Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
بین الاقوامی – Page 148 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: بین الاقوامی

  • غزہ میں خون آلود بچوں کی تصاویر دیکھ کر آنسو آ جاتے ہیں، روسی صدر

    غزہ میں خون آلود بچوں کی تصاویر دیکھ کر آنسو آ جاتے ہیں، روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ غزہ میں خون آلود بچوں کی تصاویر دیکھ کر آنسو آجاتے ہیں۔

    روسی صدر پیوٹن نے بیان میں کہا کہ پتھر دل والے لوگ ہی غزہ کی تباہی پر خاموش رہ سکتے ہیں۔ غزہ میں خون آلود بچوں کی تصاویر دیکھ کرآنسو آ جاتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

    صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ فلسطین میں جاری بمباری فوری طور پر نہ روکی گئی تو اشتعال انگیزی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے اس پر چنگاری لگانا بہت آسان ہے۔ اگر کسی کو غزہ کے واقعات کا احساس نہیں ہوتا تو اس کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ برائی کی جڑ کہاں ہے اور اس برائی نے کیسے جنم لیا۔
    غزہ پر 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 9 ہزار 300 فلسطینی شہید اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

  • فلسطین کیلیے سعودی فرمانروا 30 اور ولی عہد کا 20 ملین ریال عطیے کا اعلان

    فلسطین کیلیے سعودی فرمانروا 30 اور ولی عہد کا 20 ملین ریال عطیے کا اعلان

    ریاض: خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فلسطین کے لیے 30 ملین جب کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے 20 ملین ریال عطیے کا اعلان کیا ہے۔

    سعودی میڈیا کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ نے جنگ زدہ فلسطین کے عوام کے لیے چندہ مہم کا آغاز کردیا اور سب سے پہلے خود مجموعی طور پر 50 ملین ریال چندہ جمع کرایا۔

    اسرائیل کی غزہ اور مغربی کنارے میں جنگی جارحیت کے باعث فلسطینی عوام کی ادویات، خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی سے مدد کے لیے عوامی عطیات کنگ سلمان سینٹر کی ’ساہم‘ ویب سائٹ پر جمع کی جائیں گی۔

  • اسرائیل کی پناہ گزین کیمپ پر وحشیانہ بمباری؛ 200 فلسطینی شہید اور 700 زخمی

    اسرائیل کی پناہ گزین کیمپ پر وحشیانہ بمباری؛ 200 فلسطینی شہید اور 700 زخمی

    غزہ: اسرائیل نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر تیسری بار بمباری کی اور اس بار کی وحشیانہ کارروائی میں 200 فلسطینی شہید اور 700 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے آج مسلسل تیسرے روز بھی جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی۔ جس میں ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور آس پاس کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

    اس وحشیانہ بمباری کے بعد اقوام متحدہ نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ جبالیہ پنای گزین کیمپ پر بمباری جنگی جرائم کے ذمرے میں آسکتی ہے۔ اسرائیل باز رہے۔

    اسرائیل کی جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر بمباری میں شہید ہونے والوں کی تعداد 200 تک جاپہنچی جب کہ 777 فلسطینی زخمی ہیں اور 120 لاپتا ہیں۔ جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔

  • اسرائیل الشفا اسپتال کو بمباری کرکے تباہ کرنا کیوں چاہتا ہے؛ وجہ سامنے آگئی

    اسرائیل الشفا اسپتال کو بمباری کرکے تباہ کرنا کیوں چاہتا ہے؛ وجہ سامنے آگئی

    غزہ کے شمالی علاقے میں واقعے الشفا اسپتال کو خالی کرنے کی دھمکی اسرائیل دو سے زائد بار دے چکا ہے اور متعدد بار آس پاس بمباری بھی کی ہے اور اب اسرائیلی ترجمان نے الشفا اسپتال کو تباہ کرنے کی خواہش کی وجہ خود ہی بتادی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے نشانے پر گزشتہ تین ہفتوں سے الشفا نامی ایک اسپتال ہے جو ایک جانب تو مریضوں سے بھرا ہے تو سیکڑوں بے گھر فلسطینیوں نے بھی یہاں پناہ لے رکھی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس کی زبان سے سچ نکل آیا اور الشفا اسپتال کو تباہ کرنے کی شدید خواہش کے پیچھے وجہ خود ہی بیان کردی۔

    جوناتھن کونریکس نے کہا کہ الشفا اسپتال کے نیچے زیر زمین سرنگوں میں حماس کے ملٹری کمانڈ کی سہولت اور ہتھیاروں کا گودام ہے اور جنگجو بھی انھی سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس لیے اسپتال کو نشانہ بنانا ناگزیر ہے۔

    تاہم تاریخ سے واقف افراد جانتے ہیں کہ ترجمان اسرائیلی فوج نے آدھا سچ بولا ہے۔ حقیقیت یہ ہے کہ غزہ کی پٹی 1967ء میں اسرائیل کے قبضے میں تھی تو اس عمارت کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اور انھوں نے ہی نیچے سرنگیں کھودی تھیں۔

    اسرائیل نے 1980ء میں گراؤنڈ فلور کو ایک خندق اور کمانڈرز کی پناہ گاہ بنایا اور 1994 میں اپنے قبضے کے آخری دن تک استعمال کرتا رہا۔

    جب غزہ سے اسرائیلی فوجیں واپس گئیں اور حکومت حماس کے ہاتھوں میں آئی تو اسپتال اور اس کے نیچے قائم سرنگیں ان کے ہاتھ آئیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ہمارے پاس الشفاء ہسپتال کے نیچے سرنگوں اور گوداموں کی تصاویر ہیں اور ان تصاویر میں راکٹس بھی دیکھے جاسکتے ہیں جو اسرائیلی سرزمین پر داغے جائیں گے۔

    دوسری جانب حماس نے اس الزام کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسپتال زخمیوں کو طبی امداد کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اسرائیل طبی مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے بہانے تراش رہا ہے۔

    اسرائیل کے اسپتال کو خالی کرنے کی بار بار دھمکیوں کے باوجود بے گھر فلسطینی پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ہمارے گھر تباہ ہوگئے اور ہمارے پاس اب کوئی ٹھکانہ نہیں بچا۔ ہم یہیں مر جانا پسند کریں گے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے اسپتال خالی کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نہیں گئے انھیں حماس کا حامی سمجھا جائے گا اور نشانہ بنایا جائے گا۔

  • اسرائیلی ٹینکوں کی پیشقدمی؛ امارات کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

    اسرائیلی ٹینکوں کی پیشقدمی؛ امارات کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

    جنیوا: اسرائیل کی برّی فوج کی درجنوں ٹینکوں کے ساتھ غزہ میں داخل ہونے کی کوشش پر متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست دے دی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر اور اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) کی بریفنگ سنی جائے۔

    سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج کسی وقت منعقد ہوسکتا ہے جس میں امارات فوری جنگ بندی کی قرارداد بھی لاسکتا ہے۔

  • اسرائیل ریڈ لائن پار کرچکا اب ہمارے جواب کا انتظار کرے؛ ایران

    اسرائیل ریڈ لائن پار کرچکا اب ہمارے جواب کا انتظار کرے؛ ایران

    تہران: ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ صیہونی ریاست ریڈ لائن پار کرکے ہمیں سخت سے سخت ایکشن لینے پر مجبور کر رہی ہے۔

    الجزیرہ عربی ٹی وی کو انٹرویو میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ غزہ میں صیہونی حکومت کی بری فوج کی کارروائی حماس کی طوفان اقصیٰ آپریشن کو شکست دینے میں ناکامی سے بھی بدتر ناکامی ہے۔

    ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ہمیں غزہ میں کچھ نہ کرنے کا کہتا ہے لیکن اسرائیل کی غزہ میں وحشیانہ بمباری اور بری حملوں کی وسیع تر حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مزید کہا کہ صیہونیوں نے غزہ پر فضائی، بحری اور بری حملے کیے لیکن امریکا اور بعض یورپی ممالک کی مالی اور فوجی مدد کے باوجود ان قابضین کو پسپائی پر مجبور ہونا پڑا جو فلسطینی قوم کی بڑی فتح ہے۔

    صدر ابراہیم رئیسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران فلسطینی مزاحمت کی حمایت جاری رکھے گا اور تمام امریکی تسلط سے آزاد تمام ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی مدد کریں گے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل نے بری فوج کو غزہ میں داخل کرکے ساری حدیں پار کرلیں اور اب صیہونی ریاست ہمارے جواب کا انتظار کرے۔

  • مکمل جنگ بندی تک کسی اسرائیلی یرغمالی کو رہا نہیں کریں گے، حماس

    مکمل جنگ بندی تک کسی اسرائیلی یرغمالی کو رہا نہیں کریں گے، حماس

    ماسکو: حماس نے مذاکرات کاروں پر واضح کردیا ہے کہ پہلے اسرائیل غزہ پر بمباری بند کرے اور جنگ بندی پر راضی ہو اس کے بعد یرغمالیوں کو رہا کریں گے۔

    روسی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے امن مذاکرات قطر کی ثالثی میں جاری ہیں اور اس حوالے سے حماس کے وفد کے ایک رکن کا بیان سامنے آیا ہے۔

    حماس کا ایک وفد امن مذاکرات کے سلسلے میں اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں موجود ہے۔ اسرائیل اپنے یرغمالیوں کی جلد از جلد رہائی پر زور دے رہی ہے جب کہ حماس کا مطالبہ فوری جنگ بندی ہے۔

  • قطر میں جاسوسی کے الزام پر بھارتی بحریہ کے 8 اہلکاروں کو سزائے موت

    قطر میں جاسوسی کے الزام پر بھارتی بحریہ کے 8 اہلکاروں کو سزائے موت

    دوحہ: قطر کی عدالت نے بھارتی بحریہ کی جانب سے جاسوسی کے لیے بھیجے جانے والے 8 سابق اہلکاروں پر جرم ثابت ہونے کے بعد سزائے موت سنادی۔

    قطری عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کی بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کردی ہے۔

    بھارتی بحریہ کے سابق اہلکاروں کو 2022 میں قطر کے خلاف اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے پر گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا تھا جس کے بعد اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہوا اور اس دوران گرفتار اہلکاروں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔
    بھارتی ایجنسیاں جاسوس اہلکاروں کو مسلسل مدد فرہم کرتی رہیں جبکہ جاسوس اہلکار داہرا گلوبل ٹیکنالوجی میں چھوٹی آبدوزیں بنانے جیسے ایک حساس نوعیت کے منصوبے پر کام کررہے تھے۔

    بھارتی جاسوس فوجی اہلکاروں میں کیپٹن نوتیج سنگھ گل،برندرہ کمار ورما، سورابھ وشست،کمانڈر امت نگپال، پریندو تواری، سگناکر پکالا, سنجیو گپتا اور ملاح راجیش شامل ہیں۔

    بھارت کے جاسوسی کے نیٹ ورک پر دنیا بھر میں ایک عرصے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے پر ہندوستانی حاضر سروس نیول آفیسر کلبوشن یادیو کو ۲۰۱۶ میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    ہندوستان کی بیرون ممالک دہشت گردانہ کاروائیاں بھی پہلے ہی دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہیں۔ کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں انڈین انٹیلیجینس ایجنسیز کے کرائے کے قاتل سکھ لیڈرز کو قتل کرتے ہُوئے بھی رنگے ہاتھوں پکڑے جا چکے ہیں

    قطر کی جانب سے بھارتی افسروں کی سزائے موت کے بعد بھارت کیلئے دنیا بھر میں سفارتی تعلقات رواں رکھنا مشکل ہو گیا۔ ہندوستان کے اِن مذموم اور گھنونے ہتھکنڈوں کا عالمی برداری کو نوٹس لینا ہوگا۔

  • امریکا کے ہاتھ غزہ میں معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؛ ایران

    امریکا کے ہاتھ غزہ میں معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؛ ایران

    تہران: ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای نے کہا ہے کہ غزہ میں کارروائیوں میں امریکا ملوث ہے جس کے ہاتھ تمام مظلوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام اور نسل کشی میں اسرائیل سے بڑھ کر امریکا ملوث ہے جو غزہ میں اسرائیلی قتل و غارت گری کو منظم کر رہا ہے۔

    روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ حماس نے اسرائیل کو ایسا دھچکا پہنچایا ہے جس کی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا تھا۔ مغربی ممالک کے دوڑ دوڑ کر اسرائیل جانے کی وجہ ان کی اسرائیل کے حصے بخیرے ہونے کی تشویش ہے۔

  • اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 6500 سے متجاوز، 16 ہزار سے زائد زخمی

    اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 6500 سے متجاوز، 16 ہزار سے زائد زخمی

    غزہ: اسرائیل کی غزہ پر مسلسل 24 گھنٹے سے جاری بمباری میں شہید فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوگئی جس کے باعث غزہ اور مغربی کنارے میں میں 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 6546 تک پہنچ گئی جس میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر سے غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے پر بھی بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جہاں شہادتوں کی تعداد 100 ہوچکی ہے جب کہ غزہ میں تعداد میں 6 ہزار 446 تک جا پہنچی اور 16 ہزار زخمی ہیں۔

    محکمہ صحت کے مطابق غزہ کے مسلسل محاصرے اور بجلی و دیگر چیزوں کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے صحت کا نظام بالکل بیٹھ گیا ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید غزہ کے 15 اسپتالوں کو مجبورا بند کرنا پڑا ہے۔

    وزیر صحت نے بتایا کہ اسپتالوں میں بچے انکیبیوٹر پر موجود ہیں مگر اب وہ ایندھن نہ ہونے کے باعث چل نہیں رہے جبکہ ہزاروں آپریشن بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 7اکتوبر سے جاری اسرائیلی بربریت میں 2700 سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی اسپتالوں میں ہیں جن میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں فیول کی قلت کا سامنا ہے اور اب صرف اسپتال میں ایمرجنسی کے استعمال کے لیے بچا ہے۔

    اقوام متحدہ نے ناکہ بندی کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسپتال بند ہوجائیں گے اور ہزاروں زخمی طبی امداد کی فراہمی سے محروم ہوجائیں گے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق ایندھن کی عدم موجودگی کی سے غزہ میں ایک تہائی ہسپتال بند ہوچکے ہیں، غزہ کے اسپتالوں میں بیسیوں نومولود بچے انکیوبیٹر پر ہیں، محاصرے کے باعث غزہ میں شہری پانی اور کھانے پینے کی اشیاء سے بھی محروم ہیں۔

    اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے اسرائیلی بمباری کی مذمت بھی کی جس پر اسرائیل نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق انتونیو گوتریس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔