لیے تشکیل بینچ میں شامل ہیں۔بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں۔جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ بینچ کا حصہ ہیں، جسٹس صلاح الدین پہنور، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی بھی بینچ میں شامل ہیں۔

  • ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی اسکینڈل، پختونخوا کے سرکاری اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے کی خرد برد کا انکشاف

    ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی اسکینڈل، پختونخوا کے سرکاری اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے کی خرد برد کا انکشاف

    پشاور: خیبر پختونخوا کے سرکاری بینک اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے سے زائد کی خوردبرد اور مالی بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے اور خردبرد کی رقم مسلسل بڑھ رہی ہے۔اسکینڈل کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ 50کے قریب بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گیے ہیں جبکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔تحقیقات کے دوران مبینہ طورپر ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ ایک ڈمپر ڈرائیور ممتاز کے اکاؤنٹس میں تقریباً ساڑھے چار ارب روپے موجود تھے، جنہیں فوری طور پر نیب نے منجمد کر دیا، مذکورہ ڈرائیور نے ایک فرضی کنٹسٹرکشن کمپنی بنا رکھی تھی۔ شواہد کے مطابق کل ملا کر اسکے اکاؤنٹس میں تقریباً 7 ارب روپے مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے جمع کرائے گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ضلع کے سرکاری اکاؤنٹس سے تقریباً ایک ہزار جعلی چیکس جاری کیے گئے جبکہ اب تک 50 مشتبہ اکاؤنٹ ہولڈرز کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ شواہد سے بااثر سیاسی اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کی شمولیت کے واضح آثار ملے ہیں۔ذرائع کے مطابق نیب کے چیئرمین کو اپر کوہستان میں بڑے مالی بے ضابطگیوں سے متعلق مصدقہ معلومات موصول ہوئیں، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ اگرچہ ضلع کا سالانہ ترقیاتی بجٹ صرف 50کروڑ سے ڈیڑھ ارب روپے کے درمیان ہوتا ہے لیکن 2020 سے 2024کے درمیان پانچ برسوں میں 40 ارب روپےحکومتی بینک اکاؤنٹس سےجعلی طورپر نکلوائے گئے یہ رقم کئی دہائیوں کے ترقیاتی فنڈز سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ یہ جدید اور پیچیدہ مالیاتی فراڈ نیب کے تجربہ کار تفتیش کاروں کو بھی حیران کر گیا۔ صوبائی حکومت کے بینک اکاؤنٹ سیکورٹی اینڈ ڈپازٹ ورکس 10113سے اربوں روپے کنٹریکٹرز سیکورٹی کی آڑ میں نکلوائے گئے ۔یہ اکاؤنٹ جو ترقیاتی منصوبوںکے فنڈز، کنٹریکٹر سیکورٹیز اور ادائیگیوں کے لیے مخصوص تھا، اسے جعلی دستاویزات، بڑھا چڑھا کر بنائے گئے بلوں اور فرضی سیکورٹیز کے ذریعے استعمال کیا گیا۔ اب تک کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 40 ارب روپے منظم انداز میں نکلوائے گئے، جو خیبر پختونخوا کے مالیاتی نظام کی صریح خلاف ورزی ہے۔یہ پیچیدہ اور کئی تہوں پر مشتمل فراڈ اپر کوہستان کے کمیونی کیشن اینڈ ورکس (C&W) ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کیا گیا، جس نے جعلی سیکورٹی ریفنڈز تیار کیے، ریکارڈ میں رد و بدل کیا، منصوبوں کی لاگت کو بڑھا چڑھا کر دکھایا، اور فرضی کنٹریکٹر سیکورٹیز کی منظوری دی ۔ یہ سب قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ ضلع کے اکاؤنٹس آفیسر (DAO) نے جنرل فنانشل رولز (GFR) اور ٹریژری رولز کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مجاز ادائیگیاں منظور کیں۔ سرکاری اہلکاروں اور نجی ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے ایسے منصوبوں کے جعلی بلز جمع کرائے گئے جو کبھی بنے ہی نہیں۔ اسی دوران سرکاری بینک کے داسو اپر کوہستان برانچ کے کچھ ملازمین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری فنڈز نجی اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔ادھر اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ جیسے نگران ادارے بھی اس دھوکا دہی کو نہ روک سکے اور نہ ہی وقت پر اس کا پتا چلا سکے، جس سے احتسابی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ثبوت محفوظ رکھنے کیلئے ضلع اکاؤنٹس آفس، C&W ڈیپارٹمنٹ، سرکاری بینک اور متعلقہ اکاؤنٹس کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ڈمپر ڈرائیور کے اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ مزید 10 ارب روپے مالیت کے اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے ہیں۔پولیس کے ذریعے 30 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان سے پوچھ گچھ کی جا سکے۔ تحقیقات میں سرکاری بینک کے 14 افسران، DAO، C&W، اکاؤنٹنٹ جنرل آفس اور DG آڈٹ کے اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اسکینڈل نہ صرف خیبر پختونخوا کے مالیاتی نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ ممکنہ طور پر دانستہ طور پر کی گئی مالیاتی تباہ کاری کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اس کارروائی میں صرف چند بدعنوان اہلکار ہی نہیں بلکہ صوبے کی اعلیٰ قیادت کے کچھ عناصر بھی شامل تھے، جنہوں نے مالیاتی قواعد کو نظر انداز کرنے کی دانستہ اجازت دی۔ نیب خیبر پختونخوا کی ٹیم نے کئی دن داسو کوہستان میں گزار کر تمام متعلقہ ریکارڈ قبضے میں لیا۔ کرپشن کے اس بڑے حجم کو دیکھتے ہوئے نیب حکام نے اس معاملے کو ابتدائی انکوائری سے مکمل تحقیقات میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، مزید دھماکہ خیز انکشافات کی توقع ہے اور امکان ہے کہ صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران بھی اس اسکینڈل میں ملوث پائے جائیں گے۔ دستاویزات کے مطابق کوہستان میں سرکاری فنڈز کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور غیر قانونی نکاسی کے معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں، قومی احتساب بیورو (نیب) نے 50کے قریب بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے ہیں۔تاہم اس حوالے سے بعض کنٹریکٹرز اکاؤنٹس ہولڈرز سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے فراڈ اورخورد برد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو شائد کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ہم قانون کے مطابق کمپنیاں چلارہے ہیں اور حکومتی ٹھیکوں کے عوض رقوم ملیں جس میں غبن یا خورد برد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

  • اگر بھارت کسی قسم کی جارحیت کرتا ہے تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا: وزیر دفاع خواجہ آصف

    اگر بھارت کسی قسم کی جارحیت کرتا ہے تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا: وزیر دفاع خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت کسی قسم کی جارحیت کرتا ہے تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “بھارتی حملے کا بغور جائزہ لیں گے، اگر خلاف ورزی ہوئی تو ردعمل دینا ہمارا حق ہے۔ بھارت جیسا عمل کرے گا، ویسا ہی ردعمل دیا جائے گا۔”وزیر دفاع نے واضح کیا کہ “کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، بھارت کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، حملے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک، پڑوسی ممالک اور خطے کی بڑی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ممالک چاہتے ہیں کہ جنگ کی صورتحال نہ بنے، دعا ہے کہ ان کی کوششوں سے بھارت کو کچھ سمجھ آ جائے۔خواجہ آصف نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن بھارت نے تاحال اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ بھارت کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔انہوں نے بھارتی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “جب بھی بی جے پی کو ووٹوں کی ضرورت پڑتی ہے، وہ پاکستان کو کسی نہ کسی تنازعے میں گھسیٹتی ہے۔”وزیر دفاع نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “ہم جنگ کا آغاز نہیں کریں گے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔ بھارت جتنی طاقت استعمال کرے گا، ہم اس سے زیادہ طاقت سے جواب دیں گے۔