بیروت- اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنانی کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں قائم ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق ہوگئےعرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جمعرات کی صبح بیروت میں کل 17 حملے کیے جس میں سے ایک حملے میں 9 افراد کی ہلاکت ہوئی جب کہ باقی حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئےالجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے جس عمارت کو نشانہ بنایا وہ لبنانی پارلیمنٹ، وزیراعظم کی رہائش گاہ اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے زیادہ دور نہیں جب کہ حملے کے بعد عمارت میں آگ لگ گئی عرب میڈیا نے اپنی خبر میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں مبینہ طور پر حزب اللہ کی ریسکیو ٹیم کو نشانہ بنایا گیا دوسری جانب یورپی یونین نے جنگ سے متاثرہ لبنان کے لوگوں کے لیے 33 ملین ڈالرز کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے جب کہ یورپی یونین اس سے قبل بھی لبنان کے لیے 10 ملین ڈالر امداد کا اعلان کرچکا ہے
Author: Qamar Abbas
-

پی ٹی آئی والے تصادم اور لاشیں چاہتے ہیں اس لیے ڈی چوک آئیں گے: فیصل واوڈا
اسلام آباد- سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے تصادم اور لاشیں چاہتے ہیں اس لیے ڈی چوک آئیں گےاسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے خود کو ذہنی غلامی سے تو آزاد کریں، بزدلی یہ ہے کہ آپ غریبوں کو مروانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں، یہ چاہتے ہیں معصوم پاکستانیوں کا خون بہے، پی ٹی آئی کو لاشیں چاہئیں، عمران خان آزادی کی جدوجہد کے لیے پہلے اپنے بیٹوں کو واپس بلائیں سابق وزیر نے کہا کہ یہ ڈی چوک اس لیے آئیں گے کیونکہ انہیں تصادم چاہیے، پی ٹی آئی کے اندر سے لاشوں کے ڈھیر گرانے کی تیاری ہے، بانی پی ٹی آئی اپنی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک رہے ہیں، پی ٹی آئی کے لوگوں کا دماغ کدھر ہے، بیرسٹرگوہر شریف آدمی ہیں، ان کو کہہ دیا بزدل ہے نکال دیں
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ گنڈا پور ایک پیادہ ہے مگر اس کی زندگی بھی اہم ہے، اس کے پیچھے ایک کہانی چل رہی ہے، جو بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی بات کررہاہے وہ وزیراعلیٰ ہے، آپ کے پی کے وسائل اپنے احتجاج کے لیے استعمال کر رہے ہیں، کے پی اور پنجاب کی پولیس آمنے سامنے کھڑی شیلنگ کررہی ہےسابق وزیر نے مزید کہا کہ 2018 میں ہم نے مینڈیٹ چوری کیا آج انہوں نے کرلیا، فیض حمید جب ڈی جی تھا تب میں نے اس سے تکلیف اٹھائی تھی، فیض حمید کے سامنے اس وقت کھڑا ہوا جب وہ کرسی پر تھے، مجھے اس دوراہے پر نہ لائیں کہ اپنےفون سے قوم کے سامنے کچھ رکھنا پڑے، میں ان میں سے نہیں جو 9 مئی کے بعد پریس کانفرنس کرکے الگ ہوئےفیصل واوڈا نے کہا کہ ملک میں سمٹ ہورہی ہے، دیگر ممالک کے وزرائے اعظم آرہے ہیں، 9 سینٹ کی بجلی دینے کی بات ہورہی ہے، ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے، عمران خان کو پریشانی یہ ہے کہ معیشت بہتر ہوگئی ہے اور ملک پٹری پر چڑھ گیا ہے، حکومت کی نالائقی ہے کہ وہ ان چیزوں کو نہیں ہائی لائیٹ کر رہی۔ -

نیتن یاہو ایرانی حملے سے خوف زدہ، ہاتھ کانپنے لگے
تل ابيب: اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے پر اسرائیلی وزیراعظم خوف کے مارے کانپنے لگےایران نے گزشتہ شب اسرائیل پر 200 سے زائد میزائل داغ دیے جس پر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو خوف زدہ ہوکر زیرِ زمین بنکرز میں چھپ گئےاس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے جو بیان جاری کیا اس میں بھی وہ نہایت خوف زدہ تھے اور ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ہنگامی پریس کانفرنس میں ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ جو ہم پر حملہ کرے گا ہم اس پر حملہ کر دیں گے۔ لیکن ان کے خوف کا یہ عالم تھا کہ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حزب اللہ کے حسن نصر اللہ اور حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ لینے کےلیے کیا ہے۔
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے عبرانی زبان میں کی گئی اپنی ٹوئٹ میں اسرائیل کو پہلے زیادہ شدید اور طاقتور حملوں سے خبردار کیا ہے۔ -

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نظرثانی اپیل متفقہ طور پرمنظورکی جاتی ہے: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ
03 اکتوبر ، 2024
متعلقہ خبریں
’سیاسی جماعتیں جج کے ماتحت نہیں، جج کون ہوتا ہےکہنے والاکہ کوئی رکن منحرف ہوا؟ یہ جماعت کے سربراہ کااختیار ہے‘
سپریم کورٹ نے سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا
سیاستدانوں کی نااہلی تاحیات نہیں ہوگی، سپریم کورٹ کا 62 ون ایف کی تشریح کیس کا فیصلہ -

صبا قمر پسندیدہ اداکارہ ہیں، بھارتی گلوکار گرو رندھاوا
ممبئی بھارتی میوزک انڈسٹری کے معروف پنجابی گلوکار گرو رندھاوا نے کہا ہے کہ پاکستانی شوبز میں اُن کی پسندیدہ اداکارہ صبا قمر ہیں بھارتی میڈیا کے مطابق ان دنوں گرو رندھاوا اپنی نئی آنے والی فلم ‘شاہکوٹ’ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں اور وہ اس حوالے سے مختلف انٹرویوز بھی دے رہے ہیں حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران میزبان نے گلوکار سے سوال کیا کہ اُنہیں پاکستانی اداکاراؤں میں کون سب سے زیادہ پسند ہیں؟اس سوال کے جواب میں گرو رندھاوا نے کہا کہ اگر میں پاکستانی اداکاراؤں کی بات کروں تو مجھے صبا قمر بہت زیادہ پسند ہیں، وہ ٹیلنٹڈ اداکارہ ہیں جبکہ اُن کا ہر پراجیکٹ بھی بہترین ہوتا ہے
گرو رندھاوا نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر صبا قمر کا کام دیکھا ہوا ہے کیونکہ ہم نے بالی ووڈ فلم ‘ہندی میڈیم’ کے گانے ‘سوٹ سوٹ کردہ’ میں ساتھ کام کیا تھا -

چیف جسٹس کسی جج کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے سپریم کورٹ
اسلام آباد- سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیاحکمنامے میں کہا گیا کہ نظرثانی کی درخواست 3 روز زائد المیعاد ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک نے زائد المیعاد ہونے کی مخالفت نہیں کی، جبکہ علی ظفر کی جانب سے نظرثانی درخواست زائد المیعاد ہونے پر اس کی مخالفت کی گئی حکمنامے میں کہا گیا کہ یہ واضح ہے کہ فیصلے کی وجوہات کے بغیر نظرثانی نہیں مانگی جا سکتی، کیونکہ تفصیلی فیصلہ جاری ہونے پر ہی غلطی کی وجوہات سامنے آ سکتی ہیں، لیکن 63 اے کی نظرثانی تین ماہ اور 21 دن تفصیلی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے دائر کی گئی حکمنامے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو متعدد متفرق درخواستوں پر دلائل کی اجازت دی گئی، علی ظفر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مانگی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ملاقات کے لیے عدالتی ہدایات جاری کی گئیں سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 19 مارچ کو سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے، عدالتی آرڈر کے بعد صدر عارف علوی نے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا، صدارتی ریفرنس اور 184 کی درخواستیں یکجا کر کے سنی گئیں، سابق چیف جسٹس نے 24 مارچ کو سماعت کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا، 14 اپریل کو بانی پی ٹی آئی نے بابر اعوان کے ذریعے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی، بابر اعوان نے نشاندہی نہیں کی کہ 11 سال سے زیر التواء بھٹو ریفرنس پر پہلے سماعت کی جائے، ڈاکٹر بابر اعوان بھٹو ریفرنس کیس میں وکیل تھےحکمنامے میں کہا گیا کہ صدر وفاق کے اتحاد کی علامت اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، آئین یا قانون میں صدارتی ریفرنس میں تمام شہریوں کو نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ، عمران خان کے وکیل کے اعتراضات قابل جواز نہیں، نظرثانی درخواست آؤٹ آف ٹرن مقرر ہونے کا جواز درست نہیں، اس لیے مسترد کیا جاتا ہےحکمنامے کے مطابق بینچ کی تشکیل پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے اعتراض اٹھایا، چیف جسٹس نے اپنے جوابی خط میں بینچ تشکیل سے متعلق وضاحت کی ، حالانکہ چیف جسٹس قانونی طور پر وضاحت دینے کے پابند نہیں، جسٹس منیب اختر نے بینچ میں شامل ہونے پر اپنی عدم دستیابی سے آگاہ کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے بھی بینچ میں شامل ہونے سے انکار کیا، جسٹس منصور کے انکار کے بعد جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ میں شامل کیا گیا ، بینچ کی دوبارہ تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجز قانون کے مطابق ہے، سپریم کورٹ،پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی یا چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، یہ اعتراض بھی مسترد کیا جاتا ہےحکمنامے میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے صدارتی آرڈیننس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا، چیلنج کرنے کے ساتھ علی ظفر نے آرڈیننس کے تحت عدالتی کاروائی کی ریکارڈنگ اور ٹراسکرپٹ تیار کرنے کا بھی کہا
-
How Game Features Impact Variability in Modern Designs
In the dynamic world of digital gaming, variability plays a pivotal role in shaping player experiences and ensuring the longevity of a game’s appeal. Variability, in the context of gaming, refers to the degree of unpredictability and fluctuation in game outcomes, payout sizes, and gameplay rhythm. Understanding how different game features influence this variability is essential for developers aiming to craft engaging, balanced, and strategic experiences.
This article explores the fundamental concepts of variability, examines core and advanced game features that drive it, and offers insights into how modern designs—such as those exemplified by titles like Golden Empire 2 free demo—use these features to maintain player interest and manage game balance effectively.
Table of Contents- Introduction to Game Variability and Its Significance in Modern Design
- Fundamental Concepts of Variability in Slot Games
- Core Game Features That Drive Variability
- Advanced Features and Their Impact on Variability
- Case Study: Modern Examples of Variability in Action
- Balancing Variability and Player Experience
- The Non-Obvious Impacts of Game Features on Variability
- Future Trends in Game Features and Variability
- Conclusion: The Strategic Role of Features in Shaping Modern Game Variability
1. Introduction to Game Variability and Its Significance in Modern Design
a. Definition of variability in gaming context
Variability in gaming, particularly in slot machines and digital games, refers to the degree of unpredictability in game outcomes. It influences how often players win and the size of those wins. High variability games tend to have less frequent but larger payouts, while low variability games offer more consistent but smaller wins. This balance shapes the overall gameplay rhythm and player satisfaction.
b. Why variability matters for player engagement and game balance
Effective variability management is critical for maintaining player interest. High variability can create excitement through the thrill of big wins, but excessive unpredictability may lead to frustration. Conversely, low variability fosters steady engagement but might reduce the excitement of potential large payouts. Game designers aim to balance these aspects to optimize player retention and satisfaction.
c. Overview of how game features influence variability
Features such as reels, symbols, wilds, scatters, cascading reels, and special modes directly impact game variability. For example, wild symbols can substitute for others to create winning combinations, altering outcome unpredictability. Advanced features like cascading reels change payout frequency and size, further influencing the game’s volatility profile. Understanding these mechanics helps in designing engaging and balanced games.
2. Fundamental Concepts of Variability in Slot Games
a. Randomness and chance elements
At the core of all slot games is randomness, typically generated by a Random Number Generator (RNG). This ensures each spin’s outcome is independent and unpredictable, a fundamental requirement for fairness and player trust. Variability arises from how these RNG-driven outcomes interact with game features to produce different payout scenarios.
b. Impact of payout structures and hit frequency
Payout structures—such as fixed jackpots or progressive wins—along with hit frequency (how often winning combinations appear) determine a game’s volatility. For instance, a game with high hit frequency but small payouts offers low variability, while rare big wins with low hit frequency create high variability.
c. The role of game mechanics in shaping variability
Mechanics like multipliers, free spins, or cascading reels modify the probability and size of payouts. These features can either amplify or mitigate variability, allowing developers to fine-tune the experience according to desired volatility levels.
3. Core Game Features That Drive Variability
a. Reels, symbols, and paylines: Basic contributors
Traditional slot features like the number of reels, symbol types, and paylines establish the foundational variability. More paylines and symbols increase the complexity and unpredictability of outcomes, offering players a richer experience.
b. Special symbols (e.g., Scatter symbols) and their influence
Scatter symbols typically trigger bonus features or free spins, often appearing on any reel, which increases outcome variability. Their unpredictable placement adds an element of surprise and strategic anticipation.
c. Wild symbols and their dynamic roles in altering outcomes
Wilds substitute for other symbols, creating additional winning combinations. Some wilds are sticky or expanding, further enhancing variability by influencing multiple outcomes across spins.
4. Advanced Features and Their Impact on Variability
a. Cascading reels and their effect on payout frequency and size
Cascading reels remove winning symbols and replace them with new ones, allowing multiple wins from a single spin. This mechanic increases payout frequency without necessarily increasing volatility, creating a dynamic and engaging experience that can lead to big cumulative wins over time.
b. Converted Wilds and their diminishing counters—balancing predictability and randomness
Converted Wilds are wild symbols that transform into different types or have limited uses, such as counters that decrease with each appearance. This feature introduces strategic elements and controlled unpredictability, balancing randomness with player agency.
c. Turbo and Super Turbo modes: Accelerating gameplay and influencing volatility
Turbo modes speed up spin animations, allowing players to experience more spins in less time. While they do not directly affect outcome probabilities, faster play can increase perceived volatility and excitement, influencing player engagement and risk perception.
5. Case Study: Modern Examples of Variability in Action
a. “Golden Empire 2” as a case example
- Scatter symbols appearing on all six reels significantly increase outcome variability by enabling multiple bonus triggers simultaneously, diversifying payout scenarios.
- Converted Wilds with counters add a layer of strategic unpredictability, as players can influence the duration and frequency of wild transformations, blending skill and chance.
- Turbo modes enable faster gameplay, effectively raising the game’s volatility profile and appealing to players seeking quick, high-intensity sessions.
These features exemplify how modern slot games leverage layered mechanics to create a rich, unpredictable environment, maintaining player interest and balancing risk. For those interested in exploring such mechanics firsthand, the Golden Empire 2 free demo offers a glimpse into these innovative design principles.
b. Other contemporary slot games with innovative features influencing variability
Many modern titles incorporate features like expanding wilds, multi-level bonus rounds, and adaptive volatility settings, all contributing to a complex and engaging gameplay environment. These innovations are driven by ongoing research into player psychology and technological advancements, pushing the boundaries of traditional slot design.
6. Balancing Variability and Player Experience
a. How game designers calibrate features to maintain excitement without frustration
Designers utilize statistical models and player feedback to calibrate features like wilds, scatters, and bonus triggers. By adjusting parameters such as hit frequency and payout multipliers, they create a balanced experience that offers both thrill and fairness.
b. The psychological impact of high vs. low variability
High variability can induce adrenaline and excitement but may cause frustration if wins are too sparse. Low variability fosters comfort and steady engagement but might reduce the sense of adventure. Successful game design finds the sweet spot that aligns with target audiences’ preferences.
c. Techniques for managing player expectations through feature design
Clear communication of volatility levels, balanced payout structures, and adjustable features help players understand what to expect. For example, including visual indicators of game volatility or offering adjustable risk settings can enhance transparency and satisfaction.
7. The Non-Obvious Impacts of Game Features on Variability
a. Interaction effects between multiple features (e.g., Wilds and Cascades)
Combining features can produce emergent behaviors that amplify variability. For instance, wild symbols that expand during cascading sequences can lead to multiple consecutive wins, creating complex payout patterns that challenge traditional volatility assumptions.
b. How feature complexity can influence perceived fairness and engagement
Complex features may enhance engagement by providing depth but can also overwhelm players if not transparent. Balancing complexity with clarity is crucial for maintaining trust and encouraging prolonged play.
c. The role of feature randomness in long-term player retention
Features that introduce controlled randomness can help sustain long-term interest by offering unpredictable yet fair outcomes. This unpredictability encourages players to stay engaged, exploring different strategies and timing their bets.
8. Future Trends in Game Features and Variability
a. Emerging technologies and their potential to introduce new variability mechanisms
Advancements like augmented reality (AR) and artificial intelligence (AI) are opening new horizons for dynamic feature adaptation, creating personalized and highly variable experiences that respond to player behavior in real time.
b. Adaptive features that respond to player behavior
Games may incorporate machine learning algorithms to adjust volatility levels based on player style, maintaining engagement by balancing challenge and reward dynamically.
c. Ethical considerations in designing high-variability games
High variability can lead to addictive behaviors if not carefully managed. Responsible game design involves transparency, setting appropriate limits, and ensuring players are aware of volatility levels to promote healthy engagement.
9. Conclusion: The Strategic Role of Features in Shaping Modern Game Variability
“Thoughtful integration of game features not
-

ملائیشیا کے وزیرِاعظم داتو سری انور ابراہیم کی وزیرِاعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر پیش
اسلام آباد- وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملائیشیا کے ہم منصب نے ملاقات کی ملائیشیاء کے وزیرِاعظم داتو سری انور ابراہیم وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے تو محمد شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا ملائیشیاء کے وزیرِاعظم کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیابعدازاں دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات کے ساتھ ساتھ وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس کے ساتھ ساتھ پاکستان ملائیشیا دوطرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں کا تبادلہ ہوا وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر ملائیشیا کے وزیر اعظم پاکستان کا 3 روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔دورے کے دوران پاکستان ملائیشیا دو طرفہ تعاون کے فروغ پر گفتگو اور دونوں ممالک کے مابین شراکت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوگی ملائیشیا کے وزیر اعظم کے ہمراہ اعلی سطح کا کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں کا وفد بھی پاکستان آیا ہےوفد پاکستانی کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں سے ملاقات کرے گا جس سے دونوں ممالک کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ ملے گادونوں ممالک کے مابین تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون کیلئے ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان-ملائیشیا بزنس فورم میں شرکت بھی کریں گے
-

لاہور میں دفعہ 144 کا فوری نفاذاور سیاسی اجتماعات اور احتجاج پر پابندی لگا دی
لاہور حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں دفعہ 144 کا فوری نفاذ کرتے ہوئے سیاسی اجتماعات اور احتجاج پر پابندی لگادی ترجمان صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق حکومت پنجاب نے لاہور میں 6 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت شہر میں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت پابندیوں کا اطلاق جمعرات 3 اکتوبر سے منگل 8 اکتوبر تک ہو گا دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا ہے، جس پر محکمہ داخلہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہےسکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔ صوبائی حکومت نے عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت بھی کی ہے
-

چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیخلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف دلائل کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار اکرم باری کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار اکرم باری اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئےوکیل درخواست گزار نے دلائل میں کہا کہ سکندر سلطان راجہ جب تعینات ہوئے تب حاضر سروس بیوروکریٹ تھے اور سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق سینیئر سول سرونٹ کو تعینات نہیں کیا جا سکتا، گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسران کو تعینات کیا جا سکتا ہےسپریم کورٹ کا موجودہ یا سابق جج بھی تعینات ہو سکتا تھا
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پھر ترمیم کر دی گئی 2016 میں ترمیم ہوئی اور اس کے بعد ریٹائرڈ افسر تعینات ہوا، وہ اس لیے کہ ریٹائرڈ افسر کسی کے ماتحت نہیں ہوتا، چیف الیکشن کمشنر حاضر سروس ملازم ہیں
چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس میں کچھ لگایا آپ نے کیا، آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ ایسا ہی ہوا؟ وکیل درخواستگزار نے بتایا کہ یہ ان کی ویب سائٹ پر ہے
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے مطمئن کریں اور کچھ ثابت کریں، سیٹی کی آواز آئے گی تو میں آگے بھی اطلاع دوں گا نا وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مجھے وقت دے دیں، میں بریف کر دوں گا
الیکشن کمیشن کے وکیل بغیر نوٹس روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میرے پاس چیف الیکشن کمشنر بننے سے قبل ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن ہے
چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بلایا ہی نہیں اور نہ نوٹس ہوئے ابھی، لگتا ہے آپ کو بہت جلدی ہے
وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ 24 جنوری 2020 کو چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا جبکہ وہ نومبر 2019 ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھ لیں وہ تو ریٹائرڈ ہو چکے تھے، اوکے شکریہ، اس کو دیکھ لیتے ہیں ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا
