Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
بین الاقوامی – Page 147 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: بین الاقوامی

  • اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے: ترک صدر کا مطالبہ

    اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے: ترک صدر کا مطالبہ

    انقرہ: ترک صدر طیب اردوان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں بمباری بند نہ کرنے کی صورت میں اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔

    ترک میڈیا کے مطابق اراکینِ پارلیمنٹ سے خطاب میں صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو غزہ میں وحشیانہ بمباری کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دینے کا مطالبہ بھی کردیا۔

    ترک صدر نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اسپتالوں اور عبادت گاہوں کو تک کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں 4 ہزار بچے بھی مارے گئے۔

  • چینی صدر شی جنپنگ امریکا پہنچ گئے

    چینی صدر شی جنپنگ امریکا پہنچ گئے

    واشنگٹن: چین کے صدر شی جنپنگ اپیک اجلاس میں شرکت اور امریکی ہم منصب جوبائیڈن سے ملاقات کے لیے سان فرانسسکو پہنچ گئے جہاں امریکی وزیر خزانہ اور کیلی فورنیا کے گورنر نے انھیں خوش آمدید کہا جب کہ چینی شہریوں نے ایئرپورٹ سے ہوٹل تک قطار بناکر ان کا استقبال کیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق بالی میں ایک سال قبل صدر جوبائیڈن اور چینی ہم منصب کی اہم ملاقات ہوئی تھی اور ایک مفاہمت نامے پر اتفاق بھی کیا گیا تھا جس کے بعد اب دوسری ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

    چین کے صدر شی جنپنگ کی امریکا میں مصروفیات میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اپیک) اجلاس میں شرکت کرنا بھی ہے جب کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ امریکی صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔
    یوکرین جنگ اور پھر غزہ میں حماس اسرائیل جھڑپوں کے باعث امریکی اور چینی صدور کی یہ ملاقات اہمیت اختیار کرگئی ہے اور خطے سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

    اپیک کے رواں برس اجلاس کو بھی ’’سب کے لیے ایک لچکدار اور پائیدار مستقبل کی تخلیق‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے جس میں سب کی معاشی و تجارتی خود مختاری کی بات کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ 21 ممالک کی تنظیم ’’اپیک‘‘ کے اجلاس کا آغاز امریکی شہر سان فرانسسکو میں آج 15 نومبر سے ہورہا ہے جو 17 نومبر تک جاری رہے گا۔ اپیک میں امریکا، روس اور چین سمیت جنوبی کوریا، تائیوان اور ہانگ کانگ بھی شامل ہیں۔

  • حزب اللہ نے شام میں امریکی اڈے پر راکٹس برسا دیئے؛ 4 فوجی ہلاک

    حزب اللہ نے شام میں امریکی اڈے پر راکٹس برسا دیئے؛ 4 فوجی ہلاک

    دمشق: حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں کونوکو گیس فیلڈ کے نزدیک امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں 4 امریکی فوجی مارے گئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق لبنان کی مزاحمت پسند جماعت حزب اللہ کے حامی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈے پر کم از کم 15 راکٹس داغے جس امریکی ہیڈکوارٹر میں تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔

    حزب اللہ نے راکٹ حملے میں 4 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ امریکا کے المیادین شہر پر کیے گئے حملوں کا جواب ہے۔
    تاہم امریکا کی جانب سے حزب اللہ کے اس راکٹ حملے میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے دعوے کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی البتہ اس سے قبل امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن حزب اللہ اور پاسداران انقلاب پر امریکی حملوں کی تصدیق کر چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ عسکری جماعت حزب اللہ لبنان میں کافی مضبوط ہے اور اسرائیل پر حملے میں حماس کی بھی مدد کی تھی جس پر اسرائیل اور امریکا حزب اللہ کے ٹھکانوں کو لبنان اور شام میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

  • سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف آپریشن؛ 17 ہزار سے زائد گرفتار

    سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف آپریشن؛ 17 ہزار سے زائد گرفتار

    ریاض: سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے خلاف ایک ہفتے سے جاری آپریشن کے دوران 17 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں تارکین وطنوں کے خلاف آپریشن کا آغاز 2 نومبر سے ہوا جس میں اب تک 17 ہزار 305 افراد کو گرفتار کرلیا۔ ان میں سے اکثریت غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔

    گرفتار ہونے والوں میں سب سے زیادہ اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تھے جن کی تعداد 10 ہزار 804 ہے جب کہ دوسرے نمبر پر سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 3 ہزار 890 غیر ملکی شامل ہیں۔
    اسی طرح 2 ہزار 611 تارکین وطن کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ ان افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ملکی قوانین کے تحت ڈی پورٹ یا جرمانہ کی سزا دیئے جانے کا امکان ہے۔

    سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی کارروائی ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔

  • اسرائیل غزہ پر سات ایٹم بموں کے برابر بمباری کرچکا، ایرانی صدر

    اسرائیل غزہ پر سات ایٹم بموں کے برابر بمباری کرچکا، ایرانی صدر

    ریاض: ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ پر اتنی بمباری کرچکا ہے جو سات ایٹم بم کے برابر ہے، خطے میں ہونی والے تمام کارروائیوں میں امریکا کا ہاتھ ہے اسی نے اسرائیلی مظالم کے لیے راہ ہموار کی، ہمیں اسرائیل کے جنگی جرائم کا مقابل کرنا ہوگا۔

    ہمیں اسرائیل کے جنگی جرائم کا مقابل کرنا ہوگا، خطے میں ہونی والے تمام کارروائیوں میں امریکا کا ہاتھ ہے اسی نے اسرائیلی مظالم کے لیے راہ ہموار کی، دہشت گرد اسرائیل فوری طور پر غزہ سے باہر نکل جائے۔

    یہ بات انہوں ںے ریاض میں منعقدہ او آئی سی کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ہمیں غزہ کے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے، فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے، اسرائیل غزہ میں بمباری کے ذریعے نئی نسل کو ختم کررہا ہے وہاں ہونے والا ظلم تمام عالمی قوانین کا مذاق اڑا رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت سے 11 ہزار سے زائد نہتے شہری شہید ہوچکے ہیں، غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنادیا گیا ہے، میرا عالمی برادری سے سوال ہے کہ غزہ کے شہدا کا کیا قصور ہے، شہید خواتین کا کیا قصور ہے؟ ہمیں بتایا جائے شہید ہونے والے بچوں کا کیا قصور ہے؟

    ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا فاشسٹ ملک ہے جو اسرائیل کی حمایت کرکے اسرائیل کے ساتھ جنگی جرائم میں شریک ہورہا ہے وہ غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر جنگی ہتھیار اور رقومات فراہم کررہا ہے، ہمیں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا، اسرائیل غزہ پر اتنی بمباری کرچکا ہے جو سات ایٹم بم کے برابر ہے۔

  • او آئی سی اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    او آئی سی اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    ریاض: سعودی عرب میں او آئی سی اور عرب لیگ کا غیر معمولی مشترکہ سربراہی اجلاس منعقد ہوا جسں میں سربراہان مملکت نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور اسرائیل سے محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا، غزہ میں قتل عام پر عالمی برادری کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کا مشترکہ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوا، اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

    اجلاس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، فلسطین کے صدر محمود عباس، امیر قطر اور دیگر ممالک کے سربراہان سمیت نگراں وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ نے بھی شرکت کی۔

    قبل ازیں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ریاض میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔

    اسرائیل غزہ پر اتنی بمباری کرچکا ہے جو سات ایٹم بم کے برابر ہے، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر اتفاق کے بعد سے یہ ایرانی صدر کا پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔ اس موقع پر ابراہیم رئیسی نے فلسطین کا روایتی اسکارف کیفیہ بھی پہنا ہوا ہے۔

    اپنے خطاب میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ہمیں غزہ کے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے، فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے، اسرائیل غزہ میں بمباری کے ذریعے نئی نسل کو ختم کررہا ہے وہاں ہونے والا ظلم تمام عالمی قوانین کا مذاق اڑا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت سے 11 ہزار سے زائد نہتے شہری شہید ہوچکے ہیں، غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنادیا گیا ہے، میرا عالمی برادری سے سوال ہے کہ غزہ کے شہدا کا کیا قصور ہے، شہید خواتین کا کیا قصور ہے؟ ہمیں بتایا جائے شہید ہونے والے بچوں کا کیا قصور ہے؟

    انہوں ںے کہا کہ امریکا فاشسٹ ملک ہے جو اسرائیل کی حمایت کرکے اسرائیل کے ساتھ جنگی جرائم میں شریک ہورہا ہے وہ غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر جنگی ہتھیار اور رقومات فراہم کررہا ہے، ہمیں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا، اسرائیل غزہ پر اتنی بمباری کرچکا ہے جو سات ایٹم بم کے برابر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال کے حوالے سے آج کا اجلاس بڑا اہم ہے اور یہ خطے کی تاریخ میں فیصلہ کن وقت ہے۔

    ابراہیم رئیسی کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیل کے جنگی جرائم کا مقابل کرنا ہوگا، خطے میں ہونی والے تمام کارروائیوں میں امریکا کا ہاتھ ہے اسی نے اسرائیلی مظالم کے لیے راہ ہموار کی، دہشت گرد اسرائیل فوری طور پر غزہ سے باہر نکل جائے۔

    اسرائیل فوج غزہ کا محاصرہ ختم کرے، سیکریٹری جنرل او آئی سی

    او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ معصوم فلسطینیوں کا قتل عام بند کیا جائے، غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کرکے اسرائیل فوج غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔

    ہزاروں بچوں کے قتل پر افسردہ ہوں لیکن زیادہ افسوس عالمی برادری کی بے حسی پر ہے، محمود عباس

    فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی فوج پر گھمنڈ ہے کہ وہ ہمیں ختم کردے گا لیکن فلسطین کے عوام اسرائیل کی بدترین جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کررہے ہیں، اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں، میرا دل ہزاروں معصوم بچوں کے قتل عام پر بے حد افسردہ ہے لیکن اس سے زیادہ افسوس عالمی برادری کی بے حسی پر ہے۔

    محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے، اسرائیلی کی افواج کو جنگی جرائم کی عدالت میں لایا جائے۔

    غزہ میں معصوم بچوں کی بکھری لاشیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، طیب اردوان

    ترک صدر طیب اردوان نے کہاکہ غزہ کی صورتحال پر مشترکہ اجلاس بلانے پر سعودی ولی عہد کے شکر گزار ہیں، غزہ میں معصوم بچوں کی بکھری ہوئی لاشیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، اسرائیلی قابض افواج نے فلسطینی بھائیوں پر ظلم کی انتہا کردی وہاں ہونے والے اسرائیلی مظالم ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پیرس میں چند افراد کی ہلاکت پر عالمی برادری متحد ہوگئی تھی لیکن غزہ میں اسرائیلی بمباری اور اتنے بڑے قتل عام پر دنیا بھر کی خاموشی شرم ناک ہے، اسرائیلی حکام غزہ میں ہونے والے مظالم کے ذمہ دار ہیں۔

    کون تصور کرسکتا ہے کہ 21ویں صدی میں اسپتالوں میں بمباری ہوگی، دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، امیر قطر

    امیر قطر تمیم بن حمد الثانی نے کہا کہ اسرائیل افواج کی غزہ میں اسپتالوں، شہریوں پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہیں، دنیا اسرائیلی مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، غزہ میں ہونے والا قتل عام کسی صورت قابل قبول نہیں وہاں جو کچھ ہورہا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، کون تصور کرسکتا ہے کہ 21ویں صدی میں اسپتالوں میں بمباری ہوگی، اسرائیل کی جارحیت پرسکتہ طاری ہے دل ٹوٹے ہوئے ہیں، ہماری ریاست قطر فلسطینیوں کے مقاصد کے حصول کے لیے ان کے ساتھ ہے۔

    مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا مطالبہ پیش کرتے ہیں، انڈونیشیا

    انڈونیشیا کے صدر جوکوویدودو نے کہاکہ اسرائیل سے عالمی قوانین کی پاس داری کا مطالبہ کرتے ہیں، انڈونیشیا مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا مطالبہ پیش کرتا ہے۔

    یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں، غزہ کا محاصرہ ختم کرکے انسانی امداد کی اجازت دی جائے، محمد بن سلمان

    سعودی عرب کے ولی عہد اور نائب صدر محمد سلمان نے اجلاس کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ پر جنگ کو مسترد کرتے ہیں اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں غزہ کا محاصرہ ختم کرکے انسانی امداد کی اجازت دی جائے، غزہ کی ناخوشگوار صورتحال پر مربوط اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

  • امریکا کا شام میں ایران کی فوجی تنصیبات پر حملہ؛ 9 افراد ہلاک

    امریکا کا شام میں ایران کی فوجی تنصیبات پر حملہ؛ 9 افراد ہلاک

    دمشق: شام میں ایران کی ایک فوجی تنصیب پر امریکی فضائیہ کے طیاروں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ شام میں ایران کی پاسداران انقلاب اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیا کی ایک فوجی تنصیب پر کیا گیا۔

    امریکا کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بتایا کہ عراق اور شام میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے جواب میں F-15 کے دو لڑاکا طیاروں نے پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔
    انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان حملوں میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے تصدیق کی امریکی حملے میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔

    اسی طرح سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے یہ بھی بتایا کہ 10 اکتوبر سے 30 اکتوبر کے دوران اسرائیلی فوج نے بھی شام میں ایرانی تنصیبات پر 16 فضائی اور راکٹ حملے کیے۔

  • مصر نے غزہ کی سیکیورٹی سنبھالنے کی امریکی تجویز مسترد کردی

    مصر نے غزہ کی سیکیورٹی سنبھالنے کی امریکی تجویز مسترد کردی

    قاہرہ: مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ امریکا نے حماس کی شکست کے بعد ہمیں غزہ میں سیکیورٹی سنبھالنے کی تجویز دی ہے لیکن ہم نے معذرت کرلی ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا نے تجویز دی کہ مصر حماس کی اسرائیل کے ہاتھوں شکست کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی کے غزہ میں حکومت کے قیام تک غزہ کی سیکیورٹی کا انتظام سنبھالے۔

    جس پر مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے امریکی تجویز کو مسترد کردیا۔

    اس حوالے سے مصری حکام نے کہا کہ صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کی حکومت حماس کو ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔

    جس پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں سیکیورٹی کی ذمہ داری غیر معینہ مدت کے لیے دوبارہ سنبھال سکتا ہے۔

    تاہم امریکی خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیراعظم کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کے غزہ پر دوبارہ قبضے کے حق میں نہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل حماس جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اسرائیلی فوجیں غزہ میں ہی رہیں گی اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کریں گی تاہم یہ چند دنوں کے لیے ہوگا۔

  • اسرائیل امریکا گٹھ جوڑ بےنقاب؛ جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کردیا

    اسرائیل امریکا گٹھ جوڑ بےنقاب؛ جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کردیا

    عمان: اسرائیل کی محبت میں امریکا نے عرب ممالک کے غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کی گول میزکانفرنس میں عرب ممالک نے متفقہ طور پر غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

    جس پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے عرب ممالک کے جنگ بندی کے مطالبے کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ اسرائیل کی حوصلہ افزائی بھی کردی۔

  • امت مسلمہ کا فرض ہے اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوجائے، اسماعیل ہانیہ

    امت مسلمہ کا فرض ہے اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوجائے، اسماعیل ہانیہ

    دوحہ: حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوجائے۔

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قطر میں حماس رہنماؤں خالد مشعل اور اسماعیل ہانیہ سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل ہانیہ نے کہا کہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوجائے، انسانی حقوق کے دعویدار ممالک ہتھیاروں سے بھرے جہاز لے کر تل ابیب پہنچ رہے ہیں، امت مسلمہ بھی فلسطینی بھائیوں کی حمایت کے لئے میدان میں نکلے ، اپنی ماؤں بہنوں اور بھائیوں کی مدد کرے۔
    خالد مشعل کا کہنا تھا کہ کشمیر اور فلسطین پر عرصہ دراز سے مظالم انسانی حقوق کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے۔