لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی الیکشن میں ناکامی پر پارٹی کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا۔
سراج الحق کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میں الیکشن میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں میں نے امیر کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی الیکشن میں ناکامی پر پارٹی کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا۔
سراج الحق کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میں الیکشن میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں میں نے امیر کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے انتخابی نتائج چیلنج کرنے کی درخواستوں پر شکایت دور کیے بغیر کسی بھی حلقے کا نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں الیکشن 2024 کے نتائج کو چیلنج کرنے کے حوالے سے 25 سے زائد درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف دیا کہ ابھی تو یہ معاملہ عدالت میں چلنے لائق ہے یا نہیں اس پر بھی بات ہونی ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے موقف اختیار کیا کہ فارم 45 کے نتائج کے مطابق امیدوار جو کامیاب تھے وہ بعد میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر آگئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہاں بہت ساری درخواستیں ہیں سب کے معاملات الگ الگ ہیں، قانون کے مطابق چلیں، الیکشن میں ری پولنگ بھی ممکن ہے، اگر فارم 47 کے حوالے سے شکایات ہیں تو پھر الیکشن کمیشن ان شکایات کو دیکھے گا، اللہ کا شکر ہے الیکشن پُرامن طریقے سے ہوچکے ہیں اور کوئی بڑا دہشت گردی کا واقعہ رونما نہیں ہوا ابھی ہم الیکشن کے اس پروسیس کو ڈسٹرب نہیں کرسکتے قانون کے مطابق سب کو چلنے دیں۔
ایم کیو ایم کے وکیل نے موقف دیتے دیا کہ یہ درخواستیں عدالت میں چلانے کے لیے مینٹین ایبل نہیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے موقف اپنایا کہ نتائج سے قبل آر او تمام فارم 45 کو میچ کرلیں۔
چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں تمام شکایتوں کے ازالے کے لیے طریقہ کار موجود ہے جس پر عمل کیا جاسکتا ہے، پورا کا پورا الیکشن دوبارہ کروایا جاسکتا ہے جس میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہے۔
بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میری جانب سے تمام فارم 45 اس درخواست میں لگا دئیے گئے ہیں، فارم 45 میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے دستخط بھی موجود ہیں جسے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، فارم 45 کو نظر انداز کرتے ہوئے الیکشن کے نتائج کا اعلان کردیا گیا اور فارم 45 دیکھے بغیر ہی آر او کی جانب سے نتائج مرتب کیے گئے اور نتائج سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو نوٹس بھی نہیں کیا گیا جس کے حوالے سے شکایات درج کی جاچکی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ جلدی گھبرا گئے؟ الیکشن کمیشن کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔ بیرسٹر صلاح الدین نے موقف دیا کہ ہمارا موقف بس یہ ہے کہ آر او نے الیکشن پروسیس پر عمل ہی نہیں کیا ہے جب نتائج کو ٹیلی ہی نہیں کیا گیا ہو تو پھر جلدی کس بات کی تھی نتائج دینے کی۔
چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کو تمام لوگوں کے تحفظات دور کرنے کی ڈیوٹی ہے۔ انہوں نے نمائندہ الیکشن کمیشن سے کہا کہ جب الیکشن کمیشن لوگوں کو ڈنڈے مار کر بھگائے گا تو پھر لوگ عدالت ہی آئیں گے۔
بیرسٹر صلاح الدین نے موقف دیا کہ ہماری گزارش ہے کہ الیکشن کمیشن کو نتائج کا اعلان کرنے سے فی الحال روکا جائے، فارم 45 میں جس امیدوار کے ووٹ زیادہ تھے فارم 47 میں اسی امیدوار کے ووٹ کم کیسے ہوگئے، بس ہم یہ چاہتے ہیں سرکاری فارم 45 کی ہمارے سامنے تصدیق کرلی جائے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کے نمائندے سے کہا کہ الیکشن کمشنر سے ہدایات لے کر آجائیں کہ امیدواروں کی شکایتوں کے لیے کیا ہوسکتاہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نوٹی فکیشن جاری کرنے میں جلد بازی نہ کرے، ہم فی الحال اسٹے نہیں دے رہے۔
درخواست گزار کے وکیل حیدر وحید ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ میرے پاس پچھلے الیکشن کے فارم 45 بھی موجود ہیں جس میں ایک ہزار ووٹ کو ایک لاکھ بنایا گیا تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنا کام قانون کے مطابق کریں تاکہ ہمیں مداخلت کرنے کی ضرورت نا پڑے لیکن اگر کوئی قانون کے مطابق اپنا کام نہیں کرے گا تو پھر ہمیں ایکشن لینا ہوگا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تمام فریقین کو عدالت کی ہدایات کے حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر الیکشن کمیشن شکایتوں کے باوجود نتائج دیتا ہے تو بھی قانون کے خلاف ہوگا۔
عدالت نے الیکشن کے حوالے سے تمام شکایتوں کے ازالے تک نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ بعدازاں عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت آج منگل کو 11 بجے تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد: حکومت سازی میں ن لیگ کی تجاویز پر غور کے لیے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس شروع ہوگیا، ترجمان پی پی کا کہنا ہے کہ اگر بلاول وزیراعظم نہیں بنتے تو ہمارا اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا بہتر ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس شروع ہوگیا، بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری زرداری ہاؤس میں موجود ہیں جب کہ آصف زرداری پہنچ چکے ہیں۔ اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سعید غنی، شیری رحمان، نیئر بخاری اور دیگر ارکان بھی شریک ہیں۔
اجلاس میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم فیصلوں کا امکان ہے، ن لیگ سے وزیراعظم کا عہدے لینے یا انہیں دینے سمیت دیگر عہدوں کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔
اس ضمن میں پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ حکومت میں آنے اور وزیراعظم سمیت عہدوں کی تقسیم کا معاملہ آج سینٹرل ایگزیکٹو کونسل میں معاملہ زیر غور آئے گا، سی ای سی جو فیصلہ کرے گی وہی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں اپنے منشور پر عمل درآمد کے لئے بلاول بھٹو کا وزیر اعظم بننا ضروری ہے، بلاول وزیر اعظم نہیں بنتے تو اپوزیشن نشستوں میں بیٹھنا بہتر ہے۔

کراچی: مسلم لیگ (ن) نے وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے ابتدائی فارمولا طے کر لیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے ابتدائی فارمولا کے مطابق اگر اتحادی جماعتیں وزیر اعظم کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دینے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں تو پھر صدر اور اسپیکر کا عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ ایم کیو ایم پاکستان یا اتحادی حکومت میں شامل ہونے والے آزاد ارکان میں سے کسی ایک کو دیا جا سکتا ہے۔
وفاقی کابینہ میں داخلہ اور خزانہ مسلم لیگ (ن) اپنے پاس رکھ سکتی ہے تاہم دیگر وزارتوں کے تعین، وفاق میں حکومت سازی کی تشکیل کے بعد اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا جا ئے گا جبکہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں پر نامزدگی کا فیصلہ سینیٹ الیکشن کے بعد اتحادیوں کی مشاورت سے طے کیا جا سکتا ہے۔
اس ابتدائی فارمولے پرمسلم لیگ (ن) نے طویل مشاورت کی ہے۔ حتمی حکومت سازی کا فارمولا اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی مزید ملاقاتوں میں طے کیا جا سکتا ہے۔ اس ابتدائی فارمولے میں تبدیلی سیاسی حالات کو دیکھ کر کی جائے گی۔
مخلوط حکومت سازی کی تشکیل پر مشاورت نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، مولانا فضل الرحمن، چوہدری شجاعت حسین اور دیگر کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، جے یو آئی سے رابطے اور ملاقاتیں کی ہیں تاہم ان ملاقاتوں میں مخلوط حکومت کی تشکیل پر فی الحال ابتدائی مشاورت ہوئی ہے۔
اس مشاورت کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم کا عہدہ (ن) لیگ رکھنا چاہتی ہے۔ اگر ممکنہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں راضی ہوئیں تو وزیر اعظم کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کو مل سکتا ہے۔ اگر ممکنہ اتحادی جماعتوں نے کوئی اور نام دیا تو اس پر بھی مشاورت ہو سکتی ہے۔ اگر اتفاق رائے نہیں ہو پاتا تو مسلم لیگ (ن) کے متبادل امیدوار شہباز شریف ہوں گے۔
پیپلز پارٹی نے اگر وزیر اعظم کے لیے بلاول بھٹو زرداری کی نامزدگی کو ممکنہ طور پر واپس نہیں لیا تو پھر (ن) لیگ کی قیادت مشاورت سے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بلاول بھٹو کی حمایت کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر (ن) لیگ کو وزیر اعظم کا عہدہ مل جاتا ہے تو پھر صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں سمیت دیگر اہم وزارتوں کی تقسیم مشاورت سے کی جائے گی۔
مسلم لیگ (ن) کی کوشش ہے کہ مخلوط حکومت سازی کے حوالے سے تمام جماعتوں کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے، جو اس حوالے سے حتمی مشاورت اور تجاویز طے کرے گی اور حکومت سازی کا حتمی فارمولا طے کرے گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سازی کے قیام پر مشاورت جاری ہے ۔ اس حوالے سے پیش رفت کا جلد امکان ہے۔
(ن) لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد ارکان کی کافی تعداد ان سے رابطے میں ہے اور امکان ہے کہ وہ جلد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کاکہنا ہے کہ (ن) لیگ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔ فی الحال پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ آزاد ارکان کو اپنے کیمپ میں لایا جائے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی اور اس حوالے سے ابتدائی بات چیت ہوئی ہے۔ مزید پیش رفت جلد ہونے والی مشاورت اور ملاقاتوں میں ہو گی۔
جے یو آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے معاملات مولانا فضل الرحمن پارٹی رہنماوں کی مشاورت سے کریں گے جبکہ حکومت سازی میں مسلم لیگ (ق) بھی شامل ہو گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد ارکان کو اگر مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی نے اپنے کیمپ میں شامل کیا تو پھر قانونی اور آئینی آپشن استعمال کئے جائیں گے۔ پی ٹی آئی وفاق میں حکومت سازی کے لیے سیاسی رابطوں کا آغاز جلد کرے گی۔ فی الحال وہ اپنے آزاد ارکان کو اپنے کیمپ میں شامل کرنے کے لیے متحرک ہے۔

اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں، الیکشن 2018ء میں نتائج 66 گھنٹوں میں مرتب ہوئے تھے اس بار 36 گھنٹوں میں مکمل ہوگئے، یہاں تو صرف چند گھنٹوں بعد ہی کہہ دیا گیا کہ نتائج تبدیل ہوگئے۔
نگران وزیراعظم نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چیلنجزکےباوجودجمہوری تسلسل خوش آئندہے، انتخابات کےکامیاب انعقادپرسیکیورٹی اداروں نےاہم کرداراداکیا، پاکستان اب بھی دہشت گردی کاسامناکررہاہے، دہشتگردی کےخطرات کےباوجودپرامن انتخابات کاانعقادہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی رپورٹس کی بنیاد پر الیکشن والے دن موبائل فون سروس بند کی گئی تھی لیکن انٹرنیٹ نہیں بند کیا گیا۔ پورے ملک میں براڈ بینڈ سروس کام کرتی رہی۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میڈیا نے انتخابی نتائج نشر کرنے میں کچھ زیادہ جلد بازی کی، ترقی یافتہ ممالک میں ووٹوں کی گنتی میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں، 2018 میں الیکشن کے نتائج 66 گھنٹوں میں مرتب ہوئے تھے، ہمارے یہاں 2024 میں الیکشن کے نتائج 36 گھنٹوں میں مکمل ہوئے، یہاں تو صرف چند گھنٹوں بعد ہی کہہ دیا گیا کہ نتائج تبدیل ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہیں الیکشن کے نتائج میں بے قاعدگی ہوئی ہو، میں اس کا انکار نہیں کررہا، اس کےلیے متعلقہ فورم موجود ہے، الیکشن نتائج کی ایک ڈور ہوتی ہے، الیکشن نتائج میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن ختم ہونے کے فوری بعد ہی سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ تاثر پھیلا دیا گیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوگئی اور نتائج بدل دیے گئے اور ملک میں انقلاب کو روک لیا گیا، کہا جاتا تھا پاکستان ڈھاکا بن جائے گا، ایسی بات سوچی بھی نہیں جا سکتی کہ پاکستان ڈھاکا بن جائیگا۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ پُرامن احتجاج سیاسی کارکنوں کا حق ہے، کوئی حکومت انار کی اجازت نہیں دیتی، نہ ہم دیں گے۔

لاہور: استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر ترین مستعفی ہوگئے ساتھ ہی انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی کا بھی اعلان کردیا۔
جہانگیر ترین نے ٹویٹ کے ذریعے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کرے آئندہ چند برس میں پاکستان مستحکم ہو، ذاتی حیثیت میں پاکستان کی خدمت کرتا رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی رائے کا احترام کرتا ہوں، سیاست سے علیحدگی کا بھی اعلان کرتا ہوں، آئی پی پی کے چئیرمین کے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔
واضح رہے کہ حالیہ الیکشن میں جہانگیر ترین قومی اسمبلی کی دو نشست سے کھڑے ہوئے تھے تاہم انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پشاور: پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواران کی وفاداریاں تبدیل ہونے کے خدشے کے پیش نظر اُن سے حلف نامہ مانگ لیا۔
پی ٹی آئی قیادت نے خیبرپختونخوا سے کامیاب ہونے والے نامزد امیدواروں کو حلف نامہ جمع کروانے کی ہدایت کی جس پر قومی اسمبلی کی نشست این اے 38 پر کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار شاہد خٹک نے حلف نامہ پارٹی قیادت کو بھیج دیا۔
اپنے حلف نامے میں انہوں نے لکھا کہ ’عمران خان کا سپاہی ہوں اور وفاداری کسی صورت نہیں بدلوں گا، پارٹی کی جانب سے جو ہدایات ملیں گی اس پر عمل کروں گا۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر آزاد امیدواروں کی کامیابی کے بعد پی ٹی آئی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جبکہ قومی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 92 ہے۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے کامیاب اراکین کی تعداد 75، پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی تعداد 54، ایم کیو ایم 17اور دیگر آزاد امیدواروں کی تعداد 4 ہے۔

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے، تاحال الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی کے 252 حلقوں کے نتائج موصول ہو چکے ہیں جب کہ 265 میں سے 13 حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی تعداد 100 ہوگئی ہے۔ مسلم لیگ ن اب تک 73 نشستوں پر کامیاب ہوئی جب کہ پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار 54 ہو گئے ہیں۔
اس طرح ایم کیو ایم کے 17، مسلم لیگ ق کے 3، استحکام پاکستان پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے 2، 2 امیدوار قومی اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ایم ڈبلیو ایم، بی این پی اور مسلم لیگ ضیا کو قومی اسمبلی میں ایک ایک نشست حاصل ہوئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ای ایم ایس سسٹم پر موصول ہونے والے عام انتخابات 2024ء کے حتمی و سرکاری نتائج میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کے انتخابی نتائج
خیبرپخوتخوا میں قومی اسمبلی کی 44 نشستوں میں سے 25 کے نتائج موصول ہوگئے ہیں اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے میدان مار لیا ہے۔ تحریک اںصاف کے نامزد آزاد امیدواروں نے 24 سیٹیں جیت لیں جبکہ جے یو آئی صرف ایک نشست این اے 28 جیت سکی۔
این اے ون چترال سے آزاد امیدوار عبدالطیف 61 ہزار 434 ووٹ لیکر کامیاب اور جے یو آئی کے طلحہ محمود 42 ہزار 987 ووٹ لیکر ناکام ہوگئے۔
این اے 4 سوات 3 سے آزاد امیدوار سہیل سلطان 88 ہزار 9 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔ اے ڈبلیو پی کے امیدوار محمد سلیم خان 20 ہزار 890 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 5 دیر بالا سے آزاد امیدوار حاجی صبغت اللہ 90 ہزار 261 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ 48 ہزار 63 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پررہے۔
این اے 7 لوئر دیر میں آزاد امیدوار محبوب شاہ 84 ہزار 843 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور جماعت اسلامی کے محمد اسماعیل 31 ہزار 133 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 14 مانسہرہ میں ن لیگ کے سردار یوسف 1 لاکھ 15 ہزار 544 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے اور آزاد امیدوار محمد سلیم عمران 1 لاکھ 3 ہزار ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔
این اے 2 سوات کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار امجد علی 88 ہزار 939 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ ن لیگ کے امیدوار امیر مقام کو 37 ہزار 764 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 3 سوات سے آزاد امیدوار سلیم الرحمان 81411 ووٹ لیکر کامیاب ، مسلم لیگ ن کے واجد علی خان 27861 ووٹوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 36 ہنگو
یہاں سے آزاد امیدوار یوسف خان 73 ہزار 76 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ جے یو ائی کے عبید اللہ 34 ہزار 324 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے ون چترال
یہاں سے ازاد امیدوار عبدالطیف 61 ہزار 434 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، جے یو ائی کے طلحہ محمود 42 یزار 987 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 33 نوشہرہ
یہاں سے آزاد امیدوار سید احد علی شاہ 93 ہزار429 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے،پی ٹی اآئی پارلیمنٹرین کے پرویز خٹک 26 ہزار 574 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 38 کرک
یہاں سے آزاد امیدوار شاہد احمد خٹک ایک لاکھ 18 ہزار 56 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، جے یو آئی کے شاہ عبدالعزیز 49 ہزار 965 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 5 دیر بالا
اس حلقے سے آزاد امیدوار حاجی صبغت اللہ 90 ہزار 261 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ 48 ہزار 63 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 16 ایبٹ اباد
اس حلقے سے آزاد امیدوا علی اصغر خان 1 لاکھ 4 یزار 993 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ نون لیگ کے امیدوار مرتضی جاوید عباسی 86 ہزار 276 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 31 پشاور
یہاں سے آزاد امیدوار شیرعلی ارباب 50 ہزار 722 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ارباب عالمگیر 17 ہزار 457 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 26 مہمند
اس حلقے سے آزاد امیدوار ساجد خان 41 ہزار 489 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ جے یو آئی کے محمد عارف 19 ہزار 930 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 7 لوئر دیر
اس حلقے سے آزاد امیدوار محبوب شاہ 84 ہزار 843 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ جماعت اسلامی کے محمد اسماعیل 31 ہزار 133 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 21 مردان
یہاں سے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار مجاہد علی ایک لاکھ 16 ہزار 49 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ جے یو آئی ف کے اعظم خان 60 ہزار 373 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 14 مانسہرہ
اس حلقے سے نون لیگ کے سردار یوسف 1 لاکھ 15 ہزار 544 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ آزاد امیدوار محمد سلیم عمران 1 لاکھ 3 ہزار ووٹ ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 43 ڈی آئی خان
اس حلقے سے آزاد امیدوار داور خان کنڈی 63 ہزار 556 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جب کہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جے یو ائی پاکستان کے اسعد محمود 62 ہزار 730 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
نون لیگ کے سردار یوسف 1 لاکھ 15 ہزار 544 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ آزاد امیدوار محمد سلیم عمران 1 لاکھ 3 ہزار ووٹ ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
نواز شریف ہار گئے
این اے 15مانسہرہ میں آزادامیدوار شہزادہ گتاسپ خان ایک لاکھ 5ہزار 249ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے80ہزار 382ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ این اے 16 ایبٹ آباد میں آزاد امدیوار علی اصغرخان 1 لاکھ 4 یزار 993 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ نون لیگ کے مرتضی جاوید عباسی 86 ہزار 276 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پررہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-17 ایبٹ آباد II سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی خان جدون 97 ہزار 177 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔علی خان جدون کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے محب خان 44 ہزار 522 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اسد قیصر حلقہ این 19 صوابی سے ایک لاکھ 15 ہزار 635 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ جے یو آئی ف کے فضل علی 45 ہزار567 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ماجد علی حلقہ این اے 21 مردان سے کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے 116،049ووٹ حاصل کیے جبکہ جے یو آئی ف کے امیدوار اعظم خان 60،373 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
چارسدہ کے حلقہ این اے 25 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہو گئے۔ فضل محمد خان نے ایک لاکھ 713 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی۔ مخالف امیدوار نے 67 ہزار 876 ووٹ ملے۔
این اے 26 مہمند سے آزاد امیدوار ساجد خان 41 ہزار 489 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ جے یو آئی کے محمد عارف 19 ہزار 930 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 31 پشاور سے آزاد امیدوار شیرعلی ارباب 50 ہزار 722 ووٹ ل لیکر کامیاب ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے ارباب عالمگیر 17 ہزار 457 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پرہے۔
این اے 33 نوشہرہ سے آزاد امیدوار سید شاہ احدعلی شاہ 93 ہزار429 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے پرویز خٹک 26 ہزار 574 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 36 ہنگو سے آزاد امیدوار یوسف خان 73 ہزار 76 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ جے یو ائی کے عبید اللہ 34 ہزار 324 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 38 کرک سے آزاد امیدوار شاہد احمد خٹک ایک لاکھ 18 ہزار 56 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ جے یو آئی کے شاہ عبدالعزیز 49 ہزار 965 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پررہے۔
اسلام آباد
این اے 46 سے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے انجم عقیل خان 39 ہزار 564 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 23 ہزار 391 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے اور پی پی پی امیدوار 5 ہزار 42 ووٹ حاصل کرسکے۔
حلقہ این اے 47 میں مسلم لیگ ن کے طارق فضل چوہدری 102502 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شعیب شاہین کو 86 ہزار396 ووٹ ملے۔
این اے 48 اسلام آباد سے استحکام پارٹی کے نامزد آزاد امیدوار راجہ خرم نواز 89699 لے کر کامیاب ہوئے۔ تحریک انصاف کے نامزد امیدوار علی بخاری کو 59851 ووٹ حاصل ہوئے۔
پنجاب سے قومی اسمبلی کے انتخابی نتائج
این اے 51 مری کم راولپنڈی سے ن لیگ کے اسامہ سرور ایک لاکھ 49 ہزار 250 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیداور لطاسب ستی 113843 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پررہے۔
حلقہ این اے 54 سے آزاد امیدوار عقیل ملک 85 ہزار 912 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ عذار مسعود 73 ہزار 694 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں۔
راولپنڈی کے حلقہ این اے-55 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حریف آزاد امیدوار کو شکست دے دی۔
حلقہ این اے 56 میں مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی 96649 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہریار ریاض 82613 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
راولپنڈی کے حلقہ این اے 57 سے مسلم لیگ ن کے دانیال چوہدری 83331 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار سیمابیہ چوہدری کو 56789 ووٹ ملے۔
حلقہ این اے 60 جہلم 1 سے 99 ہزار 948 ووٹ لے کر ن لیگ کے بلال اظہر کیانی پہلے نمبر پر رہے۔ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوارحسن عدیل 90 ہزار 474 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
راجا بشارت نے نتائج مسترد کردیے
مسلم لیگ (ن) کے ملک ابرار احمد نے 78 ہزار 542 ووٹ حاصل کیے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد بشارت راجا 67 ہزار 101 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار راجا بشارت نے نتائج کو مسترد کرتے پوئے جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ فارم 45 کے مطابق ہر پولنگ اسٹیشن سے میں جیت چکا ہوں جبکہ میرے مخالف کو کامیاب قرار دیا گیا ہے، ملی بھگت سے فارم 46 کے بجائے فارم 45 جاری کردیا گیا ہے، ہم فارم 45 لے کر گھومتے رہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمشنر اس معاملے کا نوٹس لیں اور ہم اپنے حق پر ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔
گجرات کے حلقہ این اے-64 میں مسلم لیگ (ق) کے سالک حسین نے اپنی پھوپھی اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار کو شکست دے دی۔ چوہدری سالک حسین نے این اے-64 سے ایک لاکھ 5 ہزار 205 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار قیصرہ الٰہی نے 80 ہزار 946 ووٹ حاصل کرلیے۔
سیالکوٹ کے حلقہ این اے 71 : فارم 47 کے مطابق یہاں سے ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف 18 ہزار 294 کی لیڈ سے جیت گئے انہوں ںے 118566 ووٹ حاصل کیے، پی ٹی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار ریحانہ امتیاز ڈار 100272 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں۔
لاہور کے حلقہ این اے 121 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے۔ آزاد امیدوار وسیم قادر 78 ہزار 703 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مضبوط امیدوار تصور کیے جانے والے مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر 70 ہزار 597 ووٹ لے کر ناکام ہوگئے۔
لاہور کے حلقہ این اے-123 سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف 63 ہزار 953 ووٹ لے کر کامیاب قرار ہوئے جبکہ آزاد امیدوار افضل عظیم پہاڑ نے 48 ہزار 486 ووٹ حاصل کیے۔
این اے 128 سے استحکام پاکستان پارٹی ( آئی پی پی) کے عون چوہدری ایک لاکھ 72 ہزار576 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار سلمان اکرم راجا ایک لاکھ 59 ہزار 24 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
لاہور کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف 1 لاکھ، 71 ہزار 24 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار یاسمین راشد ایک لاکھ 15 ہزار43 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہیں۔
بہاولپور سے حلقہ این اے-168 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے۔
پنڈدادن خان حلقہ این اے 61 جہلم میں پاکستان مسلم لیگ ن کے چوہدری فرخ الطاف 88238 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے۔ آزاد امیدوار کرنل شوکت اقبال مرزا 84215 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 سے ن لیگ کے عطا تارڑ 98 لاکھ 210 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔ آزاد امیدوار ظہیر عباس کھوکھر 83 ہزار230 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
سندھ سے قومی اسمبلی کے انتخابی نتائج
سندھ سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے بھاری اکثریت سے کامیاب حاصل کرلی ہے۔
این اے 198 گھوٹکی سے پیپلزپارٹی کے خالد لوند 1لاکھ20ہزار259ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار میاں عبدالحق90629ووٹ لیکر دوسرے نمبرپر رہے۔
گھوٹکی کے حلقہ این اے-199 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لی ہے۔ علی گوہر خان مہر ایک لاکھ 54 ہزار 832 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عبدالقیوم نے 40 ہزار 204 ووٹ حاصل کرلیے۔
این اے 200 سکھر 1 سے جی ڈی اے کے دیدار علی 41 ہزار911 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 201 سکھر سے پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ 120،219 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
خیرپور کے حلقہ این اے 202 میں پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ 121,756 ووٹوں سے کامیاب جبکہ جی ڈی اے کے سید غوث علی شاہ 26,745 ووٹوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔
این اے 212میرپورخاص،پیپلزپارٹی کے منور تالپور1لاکھ21ہزار972ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار علی نواز شاہ 45321ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
سندھ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-216 مٹیاری سے پیپلز پارٹی کے ایک اور امیدوار نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو شکست دے دی ہے۔ مخدوم جمیل الزماں نے ایک لاکھ 24 ہزار 536 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مخالف امیدوار بشیر احمد نے 80 ہزار 439 ووٹ حاصل کیے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ٹھٹہہ کے حلقے این اے 225 سے پی پی پی کے امیدوار صادق علی میمن 140،773 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے
ضلع ٹنڈو الہیار کے حلقہ این اے 217 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لی۔ ذوالفقار بچانی 115,672 ووٹوں کی شاندار برتری کے ساتھ کامیاب ہوئے جبکہ GDA کی راحیلہ مگسی 69,234 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
کراچی
این اے 222 سے پیپلزپارٹی کے غلام علی تالپور 1لاکھ 13ہزار916ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ جی ڈی اے کے میرحسین بخش67010ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
کراچی میں این اے 229 ملیر سے پیپلزپارٹی کے جام عبدالکریم 55732ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ ن لیگ کے قادر بخش 21841ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 230 سے پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اللہ 32099ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار مسرورعلی سیال 23370ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ این اے 231 ملیر میں پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ 43 ہزار 634 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ آزاد امیدوار خالد محمود 2 ہزار487 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔
این اے 232سے ایم کیوایم پاکستان کی آسیہ اسحاق 88ہزار 260 ووٹ لیکر کامیاب ہوئیں۔ آزاد امیدوار عدیل احمد66574ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے233کورنگی ایم کیوایم کے جاوید حنیف 1لاکھ 3ہزار967ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار محمد حارث نے58753ووٹ حاصل کیے۔
این اے236کراچی شرقی میں ایم کیوایم کے حسان صابر 38871ووٹ لیکرکامیاب ہوئے۔ پیپلزپارٹی کےمزمل قریشی 32231ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 240کراچی جنوبی میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو شکست ہوگئی۔ ایم کیوایم کے ارشدوہرہ این اے240سے 30573ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔ سلیم مانڈوی والا کو 17091 اور آزاد امیدوار رمضان گھانچی کو 27318ووٹ ملے۔
این اے 244 سے ایم کیوایم کے فاروق ستار 20048 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے اور آزاد امیدوار آفتاب جہانگیر 14073ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
بلوچستان سے قومی اسمبلی کے انتخابی نتائج
بلوچستان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 261 سے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-261 قلات سے 3 ہزار 404 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی۔ پیپلز پارٹی کے سردار ثنا اللہ خان زہری 2871 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
اس حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار نواب زادہ جمال رئیسانی 10678 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ بی این پی کے سردار اختر مینگل 9929 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
اس حلقے سے آزاد امیدوار ملک عادل بازئی 20273 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ جے یو آئی کے ملک سکندر ایڈوکیٹ نے 12873ووٹ حاصل کیے

اسلام آباد: ملک بھر میں کہیں بھی شعبان المعظم کا چاند نظر نہیں آیا، یکم شعبان پیر کو ہوگی۔
رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر میں کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی شہادت موصول نہیں ہوئی۔
رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ یکم شعبان المعظم 1445 ہجری اب 12 فروری پیرکو ہوگی، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق وزارت مذہبی امور نے اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

اسلام آباد: سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات کے اعلان کے بعد قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے حصول کی جدوجہد شروع کردی، جس کیلیے فارمولا بھی جاری کردیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے فارمولے کے تحت خیبر پختونخوا میں 4اعشاریہ 45فیصد پر ایک خواتین کی مخصوص نشست دی جائے گی۔ پنجاب میں 4اعشاریہ40فیصد پر خواتین کی ایک مخصوص نشست الاٹ ہوگی۔
اسی طرح سندھ میں 4 اعشاریہ 35 نشستوں پر خواتین کی ایک نشست ملے گی اور بلوچستان میں 4نشستوں پر خاتون کی ایک نشست الاٹ ہوگی۔
اب تک کے آنے والے سرکاری و حتمی نتائج اور پارٹی پوزیشن کے مطابق مسلم لیگ ن پنجاب سے قومی اسمبلی میں 32 میں سے 15 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب سے ایک 1، مسلم لیگ ق اور استحکام پارٹی مشترکہ طور پر ایک نشست حاصل کر سکیں گے۔
خیبرپختونخوا سے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی مشترکہ طور پر ایک نشست لینے کی پوزیشن میں ہے۔ سندھ سے پیپلز پارٹی خواتین کی 15میں سے 10مخصوص نشستیں ایم کیوایم کو چار نشستیں ملیں گی۔
خیبر پختونخوا سے خواتین کی قومی اسمبلی میں 9 اور پنجاب کی 14 مخصوص نشستوں کا فیصلہ آزاد ارکان کی کسی پارٹی میں شمولیت سے ہوگا۔