Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 11 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • اوپن مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز ڈالر کی قدر میں اضافہ

    اوپن مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز ڈالر کی قدر میں اضافہ

    کراچی: اوپن مارکیٹ میں بدھ کو دوسرے روز بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوگیا۔

    بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر محدود پیمانے پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ ایک موقع پر ڈالر کی قدر 18 پیسے کی کمی سے 279 روپے 13 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن سپلائی بہتر ہوتے ہی مارکیٹ فورسز کی طلب بڑھنے کے باعث کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 279 روپے 31 پیسے کی سطح پر بند ہوئے۔

    اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 27 پیسے کے اضافے سے 281 روپے 59 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ ڈالر کے انٹربینک اور اوپن ریٹ کے درمیان فرق بڑھ کر 2 روپے 28 پیسے ہوگیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نگراں دور حکومت میں مختلف انتظامی اقدامات کی بدولت ڈالر کی قدر 279 روپے کی سطح پر آچکی ہے اور اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ نئے انفلوز کی آمد تک ڈالر کی قدر 279 روپے کے گرد مستحکم رہے گی۔

  • جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث 30 ملزمان اشتہاری قرار

    جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث 30 ملزمان اشتہاری قرار

    لاہور: عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث 30 روپوش ملزمان کواشتہاری قرار دے دیا۔

    جناح ہاؤس میں جلاؤ گھیراؤ کے مقدمہ میں بڑی پیش رفت ہوئی اور انسداد دہشت گردی عدالت نے عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث 30 روپوش ملزمان کواشتہاری قرار دے دیا ہے۔

    اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان میں طاہرہ یاسمین،عاصمہ ممتاز، رضوانہ غضنفر ، حیات سکندر، وقاص احمد محسن ،اویس خان، امجد پرویز عباسی ، راجا شاہ نواز، تنزیلہ عمران خان، مسماۃ شونیلا رتھ، زاہد لودھی، ملک تیمور سمیت دیگر شامل ہیں۔

    پولیس نے ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی جس پر انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد نوید اقبال نے فیصلہ سنایا۔

    عدالت میں تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان کے اشتہارات بھی شائع ہوئے مگر ملزم پیش نہیں ہوئے، ملزمان گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہوچکے ہیں، ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جائے۔

    پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے عدالت نے 30 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔

  • پیپلزپارٹی کا ن لیگ کے وزیراعظم کے امیدوار کی حمایت اور وفاقی حکومت کا حصہ نہ بننے کا اعلان

    پیپلزپارٹی کا ن لیگ کے وزیراعظم کے امیدوار کی حمایت اور وفاقی حکومت کا حصہ نہ بننے کا اعلان

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت وفاقی حکومت میں عہدے لینے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور خود کو وزیراعظم کی دوڑ میں شامل نہیں کرتا تاہم مسلم لیگ(ن) کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔

    زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پی پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میڈیا بریفنگ میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی کی سی ای سی کا دو روزہ اجلاس مکمل ہوا جہاں ملکی اور سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی، پاکستان کے بحران پر بات کی گئی، پاکستان کا اصولی فیصلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کا ساتھ دینا ہے اور ملک کو مستحکم کرنا اور اس بحران سے نکالنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر وقت آگیا ہے کہ پی پی پی پاکستان کھپے کا نعرہ لگائے، حقیقت یہ ہے پی پی پی کے پاس وفاقی حکومت بنانے کے لیے مینڈیٹ نہیں ہے، اسی وجہ سے میں خود کو وزیراعظم پاکستان کے امیدوار کے طور پر شامل نہیں کر رہا ہوں۔

    ‘پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کا حکومت بنانے کا امکان ختم ہوگیا’

    ان کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں اور مسلم لیگ (ن) کے پاس قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں لیکن پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پی پی پی کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے، اسی لیے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی حکومت کا امکان ختم ہوگیا ہے اور مسلم لیگ (ن) رہ گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے ہمیں حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تھی لیکن پی پی پی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وفاقی حکومت میں شامل ہوں اور وزارتیں لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ہم ملک میں سیاسی افراتفری بھی نہیں دیکھنا چاہتے ہیں اور ملک میں بحران نہیں چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نہیں بنا رہی ہے اور مسلم لیگ(ن) کے پاس مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے اور میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں ہوں تو ایوان وزیراعظم منتخب نہیں کرپائے گا، جس کے نتیجے میں ہمیں واپس دوبارہ انتخابات میں جانا ہوگا، جس سے اس سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوگا اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات سے ملک کے عوام متاثر ہوں گے، جو اس وقت صرف سیاسی مسائل کا شکار نہیں بلکہ معاشی اور دہشت گردی کے بدترین خطرات اور موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے دوچار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے عوام کے مفاد پر مشتمل منشور پر انتخاب لڑا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مختلف امور پر اہمیت کی بنیاد پر حمایت کریں گے تاکہ سیاسی استحکام کی بحالی یقینی بنائی جائے۔

    ‘عوام کو مسائل سے نکالیں گے’

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اس کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایک کمیٹی تشکیل دیں گے تاکہ دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی، حکومت سازی اور سیاسی استحکام کے لیے یہ کمیٹی کام کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان کو اس بحران سے نکالیں اور اس سمت پر لے جاسکیں جو عوام کا حق ہے، عوام مزید افراتفری نہیں چاہتے اور سیاست دانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ عوام کو اس بحران سے نکالیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے اراکین نے اجلاس میں کئی مسائل پر بات کی ہے اور مسلم لیگ(ن) کے دوستوں کے حوالے سے مسائل پر بات کی، 18 مہینے حکومت میں رہیں اور سارے صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے ساتھیوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے کام نہیں ہوئے ہیں، اس لیے کمیٹی نے یقینی بنائے گی کہ پی پی پی کے اعتراضات دور کیے جائیں۔

    ‘انتخابی نتائج کی خامیوں کو دور کریں’

    انتخابات کے نتائج پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ بد قسمتی ماضی کی طرح ہر الیکشن میں 2018، 2013 اور دیگر کی طرح اس الیکشن میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے، ہماری پارٹی کے اراکین نے اعتراضات کیے ہیں، لیول پلینگ فیلڈ، دھاندلی کے الزامات، بدانتظامی کے معاملے پر فیصلہ کیا ہے کہ ہم تمام شکایات پر شواہد اکٹھے کیے جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ فیصلہ ہوا کہ پی پی پی ملک کے وسیع مفاد اور ملکی سیاسی استحکام کے لیے احتجاجاً ان نتخابات کے نتائج قبول کرے گی مگر ہم چاہیں گے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر اس دفعہ ان خامیوں کو ختم کریں تاکہ آنے والے انتخابات میں کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عوام کے لیے پیغام ہے کہ ٹی وی اسکرینز پر جو افراتفری اور سیاسی عدم استحکام نظر آرہا ہے اس کے پیش نظر میں یقین دلاتا ہوں کہ پارلیمان بنے گا اور پارلیمان وہ فورم ہے جہاں آپ کے مسائل حل کروائے جائیں گے۔

    ‘دوبارہ انتخابات کی صورت میں مزید افراتفری ہوگی’

    ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی اپنے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے حکومت سازی کا عمل مکمل ہو، اس سے سیاسی استحکام ہو اور حکومت چل پڑے، ایسا نہ وہ کہ ہمیں نئے انتخابات کی طرف جانا پڑے اور ایک بار اس سلسلے میں دھکیلا جائے، جس کے نتیجے میں سیاسی افراتفری ہو۔

    دوبارہ انتخابات کے حوالے سے سوال پر بلاول نے کہا کہ واضح مینڈیٹ کیسے ملے گا پتا نہیں، ابھی ہم اتنے بڑے عمل سے گزرے ہیں حالانکہ سب کا خیال تھا کہ واضح مینڈیٹ آئے گا لیکن واضح مینڈیٹ نہیں آئے، نہ پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار اس پوزیشن میں ہیں وہ اپنے طور پر حکومت بنائیں اور نہ مسلم لیگ (ن) اور نہ ہی میں اس پوزیشن میں ہوں کہ اپنے طور پر حکومت بنائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم دوبارہ انتخابات کی طرف جائیں گے تو یہ آسان کام نہیں ہے، اس میں ہمارا خون پسینہ شامل ہوتا، ہمارے لوگ شہید ہوتے ہیں اور کارکنوں پر قاتلانہ حملے ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ انتخابات آسانی سے ہوں گے، دوبارہ انتخابات کی صورت میں مجھے سیاسی افراتفری نظر آرہی ہے اور استحکام نظر نہیں آرہا ہے۔

    ‘عوام نے مینڈیٹ کے ذریعے سیاستدانوں کو ساتھ بیٹھنے کا پیغام دیا ہے’

    انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں جو انتخابی نتائج ہوں گے میرا نہیں خیال کہ کوئی سیاسی جماعت ان نتائج کو قبول کرے گی، پاکستان کے عوام جو پیغام بھیج رہے ہیں اس کو سیاست دان سن نہیں رہے ہیں، عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بیٹھ کر بات کریں اور کام کریں، اگر کسی ایک جماعت کو چاہتے تو اس جماعت کو چاروں صوبوں میں مینڈیٹ مل جاتا۔

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے منقسم مینڈیٹ اس لیے دیا تاکہ کسی ایک کے زور زبردستی پر نہ چلے بلکہ پارلیمان میں بات کرکے مسائل کا حل نکالا جائے، لیکن افسوس ہے کہ اس سب کے باوجود پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے کر رہی ہے جو جمہوریت کے حق میں نہیں ہے، یہ کہنا ہم کسی سے بات نہیں کریں گے تو نہ کریں لیکن لوگوں نے آپ کو ووٹ کیوں دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی طاقت بات کرنے کو تیار نہیں ہے، دوسری سیاسی جماعت کے ساتھ بھی بات تو کرتے ہیں مگر سننا بھی پڑے گا، اگر سنے بغیر اپنا کام کریں گے تو بسم اللہ کریں لیکن اس کا نقصان پاکستان اور جمہوریت کا ہوگا تو عوم کا نقصان ہوگا۔

    ‘وزارت عظمیٰ، بجٹ اور قانونی سازی پر حکومت کی حمایت کریں گے’

    انہوں نے کہا کہ پی پی پی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی، ایشو ٹو ایشو، ہمارے منشور اور اہم ووٹس پر حکومت کا ساتھ دے گی، لیکن ہماری مذاکرات کی ٹیم موجود ہوگی، جو بھی ہمارے اعتراضات ہیں وہ طے کیے جاسکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ میں اپوزیشن لیڈر بن سکوں گا۔

    ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جماعت کا وزارتوں کی صورت میں حصہ بنے بغیر تعاون کریں گے، جس طرح پی ڈی ایم ٹو کی بات کی جارہی ہے اس طرح ہم حکومت کا حصہ نہیں ہوں گے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں تک وزارت عظمیٰ کے لیے ووٹ ہے، بجٹ، قانون سازی پر ایشو ٹو ایشو تعاون کریں گے اور آئینی عہدوں پر پی پی پی اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور یہ ہمارا حق ہے کیونکہ ہم انتخابات لڑ کر آئے ہیں، اس لیے ہم صدارت، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر شپ کے لیے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔

    ‘میری خواہش ہے آصف زرداری ملک کے صدر بنیں’

    ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) یا کسی دوسری جماعت کے وزیراعظم کا امیدوار کا فیصلہ ان کا اپنا ہوگا، پی پی پی کا آئینی عہدوں پر کون امیدوار ہوں گے وہ پارٹی کا فیصلہ ہوگا لیکن میری خواہش ہوگی کہ جب صدارتی انتخاب کا موقع آئے تو صدر زرداری اس میں حصہ لے اور اس ملک کا صدر بنے۔

    انہوں نے کہا کہ میں اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کہ زرداری میرا والد ہے تو وہ صدر بنے بلکہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ملک میں اس وقت آگ پھیل رہی ہے، پاکستان جل رہا ہے اور اگر کوئی اس آگ کو بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ صدر آصف علی زرداری صاحب ہیں، اس لیے ملک کے لیے ضروری ہے کہ زرداری صاحب ایک مرتبہ پھر یہ عہدہ سنبھالیں۔

  • علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نامزد کردیا، عمران خان

    علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نامزد کردیا، عمران خان

    راولپنڈی: بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کو وزیراعلی کے پی نامزد کر دیا۔

    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، ان سے اتحاد نہیں ہو سکتا، سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن کو ان تین جماعتوں کے سوا باقی سب کو اکٹھا کرنے کا کہا ہے، دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانے والی تمام جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا اور معیشت پر برا اثر پڑے گا، منی لانڈرنگ سنڈیکیٹ کو لانے کی کوشش ہو رہی ہے، شریف خاندان ملک کا سب سے بڑا منی لانڈرر ہے، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈالرز ہیں اور یہ ڈالرز بیرون ملک بھیجتے ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسی دھاندلی ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی، اب پتہ چل گیا کہ ہم آر اوز کے الیکشن کے خلاف کیوں تھے، نواز شریف کے پریس کانفرنس ملتوی کرنے پر ہم جان گئے تھے کہ ہم الیکشن جیت گئے ہیں، نواز شریف اور مریم نواز دونوں الیکشن ہارے ہیں، جب رزلٹ رکنا شروع ہوئے تو یقین ہو گیا کہ پی ٹی آئی جیت گئی ہے، عالیہ حمزہ نے جیل میں بیٹھ کر ایک لاکھ سے زائد ووٹ لیے۔

    حکومت بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم سب سے پہلے انتخابی نتائج کو چیلنج کر رہے ہیں، ہم سپریم کورٹ بھی جائیں گے، وزیراعظم کے لیے ابھی کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا اس پر غور کروں گا، وزیراعلی خیبر پختون خوا کے لیے میں نے علی امین گنڈاپور کو نامزد کر دیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جیل میں کسی بھی اعلی سرکاری عہدے دار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، میں بنی گالہ شفٹ نہیں ہو رہا، بشری بی بی کی بھی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست سماعت ہے۔

  • نواز شریف، حمزہ شہباز کی انتخابی کامیابی کیخلاف درخواستیں مسترد

    نواز شریف، حمزہ شہباز کی انتخابی کامیابی کیخلاف درخواستیں مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف، حمزہ شہباز سمیت متعدد امیدواروں کی انتخابات میں کامیابی کیخلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

    ہائیکورٹ میں امیدوار سلیم صادق کی پی پی 191 کے ووٹوں کی گنتی کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے سلیم صادق کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

    ہائی کورٹ میں نواز شریف کی کامیابی کیخلاف این اے 130 سے امیدوار اشتیاق چوہدری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست گزار کو ریٹرننگ افسر آر او سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

    ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کیخلاف درخواست بھی خارج کردی اور درخواست گزار محمد خان مدنی کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے امیدوار راشدہ طارق کی حلقہ این اے 77 میں دوبارہ گنتی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے دائر درخواست خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

    عدالت نے قرار دیا کہ انتخابات کے تمام معاملات کا پہلا فورم الیکشن کمیشن ہے، درخواست گزار الیکشن کمیشن سے رجوع کرے۔

  • چیئرمین پی ٹی آئی کا نائب امیر جماعت اسلامی سے رابطہ، حکومت سازی پر گفتگو

    چیئرمین پی ٹی آئی کا نائب امیر جماعت اسلامی سے رابطہ، حکومت سازی پر گفتگو

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی اور نائب امیر جماعت اسلامی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں سیاسی لائحہ عمل اور حکومت سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کو حکومت سازی پر اتحاد کیلئے گرین سگنل دے دیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، علی امین گنڈاپور اور سابق وزیر ریلوے اعظم سواتی نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کو فون کیا۔ رہنماؤں کے درمیان موجودہ الیکشن میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے حوالے سے حکومت سازی پر گفتگو ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق بات چیت میں وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت بنانے کے حوالے سے پیش رفت ہوگئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی اسلام آباد میں جلد ملاقات متوقع ہے جس میں حکومت سازی یا اپوزیشن میں بیٹھنے کے بارے میں مزید گفتگو ہوگی۔

    لیاقت بلوچ نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد امیدواروں کے تحفظ کیلئے اگر پی ٹی آئی کو جماعت اسلامی کی ضرورت پڑی تو ہم ویلکم کہیں گے، بطور سیاسی جماعت ہم اوپن ہیں اور ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں، ہم پی ٹی آئی راہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں، انہیں ہماری ضرورت ہوئی تو ویلکم کہیں گے، پی ٹی آئی والے کیا چاہتے ہیں ابھی ان کی جانب سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

  • آزاد امیدوار اکثریت دکھا دیں تو ہم شوق سے اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے، شہباز شریف

    آزاد امیدوار اکثریت دکھا دیں تو ہم شوق سے اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے، شہباز شریف

    لاہور: سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئینی تقاضا ہے جس کی تعداد زیادہ ہے وہ حکومت بنائے اور اگر آزاد امیدوار اکثریت دکھا دیں تو ہم بڑے شوق سے اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔

    پارٹی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آزاد اراکین کو جس کی بھی سپورٹ حاصل ہے وہ حکومت بنائیں اور چلائیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے لیکن اگر آزاد اراکین ایوان میں اکثریت ثابت نہ کر سکے تو پھر دیگر جماعتوں کو حکومت بنانے کا حق ہے۔

    صدر ن لیگ نے کہا کہ الیکشن کی رات کو 10 سے 12 فیصد نتائج آنے پر جیتنے کا شور مچا کر رائے قائم کرنا غیر منطقی بات تھی، اس الیکشن میں دھاندلی ہوتی تو خواجہ سعد کیوں ہارتے؟ گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد اور ایبٹ آباد میں ہمارے سینیئر سیاستدان کیسے ہار گئے؟ دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور ہمارے سینیئر سیاستدان ہار رہے ہیں، یہ مضحکہ خیز بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں آر ٹی ایس کو بٹھا دیا گیا، 2018 میں 66 گھنٹوں کے بعد رزلٹ آنا شروع ہوئے تاریخ میں پہلی مرتبہ شہروں کے رزلٹ تاخیر سے آئے اور دیہاتوں کے رزلٹ فوری آئے۔ 2018 میں جھرلو اور ہتھکنڈوں کے ذریعے ہرایا گیا تو ہم نے لانگ مارچ نہیں کیے بلکہ پارلیمان میں جا کر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر لیول پلیئنگ فیلڈ اور دھاندلی کے الزامات لگائے گئے، 2013 میں 35 پنکچر کے الزامات کس نے لگائے پھر اس کی آڑ میں دھرنے دیے گئے اور سپریم کورٹ نے تب واضح کہا کہ کوئی 35 پنکچر نہیں لگے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے پارلیمان کو آگ لگانے یا سول نافرمانی، دھرنوں، قبریں کھودنے اور کفن کی بات نہیں کی بلکہ ہم نے اپوزیشن میں رہ کر قوم کے مفاد میں فیٹف کا بل منظور کروایا اور آئینی کردار ادا کیا، جب ہم نے میثاق معیشت کی بات کی تو اسے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا۔ نواز شریف کی قیادت میں کبھی ایسا ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر ڈے، بھارتی جہاز کے حملے اور کورونا پر مل بیٹھنے سے انکار کر دیا گیا لیکن ہم نے ان سب کو تحمل سے برداشت کیا اور اشتعال و بدمزگی سے گریز کیا، 4 سال سے وزیراعظم چور دروازے سے پارلیمان میں داخل ہوتے تھے تاکہ انہیں اپوزیشن سے ہاتھ نہ ملانا پڑے، یہ شدید فاشزم تھا۔

    صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ 2022 میں متحدہ اپوزیشن نے آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کیا تو صدر اور اسپیکر سمیت سب نے غیر آئینی اقدامات کیے، صدر نے اسمبلی توڑی جو بھیانک ماضی ہے، اب ہم نے متحد ہو کر اس سب کو سنبھالنا ہے۔ ہم نے 16 ماہ میں ریاست کو بچایا ورنہ پی ٹی آئی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ تک پہنچا دیا تھا۔

    شہباز شریف کی نو منتخب اراکین سے ملاقات

    قبل ازیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے نومنتخب ارکان اسمبلی کی ملاقات ہوئی جس میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 49 سیالکوٹ سے کامیاب آزاد امیدوار رانا فیاض اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی وسیم قادر نے ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔

    شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے پر رانا فیاض اور وسیم قادر کو خوش آمدید کہا اور شکریہ ادا کیا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ اتحاد، اتفاق اور قومی تعاون کی سوچ سے ہو سکتا ہے، ہم سب پاکستان کو خوشحال بنائیں گے اور عوام کی زندگیوں میں آسانی لائیں گے۔

  • ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے، مراد علی شاہ

    ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے، مراد علی شاہ

    اسلام آباد: سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے۔

    مراد علی شاہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام کے شکر گزار ہیں کہ بھاری ووٹوں سے پی پی کو کامیاب کیا، پیر صاحب پگارا کو ان کے بھائی اور جی ڈی اے نے خراب کیا، انہیں جی ڈی اے نے استعمال کیا، پیر صاحب اپنے دوست بدل لیں آپ کے مخلص دوست نہیں ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب الیکشن کا اعلان کر دیا تو اس کے بعد انہوں نے ہم سے دس نشستیں مانگیں، آپ کا دس سیٹ مانگنے کا حق نہیں بنتا تھا، پی پی وہی فیصلہ کرے گی جو ملک کے مفاد میں ہو۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے ، انہوں نے ایک سال پہلے بلدیاتی الیکشن میں کہا تھا ہم مقابلے کے لیے تیار نہیں، ایک سال میں کیا بات ہو گئی جن کے پولنگ ایجنٹ بھی نہیں تھے وہ پندرہ نشستیں جیت گئے۔

  • نواز شریف، مریم، شہباز اور حمزہ کی الیکشن میں کامیابی کے نوٹی فکیشن جاری

    نواز شریف، مریم، شہباز اور حمزہ کی الیکشن میں کامیابی کے نوٹی فکیشن جاری

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شریف خاندان کے انتخابات میں حصہ لینے والے افراد سمیت لیگی امیدواروں کی کامیابی کے نوٹی فکیشن جاری کردیے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ این اے 118 لاہور سے حمزہ شہباز، این اے 119 سے مریم نواز کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

    اسی طرح الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 123 سے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف جبکہ این اے 127 ن لیگ کے امیدوار عطا تارڑ کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔

    الیکشن کمیشن نے لاہور کے حلقہ این اے 130 سے میاں محمد نواز شریف کی کامیابی کا نوٹفیکیشن بھی جاری کر دیا۔

  • پی ٹی آئی نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا معاملہ صدر مملکت کے سامنے اٹھا دیا

    پی ٹی آئی نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا معاملہ صدر مملکت کے سامنے اٹھا دیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی اور انہیں عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں سے آگاہ کیا ہے۔

    ایوان صدر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں رؤف حسن اور عمیر نیازی کی ملاقات کی جس میں عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے حوالے سے صدر مملکت کو آگاہ کیا گیا۔