Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
بین الاقوامی – Page 143 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: بین الاقوامی

  • غزہ کے اسکول میں پناہ گزین جوڑے کی شادی

    غزہ کے اسکول میں پناہ گزین جوڑے کی شادی

    غزہ: اسرائیلی بمباری کے باعث رفح کے علاقے میں ایک اسکول میں پناہ لینے پر مجبور ہونے والے خاندانوں نے گھروں کو واپسی کی امیدیں دم توڑنے پر ایک جوڑے کی وہیں شادی کرادی۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کے باعث غزہ میں انسانی المیے نے جنم لیا ہے۔ لاکھوں افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے بسا بسایا گھر اور جما جمایا کاروبار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    7 اکتوبر سے جاری وحشیانہ بمباری میں ان لاکھوں افراد کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

    ان پناہ گزین کیمپوں میں جہاں دل سوز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں وہیں امید کی نئی کرنیں بھی جنم لے رہی ہیں۔

    رفح کے اسکول میں بنے پناہ گزین کیمپ میں محمد اور یاسمین کی شادی اہل خانہ نے سادگی سے سر انجام دی۔ مہمانوں نے اسکول کے بلیک بورڈ پر زندگی کی نئی شروعات کرنے والے جوڑے کے لیے پیغامات لکھے۔

    جوڑے کے مطابق کبھی سوچا نہ تھا کہ شادی ان حالات میں ہوگی لیکن خوشی ہے کہ ہم ایک ہو رہے ہیں۔ ہماری شادی نے یہاں موجود غم زدہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔

  • غزہ میں مزید 2 صحافی شہید؛ مجموعی تعداد 109 ہوگئی

    غزہ میں مزید 2 صحافی شہید؛ مجموعی تعداد 109 ہوگئی

    غزہ: اپنی کار میں سوار الجزیرہ کے 2 صحافی اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئے اس طرح 7 اکتوبر سے تاحال غزہ میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے گئے صحافیوں کی تعداد 109 ہوگئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں آج شہید ہونے والے دو صحافیوں میں سے ایک الجزیرہ کے بیوروچیف وائل الدحوث کے بیٹے حمزہ ہیں جب کہ دوسرے صحافی کی شناخت مصطفیٰ ثوایا کے نام سے ہوئی۔

    الجزیرہ نیوز کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کی کار کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تاکہ اسرائیل کے مظالم کو چھپایا جا سکے اور حقائق دنیا کے سامنے نہ آسکیں۔
    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دنیا بھر کی صحافی یونینوں، انسانی حقوق اداروں اور قانون پسندوں سے کہا کہ وہ اسرائیل کے اس سنگین جرم کی نہ صرف مذمت کریں بلکہ اس جارحیت کے خلاف حقائق جاننے کے لیے کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کریں۔

    خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری غزہ پر اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد 109 ہوگئی جب کہ 21 صحافی گرفتار، 3 لاپتا اور 16 زخمی ہیں۔

    دوسری جانب سے 7 اکتوبر سے غزہ پر بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار 725 سے تجاوز گئی جب کہ 58 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

  • بھاری مالی و جانی نقصان؛ ہزاروں اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا

    بھاری مالی و جانی نقصان؛ ہزاروں اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا

    غزہ: اسرائیلی فوج نے غزہ سے اپنے پانچ بریگیڈز پر مشتمل ہزاروں فوجیوں کو واپس بلانا شروع کردیا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے ہزاروں فوجیوں کو عارضی طور پر واپس بلایا جارہا ہے۔ حماس کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے کے بعد سے یہ علی الاعلان کیا جانے والا سب سے بڑا انخلا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اس انخلا کی وجہ یہ بیان کی کہ تین ماہ سے جاری جنگ میں اسرائیلی معیشت کے نقصان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور لڑائی کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ کم از کم دو بریگیڈز کے ریزرو فوجیوں کو اسی ہفتے گھر بھیج دیا جائے گا، اور تین بریگیڈز کو طے شدہ ٹریننگ کے لیے واپس لے جایا جائے گا۔

    ایک بریگیڈ میں فوجیوں کی تعداد 4 ہزار تک ہوسکتی ہے، اور چونکہ اسرائیلی فوج نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ اس نے غزہ میں کتنے فوجی تعینات کیے ہیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ اس انخلا کے بعد وہاں کتنی فوج بچے گی۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ “اس اقدام سے ملک پر معاشی بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی اور ہم نئے سال میں ہونے والی سرگرمیوں کے لیے طاقت جمع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔”

    اسرائیل پر اپنے ان لاکھوں شہریوں کا معاشی بوجھ بھی ہے جو حماس کے حملے کے بعد سرحدوں پر اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

    اسرائیل میں غیرجانبدار تھنک ٹینک ٹوب سنٹر سوشل پالیسی اسٹڈیز نے بھی کہا ہے کہ اس سہ ماہی میں اسرائیلی معیشت میں 2 فیصد گراوٹ کی توقع ہے، کیونکہ بہت سے شہری کام کاج چھوڑ کر فوج میں ریزرو ڈیوٹی پر تعینات ہیں یا اپنے آبائی شہروں میں کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔

    اسرائیلی حکومت مسلسل عوام سے یہی کہہ رہی ہے کہ یہ ایک طویل فوجی مہم ہوگی تاہم بعض ناقدین اپنی حکومت کے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آیا حماس کو ختم کرنے کا مقصد قابل عمل بھی یا نہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ حکومت اتحادیوں میں اختلاف رائے ہے اور وہ خود بھی اپنی حکومت کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتے ہیں، جو اس وقت اسرائیلی تاریخ کی انتہائی ناپسندیدہ حکومت بن چکی ہے۔

    مزید برآں، اسرائیل تاحال حماس کو ختم کرنے کے اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے اور اپنے 100 سے زیادہ قیدیوں کو چھڑانے میں ناکام رہا ہے۔

    غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں اب تک 22 ہزار فلسطینی شہید اور 60 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ شہدا اور زخمیوں میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

    غزہ کی پٹی میں کئی مہینوں کی جنگ کے دوران حالات تباہکن ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کے 85 فیصد سے زیادہ باشندے اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، اور بہت سے لوگ جنوب میں تنگ علاقوں میں ہجوم کی صورت میں جمع ہیں جنہیں اگرچہ اسرائیل نے زیادہ محفوظ قرار دیا ہے، اس کے باوجود بھی وہ بمباری سے محفوظ نہیں ہیں۔

  • غزہ میں دوران سجدہ فلسطینی نوجوان کی شہادت کی ویڈیو وائرل

    غزہ میں دوران سجدہ فلسطینی نوجوان کی شہادت کی ویڈیو وائرل

    مقبوضہ بیت المقدس: غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے جس میں اب تک 22 ہزار فلسطینی شہید اور 60 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ شہدا اور زخمیوں میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

    حماس کے حملوں میں بھی 170 سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

    اسرائیلی فوجیوں سے جنگ میں حماس کے مجاہدین روز بروز بہادری و شجاعت کی لازوال داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ ایک فلسطینی نوجوان کی دوران سجدہ شہادت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    اسرائیلی میڈیا کی جانب سے نوجوان کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی گئی۔ اس نوجوان کی شناخت تيسير ابو طعيمة کے نام سے ہوئی۔

    اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے بعد نوجوان اسلحہ اٹھائے غزہ کی گلیوں میں دوڑ رہا ہے اور اسرائیلی ڈرون اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اچانک ایک شعلہ سے لپکتا ہے اور ڈرون سے نوجوان پر میزائل فائر ہوتا ہے جو اس کی کمر پر لگتا ہے جس سے نوجوان کی قمیض لہولہان ہوجاتی ہے۔ تیسیر شدید زخمی ہونے کے باوجود لڑکھڑاتے ہوئے دوبارہ پناہ گاہ کیطرف دوڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس سے چلا نہیں جاتا اور وہ زخموں سے چور ایک تباہ شدہ گھر کی دروازے پر پر بیٹھ گیا۔

    پھر تیسیر شہادت کی انگلی بلند کرکے اللہ کے حضور سجدے میں چلاجاتا ہے اور اسی حالت میں شہید ہوجاتا ہے۔ شہید نوجوان خان یونس علاقے میں حماس کے کتائب القسام کا کمانڈر تھا۔ اس کی تلاوت اور نشید پڑھتے ہوئے کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آگئی ہیں۔

  • دنیا میں سب سے پہلے نیوزی لینڈ میں سالِ نو کا آغاز؛ شاندار آتشبازی

    دنیا میں سب سے پہلے نیوزی لینڈ میں سالِ نو کا آغاز؛ شاندار آتشبازی

    آکلینڈ: دنیا بھر میں آج مختلف اوقات میں سال نو کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور سب سے پہلے یہ مرحلہ نیوزی لینڈ میں آیا۔

    نیوزی لینڈ میں شاندار آتش بازی سے سال نو کا استقبال کیا گیا۔ آکلینڈ کے معروف مقامات کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ موسیقی اور رنگا رنگ تقاریب منعقد کی گئیں۔

    آکلینڈ کے اسکائی ٹاور پر سال نو منانے والوں کا جم غفیر موجود تھا۔ سب نے مل کر کاؤنٹ ڈاؤن کیا اور جیسے تاریخ تبدیل ہوئی اسکائی ٹاور جگمگا اٹھا۔ شاندار آتش بازی ہوئی۔

    سال نو کا باقاعدہ آغاز نیوزی لینڈ اور پھر چند لمحوں بعد آسٹریلیا سے ہوا۔ سڈنی ہاربر پر شاندار آتش بازی کی گئی۔ لندن، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، ہانگ کانگ کے وکٹوریا ہاربر، تھائی لینڈ کے شاپنگ سینٹر آئیکون سیام سمیت درجنوں مقامات پر سال نو کا آغاز کیانجائے گا۔

    متحدہ عرب امارات، مراکش اور پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک نے سال نو کی تقریبات کو فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجاً منسوخ کردیں۔

    ویسے تو دنیا میں سب سے پہلے 2024 کا آغاز وسطی بحرالکاہل کے جزائر ٹونگا اور کیریباتی میں ہوا لیکن یہاں انسانی آبادی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اس لیے کوئی تقریب منعقد نہیں ہوتی۔

  • اسرائیل نے اپنے شہریوں کو بھارت میں محتاط رہنے کی ہدایات جاری کردیں

    اسرائیل نے اپنے شہریوں کو بھارت میں محتاط رہنے کی ہدایات جاری کردیں

    نئی دہلی: اسرائیل نے مودی سرکار پر زور دیا ہے کہ بھارتی دارالحکومت میں ہمارے سفارت خانے کے انتہائی نزدیک ہونے والا دھماکا ایک دہشت گرد حملہ تھا جس کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

    بھارت میں گزشتہ روز اسرائیلی سفارت خانے کے نزدیک ہونے والے دھماکے سے متعلق مودی سرکار کوئی سراغ نہ لگا پائی تھی اور دہلی پولیس نے معاملے کو نامعلوم وجہ قرار دیکر بند کردیا تھا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے نئی دہلی میں اپنے سفارت خانے کے نزدیک دھماکے کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اسرائیلی مطالبے پر مودی سرکار بیدار ہوگئی اور اسرائیل کو سفارت خانے اور عملے کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • بھارت میں اسرائیلی سفارت خانے پر دھماکا؛ پورا علاقہ گونج اُٹھا

    بھارت میں اسرائیلی سفارت خانے پر دھماکا؛ پورا علاقہ گونج اُٹھا

    نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت کے حساس علاقے میں واقع اسرائیل کے سفارت خانے کے قریب زور دار دھماکے کی آواز سے سیکیورٹی اہلکاروں کی دوڑیں لگ گئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے حساس علاقے میں ہونے والے دھماکے کے بعد سفارت خانے کا محاصرہ کرلیا اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ میڈیا سمیت کسی کو بھی جائے وقوعہ تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔

    کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینس بھی موجود ہیں جب کہ فائر بریگیڈ سمیت بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو بھی طلب کیا گیا۔
    دھماکا اتنا زور دار تھا کہ پورا علاقہ گونج اُٹھا تھا۔ آس پاس کھڑی گاڑیوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ گھروں سے باہر نکل آئے۔

    دہلی پولیس کو تلاش بسیار کے باوجود اسرائیلی سفارت خانے کے آس پاس سے کوئی بھی مشوک چیز نہیں مل سکی۔ تھک ہار کر پولیس ٹیم واپس چلی گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو بھی واپس بھیج دیا گیا۔

    دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفارت خانے کا عملہ اور عمارت مکمل طور پر محفوظ ہیں۔دھماکے کی نوعیت اور مواد سے متعلق تفتیش جاری ہے تاہم اب تک دھماکے سے متعلق کسی قسم کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

  • یوکرین کا روس کے جنگی بحری جہاز پر حملہ؛1 ہلاک اور متعدد اہلکار زخمی

    ماسکو: روس نے تصدیق کی ہے کہ بحیرہ اسود میں اس کے جنگی جہاز کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے زیر قبضہ علاقے کریمیا میں فیوڈوسیا کے مقام پر بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ میزائل حملے میں 6 عمارتیں بھی تباہ ہوگئیں۔

    میزائل حملے سے بحری جنگی جہاز میں آگ بھڑک اُٹھی۔ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں 3 زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    یہ میزائل حملہ یوکرین کی جانب سے کیا گیا تھا جہاں روسی فوجیں دو سال قبل داخل ہوئی تھیں اور مختلف محاذوں پر دونوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس روس نے یوکرین کے چار بڑے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرکے متنازع ریفرنڈم کرایا تھا جس میں علیحدگی پسندوں کو فتح دلوا کر ان علاقوں کو روس میں شامل کرلیا۔

    اس سے قبل 2014 میں بھی روس نے کریمیا پر قبضہ کرکے اپنا تسلط قائم کیا تھا۔

  • حماس نہ بچاتی تو اپنی ہی فوج کی گولہ باری میں مارے جاتے، اسرائیلی خواتین

    حماس نہ بچاتی تو اپنی ہی فوج کی گولہ باری میں مارے جاتے، اسرائیلی خواتین

    تل ابیب: رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالی ماں بیٹی نے کہا ہے کہ ہم اپنی فوج کی شدید گولہ باری کا نشانہ بن کر مارے جاتے اگر حماس کے نوجوانوں نے ڈھال بن کر ہماری حفاظت نہ کی ہوتی۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق 48 سالہ چن گولڈسٹین الموگ اور ان کی 17 سالہ بیٹی اگم گولڈسٹین الموگ نے حماس کی قید سے رہائی کے بعد انٹرویو میں حماس کے جنگجوؤں کے رویے کی تعریف کی ہے۔

    چن گولڈسٹین نے بتایا کہ انھیں ایک سپر مارکیٹ کے عقب میں رکھا گیا تھا اور وہیں اسرائیلی فوجی بمباری کر رہے تھے۔ ہم لوگوں کو گولہ بارود کی زور دار آوازیں اور بو صاف محسوس ہو رہی تھی۔

    48 سالہ خاتون نے مزید بتایا کہ اگر اس موقع پر حماس کے نوجوان ہماری ڈھال نہیں بنتے تو ہم اپنی ہی فوج کی گولی باری میں مارے جاتے۔ ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں۔

    چن گولڈسٹین نے کہا کہ ایک موقع پر ہم نے حماس کے لوگوں سے کہا کہ کیا ہم مارے جائیں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ آپ سے پہلے ہم مرجائیں گے لیکن آپ کو کچھ ہونے نہیں دیں گے۔ آپ ہمارے لیے قیمتی ہیں۔

    اسی طرح 17 سالہ اگم گولڈسٹین نے بتایا کہ حماس کا سلوک انتہائی اچھا تھا۔ وہ ہماری ہر چیز کا خیال رکھتے اور مصروف رکھنے کے لیے ہمارے ساتھ مختلف کھیل بھی کھیلتے۔

    اگم گولڈسٹین نے یہ بھی بتایا کہ ایک بار پنجہ آزمائی کا کھیل بھی کھیلا۔ اس کھیل کے دوران حماس کے جنگجوؤں نے اپنے ہاتھ پر تولیہ رکھا ہوا تھا۔

    یاد رہے کہ ان ماں بیٹی کو حماس نے فلسطینی قیدیوں کے بدلے گزشتہ ماہ ہی رہا کیا تھا۔ 71 فلسطینی خواتین اور 169 بچوں سمیت 240 فلسطینیوں کے بدلے 81 اسرائیلیوں اور 24 غیر ملکیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

  • مودی سرکار کی ہزیمت؛ فرانس نے بھارتی مسافر طیارے کو تحویل میں لے لیا

    مودی سرکار کی ہزیمت؛ فرانس نے بھارتی مسافر طیارے کو تحویل میں لے لیا

    پیرس: فرانس نے ایک ایسے طیارے کو تحویل میں لے لیا جو 303 بھارتی مسافروں کو متحدہ عرب امارات سے لے کر واٹری ائیرپورٹ پر پہنچا تھا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس طیارے کی منزل نکاراگوا تھی تاہم فرانسیسی حکام کو اطلاع ملی تھی کہ رومانیہ کے اس طیارے میں والدین اور کسی رشتے دار کے بغیر 11 بچے سفر کر رہے ہیں۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے میں 303 بھارتی مسافر سوار تھے۔ طیارے کو گراؤنڈ کروانے کے بعد دو بھارتی شہریوں کو تفتیش کیلئے روک لیا جب کہ عملے کو پوچھ گچھ کے بعد جانے دیا گیا۔

    اگر فرانس میں زیر حراست دونوں بھارتی شہریوں پر انسانی اسمگلنگ کا الزام ثابت ہوگیا تو وہاں کے قانون کے تحت 20 سال قید اور 3.3 ملین یوروز تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

    طیارہ رومانیہ کے ایک شہری کی ملکیت ہے اور اسے کرایے پر حاصل کیا گیا تھا۔ فرانسیسی حکام کو شُبہ ہے کہ طیارے میں موجود 11 بچوں کو انسانی اسمگلنگ کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

    بھارت کی اپیل کے باوجود فرانسیسی حکام نے تفتیش مکمل ہونے تک بھارتی شہریوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد بھارتی سفارت کار اپنے شہریوں کی مدد کے لیے ایئرپورٹ پہنچ گئے۔