Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
بین الاقوامی – Page 163 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: بین الاقوامی

  • ٹی وی پر انٹرویو کے دوران ترک صدر کی طبیعت بگڑ گئی؛ انتخابی مہم بھی معطل

    ٹی وی پر انٹرویو کے دوران ترک صدر کی طبیعت بگڑ گئی؛ انتخابی مہم بھی معطل

    انقرہ: ترک صدر طیب اردوان کے ٹیلی وژن چینل پر نشر ہونے والے براہ راست انٹرویو کو شدید طبیعت بگڑ جانے کے باعث روکنا پڑا جس کے بعد ان کی انتخابی مہم کو بھی عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیلی وژن پر براہ راست انٹرویو کے دوران اچانک ترک صدر کی طبیعت بگڑ گئی تاہم 15 منٹ کے وقفے کے بعد انھوں نے انٹرویو کو مکمل کرایا۔

    ترک صدر طیب اردوان نے انٹرویو دوبارہ شروع کرتے ہوئے ناظرین سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ اب میری طبیعت قدرے بہتر ہے۔ چند دن سے پیٹ میں شدید درد ہے اور مصروفیات بھی زیادہ ہیں۔

    طیب اردوان نے مزید بتایا کہ انٹرویو شروع ہونے میں بھی 90 منٹ کی تاخیر پیٹ درد کے باعث ہی ہوئی تھی اور ساتھیوں نے انٹرویو منسوخ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن میں نے مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ لاکھوں لوگ میرے منتظر تھے۔

    انٹرویو کے دوران ترک صدر طیب اردوان تھکے ہوئے نظر آئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو بھی نمایاں تھے جس کی وجہ ممکنہ طور پر پیٹ کی تکلیف ہوسکتی ہے۔

    اس انٹرویو کے بعد اپنی ٹوئٹ میں ترک صدر طیب اردوان نے نیک تمناؤں اور دعائیں بھیجنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر کی ہدایات پر وہ اپنی انتخابی مہم کو فی الحال معطل کر رہے ہیں۔

    صدر طیب اردوان نے مزید لکھا کہ آج کی مصروفیات معطل کردی ہیں آج میں اپنے ان بھائیوں، بہنوں اور دوستوں سے نہیں مل پاؤں گا جن سے جلسے میں خطاب کرنا تھا البتہ جمعرات سے انتخابی مہم کا دوبارہ آغاز کروں گا۔

    یاد رہے کہ ترکیے میں مئی کے وسط میں پارلیمانی وصدارتی انتخابات ہوں گے جس کے لیے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ صدر طیب اردوان کی جماعت گزشتہ 20 سال سے کسی نہ کسی صورت اقتدار میں ہے۔

    تاہم اس بار صدارتی انتخاب میں اپوزیشن لیڈر کمال قلیچ دار اوغلو ان کے مدمقابل ہیں اور کانٹے کے مقابلے کا امکان ہے۔

  • 80 سالہ جوبائیڈن کا 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان

    80 سالہ جوبائیڈن کا 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 2024 میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرکے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کے 4 سال پورے ہونے کے دن اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہونے والے صدارتی الیکشن میں بھی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف انتخاب لڑیں گے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے 2024 میں دوبارہ انتخاب کے لیے باضابطہ طور پر اپنی مہم کا آغاز کردیا۔ خیال رہے 80 سالہ جوبائیڈن کے امریکا کے معمر ترین صدر ہیں۔
    صدر جوبائیڈن کو اس وقت بھی حکمراں جماعت ڈیموکریٹک کے ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور وہ آئندہ ہونے والے صدارتی الیکشن کے لیے ڈیمو کریٹ کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔

    تاہم جماعت ڈیموکریٹک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدرجوبائیڈن کی اگلی مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی عمر ہوسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ جوبائیڈن 2020 میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دیکر 46 ویں صدر بن گئے تھے اور کہا جا رہا ہے کہ 2024 میں بھی کوئی شخص ٹرمپ کو شکست دے سکتا ہے وہ جوبائیڈن ہیں۔

  • داعش کیخلاف کارروائی میں طالبان حکومت امریکا کی مدد کو تیار؛ رپورٹ

    داعش کیخلاف کارروائی میں طالبان حکومت امریکا کی مدد کو تیار؛ رپورٹ

    کابل: واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں داعش کے خلاف کارروائی میں امریکا کی مدد کرنے کے لیے ہامی بھرلی۔

    امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق پینٹاگون کے لیک ہونے والے ایک دستاویز میں خبردار کیا گیا تھا کہ داعش امریکا، یورپ اور ایشیائی ممالک میں حملوں کے لیے ایک بار پھر افغانستان کی سرزمین استعمال کرسکتا ہے۔

    لیک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ داعش افغانستان میں منظم ہوکر امریکا اور دیگر ممالک کے گرجا گھروں، سفارت خانوں، کاروباری مراکز اور ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

    ادھر دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں داعش کو زیر کیا جا چکاہے۔ لیک دستاویز پر واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتی۔

    طالبان رہنما نے مزید کہا کہ اس طرح کی رپورٹ ذاتی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن یہ حققیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش افغانستان میں وجود نہیں رکھتی جیسے کبھی دورِ تسلط (امریکی نواز حکومت) میں ہوا کرتی تھی ۔

    واشنگٹن پوسٹ نے اس لیک دستاویز میں سیکیورٹی خدشات پر امریکی وزارت دفاع کے ایک اہم اور سینیئر عہدیدار سے گفتگو کی۔ جن کا کہنا تھا کہ امریکا طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے افغانستان میں داعش پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    امریکا کے ایک سینیئر دفاعی عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان اور امریکا کا مشترکہ ہدف ہے۔ طالبان خود بھی داعش کو اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور تازہ سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں طالبان حکومت نے داعش کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن میں امریکا کی مدد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    امریکی دفاعی حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو مزید بتایا کہ افغانستان میں اگست 2021 کو قائم ہونے والی طالبان حکومت داعش کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں جس پر اسے داعش کی جانب حملوں کا بھی سامنا ہے۔

    سینیئر دفاعی عہدیدار نے مزید کہا کہ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ طالبان کو سونپ دی ہے لیکن اس بات کو تسلیم کرنے میں کسی کو عار نہیں ہونا چاہیے کہ طالبان حکومت نے داعش پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کی لیک ہونے والی اس دستاویز کی تصدیق سے نی صرف انکار کر دیا بلکہ دستاویز پر ’ٹاپ سیکریٹ‘ کا لیبل اور محکمہ دفاع کا لوگو لگا کر سر بمہر کردیا۔

    تاہم موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’لیک ہونے والی دستاویزات میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد سیل دوبارہ زندہ ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ سے گفتگو میں کہا کہ امریکا اپنی فوجیووں کو کہیں مستقل طور پر تعینات کیے بغیر بھی دہشت گردوں کے خلاف منطقی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • محمد شہاب الدین نے بنگلا دیش کے نئے صدر کا حلف اٹھا لیا

    محمد شہاب الدین نے بنگلا دیش کے نئے صدر کا حلف اٹھا لیا

    ڈھاکا: بنگلادیش کے 22 ویں صدر محمد شہاب الدین نے اپنے عہدے کا حلف اُٹھالیا، وہ فروی میں بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے تھے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حکمراں جماعت عوامی لیگ کے سینیئر رہنما اور سابق جج 73 سالہ محمد شہاب الدین نے تاریخی دربار ہال میں وزیر اعظم شیخ حسینہ اور کابینہ کی موجودگی میں ایک تقریب میں ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف اُٹھالیا۔

    زمانۂ طالب علمی سے عوامی لیگ سے وابستہ شہاب الدین سابق صدر عبدالحمید کی جگہ سنبھالیں گے جن کی مدت رواں ہفتے ختم ہو رہی ہے۔

    بنگلادیش میں پارلیمانی نظام ہونے کے باعث کلی اختیارات وزیراعظم شیخ حسینہ کے پاس ہیں جب کہ صدر کا عہدہ نمائشی ہے تاہم اس کے باوجود عام انتخابات کے دوران اور قوانین کی منظوری کے لیے صدر دفتر خاص اہمیت حاصل کرجاتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ شیخ حسینہ واجد کے نہایت وفاردار سمجھے جانے والے رہنما محمد شہاب الدین کو صدر بنایا گیا ہے کیوں کہ بنگلا دیش میں عام انتخابات دسمبر یا اگلے سال جنوری میں ہونے والے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں صدر شہاب الدین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے اور ساز گار ماحول پیدا کرے۔

    صدر شہاب الدین کی اہلیہ ربیکا سلطانہ وفاقی حکومت میں سابق جوائنٹ سکریٹری رہی ہیں۔

  • سعودی عرب میں ماہ شوال کا چاند نظر آگیا، عید کل ہوگی

    سعودی عرب میں ماہ شوال کا چاند نظر آگیا، عید کل ہوگی

    سعودی عرب میں ماہ شوال المکرم 1444 ہجری کا چاند نظر آگیا۔

    سعودی میڈیا رپورٹ کے مطابق مملکت سمیت تمام خلیجی ممالک میں عید الفطر 21 اپریل بروز جمعے کو ہوگی۔

    سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے شہریوں سے آج چاند دیکھنے کی اپیل کی تھی جبکہ ماہ شوال کے چاند کی تلاش کیلیے مرکزی کمیٹی اجلاس ہوا۔
    سعودی عرب کے علاوہ کینیڈا اور امریکا میں بھی جمعے کو عید منائی جائے گی جبکہ ملائیشیا، آسٹریلیا، اردن کئی ممالک میں ماہ شوال کا چاند نظر نہ آنے پر جمعے کو تیسواں روزہ اور ہفتے کو عید منائی جائے گی۔

  • سعودی وزیر خارجہ کی شام کے صدر سے اہم ملاقات

    سعودی وزیر خارجہ کی شام کے صدر سے اہم ملاقات

    دمشق: شام کے صدر بشار الاسد نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی جو کہ شام کی عرب ممالک سےعلیحدگی کے خاتمے کی طرف اہم پیشرفت ہے۔

    رائٹرز کے مطابق شام میں طویل خانہ جنگی کے نتیجے میں باقی عرب ممالک سے تعلقات منقطع ہونے کے بعد سعودی عرب کے کسی اعلیٰ سفارت کار کا شام میں یہ پہلا دورہ ہے۔

    سعودی سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ملاقات میں شام کے تنازعے کے سیاسی حل کے لیے درکار اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا جو شام کی عرب شناخت کا ضامن ہوگا۔
    دوسری جانب شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بشار الاسد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی آزاد اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں سے خطے کو فائدہ پہنچا ہے۔

    تاہم دونوں رہنماؤں کے بیانات میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جس کی میزبانی ریاض آئندہ ماہ کرے گا۔ اگرچہ خلیجی عرب وزرائے خارجہ، مصر، عراق اور اردن کے ہم منصبوں نے عرب لیگ کی میٹنگ میں شام کی ممکنہ واپسی پر تبادلہ خیال کیا تھا لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

  • اٹلی میں کوکین کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ برآمد

    اٹلی میں کوکین کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ برآمد

    سسلی: اٹلی کے مشرقی ساحل پر منشیات کی سب سے بڑی کھیپ برآمد کی گئی ہے۔

    عالمی میڈیا نے اطالوی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ کوکین کی ایک بڑی کھیپ سسلی جزیرے کے مشرقی ساحل کے قریب تیرتی ہوئی ملی ہے۔

    اطالوی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ تقریباً 2 ٹن منشیات ضبط کی گئی ہیں جو ساحل پر معمول کے گشت کے دوران بحیرہ روم میں تیرتی ہوئی دیکھی گئیں۔
    پولیس کا کہنا تھا کہ منشیات کو 70 واٹر پروف فلوٹنگ پیکٹ میں احتیاط سے سیل کیا گیا تھا۔ کوکین کی قیمت 400 ملین یورو ڈالر ( تقریباً 440 ملین ڈالرز) ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ منشیات کی اس نشاندہی نے جو کہ اب تک کی سب سے بڑی مقدار میں سے ایک ہے، ممکنہ طور پر مجرموں کی اس تک رسائی کو ناکام بنادیا ہے جو ملک میں غیر قانونی فروخت کے لیے اسے شہر میں لے آتے۔

    پولیس نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ تیرتے ہوئے پیکجوں کو ایک گزرنے والے کارگو جہاز نے چھوڑ دیا تھا تاکہ اسے بازیافت کیا جائے اور اسمگلروں کے ذریعے ساحل پر لایا جائے۔

  • قطر میں عید الفطر پر11 چھٹیاں مل گئیں

    قطر میں عید الفطر پر11 چھٹیاں مل گئیں

    دوحا: قطر میں حکومت کی جانب سے عیدالفطر پر 9 روزہ تعطیلات کے اعلان کیا ہے تاہم ہفتہ وار چھٹیاں بھی شامل ہوجانے سے عوام کو مسلسل 11 دن کی چھٹیاں مل گئیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق قطر میں 19 اپریل بروز بدھ سے 27 اپریل جمعرات تک عید کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا جب کہ ملک میں جمعہ اور ہفتے کو ہفتہ وار چھٹیاں ہیں اس لیے دفاتر 11 روز بعد اتوار کو کھلیں گے۔

    عمان اور متحدہ عرب امارات میں عید پر 5 دن جب کہ سعودی عرب میں 4 دن کی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی عید الفطر پر 5 روزہ تعطیلات ہوں گی۔
    امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عید الفطر ہفتے کے روز ہوگی۔

    سعودی عرب نے عوام سے جمعرات کے روز چاند دیکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چاند کی شہادت سے متعلق قریبی دفاتر میں جاکر بتائیں۔

  • سعودی عرب میں عید الفطر کب ہوگی، ماہرین فلکیات نے بتادیا

    سعودی عرب میں عید الفطر کب ہوگی، ماہرین فلکیات نے بتادیا

    ریاض: سعودی عرب میں عیدالفطر ہفتے کو ہوگی۔

    سعودی عرب کے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ شوال کا چاند جمعرات کو نظر نہ آنے کا امکان ہے تاہم جمعہ کو چاند واضح طور پردکھائی دے گا۔

    سعودی ماہر فلکیات ماجد ابو زہرہ نے عرب میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تکنیکی طورپرچاند جمعرات کی شام آسمان پر نظر آئے گا تاہم یہ سورج کی شعاعوں سے روشن نہیں ہوگا اورخصوصی آلات کے بغیر دیکھنا مشکل ہوگا۔
    اس سے قبل سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جمعرات کی شام شوّال کا چانددیکھنے کی کوشش کریں۔

  • ایران کی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دورے کی دعوت

    ایران کی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دورے کی دعوت

    تہران: ایرانی حکومت نے تعلقات میں مزید بہتری کے پیش نظر سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دورے کی دعوت دے دی ہے۔

    ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے ایرانی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے باضابطہ طور پر سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ایرانی صدر (ابراہیم رئیسی) نے سعودی بادشاہ کو دعوت نامہ بھیجا جس کے بدلے میں ریاض کی طرف سے بھی انہیں دعوت دی گئی ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے سفارتی مشنز 9 مئی تک اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیں گے۔

    واضح رہے کہ مارچ میں چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد دونوں علاقائی حریفوں نے برسوں کی دشمنی ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ ایران اور سعودی عرب یمن اور شام میں مخالف فریقوں کی حمایت کرتے آئے ہیں تاہم دونوں ممالک نے 7 سالہ کشیدہ تعلقات کو ختم کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے اور اپنے سفارتی مشنز کو باضابطہ طور پر دوبارہ بحال کرنے جا رہے ہیں۔