Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
بین الاقوامی – Page 159 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: بین الاقوامی

  • شامی صدر کی سربراہی اجلاس میں شرکت کیلیے سعودیہ آمد

    شامی صدر کی سربراہی اجلاس میں شرکت کیلیے سعودیہ آمد

    ریاض: شام کے صدر بشار الاسد عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق رواں ماہ قاہرہ میں عرب وزرائے خارجہ نے شام کو عرب لیگ کا دوبارہ حصہ بنانے پر اتفاق تھا تاہم اب کی برسوں سے جاری سفارتی تنہائی کا خاتمہ ہوا ہے۔

    شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اسد آج (بروز جمعہ) کو ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جدہ کے کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے۔
    واضح رہے کہ شام کی عرب لیگ میں دوبارہ واپسی کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں ان میں پناہ گزینوں کی واپسی اور لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں عرب لیگ نے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

  • G-7اجلاس: روس پرمزید پابندیاں عائد ہونے کا امکان

    G-7اجلاس: روس پرمزید پابندیاں عائد ہونے کا امکان

    ہیروشیما: دنیا کی سات بڑی معیشتوں ( جی سیون ممالک ) کی جانب سے روس پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    جی سیون ممالک کا تین روزہ اجلاس 19 مئی سے جاپان کے شہر ہیروشیما میں شروع ہورہا ہے جس میں روس کو یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

    جی سیون ممالک میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔

    واضح رہےکہ امریکا اور یورپی یونین نے روس کے خلاف پہلے ہی سخت ترین پابندیاں عائد کررکھی ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پابندیوں کو بالخصوص تیل اور توانائی کے شعبے میں مزید سخت کیا جائے گا۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین ان کمپنیوں کو سزا دینے پر غور کررہی ہے جو کسی نہ کسی طرح روس پرعائد پابندیوں کا اثر کم کرنے میں معاونت کررہی ہیں۔

    فنانشنل ٹائمز میں شائع شدہ ایک انٹرویو میں یورپی یونین کے پالیسی چیف جوزف بورل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو تیل کی ان بھارتی مصنوعات کی درآمدات پر بھی پابندی لگادینی چاہیے جو بھارت روس سے تیل امپورٹ کرکے بنا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ ہائی ٹیک برآمدات پر بھی کنٹرول مزید مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ روس پر یورپی اور امریکی پابندیوں کا وہ اثر نہیں ہوا جس کی مغربی ممالک توقع کررہے تھے۔ 2022 میں پابندیوں کے باوجود روسی معیشت کے حجم میں صرف 2.1 فیصد کمی آئی۔

    اگرچہ جی سیون ممالک سے روسی تجارت برائے نام رہ گئی ہے مگر چین، بھارت اور ترکی کی روسی کوئلے، تیل اور گیس کی درآمدات کئی گنا بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے مغرب کی پابندیوں کا روسی معیشت پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا۔

    عالمی میڈیا کے مطابق روس پر پابندیاں مزید سخت کرنے کے حوالے سے جی سیون ممالک میں اختلافات پائے جانے کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

    جہاں جی سیون یوکرین پر حملے کے بعد روس کی جانب سے بند کی جانے والی گیس پائپ لائن کو مستقل طور پر بند کرنے کا سوچ رہے ہیں وہیں جی سیون کے یورپ سے تعلق رکھنے والے ممالک یہ قدم اٹھانے کے مخالف ہیں۔

  • الاسکا میں پرندوں کی آوازیں نکالنے والے گلوکاروں کا دلچسپ مقابلہ

    الاسکا میں پرندوں کی آوازیں نکالنے والے گلوکاروں کا دلچسپ مقابلہ

    الاسکا: ہرسال کی طرح اس سال بھی امریکہ کی یخ بستہ ریاست میں ایک انوکھا مقابلہ منعقد ہوا جس میں مختلف فنکاروں نے سمندری پرندوں کی آوازیں خارج کرکے سامعین کو حیران کردیا۔

    یہ مقابلہ الاسکا کے علاقے ہومر میں منعقد ہوا جسے ’سالانہ کیچ میک بے شوربرڈ فیسٹول‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں ہر عمر اور جنس کے فنکار شریک ہوتے ہیں اور اپنے پسندیدہ پرندے کی آواز، چہچہاہٹ اور سیٹیاں خارج کرتے ہیں۔ بعض شرکا پرندوں کے لباس میں بھی شریک ہوتے ہیں۔

    اس مقابلے میں پینی گیگ نامی شخص نے سمندری چیل کی آواز نکال پر پہلا انعام حاصل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سمندری پرندوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ گزشتہ موسمِ گرما سے انہوں نے پرندے کی پکار کی مشق شروع کی جس میں انہیں کامیابی ملی۔
    مقابلے میں 17 سالہ مرینا اسٹیفی نے سمندری بگلے کی آواز نکالی تو سب حیران رہ گئے۔ اسی طرح شرکا نے اپنے اپنے انداز سے طیرانِ آب کی نقل پیش کی۔

  • شہید شیرخان کی بہادری کی گواہی بھارتی بریگیڈیرنے بھی دی تھی

    شہید شیرخان کی بہادری کی گواہی بھارتی بریگیڈیرنے بھی دی تھی

    نئی دہلی: تحریک انصاف کے کارکنان نے نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے مسجمے کی حرمتی کی تھی جس پر پی ٹی آئی کے مقامی کارکن رحمت اللہ کو حراست میں لے لیا گیا۔

    9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب پی ٹی آئی کے کارکنان نے عمران خان کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے اہم اور حساس مقامات پر نہ صرف حملے کیے بلکہ شہدا کی یادگار کو بھی نقصان پہنچایا۔

    ایسا ہی ایک واقعے میں ایوب گیٹ کے سامنے مظاہرین میں سے ایک شخص نے شہید کرنل شیر خان کے مجسمے کی بے حرمتی کی تھی جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی اور یہ ویڈیو دیکھ کر ہر محب وطن پاکستانی کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

    جس مجسمے کو تحریک انصاف کے کارکن نے نقصان پہنچایا وہ کیپٹن کرنل شیر خان تھا جنھوں نے 1999 میں ہونے والی کارگل جنگ میں دشمن سے مردانہ وار جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی تھی اور انھیں نشان حیدر سے نوازا گیا تھا۔

    یہ وہی شیر خان تھے جن کی بہادری اور دلیری کی تعریف کارگل میں ان کے مدمقابل بھارتی فوج بریگیڈئیر ایم بی ایس باجوہ نے بھی کی تھی۔

    کرنل شیر خان مجسمہ

    اپنے ایک انٹرویو میں بھارتی بریگیڈیر نے کہا تھا کہ میں نے شیر خان سے جنگ لڑی اور جب وہ شہید ہوگئے تو ان کی جیب میں رقعہ رکھا تھا جس میں، میں نے لکھا تھا کہ شیر خان ایک بہادر فوجی تھے اور اعلیٰ فوجی اعزاز کے حق دار ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر تحریک انصاف کے کارکن کے شہید شیر خان کے مجسمے کی بے حرمتی پر صارفین نے بھارتی فوج کے بریگیڈیر کے اس بیان کی ویڈیو ایک بار پھر وائرل کردی اور پاک فوج کے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا۔

  • امریکی ارکان اسمبلی کا اپنے وزیرخارجہ سے پاکستان میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ

    امریکی ارکان اسمبلی کا اپنے وزیرخارجہ سے پاکستان میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ

    واشنگٹن: امریکی کانگریس کے 66 ارکان نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو خط لکھا ہے جس میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال اور سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ارکان اسمبلی نے خط میں احتجاج، سیاسی گرفتاریوں اور ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ تشدد اور سیاسی کشیدگی پاکستان میں سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔

    امریکی ارکان اسمبلی نے اپنے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے پاکستان میں جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حکومت پر جمہوریت، آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

    ارکان اسمبلی نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے احتجاج میں شریک مظاہرین کی جانب سے امن کو ہاتھ میں لینے کی بھی تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین اپنے مطالبات پُرامن اور غیرتشدد طریقے سے آزادانہ طور پر کریں۔

    امریکی کانگریس کے ارکان نے اپنے خط میں اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ پاکستان میں جمہوریت کی حمایت امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔ خط میں پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے امریکا کی امدادی سرگرمیوں کی تعریف بھی کی گئی۔

    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو خط بھیجنے میں پاک پیک تنظیم نے کردار ادا کیا ہے۔

  • عمران خان کیخلاف توہینِ مذہب کارڈ استعمال کیا گیا، امریکی رپورٹ

    عمران خان کیخلاف توہینِ مذہب کارڈ استعمال کیا گیا، امریکی رپورٹ

    واشنگٹن: امریکی ادارے برائے عالمی مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ’توہینِ مذہب کارڈ‘ استعمال کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2022 میں پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی حریفوں پر توہینِ مذہب جیسا حساس الزام عائد کیا۔

    امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق عالمی مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ برائے 2022 میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی آنے والی حکومت نے توہین مذہب کے قانون کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکمراں اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنی ایک ٹوئٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دیا تھا اور اپنے جلسوں میں بھی کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم ن کے رہنما جاوید لطیف نے بھی ستمبر 2022 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان پر بطور وزیراعظم اسلام کے بنیادی اصولوں پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

    امریکی رپورٹ میں توہین مذہب پر پاکستان میں ہونے والے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توہین مذہب کارڈ ایک خطرناک کھیل ہے۔ اس سے اجتناب برتنا چاہیے۔

    اس سے قبل جب سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا تو امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ توہین مذہب کا الزام عائد کرکے کسی کو حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  • سیاحوں کی یلغار ، خوبصورت گاؤں کے باشندوں نے رکاوٹیں لگادیں

    سیاحوں کی یلغار ، خوبصورت گاؤں کے باشندوں نے رکاوٹیں لگادیں

    ویانا، آسٹریا: آسٹریا کا ایک چھوٹا سے گاؤں اتنا پرکشش اور مسحورکن ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر مبہوت رہ جاتے ہیں۔ لیکن مقامی افراد سیاحوں کی تعداد اور سیلفیاں لینے کی عادت سے اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔

    ہیل اسٹیٹ نامی گاؤں ڈزنی کی فروزن فلم جیسا دکھائی دیتا ہے جہاں کووڈ 19 کی وبا سے پہلے سالانہ دس لاکھ افراد آرہے تھے۔ تاہم کچھ سکون کے بعد صرف 800 افراد کے چھوٹے سے دیہات میں اب روزانہ 10 ہزار سے زائد سیاح آرہے ہیں۔ چھوٹی سی جگہ پر لوگوں کے اژدہام اور سیلفیاں لینے سے رہائشیوں کی ذاتی زندگی متاثر ہورہی ہے۔

    سب سے بڑا لکڑی کا تختہ اس پل پر لگایا گیاہے جہاں سے لوگ کوہِ ایلپائن کے دامن میں ہیل اسٹیٹ دیہات کا خوبصورت ترین منظردکھائی دیتا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ شہرغیرضروری اور غیرمعمولی سیاحت کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے۔ یہاں تک کہ لوگ معمول کے کاموں کے لیے آزادانہ نقل و حرکت سے بھی قاصر ہیں۔

    اس کے علاوہ بھی گاؤں میں جگہ جگہ لکڑی کی رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ لوگوں نےاپنے گھروں کی حدود میں بھی زنجیریں لگادی ہیں۔

    شہر کے میئرالیگزینڈر شیوز نے کہا ہے کہ دیہات میں جگہ جگہ رکاوٹیں لگانے کا فیصلہ عوامی رائے کے تحت کیا گیا ہے۔ انہوں نے سیاحوں سے کہا کہ جن مقامات کو آپ سیلفی یا تصویری مقام کہتے رہے اب وہ جگہ موجود نہیں رہی۔

    واضح رہے کہ یونیسیف نے اس مقام کو عالمی ورثہ بھی قرار دیا ہے۔ اس کے ایک جانب ایلپائن کے پہاڑ ہیں، تو دامن میں خوبصورت مکانات اور گلیاں ہیں۔ اکثر مکانات کے آگے خوبصورت پانی موجود ہے اور یہ منظر کسی دیومالائی کہانیوں والی جگہ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

  • پاکستان میں عوام کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہونا چاہیے، امریکا

    پاکستان میں عوام کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہونا چاہیے، امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی بھی گرفتاری کے دوران ملکی قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے اور امریکا کسی ایک سیاسی جماعت یا امیدوار کے مقابلے دوسرے کی حمایت نہیں کرتا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے وزارت خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل ان خیالات کا اظہار ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کیا۔

    امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام کو اظہارِ رائے اور احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن احتجاج کے دوران سرکاری ملازمین اور سرکاری عمارتوں پر حملے کرکے اسے پُرتشدد نہیں بنانا چاہیے۔

    تاہم جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری سے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی بھی گرفتاری کے دوران ملکی قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے۔

    ترجمان وزارت خارجہ ویدانت پٹیل نے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ امریکا کسی بھی ایک سیاسی جماعت یا ایک امیدوار کے مقابلے دوسرے کی حمایت نہیں کرتا۔ مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان، امریکا کے لیے اہم ہے۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس کے دوران جی ایچ کیو، جناح ہاؤس سمیت دیگر عوامی مقامات پر حملے اور توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

  • امریکا کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ، آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کیلیے خطرے کی گھنٹی بجادی

    امریکا کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ، آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کیلیے خطرے کی گھنٹی بجادی

    واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی معیشت گراوٹ کا شکار ہوئی تو پھر عالمی معیشت پر اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

    جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کے دوران آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے کہا کہ ملکی قرضوں کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے امریکا کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں جو عالمی معیشت کے لیے بہت زیادہ سنگین ثابت ہوسکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کو علاقائی بینکوں سمیت امریکی بینکنگ سیکٹر میں نئی کمزوریوں پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، جو کہ زیادہ شرح سود کے ماحول میں ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں سامنے آسکتی ہیں۔

    کوزیک نے کہا کہ آئی ایم ایف فوری طور پر ان اثرات کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو امریکی ڈیفالٹ کی صورت میں عالمی شرح نمو پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے بھی امریکا کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرات ہیں اور اسی وجہ سے عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہورہی ہے، ہم ان شدید اثرات سے بچنا چاہتے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی ترجمان نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ متحدہ ہو کر معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں اور جلد از جلد بڑے فیصلے کر کے معاملے کو حل کریں۔

    دوسری جانب امریکی حکومت میں 31.4 ٹریلین ڈالر کے قرض کی حد کو بڑھانے کے بارے میں تفصیلی بات چیت بدھ کے روز شروع ہوئی جب ریپبلکن نے اخراجات میں کٹوتیوں پر اصرار کیا اور ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن اور کانگریس کے اعلیٰ ریپبلکن کیون کی تین ماہ میں پہلی بار اس معاملے پر ملاقات ہوئی۔

    یو ایس ٹریژری سکریٹری جینٹ ییلن نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس قرض لینے کی حد کو بڑھانے میں ناکام رہتی ہے تو یکم جون سے پہلے امریکا ڈیفالٹ ہوسکتا ہے۔

  • برطانیہ نے یوکرین کو اسٹارم شیڈو کروز میزائل فراہم کردیے

    برطانیہ نے یوکرین کو اسٹارم شیڈو کروز میزائل فراہم کردیے

    لندن: برطانیہ نے یوکرین کو 250 کلومیٹر (155 میل) سے زیادہ تک مار کرنے والے اسٹارم شیڈو میزائل فراہم کردیے۔

    برطانیہ کے وزیر دفاع بین والیس نے قانون سازوں کو بتایا کہ ہتھیار “یوکرین میں داخل کیے جاچکے ہیں‘‘۔ دوسری جانب یوکرینی صدر نے کہا کہ کہ کیف اپنا حملہ شروع کرنے کے لیے مزید مغربی بکتر بند گاڑیوں کے آنے کا انتظار کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکا نے ترکی کو روسی میزائل دفاعی نظام یوکرین میں استعمال کرنے کی تجویز دی تھی جسے ترکی نے مسترد کردیا ہے۔ امریکا نے ترکی میں موجود S-400 روسی میزائل دفاعی نظام یوکرین میں استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔
    روسی طبقہ اشرافیہ سے قبضے میں لی گئی رقم یوکرین کو منتقل کرنے کی منظوری

    دوسری جانب امریکا نے روسی اولیگارچز (اشرافیہ طبقہ جو ملک کے اثاثوں کو کنٹرول کرتا ہے) سے قبضے میں لیے گئے فنڈز کو یوکرین منتقل کرنے کی منظور دے دی۔

    امریکا کے اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے تصدیق کی کہ روسی اولیگارچ کونسٹنٹین مالوفیف سے ضبط کی گئی رقم جنگ زدہ ملک کی طرف جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ’رقم یوکرین کی تعمیر نو کے لیے امریکا کی طرف سے ضبط شدہ روسی فنڈز کی پہلی منتقلی ہے جبکہ یہ آخری نہیں ہوگی‘۔