Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
ٹیکنالوجی – Page 2 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: ٹیکنالوجی

  • سال 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافے کا ہدف مقرر

    سال 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافے کا ہدف مقرر

    اسلام آباد(سنگ میل نیوز) حکومت نے نئی انرجی وہیکل پالیسی 30-2025 کے تحت ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ کے لیے جامع اہداف مقرر کرتے ہوئے 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔اس کے ساتھ، ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے تین، چار جنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کے قیام کے لیے فنڈنگ گیپ کو پورا کیا جائے گا۔حکام کا اس متعلق کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کے فروغ کے لیے 122 ارب روپے کی سبسڈی اسکیم شروع کی جائے گی جس کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔فنڈز کا حصول روایتی گاڑیوں پر عائد 1 سے 3 فیصد لیوی سے کیا جائے گا جو فنانس بل 2025 کے ذریعے نافذ کردہ نیو انرجی وہیکلز ایڈاپشن لیوی ایکٹ کے تحت وصول کی جائے گی۔ اگلے پانچ سالوں میں 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس، 3ہزار170 الیکٹرک رکشوں اور الیکٹرک لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔پالیسی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دینے پر زور دیتی ہے جس سے تیل کے درآمدی بل میں کمی اور ماحولیاتی بہتری متوقع ہے۔ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیفٹی، کوالٹی اور ماحولیاتی معیارات کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی پیرس معاہدے کے تحت پاکستان کے ماحولیاتی وعدوں کو پورا کرنے میں مدد دے گی، صوبوں کے تعاون سے اس پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا اور الیکٹرک وہیکلز کے تیزی سے فروغ کے لیے ایک جامع فریم ورک اپنایا جائے گا۔اس پالیسی سے نہ صرف ماحولیات میں بہتری آئے گی بلکہ اضافی بجلی کے وسائل کا مفید استعمال بھی ممکن ہوگا۔

  • چین  سے لانچ کیا گیا پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

    چین سے لانچ کیا گیا پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

    اسلام آباد(سنگ میل نیوز) 31 جولائی 2025 کو چین کے ژیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر (XSLC) سے بھیجا گیاپاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا۔ اور وہ بہترین کارکردگی کے ساتھ فعال ہے۔پاکستان اسپیس اینڈ اپر اٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے ملک کے جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی کامیاب تعیناتی اور عملی تیاری کی تصدیق کر دی۔کامیاب لانچ کے بعد سیٹلائٹ نے گراؤنڈ اسٹیشنز کے ساتھ مستحکم رابطہ قائم کر لیا ہے۔ اور ہائی ریزولوشن تصاویر حاصل کر کے زمین پر بھیجنا شروع کر دی ہیں۔ جس سے مختلف قومی شعبوں کے لیے ڈیٹا کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹ اعلی معیار کی تصویری صلاحیت کا حامل ہے۔ جو شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور علاقائی منصوبہ بندی میں انقلاب لائے گی۔ جبکہ شہری پھیلاؤ اور ترقی کے رجحانات کی نگرانی میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔یہ قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام کو مستحکم کرے گا۔ اور سیلاب، زمین کے کھسکنے، زلزلوں اور دیگر خطرات کے لیے بروقت ڈیٹا فراہم کر کے فوری ردعمل ممکن بنائے گی۔ سیٹلائٹ ماحولیاتی تحفظ میں بھی کردار ادا کرے گی۔ جیسے گلیشیئر کا پگھلنا، جنگلات کی کٹائی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اشارات کی نگرانی، سیٹلائٹ زراعت کی پیداوار کو بھی بہتر بنانے میں مدد کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ قومی ترقیاتی منصوبوں جیسے چین پاکستان اکنامک کوریڈور میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کی نقشہ سازی، جغرافیائی خطرات کی شناخت اور وسائل کے مؤثر استعمال کو ممکن بنائے گی۔ ترجمان سپارکو نے کہا کہ یہ صلاحیتیں نہ صرف مختلف شعبوں میں فیصلہ سازی کو بہتر بنائیں گی۔ بلکہ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی اور پاکستان کی تکنیکی خود مختاری کو بھی مضبوط کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاندار کامیابی پاکستان کی خلا پر مبنی ٹیکنالوجیز میں پیشرفت اور سپارکو کے قومی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔

  • وزیراعظم کے ایک اور وعدے کی تکمیل‘گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کی منظوری

    وزیراعظم کے ایک اور وعدے کی تکمیل‘گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کی منظوری

    اسلام آباد: (سنگ میل نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا، ایکنک نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کے اعلان کے محض 2 دن بعد ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں 100 میگاواٹ سولر فوٹووولیٹک پاور پلانٹ منصوبے کی منظوری دی، جس کے بعد منصوبے پر کام کا باضابطہ آغاز ہو جائے گا۔وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ گلگت کے دوران اعلان کیا تھا کہ ایکنک جلد ہی یہ منصوبہ منظور کرے گا، منصوبہ پہلے ہی سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے منظور ہو چکا ہے، منصوبے سے استور، داریل، تنگیر دیامر، گھانچے، غذر، گلگت، ہنزہ، اشکومن، نگر، روندو، اسکردو اور شگر کے اضلاع مستفید ہوں گے۔پہلے مرحلے میں ضلع سکردو کو 18.958 میگاواٹ، دوسرے مرحلے میں ہنزہ کو 6.005 میگاواٹ، گلگت کو 28.013 میگاواٹ اور دیامر کو 13.126 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی، تیسرے مرحلے میں باقی اضلاع کو 16.096 میگاواٹ بجلی دی جائے گی، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کے لیے آف دی گرڈ 18.162 میگاواٹ بجلی مختص ہوگی۔24957 ملین روپے لاگت سے 3 سالہ منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں بجلی کی کمی دور کرنے اور عوامی سہولیات میں نمایاں بہتری کی توقع ہے۔

  • وزیراعظم کی آئی ٹی برآمدات 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے جامع لائحہ عمل کی ہدایت

    وزیراعظم کی آئی ٹی برآمدات 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے جامع لائحہ عمل کی ہدایت

    اسلام آباد(سنگ میل نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے گزشتہ مالی سال میں آئی ٹی برآمدات کے 3.8 ارب ڈالر کے ہدف کے حصول پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے آئندہ برسوں میں آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے سالانہ اہداف اور ضروری اقدامات پر مبنی جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹائیزیشن سے معیشت کو ترقی دینے اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک مکمل ڈیجیٹل ایکو سسٹم اور اس کا انفراسٹرکچر متعارف کروایا جا رہا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات کے حوالے سے ایک اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025 میں وزارت کے اقدامات کی بدولت آئی ٹی برآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور 3.8 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کیا گیا، جبکہ ملک میں فری لانسرز کی تعداد میں 91 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے تحت 386 نئے اسٹارٹ اپس کو معاونت فراہم کی گئی، جن میں سے 14 کو عالمی سطح پر بھیجا گیا۔ ملک کے 26 شہروں میں 40 ای-روزگار مراکز قائم کیے گئے، جبکہ 4 پاکستانی ٹیموں نے بلیک ہیٹ ایم ای اے میں دنیا کی 50 بہترین ٹیموں میں جگہ بنائی۔ اس کے علاوہ، 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار طلبہ و طالبات کو آئی ٹی کی پیشہ ورانہ تربیت دی گئی، جن میں سے 1 لاکھ 15 ہزار خواتین شامل ہیں۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر نے 130 خواتین کی سربراہی میں اسٹارٹ اپس کو سہولیات فراہم کیں، جبکہ خواتین کے لیے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ، 2200 وفاقی سرکاری افسران اور 3 ہزار طلبہ و طالبات کو سائبر سیکیورٹی کی تربیت دی گئی۔وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ڈیجیٹائیزیشن کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک-ایپ کے ذریعے 6.2 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔ وفاقی سرکاری دفاتر میں 98 فیصد ای-آفس کا اطلاق مکمل کیا گیا اور 51 نئے سسٹمز متعارف کروائے گئے، جو گورننس کی بہتری میں معاون ثابت ہوں گے۔ٹیلی کام سیکٹر کے بارے میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو 4G تک رسائی فراہم کی گئی۔ ٹیلی کام کنکشنز کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جبکہ 10 لاکھ نئے انٹرنیٹ صارفین کے اضافے کے ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔این آئی ٹی بی کی ازسر نو تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ ادارہ عصری تقاضوں کے مطابق نئے نظام کی تشکیل پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ این آئی ٹی بی اس وقت 179 سے زائد ویب سائٹس، 31 سے زائد موبائل ایپلیکیشنز، 113 سے زائد پورٹلز اور 57 کنسلٹینسی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس کی تنظیم نو میں صارف کے تجربے کی بہتری، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر، سائبر سیکیورٹی، رسک مینجمنٹ، تحقیق، جدت اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے تمام اقدامات کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے اور آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے سالانہ اہداف پر مبنی جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں بالخصوص خواتین کو آئی ٹی کے شعبے میں خود انحصار بنانے کے لیے قائم کردہ مراکز خوش آئند ہیں، جبکہ ای-آفس کے اطلاق سے پیپر لیس گورننس کے ذریعے وقت اور وسائل کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب سے ہزاروں نوجوان باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں اور آئی ٹی کی تعلیم و ہنر کے ذریعے انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے این آئی ٹی بی کے بنیادی ڈھانچے کی ازسر نو تنظیم اور مارکیٹ سے بہترین افرادی قوت کی بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • پاکستان اور چین کا ایٹمی و خلائی تحقیق میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور چین کا ایٹمی و خلائی تحقیق میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بیجنگ:وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے چین کے شہر بیجنگ میں چائنا اٹامک انرجی اتھارٹی اور چین کی خلائی ایجنسی کے چیئرمین مسٹر شان زونگڈے سے اہم ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ایٹمی توانائی اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو پاکستان کے ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان میں انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق کے-2، کے-3 اور سی-5 نیوکلئر پاور پلانٹس پاکستان اور چین کے جوہری توانائی کے تعاون کی روشن مثالیں ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کے تناظر میں ایٹمی توانائی کے کردار کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے خلائی پروگرام کو نئی تحریک ملی ہے۔احسن اقبال نے بتایا کہ حال ہی میں پاکستان نے چین کے تعاون سے تین سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیجے ہیں، اور 2026 میں پاکستان اپنا پہلا خلاباز چینی خلائی اسٹیشن پر بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی کو 2035 تک چاند پر مشن بھیجنے کا ہدف سونپا گیا ہے۔وزیر منصوبہ بندی کے مطابق پاکستان میں اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل موجود ہیں، جن کی صلاحیتوں سے چین بھی بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پاکستان نے مستقبل کے ٹیکنالوجی چیلنجز کے پیش نظر کوانٹم کمپیوٹنگ کا سینٹر قائم کیا ہے، اور سائنسی و تکنیکی شعبوں کو قومی ترقی سے جوڑنے کے لیے ایک نیا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوان پاکستانی سائنسدانوں کے لیے چینی خلائی ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانے کی تجویز دی۔اس موقع پر چیئرمین شان زونگڈے نے احسن اقبال کی سی پیک کے لیے گراں قدر خدمات کو سراہا اور کہا کہ چین پاکستان سے خلائی تحقیق اور ایٹمی توانائی کے محفوظ استعمال میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پاکستان اور چین کے تعلقات اب اسٹریٹجک شراکت سے معاشی تعاون میں ڈھل چکے ہیں۔

  • زمینی مشاہدات سے آگاہی کیلئے پاکستان کا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین سے لانچ کردیاگیا

    زمینی مشاہدات سے آگاہی کیلئے پاکستان کا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین سے لانچ کردیاگیا

    کراچی:پاکستان کا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ آج پاکستانی وقت کے مطابق صبح 7 سے 8 بجے کے درمیان چین کے شیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلاء میں کامیابی کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کے ماہرین اور سائنسدان چینی لانچ سینٹر میں موجود ہیں تاکہ مشن کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔سپارکو کے مطابق یہ سیٹلائٹ پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک اہم پیش رفت اور تکنیکی خود انحصاری کی جانب بڑا قدم ہے۔لانچ کی خصوصی تقریب سپارکو ہیڈکوارٹر کراچی میں براہ راست دکھائی گئی، جب کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یاسر کا ویڈیو پیغام بھی چین سے نشر کیا جائے گا۔ سپارکو کے ترجمان کے مطابق، ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی مدد سے پاکستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی، شہری پھیلاؤ کی نگرانی اور قدرتی آفات جیسے سیلاب، زمینی کھسکاؤ اور زلزلوں سے متعلق بروقت و موثر انتباہ ممکن ہو سکے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ نہ صرف جغرافیائی خطرات کی بروقت نشان دہی کرے گا بلکہ اسے سی پیک جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں میں بھی مؤثر معاون کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ڈی جی سپارکو افتخار بھٹی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کا موقع ہے پاکستان کی اسپیس تحقیق ترقی کی جانب ہے۔آج کا یہ سیٹلائٹ لانچ پاکستان کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان ایک زمہ دار ملک ہے، یہ سیٹلائٹ ہمیں زراعت اور زمینی حقائق میں اہم معاونت فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ادوار میں مزید سیٹلائٹ بھیجے ہیں، اسپیں بیس ڈیٹا اینالائز کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ زلزلے اور سیلاب کی آگاہی اور زمین کی حرکت پر نظر۔ پانی کی قلت اور گلیشیئر کے پگھلنے تک سے گرمی کی شدت اور بدلتے موسم کے ثمرات میں معلومات فراہم کرے گا سپارکو اس پر فخر کرتا ہے اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے خلاء میں روانہ ہوگیا، خلا کی تلاش اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے، پاکستان نے آج چین کے شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹرسے اپنا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا۔ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ سیٹلائٹ اعلیٰ ریزولوشن کے ساتھ 24 گھنٹے مسلسل زمینی مشاہدے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، آفات کی نگرانی و نظم، زرعی نظام، خوراک کی سیکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کی کٹائی کی نگرانی، موسمیاتی تبدیلی کے تجزیے اور آبی وسائل کے نظم و نسق کے شعبوں میں استعدادِ کار کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ریموٹ سینسنگ سٹیلائٹ کی کامیاب لانچنگ پر قوم اور سپارکو کی تمام ٹیم ،انجینئرز،سائنسدانوں کو مبارکباد دی کو مبارکباد دی اور کہا کہ چین کےبھرپور تعاون پر شکرگزار ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ سٹیلائٹ کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچ گیا، پاکستان کو سپیس ٹیکنالوجی میں دوبارہ قائدانہ کردار دلائیں گے، آئندہ سال چین کی مدد سے آسٹرو ناٹ خلا میں بھیجا جائے گا، 2035 تک ہم چاند پر پہنچنے کے پروگرام کو بھی کامیابی سےمکمل کریں گے۔

  • موبائل فونز پرٹیکسز

    موبائل فونز پرٹیکسز

    تحریر:محمد فاروق

    پاکستان میں موبائل فونز پرعائد ٹیکسزاور ڈیوٹیز ایک عرصے سے عوامی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں ڈیجیٹل سہولیات تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں موبائل فون صرف رابطے کا ذریعہ ہی نہیں رہے بلکہ تعلیم، کاروبار، خریداری اور معلومات تک رسائی کا بنیادی وسیلہ بن چکے ہیں۔ اس وقت ملک میں تقریباً 198ملین موبائل صارفین موجود ہیں، ٹیلی ڈینسٹی 80.10فیصد ہے جبکہ 150ملین سے زائد افراد براڈبینڈ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے میں موبائل فونز کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، تاہم ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ موبائل فونز پرعائد ٹیکسزاور ڈیوٹیز کا ذمہ دار پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ درحقیقت، موبائل فونز پر تمام ٹیکسزاور ڈیوٹیز ایف بی آر وصول کرتی ہے، جبکہ پی ٹی اے کا اس مالیاتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔
    یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ ایف بی آر ہی وہ ادارہ ہے جو موبائل ڈیوائسز پر ٹیکس عائد کرنے، اس کی وضاحت دینے اور اس کی وصولی کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے کئی قانونی نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں، جن میں ایس آر او50(I)/2019اور 51(I)/2019اور کسٹمز جنرل آرڈر 01آف 2024شامل ہیں۔ جو ان تمام ٹیکسز کی بنیاد فراہم کرتے ہیں ایف بی آر مختلف ماڈلز اور کیٹیگریز کے لیے وقتاً فوقتاً ٹیکس چارٹس جاری کرتا رہتا ہے، جو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوتے ہیں۔ موبائل رجسٹریشن کے دوران جو بھی ادائیگی کی جاتی ہے، وہ براہِ راست ایف بی آر کے اکائونٹ میں جمع ہوتی ہے۔
    پی ٹی اے پر ٹیکسز کا الزام دینا نہ صرف غلط فہمی کو جنم دیتا ہے بلکہ عوامی بحث کو غلط سمت میں موڑ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی اے نہ تو کوئی ٹیکس عائد کرتا ہے اور نہ ہی کوئی مالی وصولی کرتا ہے۔ پی ٹی اے کا کردار صرف ریگولیٹری ہے، یعنی ٹیلی کام سروسز کی نگرانی، معیار کی جانچ اور صارفین کی شکایات کا ازالہ و رہنمائی تک محدود ہے، نہ کہ ٹیکس وصولی۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن عمومی طور پر سوشل میڈیا، مارکیٹوں اور روزمرہ گفتگو میں “پی ٹی اے ٹیکس” جیسی غلط اصطلاح عام طور پر رائج ہو چکی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔
    موبائل فونز کی قانونی رجسٹریشن اور ٹیکس ادائیگی کے عمل کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2019میں لانچ کیے گئے ڈی آئی آر بی ایس(DIRBS)نظام کو دیکھنا ہوگا۔ یہ نظام ’’ٹیلی کام پالیسی 2015‘‘ کے تحت متعارف کروایا گیا تاکہ پاکستان میں اسمگل شدہ، نان کمپلائینٹ یا جعلی موبائل فونز کو بلاک کیا جا سکے۔ یہ سسٹم GSMA معیارات اور پی ٹی اے کے ٹائپ اپروول اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ DIRBS پی ٹی اے، ایف بی آر، جی ایس ایم اے، موبائل نیٹ ورک آپریٹرز اور صارفین کو ایک خودکار ڈیجیٹل سسٹم کے تحت باہم مربوط کرتا ہے۔ جو رجسٹریشن، تصدیق اور ادائیگی کے تمام مراحل کا احاطہ کرتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارفین موبائل فون کی رجسٹریشن (*8484#) یا DIRBSویب پورٹل کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ جب فون کا IMEIنمبر سسٹم میں درج کیا جاتا ہے تو ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکس کے مطابق ایک پیمنٹ سلپ آئی ڈی(PSID)جاری ہوتی ہے۔ صارف یہ رقم براہِ راست بنک کے ذریعے ایف بی آر کو ادا کرتا ہے، اور ادائیگی کی تصدیق کے بعد فون کو وائٹ لسٹ کر کے پاکستانی موبائل نیٹ ورکس پر فعال کر دیا جاتا ہے۔ رجسٹریشن کی حیثیت ایس ایم ایس، ویب سائٹ یا DIRBS ایپ کے ذریعے معلوم کی جا سکتی ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کے لیے حکومت نے رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی مراعات بھی متعارف کروائی ہیں، جن میں 60دن کے اندر رجسٹریشن پر 10فیصد ٹیکس رعایت اور ہر وزٹ پر فون کی 120دن کے لیے عارضی طور پر مفت رجسٹریشن شامل ہے۔ ان اقدامات سے قانونی درآمدات کو فروغ اور اوورسیز پاکستانیوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔ ٹیکس سے متعلق تمام سوالات کے لیے صارفین ایف بی آر ہیلپ لائن 051-111-772-772 یا ای میلhelpline@fbr.gov.pkپر رابطہ کر سکتے ہیںاس پورے عمل میں پی ٹی اے کا کردار تکنیکی معاونت اور رہنمائی تک محدود ہے، پی ٹی اے روزانہ سینکڑوں شہریوں کی رہنمائی اور مسائل کے حل میں مصروفِ عمل رہتا ہے۔ صرف 2024 میں پی ٹی اے کو DIRBS سے متعلق 1,99,722شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 99.9فیصد کا کامیابی سے ازالہ کیا گیا۔ روزانہ اوسطاً 150سے 200شہری پی ٹی اے کے مرکزی دفتر میں رجوع کرتے ہیں۔ رجسٹریشن یا تکنیکی مسائل کے لیے پی ٹی اے کی ہیلپ لائن 0800-55055 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی اے اپنی خدمات تمام صارفین کو بغیر کسی فیس کے فراہم کررہا ہے۔
    پی ٹی اے نہ صرف ایک فعال ریگولیٹری ادارہ ہے بلکہ ملکی موبائل مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ صرف 2024میں 3۔3 کروڑ موبائل فون پاکستان میں تیار کیے گئے جب کہ 2025کے ابتدائی پانچ ماہ میں مزید 12.81ملین فونز مقامی طور پر بنائے گئے۔ اس سے درآمدی انحصار کم ہونے اور خود کفالت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت مقامی صنعت اور روزگار کے مواقع میں اضافے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔مزید برآں پی ٹی اے کی جانب سے قومی خزانے میں جمع کی گئی رقوم بھی قابل ذکر ہیں، جن میں2021-22میں 112.71ارب روپے‘ 2022-23 میں 99ارب روپے اور2023-24میں 54ارب روپے شامل ہیں۔ یہ تمام آمدن پی ٹی اے کی لائسنس فیس، اسپیکٹرم نیلامی اور دیگر ضوابطی اقدامات سے حاصل ہوئی اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی اے ملک بھر میں ٹیلی کام سروسز کے معیار کو جانچنے کے لیے باقاعدہ سروے کرتا ہے، اور خراب کارکردگی کی صورت میں لائسنس یافتہ کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز اور جرمانے بھی عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ’’پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ‘‘ (PECA)کے تحت آن لائن مواد کی نگرانی، غیر اخلاقی، فحش، نفرت انگیز اور بچوں کے لیے نقصان دہ مواد کو بلاک کرنے جیسے اہم فرائض میں بھی سرگرم عمل ہے۔
    اگرچہ موبائل فونز پرعائد ٹیکس اور ڈیوٹیز قومی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، تاہم ان ٹیکسز کی شرح پر تنقید ایک فطری عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تنقید اور اصلاحات کا رخ درست سمت میں ہو۔ عوامی سطح پر غلط فہمیوں کے بجائے درست معلومات کا فروغ نہایت اہم ہے۔ ایک تجویز یہ ہے کہ پرانے یا درمیانے درجے کے فونز پر ٹیکس کم کیا جائے، جس کے لیے GSMA TACڈیٹابیس کے ذریعے ماڈلز کو کیٹیگرائز کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مہنگے فونز پر ٹیکس کی شرح کو متوازن بنا کر قانونی رجسٹریشن کی ترغیب دی جا سکتی ہے اس سے ٹیکس نیٹ بیس میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
    عوام‘ میڈیا اور صارفین کو اس فرق کو سمجھنا چاہیے کہ ٹیکس کا ذمہ دار ادارہ ایف بی آر ہے نہ کہ پی ٹی اے۔ پی ٹی اے ایک ریگولیٹری ادارہ ہے جو ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی‘معیار اور تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ درست معلومات پر مبنی مکالمہ ہی ملک کو بہتر پالیسی سازی‘ ڈیجیٹل شمولیت اور قانونی درآمدات کی راہ پر ڈال سکتا ہے باشعور شہری ہی بہتر پالیسی اور مضبوط معیشت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا کرپٹو کونسل پر تحفظات کا اظہار

    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا کرپٹو کونسل پر تحفظات کا اظہار

    اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے کرپٹو کونسل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام کو طلب کرلیا۔ذرائع کے مطابق پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا، اجلاس میں کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے متعدد ممبران نے کرپٹو کونسل پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ سینیٹر ہمایوں مہمند اور کامران مرتضیٰ نے کونسل سے متعلق قانونی پیچیدگیوں پر سوالات اٹھا دیے۔جس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے کہا کہ نیشنل کرپٹو کونسل کے چیئرمین وزیر خزانہ ہیں اور میں بطور سیکریٹری آئی ٹی اس کا ممبر ہوں۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں پر میں پارلیمنٹ میں بل لایا تھا، میں نے 3 ماہ لگا کر یہ بل بنایا،حکومت نے میرے بل کو ختم کرکے خود ہی اس پر کونسل لے آئے ہیں۔سیکریٹری آئی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کرپٹو کونسل ایک ایڈوائزری باڈی ہے، ہم اس کونسل میں محض آئی ٹی سے متعلق اپنا کردار ادا کررہے ہیں، وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا کام ریگولیٹ کرنا نہیں ہے۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کے ایکزیکٹیو آرڈر سے کوئی کونسل بن سکتی ہے؟سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہر کونسل کے پیچھے کوئی قانون موجود ہوتا ہے، کیا کرپٹو کونسل کے پیچھے کوئی قانون ہے، اگر کوئی بڑا فراڈ، دھوکہ ہو جائے تو کون ذمہ دار ہوگا، اگر کوئی ملک میں کرپٹو سے متعلق مسئلہ پیش آ جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ کرپٹو کونسل کو وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے پاس ہونا چاہیے تھا، وزارت خزانہ تو اپنا کام نہیں ٹھیک طریقہ سے کررہی،کرپٹو تو آئی ٹی کا مینڈیٹ ہے۔بعد ازاں، قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام کو طلب کرلیا۔

  • ٹیلی کام صارفین کے حقوق کا تحفظ: پی ٹی اے کی کامیاب حکمت عملی اور مستقبل کا لائحہ عمل

    ٹیلی کام صارفین کے حقوق کا تحفظ: پی ٹی اے کی کامیاب حکمت عملی اور مستقبل کا لائحہ عمل

    تحریر: زیب النساء غرشین

    شعبہ ٹیلی کام میں صارفین کے تحفظ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے کیونکہ یہ شعبہ جدید دور کی روزمرہ زندگی میں ایک لازم و ملزوم جزو کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ہمیشہ صارفین کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ ٹیلی کام صارفین بغیر کسی رکاوٹ کے معیاری خدمات سے مستفید ہو سکیں۔جدید ڈیجیٹل دور میں صنفی مساوات کو یقینی بنانا بھی ٹیلی کام شعبے کے لیے ایک اہم چیلنج اور ترجیح بن چکا ہے۔ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو)برائے سال 2025 کے مرکزی خیال ”ڈیجیٹل تبدیلی میں صنفی مساوات “(Gender Equality in Digital Transformation)کے تحت، صنفی امتیاز کے خاتمے کے ذریعے خواتین کو ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں شامل کرنا ازحد ضروری ہے۔ پی ٹی اے بھی اس مقصد کے لیے پرعزم ہے اور اس حوالے سے ڈیجیٹل صنفی شمولیت کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ خواتین اور دیگر پسماندہ طبقات کے لئے ڈیجیٹل مواقعوں کی فراہمی عمل میں لائی جا سکے۔ پی ٹی اے نے صارفین کی شکایات کے اندراج اور ان کے حل کے لیے ایک جامع نظام تشکیل دیا ہے۔ یہ نظام صارفین کی آن لائن شکایات کے اندراج کے لیے ویب پورٹل اور موبائل ایپ (اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پر) کے ذریعے دستیاب ہے۔ علاوہ ازیں، صارفین کی سہولت کے لیے ٹول فری نمبر (0800 55055) بھی فراہم کیا گیا ہے، جہاں صارفین اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔یکم جنوری سے 30 اپریل 2025 کے دوران، مختلف نوعیت کی مجموعی طور پر 39519 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 39200 (99.19فیصد) شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ان اہم شکایات میں زیادہ تر شناختی کارڈ کے ساتھ سم ریکارڈ سے متعلق مسائل (7,511 شکایات)، ایس ایم ایس سروس کی بحالی (3,179 شکایات)، اور ڈیٹا سروس کی کوریج کے مسائل (2,817 شکایات) شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار شکایات کے مؤثر حل اور متعلقہ حکام کی اعلیٰ کارکردگی کے عکاس ہیں۔جبکہ پی ٹی اے نے صارفین کے حقوق کے تحفظ اور خدمات کے معیار میں بہتری کے حوالے سے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔پی ٹی اے کو سی ایم ایس پر سال 2024 کے دوران 163,511 شکایات موصول ہوئیں، جنہیں 100 فیصد حل کیا گیا۔ پی ٹی اے نے صارفین کے تحفظ کے فروغ اور سروس کے معیار میں بہتری کے لیے مختلف آگاہی مہمات کا آغاز کیا ہے تاکہ عوام کو شکایات کے ازالے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے۔غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات کے تحت پی ٹی اے نے موبائل نمبرز، آئی ایم ای آئیزکی بلاکنگ کے لیے جدید نظام متعارف کرایا۔سال 24 20کے دوران، 3084 موبائل نمبرز، 2799 آئی ایم ای آئیز کو بلاک کیا گیا، جبکہ 10628 مختلف موبائل نمبرز کو وارننگز جاری کی گئیں۔ اس کے علاوہ، پی ٹی اے کی جانب سے گمشدہ یا چوری شدہ فون سیٹوں کو بلاک کرنے کے لیے ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے ایک مربوط نظام قائم کیا جا چکا ہے اب صارفین اپنے گم شدہ موبائل فونز کی شکایات آن لائن رجسٹرڈ کرا سکتے ہیں۔پی ٹی اے کی جانب سے سروسز تک رسائی اور صارفین کو سہولیات کی بہتر فراہمی کے پیش نظر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس)کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ سی ایم ایس موبائل ایپ کا اردو ورژن بھی دستیاب ہے تاکہ صارفین اپنی قومی زبان کی بنیاد پر خدمات تک بآسانی رسائی کر سکیں اور قومی زبان میں شکایات کا اندراج کروا سکیں۔ واضح رہے کہ صارفین کا تحفظ پی ٹی اے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پی ٹی اے نے صارفین کو سہولیات کی فراہمی کے ضمن میں متعدد اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ نیز اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ٹیلی کام سروس فراہم کنندگان کی جانب سے صارفین کو اعلی معیار کی خدمات فراہم کی جا رہی ہوں ۔ شکایات کے مؤثر ازالے کو پی ٹی اے کے مشن کا مرکزی نکتہ قرار دیا گیا ہے جس میں مزید بہتر ی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ ٹیلی کام صارفین کے حقوق کے تحفظ کے پیش نظر پی ٹی اے نے صارفین کی آگاہی کے لیے مہمات شروع کی ہیں نیز سروس کے معیار کو جانچنے کے لئے سہہ ماہی بنیادوں پر کوالٹی آف سروس سروے بھی کئے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی اے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تمام پہلوؤں میں صنفی مساوات کو عملی طور پر یقینی بنانے اور خواتین کو ڈیجیٹل تبدیلی کا فعال حصہ بنانے کے حوالے سے پر عزم ہے۔ اس ضمن میں، پی ٹی اے مختلف اقدامات اور پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو ڈیجیٹل خواندگی، ڈیجیٹل سکیورٹی اور ڈیجیٹل مواقع کی فراہمی کے ذریعے خود مختاربنانے اور آئی ٹی یو کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

  • مواصلاتی رابطوں کا عالمی دن اور درپیش چیلنجز

    مواصلاتی رابطوں کا عالمی دن اور درپیش چیلنجز

    آج 17 مئی کو دنیا بھر میں مواصلاتی رابطوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے یہ دن نہ صرف جدید رابطہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ انسانیت کو جوڑنے کے ایک طویل سفر کی یاد بھی دلاتا ہے اور ساتھ ساتھ ہمیں یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم نے اس سفر میں کیا کھویا کیا پایا اور آگے کہاں جانا ہے- اس دن کی بنیاد 17 مئی 1969 کو رکھی گئی تھی تاکہ 1865 میں بین الاقوامی ٹیلی گراف کنونشن پر دستخط اور انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے قیام کو یاد رکھا جا سکے- سال 2025 اس حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئی ٹی یو اپنے قیام کی 160 ویں سالگرہ منا رہا ہے ایک ایسے وقت میں جب دنیا ڈیجیٹل ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے ہم اس بات کے معترف ہیں کہ رابطے کے ذرائع نے ہماری زندگیوں ،معیشتوں اور معاشروں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
    آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون سے لے کر آسمان کے مدار میں گردش کرتے سیٹلائٹس تک، جب بھی ہم کال کرتے ہیں پیغام بھیجتے ہیں، ریڈیو آن کرتے ہیں، ٹی وی دیکھتے ہیں، جی پی ایس استعمال کرتے ہیں، انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں یا موسم کی تازہ ترین معلومات چیک کرتے ہیں تو درحقیقت ایک عالمی نیٹ ورک کی خدمات پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں جو بہت ہی منظم مربوط اور بیک وقت پیچیدہ بھی ہے – ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے حوالے سے اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی کے طور پرآئی ٹی یو دنیا کو آپس میں جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے چاہے وہ سپیکٹرم مینجمنٹ ہو عالمی معیارات کا تعین یا ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کی کوششیں ہوں-
    1865 میں ٹیلی گراف سے شروع ہونے والا یہ سفر آج محض سادہ پیغام رسانی تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا میں رابطے ترقی اور ایجادات کے نئے دریچے روشناس کرا رہا ہے- اگر ٹیلی کام سیکٹر پر نظر دوڑائی جائے تو کھیتوں کی ہریالی سے صحت کی بحالی تک اور سیاست کے ایوانوں سے معیشت کے کارخانوں تک اس کی گونج سنائی دے رہی ہے اور یہ مصنوعی ذہانت ، فائیو جی ،انٹرنیٹ آف تھنگز اور جدید ڈیجیٹل نیٹ ورک تک پہنچ چکا ہے آج موبائل ٹیکنالوجیز اور سروسز دنیا بھر میں سات ارب سے زائد کنکشن کی حامل ہیں اگر آئی او ٹی ڈیوائسز کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 13.7 ارب سے تجاوز کر رہی ہے یہ خدمات عالمی جی ڈی پی میں تقریبا 8.5فیصد حصہ ڈال رہی ہیں جو 2030 تک8.4 فیصد شرح سے 11 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے-
    دنیا کی آبادی اس وقت کم و بیش 8.2 ارب نفوس پر مشتمل ہے جن میں 42 فیصد دیہی اور 58 فیصد شہری افراد شامل ہیں جبکہ صنفی تناسب کے لحاظ سے ان میں 49.73 فیصد خواتین اور 50.27 فیصد مرد حضرات ہیں۔ جی ایس ایم اے کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 71 فیصد آبادی یعنی تقریبا 5.8 ارب افراد موبائل فون صارفین ہیں اور 60 فیصد یعنی 4.70 ارب افراد انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں اگرچہ سمارٹ فون کےاستعمال کی شرح 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے مگر اب بھی 20 فیصد افراد سادہ ، بنیادی فیچر فون پر انحصار کر رہے ہیں یہ اعداد و شمار جہاں نمایاں پیشرفت کو ظاہر کرتے ہیں وہیں ڈیجیٹل رسائی میں موجود خلا کی نشاندہی بھی کرتے ہیں یہ ترقی اور محرومی کے ساتھ چلتے دو رخ ہیں۔
    پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملی ہے آج ملک بھر میں 200 ملین سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں جبکہ 59.83 فیصد شرح کے ساتھ 147 ملین صارفین موبائل اور فکس براڈ بینڈ کی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی ریگولیٹری اقدامات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل خلا کو پر کرنے کے لیے قومی و عالمی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ پاکستان میں پائیدار ڈیجیٹل ترقی کے اہداف کو ممکن بنایا جا سکے۔
    آج دنیا میں موبائل کنکشنزکی تعداد عالمی آبادی سے تجاوز کر رہی ہے یہ حیرت انگیز حقیقت بظاہر ترقی کی علامت دکھائی دیتی ہے لیکن کیا درحقیقت ہم بامقصد اور مساوی شمولیت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جہاں سب کو یکساں مواقع میسر ہوں اگر نہیں تو اس کے حصول میں کیا رکاوٹیں کار فرما ہیں اس سیاق و سباق میں چند بڑے چیلنجز کا ذکر کریں تو بے جا نہ ہوگا ان میں ڈیجیٹل تقسیم، صنفی تفریق ،الیکٹرانک کچرا کے نقصانات، فیک نیوز کے مضمرات اور غیر محفوظ سائبر سپیس کے اثرات اہم ہیں ان چیلنجز کے معاشرتی رویے ، معاشی ترقی وسماجی ناہمواری اور قوموں کے مستقبل پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے جن سے نمٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے-
    اس سال آئی ٹی یو نے صنفی تفریق کو خصوصی موضوع بنایا ہے اگرچہ دنیا میں اربوں ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال ہو رہے ہیں مگر اس کے باوجود لاکھوں خواتین اور لڑکیاں خصوصا کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں آج بھی آن لائن نہیں ہیں۔ عالمی سطح پر 70 فیصد مرد حضرات انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں جبکہ خواتین کا تناسب 65 فیصد ہے اس فرق کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں 189 ملین مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں۔ آئی ٹی یو کے مطابق سال 2024 میں خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی شرح مردوں کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہے- دیہی علاقوں اور پسماندہ طبقات میں یہ خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے جہاں انفراسٹرکچر کی کمی، سماجی رکاوٹیں اور ڈیجیٹل مہارت کی قلت جیسے عوامل کار فرماہیں۔
    اس ڈیجیٹل محرومی کے اثرات محض عددی نہیں بلکہ یہ اجتماعی خوشحالی و ترقی، تعلیم و روزگار اور سماجی شمولیت میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس ڈیجیٹل صنفی خلا کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں جن میں خواتین کی رسائی کو ترجیح دینے کے لیے ٹیلی کام لائسنس کی شرائط میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں یونیورسل سروسز فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کو موبائل ڈیوائسز اور سم کارڈ کی ملکیت کے لیے سہولتیں اور مراعات فراہم کی جا سکتی ہیں دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خاص طور پر خواتین اور بچیوں کے لیے ڈیجیٹل خواندگی کے پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں سول سوسائٹی، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے عوامی شعور اور روایتی تصورات میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے -یہ اقدامات نہ صرف آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے اہم ہیں بلکہ ڈیجیٹل خود مختاری اور صنفی شمولیت کے حقیقی تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
    آج کے جدید دور میں جہاں اطلاعات کی ترسیل نہایت تیز ہو چکی ہے، وہیں فیک نیوز یعنی جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ بھی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور واٹس ایپ جیسے ذرائع نے جہاں دنیا کو قریب کیا ہے، وہیں غلط اور گمراہ کن خبروں کو بھی لمحوں میں عوام تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں بلکہ معاشرے میں بے چینی ، بد اعتمادی اور نفرتوں کو بھی جنم دے رہی ہیں ۔ فیک نیوز کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مؤثر ،جامع، قابل عمل اور پائیدار ضابطہ اخلاق انتہائی ضروری ہے جو ایک کنونشن کی حیثیت رکھتا ہو جو تمام میڈیا فورمز کو عمل درآمد کے لیے پابند کرتا ہو تاکہ اس کے بڑھتے ہوئے نقصانات اور منفی اثرات سے معاشرے کو محفوظ بنا جا سکے –
    ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ ایک اور سنگین مسئلہ جو تیزی سے ابھر رہا ہے وہ الیکٹرانک کچرا یعنی ای ویسٹ ہے- ٹیکنالوجی نے جہاں انسانی زندگی کو سہل بنایا ہے وہیں اس کی ماحولیاتی قیمت بھی چکانا پڑ رہی ہے صرف سال 2022 میں دنیا بھر میں 62 ارب کلو گرام ای ویسٹ پیدا ہوا لیکن اس میں صرف22.3 فیصد کو باقاعدہ طور پر جمع کر کے ری سائیکل کیا گیا ہے باقی بچ جانے والا ای ویسٹ جس میں سیسہ ، پارہ اور پلاسٹک جیسے خطرناک مواد شامل ہیں ماحولیاتی آلودگی ،صحت کے مسائل اور معاشی نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ آئی ٹی یو نے ہدف مقرر کیا تھا کہ 2023 تک 50 فیصد ممالک ای ویسٹ سے متعلق موثر قانون سازی کریں لیکن 42 فیصد ممالک ہی قانون سازی کر سکے ہیں حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ای ویسٹ کے موثر انتظام میں کئی سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں جن میں صحیح اعداد و شمار کا موجود نہ ہونا، غیر رسمی اور غیر محفوظ ری سائیکلنگ کا پھیلاؤ ،موثر قانون سازی اور عوامی آگاہی میں کمی جیسے عوامل شامل ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات سے بہتری کی گنجائش نکل سکتی ہے- حکومتیں اور صنعتی ادارے مینوفیکچررز کی “ٹیک بیک پالیسیز” کو مضبوط بنا سکتے ہیں اسی طرح پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے ماڈل ری سائیلنگ پلانٹ کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے جو ای ویسٹ کی باقاعدہ اور پائیدار مینجمنٹ کے لیے ایک موثر نمونہ فراہم کرے ۔
    اعداد و شمار جہاں ڈیجیٹل ترقی میں پیشرفت کو ظاہر کرتے ہیں وہاں ایک ایسے روڈ میپ کی ضرورت کے بھی متقاضی ہیں جو ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے جب ہم فائیو جی، انٹرنیٹ آف تھنگز اور کوانٹم ٹیکنالوجیز کے دور میں داخل ہو رہے ہیں تو ضروری ہے کہ ہماری توجہ صرف ٹیکنالوجی تک ہی محدود نہ رہے بلکہ محفوظ رسائی اور شمولیت پر بھی مرکوز رہے تاکہ کوئی بھی طبقہ اس ڈیجیٹل انقلاب سے محروم نہ رہے-
    ورلڈ ٹیلی کام ڈے محض ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ یہ ایک نادر موقع ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کتنے لوگ جڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ بااختیار ہوئے ہیں ان اہداف کی تکمیل کے لیے ایک ایسے ایکشن پلان کا خاکہ پیش کرنا ضروری ہے جو قلیل مدتی ، وسط مدتی اور طویل مدتی سفارشات پر مشتمل ہو۔ موجودہ سازگار ماحول کو مزید مضبوط اور مربوط بنانا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل تقسیم اور معیارات کی تفریق کو کم کر کے مستقبل کی حیران کن دنیا کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں سینسروں، روبوٹوں کا رابطہ جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے انجام پائے گا کے ثمرات سے تمام طبقات بلا تفریق و تقسیم مستفید ہو سکیں۔