Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Gulraiz Ruhani – Page 34 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Gulraiz Ruhani

  • دیر بالا میں باراتیوں کی بس کھائی میں گرگئی، تین بچوں سمیت پانچ جاں بحق

    دیر بالا میں باراتیوں کی بس کھائی میں گرگئی، تین بچوں سمیت پانچ جاں بحق

    دیر بالا: خیبر پختون خوا کے علاقے دیر بالا میں باراتیوں کی بس کھائی میں گرنے سے تین بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے۔

    واقعہ نہاگ درہ کے علاقہ ماتوڑ میں پیش آیا۔ خدشہ ہے کہ پک اپ تیز رفتاری کے سبب کھائی میں جاکر گری تاہم گاڑی گرنے کی وجہ کا حتمی تعین بعد میں کیا جائے گا۔

    واقعے کے بعد مقامی افراد اور امدادی ادارے کے رضاکار پہنچ گئے جنہوں ںے لاشوں اور زخمیوں کو واڑی اسپتال منتقل کیا۔

  • نگراں وفاقی حکومت کا اخراجات کنٹرول کرنے کیلیے پنشن اصلاحات کا فیصلہ

    نگراں وفاقی حکومت کا اخراجات کنٹرول کرنے کیلیے پنشن اصلاحات کا فیصلہ

    اسلام آباد: نگران وفاقی حکومت نے تنخواہوں اور پنشن کی مد میں بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرنے کیلیے پنشن اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔

    نگراں وفاقی حکومت نے پے اینڈ پنشن کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں پنشن اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے جس کی روشنی میں وفاقی حکومت کے ملازمین ریٹائرمنٹ سے قبل سروس کے آخری 36 ماہ کے دوران حاصل قابل مراعات کے 70 فیصد کی بنیاد پر مجموعی پنشن کے حق دار ہونگے پنشن میں کوئی بھی اضافہ ریٹائرمنٹ کے وقت طے کی گئی پنشن پر دیا جائے گا۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ کی روشنی میں تجاویز پر غور ہورہا ہے اور توقع ہے کہ جلد ان سفارشات پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا جائے گا جس کے تحت خاندانی پنشن شریک حیات کی موت اس کے حقدار ہونے کے بعد صرف دس سال کی زیادہ سے زیادہ مدت تک کیلئے اہل خاندان کے باقی افراد کیلئے قابل عمل ہوگی۔

    شہداء کے کیس میں یہ مدت 20 سال ہو گی اور اگر کوئی بچہ معذور ہو تو وہ پنشن عمر بھر حاصل کرسکے گا، کمیوٹیشن کیلئے فارمولا 35 فیصد اور 65 فیصد کی شرح سے تبدیل کرکے 25 فیصد اور 75 فیصد کردیا جائے گا۔

    ریٹائرمنٹ کے بعد دو بارہ ملازمت کی صورت میں خواہ وہ ریگو لر ہو یا کنٹر یکٹ پنشنر صرف پنشن یا تنخواہ ایک کا حق دار ہوگا۔ پنشن میں سالانہ اضافے کا فیصلہ کنزیومر پرائس انڈیکس کی روشنی میں کیا جائے گا تاہم ایک سال میں یہ اضافہ دس فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا۔

  • کالجوں کے پرنسپلزانٹرسال اول کے فیل طلبہ کی کاپیوں کی اسکروٹنی کیلیے بورڈ سے رابطہ کریں، گورنر سندھ

    کالجوں کے پرنسپلزانٹرسال اول کے فیل طلبہ کی کاپیوں کی اسکروٹنی کیلیے بورڈ سے رابطہ کریں، گورنر سندھ

    کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی کے معروف سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے طلبہ کے انٹر سال اول کے نتائج سے مطمئن نہیں ہیں تو وہ اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سے باقاعدہ رابطہ کریں ان کی جائز شکایات پر کارروائی کی جائے گی۔

    کمشنر کراچی سلیم راجپوت کے ہمراہ انٹر بورڈ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک انٹر بورڈ سے کراچی کے بڑے اور معروف کسی بھی کالج کی انتظامیہ نے رابطہ نہیں کیا، بورڈ کے پاس ان میں سے کسی کالج کے اسکروٹنی فارم موصول نہیں ہوئے تو ان کی اسکروٹنی کیسے کریں۔

    ادھر انٹرمیڈیٹ کے متنازع نتائج کے معاملہ پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے انٹر بورڈ کے افسران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے بعد زرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا پیرنٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے منگل کو 10 متاثرہ طلبہ کے رول نمبر انٹر میڈیٹ بورڈ کے حوالے کیے جائیں گے بورڈ ان طلبہ کی کاپیوں کی تفصیلی جانچ کرکے 10 روز میں اپنی رپورٹ اتھارٹی کو پیش کرے گا جس کی بنیاد پر فیصلہ ہوگااورکمشنر کراچی 20 دن میں ان بچوں کے پیپرزکی مکمل اسکروٹنی کریں گے اسکروٹنی کا عمل شفاف ہوگا کی جس کی غلطی ہوگی وہ اس کو قبول کرے گا۔

    گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ یہ ان کا وعدہ ہے کہ طلبہ سے ناانصافی نہیں ہوگی۔ گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ سب کےلیے گورنر ہاؤس کے دروازے کھلے ہیں جس کے پاس انٹر کی اسکروٹنی کے لیے رقم نہیں ہے وہ ہم سے رابطہ کرے۔

    قبل ازیں انٹر بورڈ کے افسران کے ساتھ اس معاملے پر منعقدہ اجلاس میں گورنر سندھ کو بتایا گیا کہ اسسمنٹ کے دوران ممتحن حضرات نے بڑے پیمانے پر کاپیاں گھروں میں کے جاکر چیک کی ہیں اور مبینہ طور پر بہت سے ایسی کاپیاں ہیں جو اساتذہ کے بجائے ان کے بچوں نے بھی چیک کی ہیں جس سے نتائج خراب ہوئے ہیں۔

  • باقی سیاستدانوں کو خلائی مخلوق اور مجھے عوام سے امید ہے، بلاول

    باقی سیاستدانوں کو خلائی مخلوق اور مجھے عوام سے امید ہے، بلاول

    کوٹ ادو: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ باقی سیاستدانوں کو خلائی مخلوق اور مجھے عوام سے امید ہے۔

    ضلع کوٹ ادو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باقی سیاستدانوں کو خلائی مخلوق اور مجھے عوام سے امید ہے، میں واحدسیاستدان ہوں جوعوام کی طرف دیکھ رہا ہوں اور عوام سےووٹ مانگ رہا ہوں، اقتدار میں آکر امیروں اور اشرافیہ کو تکلیف جبکہ عام آدمی کو ریلیف دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ سب سے بات کریں، سمجھائیں اپنا ووٹ ضائع نہیں کرنا، میرے امیدواروں کو اسمبلیوں میں پہنچائیں تا کہ اپنے بڑوں کے نامکمل مشن کو پورا کیا جا سکے، تیر ہی شیر کا شکار کرسکتا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پی پی کی حکومت بنے گی تو کسان کارڈ دیں گے، وعدہ کرتا ہوں کہ غریب عوام کیلئے 30 لاکھ گھر بنا کر دوں گا۔

  • معلومات تک رسائی شہری کا حق ہے تب ہی احتساب کا عمل شروع ہوگا، چیف جسٹس

    معلومات تک رسائی شہری کا حق ہے تب ہی احتساب کا عمل شروع ہوگا، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب شہری کو معلومات حاصل ہوں گی تب ہی احتساب کا عمل شروع ہوگا قانوناً اطلاعات تک رسائی شہری کا حق ہے اور طلب کرنے پر معلومات دینا ادارے کی فراخدلی نہیں اس کا فرض ہے۔

    اسلام آباد میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ معلومات تک رسائی عوام کا حق ہے اور عدالتی فیصلوں کی معلومات کورٹ رپورٹرز کے ذریعے ہی عوام تک پہنچتی ہیں، آئین کی دو شقیں ہیں ایک آرٹیکل انیس ہے جس میں آزادی صحافت کا ذکر ہے اور دوسری شق آرٹیکل انیس اے ہے، آرٹیکل انیس اے معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔

    چیف جسٹس نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں ایک عام شہری مختار احمد نے درخواست دائر کی جس میں شہری نے ہم سے ملازمین کی تفصیلات مانگیں، سپریم کورٹ نے سات روز میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تابع اداروں کو شہریوں کو معلومات تک رسائی دینا لازم ہے سپریم کورٹ قانون کے تحت تو نہیں لیکن آئین کے تحت اس کی پابند ہے اسی لیے رجسٹرار کو معلومات شہری کو دینے کا حکم جاری کیا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ہر اہم فیصلے کی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر معلومات دی جارہی ہیں ہر شہری اس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، اب سوال کرنے والے سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اسے معلومات کیوں چاہیئں؟ بلکہ وہ کہے گا میرا حق ہے، یہ بنیادی فرض ہے ادارے کا کہ وہ شہری کو معلومات دے یہ اس کی فراخدلی نہیں ہے بلکہ اس کا فرض اور شہری کا حق ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب شہری کو معلومات حاصل ہوں گی تب ہی احتساب کا عمل شروع ہوگا، بغیر مانگے معلومات فراہم کرنے سے شفافیت آتی ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے چیف جسٹس پاکستان بننے سے قبل چار سال فل کورٹ میٹنگ ہی نہیں ہوئی تھی اور اب سپریم کورٹ عدالتی کارروائی براہ راست دکھا رہا ہے براہ راست عدالتی کارروائی کا معیار درست کر رہے ہیں۔

    انہوں ںے کہا کہ سپریم کورٹ نے پہلی سہ ماہی رپورٹ تاریخ میں پہلی بار جاری کی اس رپورٹ کا مقصد معلومات فراہم کرنا ہے جو عدالتی اہم فیصلے کیے وہ ویب سائٹ پر موجود ہیں، 4466 مقدمات کا اندراج ہوا اور 5305مقدمات نمٹائے گئے یعنی ہم نے اندراج سے زیادہ مقدمات نمٹائے، کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مقدمات نمٹائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو رجسٹرار سپریم کورٹ تعینات کیا گیا ہم بنیادی حقوق کا مونومنٹ (یادگار) بنا رہے ہیں جس پر ڈیزائنر مفت میں کام کر رہے ہیں مونومنٹ کے قیام کا مقصد عام آدمی تک رسائی ہے یہ یادگار عوام کے لیے تصاویر بنانے کے لیے کھلی رہے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ 36 فیڈرل اور سروسز ٹربیونل کراچی میں پھیلے ہوئے ہیں ججز کی نامزدگی طریقہ کار سے وکلاء برادری خوش نہیں تھی کمیٹی کام کر رہی ہے جلد ہی حل ہو جائے گا اچھے ججز مقرر کیے جانے چاہئیں تاکہ کام اچھا ہو ایک دوسرے کو شک کی نظر سے نہ دیکھیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کے لیے سات ایکڑ اراضی ہائیکورٹ کے پاس مختص کی گئی تھی، سیکرٹری ہاؤسنگ کو کہا کہ 36 وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کو اس مختص زمین پر منتقل کیا جائے، تمام وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کرائے کی عمارتوں میں چل رہے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ مارشل لاء دور میں طلباء پر لگائی گئی پابندی کو ختم کرنے کا ہم نے کہا اور پہلے مرحلے میں قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء یونین پر پابندی ہٹانے کا کہ، سو کے قریب شکایات ججز کے خلاف کچھ ججز کو بھیجی گئیں اگر صحیح کام کیا جاتا تو اتنی شکایات اکٹھی نہ ہوتیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں نامزدگیوں کیلئے کمیٹی کام کر رہی ہے کمیٹی جلد ہی اپنا کام مکمل کر لے گی ہدف ایک ہی ہے کہ اچھے ججز تعینات کیے جائیں جو قانون کو اچھی طرح سمجھتے ہوں۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس کئی یونیورسٹیوں کے سنڈیکیٹ کا ممبر ہوتا ہے، ملک کی تقدیر بدلنے کا یہی طریقہ ہے کہ تعلیمی اداروں کا معیار اچھا کیا جائے، قائداعظم یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس میں طلبہ یونینز بحال کرنے کا حکم دیا گیا، اسلامک یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس بھی ہوا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے سپریم جوڈیشل کونسل کو طریقے سے چلایا جایا پرانی شکایات سے آغاز کیا، جن شکایات پر رائے آ چکی تھی ان سے آغاز کیا، مزید 100 شکایات کچھ دن پہلے جائزے کیلئے ججز کو بھجوائی گئی ہیں۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی نے کہا تھا اپنا حال دل صحافیوں کو نہ سنانا کہ کہاں حال دل سنا بیٹھے، صحافی ایک ہی بات لکھیں گے کئی زاویوں سے۔

  • الیکشن سے پہلے ایک جلسہ کرنیکی اجازت ملی تو سب کو لگ پتہ جائیگا، عمران خان

    الیکشن سے پہلے ایک جلسہ کرنیکی اجازت ملی تو سب کو لگ پتہ جائیگا، عمران خان

    لاہور: بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں الیکشن مہم چلانے کی اجازت تک نہیں دی جا رہی، میں کہتا ہوں الیکشن سے 3 دن قبل مجھے چھوڑ دیں اور صرف ایک جلسہ کرنے کی اجازت دے دیں سب کو لگ پتہ جائے گا۔

    اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ میں تمام تحائف کا تخمینہ دبئی میں بھارتی شہری کی چھوٹی سی دکان سے لگوایا گیا، سارا کیس اسی گواہ پر تھا جس پر آج جرح کی گئی۔

    ’’تحائف کی قیمت میں اضافہ ’’صاحب‘‘ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا‘‘

    انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کی جیولری کو 300 کروڑ روپے تک پہنچا دیا گیا، تحائف کی قیمت میں اضافہ ’’صاحب‘‘ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا اوپر بیٹھے کرنل صاحب سن رہے ہوں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ مجھے نااہل کیا گیا جبکہ عدالت کا فیصلہ معطل ہو چکا ہے سزائے یافتہ نواز شریف کو کلیئر کر دیا، میری نااہلی کے خلاف اپیل اور انسانی حقوق کے لیے دائر پٹیشن کو نہیں سنا جا رہا، یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں ہمارے امیدواروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

    ’’ایک مفرور کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے‘‘

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کی مستردگی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ فیصلہ کے باوجود 4 روز سے تحریری آرڈر جاری نہیں کر رہا، جس طرح کا الیکشن کروایا جا رہا ہے اس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھے گا ملک کابیڑا غرق ہو جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ایک مفرور کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی لیکن ہم آخری گیند تک لڑیں گے، 5 اگست کے بعد نریندر مودی سے کبھی رابطہ نہیں کیا، ابھی نندن کے معاملہ پر بھی مودی سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی یہ سب جھوٹ ہے۔

    ’’پی ٹی آئی کے پاس ووٹ بینک ہے اسی لیے اسٹیبلشمنٹ سے پارٹی نہیں ٹوٹ رہی‘‘

    عمران خان نے کہا کہ جو پی ٹی آئی چھوڑے گا وہ اپنا سیاسی مستقبل ختم کر لے گا، پی ٹی آئی کے پاس ووٹ بینک ہے اسی لیے اسٹیبلشمنٹ سے یہ پارٹی نہیں ٹوٹ رہی، الیکشن ختم ہوتے ہی لوگ پی ٹی آئی کی طرف آئیں گے۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں سیاست دان ہوں سیاست کروں گا بندوق ہاتھ میں نہیں پکڑوں گا، عزت ذلت زندگی موت رزق اقتدار سب اللہ دیتا ہے، الیکشن کمیشن کا میچ پہلے سے فکس تھا اسی لیے ہمارے انٹرا پارٹی انتخابات کے معاملے کو التوا دیا جاتا رہا۔

    ’’نئے انٹرا پارٹی انتخابات ہوں گے یا نہیں اس بارے ابھی کوئی پتہ نہیں‘‘

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات پر سوال نہیں اٹھا سکتا، نئے انٹرا پارٹی انتخابات ہوں گے یا نہیں اس بارے ابھی کوئی پتہ نہیں، صدر مملکت نے معاملات سلجھانے کی بہت کوشش کی۔

    عمران خان نے کہا کہ سنا ہے نواز شریف نے لیہ کا جلسہ کینسل کر دیا ان کے جلسے نہیں جلسیاں ہو رہی ہیں، میں کہتا ہوں الیکشن سے تین دن قبل مجھے چھوڑ دیں اور صرف ایک جلسہ کرنے کی اجازت دے دیں ان کو لگ پتہ جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ایک پلان اللہ بناتا ہے اور ایک پلان بندہ بناتا ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ کا پلان ہوتا ہے، پوسٹل بیلٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کروں گا، یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کہ عمران خان دوبارہ اقتدار میں نہ آ جائے۔

  • بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس؛ بھارتی کمپنی کے سیلزمین کا بھی بیان قلمبند

    بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس؛ بھارتی کمپنی کے سیلزمین کا بھی بیان قلمبند

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دائر توشہ خانہ ریفرنس میں دبئی میں بھارتی کمپنی کے سیلزمین سمیت دو گواہوں کے بیانات قلم بند کرلیے گئے۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کی جہاں بانی پی ٹی آئی کو بھی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا اور ان کی موجودگی میں دبئی میں بھارتی کمپنی کے لیے سیلز مین کے طور پر کام کرنے والے گواہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور ان کے بیان پر جرح بھی مکمل کرلی گئی۔

    توشہ خانہ ریفرنس کے دوسرے گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب مستنصر کا بیان بھی قلم بند کیا گیا جبکہ اگلی سماعت پر نیب کے سلطانی گواہ انعام اللہ شاہ اور صہیب عباسی کے بیانات قلم بند ہوں گے۔

    سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی نے توشہ خانہ ریفرنس میں سلطانی گواہ انعام اللہ شاہ کے بیان سے قبل قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر ان سے حلف لینے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس پر نیب کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ قانون کے مطابق عدالت اس مطالبے پر عمل کرواسکتی ہے۔

    عدالت نے دوگواہوں کے بیانات اور دبئی سے آئے ہوئے گواہ کے بیان پر جرح مکمل ہونے کے بعد مزید سماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی۔

  • 1971ء میں میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان کبھی نہیں ٹوٹتا، جسٹس اطہر من اللہ

    1971ء میں میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان کبھی نہیں ٹوٹتا، جسٹس اطہر من اللہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ 1971ء میں میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان کبھی نہیں ٹوٹتا۔

    پاکستان بار، سپریم کورٹ بار اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے تعاون سے اعلیٰ عدلیہ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی ٹریننگ سے متعلق ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آزاد میڈیا تنقید برائے اصلاح کرتا ہے اس سے ہم اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ بحیثیت جج ہم اپنی کوئی ججمنٹ یا کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھ سکتے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ پر دو طرح کی تنقید ہوتی ہے۔ دانستہ طور پر اگر کوئی فیصلہ دے اُس پر بھی تنقید ہوتی ہے۔ دوسرا میں کسی کو پسند نہیں کرتا اسے قانونی ریلیف دے دیا جائے اس پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔ جج کو کسی بھی طرح کی تنقید سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ جج کو بے خوف ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا چاہیے۔ جج جس نے حلف لیا ہوتا ہے وہ تنقید سے ڈر کر فیصلے کرتا ہے تو وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں۔ کسی جج کو یہ سوچنا بھی نہیں چاہیے کہ وہ کسی کورٹ رپورٹر کو بتا سکے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ سچائی سچائی ہی رہتی ہے۔ جھوٹ جتنا بھی بولا جائے آخر میں جیت سچ کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1971ء میں میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان کبھی نہیں ٹوٹتا۔اگر سچ بولا جاتا تو نہ پاکستان دو لخت ہوتا نہ لیڈر سولی چڑھتا۔ اظہارِ رائے ہوگا تبھی ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ بہت ساری قوتیں اٹھارہویں ترمیم کے خلاف تھیں۔ آزادی رائے حق ہے جج کو تنقید سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ جج کو آزاد ہونا چاہیے سوشل میڈیا کا جج پر اثر نہیں ہونا چاہیے۔ اظہار رائے بہت بڑی چیز ہے اس کو دبانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جو غلط کہے گا وہ خود بے نقاب ہو جائے گا۔ آج کل جو ذرائع آ چکے ہیں آپ انفارمیشن کا بہاؤ نہیں روک سکتے۔ تنقید ہر کوئی کرے لیکن تنقید کے بعد عدلیہ پر اعتماد بھی کرے۔ ‏بدقسمتی سے ہماری آدھی سے زائد زندگی ڈکٹیٹرشپ میں گزری جہاں اظہار رائے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

  • وائلڈلائف پارک جلو کے بھوت بنگلہ کی دھوم

    وائلڈلائف پارک جلو کے بھوت بنگلہ کی دھوم

    لاہور: لاہورکے وائلڈلائف پارک جلو میں شہریوں کی تفریحی اور دلچسپی کے لیے بھوت بنگلہ اورسانپ گھر کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق آنیوالے دنوں میں زپ ڈرائیوسمیت دیگرسہولتیں بھی متعارف کروائی جائیں گی۔ دوسری طرف جلوپارک سے چوری ہونیوالے چارقیمتی ہرنوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

    لاہور میں 461 ایکڑ وسیع وعریض رقبے پرپھیلا جلوپارک شہریوں کے لیے اہم تفریح گاہ ہے لیکن یہاں عوامی دلچسپی کی سہولیات کا فقدان ہے۔ پنجاب وائلڈلائف جہاں لاہورچڑیا گھر اور وائلڈلائف سفاری پارک اپ گریڈیشن منصوبے پر کام کررہی ہے وہیں وائلڈلائف پارک جلو میں پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے شہریوں کی دلچسپی اور تفریح کے لئے نئی سہولتیں متعارف کروانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

    وائلڈلائف پارک جلو میں پرائیویٹ سیکٹرکی معاونت سے بھوت بنگلہ اور سانپ گھر بنائے گئے ہیں۔ پنجاب وائلڈلائف کے کسی بھی پارک میں بنایا جانیوالا پہلا بھوت بنگلہ ہے۔ پنجاب وائلڈلائف نے سانپ گھر اوربھوت بنگلہ بنانے والی کمپنی کو 8 سال کا ٹھیکہ دیا ہے۔

    بھوت بنگلہ اورسانپ گھر کی افتتاحی تقریب میں ٹک ٹاک پر لاہوردا پاوا کے نام سے شہرت پانیوالے اخترلاوا سمیت مقامی سیاسی اورسماجی شخصیات نے شرکت کی، پہلے ہی روز بڑی تعداد میں شہریوں خاص طورپربچوں نے بھوت بنگلے کا وزٹ کیا۔

    بھوت بنگلہ دیکھنے والے بچوں کا کہنا تھا انہیں خوشی بھی اور ڈر بھی لگا، اندر کافی پراسرار اورخوفناک ماحول ہے۔ انہوں نے بہت انجوائے کیا ہے۔ سانپ گھر میں مقامی اورغیرمقامی درجنوں اقسام کے سانپ رکھے گئے ہیں جن میں انڈین راک پائتھن بھی شامل ہیں۔

    ٹک ٹاکر اخترلاوا کا کہنا تھا عوام مہنگائی، بیروزگاری اورسیاسی افراتفری سمیت مختلف مشکلات کی وجہ سے پریشان ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے چہروں پرمسکراہٹیں لانے اور انہیں تفریح فراہم کرنے کے لیے یہ بہترین کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود بھی بھوت بنگلہ دیکھا ہے، اندر جہاں مشینیی کریکٹر ہیں وہیں ایک زندہ کریکٹر بھی ہے جسے دیکھ کر وہ خود بھی ڈر گئے تھے۔

    بھوت بنگلہ اورسانپ گھربنانے والے رانا نعیم کہتے ہیں کہ یہ سب ڈی جی وائلڈلائف پنجاب کی دلچسپی کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھوت بنگلہ میں 10 مختلف کریکٹر رکھے گئے ہیں جو خود کارسینسر کی مدد سے کام کرتے ہیں۔ اس طرح کے کریکٹر کسی بھی بھوت بنگلے میں نظرنہیں آئیں گے۔

    انہوں نے کہا بھوت بنگلے میں بچوں اور خواتین کی سیفٹی کا بھی خاص انتظام کیا گیا ہے۔ جب کوئی فیملی بھوت بنگلے میں جاتی ہے تو نوجوانوں کی انٹری روک دی جاتی ہے۔ فیملیز کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف حکام نے بتایا کہ وائلڈلائف پارک جلو میں زپ ڈرائیو سمیت کئی دیگرسہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی مدد لی جارہی ہے۔ جلوپارک میں سٹیٹ آف دی آرٹ وائلڈلائف میوزیم بنایا گیا ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس؛ بھارتی کمپنی کے سیلزمین کا بھی بیان قلمبند

    بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس؛ بھارتی کمپنی کے سیلزمین کا بھی بیان قلمبند

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دائر توشہ خانہ ریفرنس میں دبئی میں بھارتی کمپنی کے سیلزمین سمیت دو گواہوں کے بیانات قلم بند کرلیے گئے۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کی جہاں بانی پی ٹی آئی کو بھی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا اور ان کی موجودگی میں دبئی میں بھارتی کمپنی کے لیے سیلز مین کے طور پر کام کرنے والے گواہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور ان کے بیان پر جرح بھی مکمل کرلی گئی۔

    توشہ خانہ ریفرنس کے دوسرے گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب مستنصر کا بیان بھی قلم بند کیا گیا جبکہ اگلی سماعت پر نیب کے سلطانی گواہ انعام اللہ شاہ اور صہیب عباسی کے بیانات قلم بند ہوں گے۔

    سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی نے توشہ خانہ ریفرنس میں سلطانی گواہ انعام اللہ شاہ کے بیان سے قبل قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر ان سے حلف لینے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس پر نیب کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ قانون کے مطابق عدالت اس مطالبے پر عمل کرواسکتی ہے۔

    عدالت نے دوگواہوں کے بیانات اور دبئی سے آئے ہوئے گواہ کے بیان پر جرح مکمل ہونے کے بعد مزید سماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی۔