لاہور:ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ میں مداحوں کی دلچسپی بڑھ گئی۔کراچی سمیت مختلف شہروں میں دبئی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کو براہ راست دکھانے کے لئے بڑی سکرینز نصب کی گئی ہیں۔کیماڑی کے ساحل پر پورٹ گرینڈ میں بھی شائقین کرکٹ کو میچ سے لطف اندوز کرانے کے لیے بڑی سکرین لگانے کا اہتمام کیا گیا ہے ۔مختلف نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے بھی میچ کو براہ راست دکھانے کیلئے بڑی اسکرینز لگائی گئی ہیں ، اس موقع پر حاضرین کی تواضع کے لیے پرلطف اور ذائقے دارکھانوں کا بھی اہتمام ہوگا۔
Category: کاروبار
-

راجہ بازار ، مرکزی سڑک کی بندش ،کاروبار متاثر ،نوٹس لیا جائے، صدر راولپنڈی چیمبر
راولپنڈی: راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر عثمان شوکت نے کہا ہے کہ راجہ بازار کی مرکزی سڑک پر گاڑیوں کا داخلہ بند ہونے سے سامان کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔راجہ بازار کی مرکزی سڑک پر گاڑیوں کا داخلہ بند ہونے سے سامان کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، حکومت کی طرف سے متبادل پارکنگ اور سامان کی ترسیل کے انتظامات ناکافی ہیں، کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔
-

دودھ، دہی ، سبزی اور پھلوں کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں
جامکے چٹھہ : سیلاب سے جامکے چٹھہ اور گردونواح میں مہنگائی کا طوفان آ گیا، دودھ، دہی ، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری ریٹ لسٹ کے بجائے سبزی فروشوں نے اپنے ریٹ مقرر کر لئے۔انتظامیہ کی جانب سے منافع خوروں کے خلاف کارروائیوں کے دعوے بھی مہنگائی کنٹرول نہ کر سکے ۔ تفصیلات کے مطابق جامکے چٹھہ اور گردونواح کے قصبات میں ٹماٹر 220 روپے کلو، اورک 700 ،لہسن 350، آلو 150، مٹر600، ٹینڈے 350، کریلے 360 ، بھنڈی توری 320، شملہ مرچ 280 ، توری 280 روپے فی کلو گرام فروخت ہو رہے ۔ دودھ 200 روپے کلو، دہی 230 روپے کلو مل رہا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے دعوے کھوکھلے نکلے ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں زائد قیمت پر اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔
-

بارشیں :کراچی کی صنعتی پیداوار کو 15 ارب روپے کا نقصان
کراچی:شہر قائد میں حالیہ مون سون بارشوں نے صنعتی پیداوار کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (KATI)کے صدر جنید نقی نے انکشاف کیا ہے کہ صرف دو بار کی بارشوں سے کراچی کی صنعتوں کو تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بارشوں اور ناقص بلدیاتی انتظامات کی وجہ سے صنعتی سرگرمیاں سات دن تک مکمل طور پر معطل رہیں۔جنید نقی نے بتایا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اقربا پروری کا شکار ہے اور شہر کے بڑے نالوں میں کچرا ڈال رہا ہے ، جس کی وجہ سے بارش کے بعد نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا۔ نتیجتاً، صنعتی زونز میں پانی جمع ہونے سے فیکٹریوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کے -الیکٹرک پر بھی صورتحال کا غلط فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ادارے نے کئی دن سے صنعتی زون کی بجلی بند کر رکھی ہے ۔صدر کاٹی نے کہا کہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی ابتر صورتحال اب بھی صنعتی زونز کی پیداوار پر منفی اثرات ڈال رہی ہے ، جس کا خمیازہ حکومت کو آئندہ دنوں میں محصولات کی کمی کی صورت میں بھگتنا ہوگا۔ انہوں نے حکومتِ سندھ اور بلدیاتی اداروں سے مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے شہر کو بچانے کی اپیل کی۔جنید نقی نے میئر کراچی اور وزیر بلدیات کو خبردار کیا کہ آئندہ برس بارشیں مزید شدت سے متوقع ہیں، لہٰذا تمام متعلقہ ادارے ابھی سے تیاری شروع کریں۔
-

گندم کا شعبہ شدید بحران کا شکار، پیداوار میں کمی کا خدشہ
کراچی:پاکستان کا گندم کا شعبہ اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ کسانوں کو پیداواری لاگت سے کم قیمت ملنا ہے۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس (OICCI)کے مطابق 2025 میں کسانوں کو گندم کی فی من قیمت صرف 2100 سے 2300 روپے ملی، جس سے بڑی تعداد میں کسان متبادل فصلوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ OICCI نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال گندم کی کاشت کے رقبے میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب حکومت کی جانب سے کم سے کم امدادی قیمت اور محدود سرکاری خریداری کے باعث 90 فیصد سے زیادہ چھوٹے کسان کٹائی کے دوران اپنی گندم کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہو گئے ۔ اس کے نتیجے میں انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل سکا، اور اس کے اثرات قومی سطح پر غذائی سلامتی کے خدشات کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔مالی سال 2025 میں زرعی قرضوں کی فراہمی میں 16.3 فیصد اضافہ ہوا، جو 2577 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ سہولت زیادہ تر بڑے کاشتکاروں تک ہی محدود رہی، جبکہ وہ چھوٹے کسان، جو ملک کی گندم کی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، اب بھی مالیاتی رسائی سے محروم ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
-

چکن کی قیمت میں ایک ماہ بعد تبدیلی ،4روپے کلو کمی
لاہور: شہر میں ایک ماہ بعد پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمت میں کمی ہوئی ،فی کلو برائلر گوشت کی قیمت 4روپے کمی سے 591روپے ، زندہ برائلر مرغی کی قیمت 3روپے کمی سے 408روپے فی کلو جبکہ۔
فارمی انڈوں کی قیمت 305روپے فی درجن کی سطح پر مستحکم رہی ۔دوسری جانب لاہور کے مختلف علاقوں کی اوپن مارکیٹوں میں دکاندارسرکاری نرخنامے کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے۔ اور گزشتہ روز بھی مختلف مقامات پر برائلر گوشت سرکاری نرخ سے 50 سے 70روپے زائد قیمت پر فروخت کیا گ -

مرکنٹائل ایکسچینج میں 53ارب روپے کے سودے
کراچی:پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں 53ارب روپے کے سودے ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق سودوں کی مجموعی تعداد 52780 رہی۔ زیادہ سودے سونے کے ہوئے جن کی مالیت 32.099 ارب روپے رہی جبکہ۔ کرنسیزبذریعہ کوٹس کے سودوں کی مالیت 9.425 ارب روپے ، این ایس ڈی کیو 100 کے سودوں کی مالیت 3.509 ارب روپے ، پلاٹینم کے سودوں کی مالیت 2.601 ارب روپے ، چاندی کے سودوں کی مالیت 2.574 ارب روپے ، خام تیل کے سودوں کی مالیت 1.209 ارب روپے اور جاپان ایکیوٹی کے سودوں کی مالیت 447.780 ملین روپے ریکارڈ کی گئی۔
-

ڈالر کی قدر میں کمی ،تولہ سونا 2500روپے مہنگا
کراچی: ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جمعہ کو بھی جاری رہا،ادھر سونے کی قیمتوں میں بڑااضافہ ریکارڈکیاگیا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک میں ڈالرایک پیسے کی کمی سے 281.55روپے پر بند ہوا۔
اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر مزید 9 پیسے کی کمی سے 282روپے 61پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔دوسری جانب عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 27ڈالر کے اضافے سے 3645ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 2500روپے کے اضافے سے 3لاکھ86 ہزار500روپے کا ہوگیا۔اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت 2143روپے کے اضافے سے3لاکھ 31 ہزار 361 روپے پر جاپہنچا۔ -

اسٹاک ایکسچینج، دوسرے روزبھی مندی،147ارب خسارہ
کراچی:سٹاک ایکسچینج کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی شدید مندی کی لپیٹ میں رہی۔ مسلسل 9ہزار پوائنٹس بڑھنے کے بعد انڈیکس دوسرے روز بھی مندی کا شکار رہا جسکے باعث مارکیٹ سے دو روز میں 2500سے زائد پوائنٹس کا انخلاء ہوگیا۔انڈیکس ٹریڈنگ کا آغاز 32 پوائنٹس اضافے سے 1 لاکھ 56 ہزار 172 پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے ہوا تھا تاہم دوران ٹریڈنگ بیرونی کشیدگی ، پرافٹ ٹیکنگ اور سیلاب کے معاشی نقصانات کے باعث اسٹاک سرمایہ کاروں نے حصص کو مسلسل فروخت کرنے کو ترجیح دی جسکے باعث دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس 1 لاکھ 56 ہزار اور 1 لاکھ 55 ہزار کی دو سطحوں سے گر کر 1 لاکھ 54 ہزار 360 پوائنٹس کی یومیہ کم ترین سطح تک ٹریڈ ہوا ۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 1701 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 54 ہزار 439 پوائنٹس پر بند ہوا،اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 600پوائنٹس کی گراوٹ سے 47119.90پوائنٹس ،کے ایم آئی 30 انڈیکس 2674پوائنٹس کمی سے 226125.71اور آل شیئر انڈیکس 765 پوائنٹس گراوٹ سے 94668.15 کی حد پر بند ہوا۔اس دوران سرمایہ کاروں کو 147ارب روپے کاخسارہ ہوا۔گزشتہ روز 98 کروڑ 75لاکھ 89ہزار 372مالیت شیئرز کے سودے 39ارب 91 کروڑ روپے 18 لاکھ 14 ہزار 990 روپے میں طے ہوئے ۔مجموعی طور پر 476 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 180 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ، 263 میں کمی اور 33 میں استحکا م رہا۔
-

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بارے اعداد و شمار جاری کر دیئے
کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بارے اعداد و شمار جاری کر دیئے۔اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025 میں 9 ہزار 174 روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولے گئے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی کُل تعداد 8 لاکھ 51 ہزار 756 ہوگئی۔سٹیٹ بینک کے مطابق اگست میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالر جمع کرائے گئے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں اگست 2025 تک مجموعی طور پر 10 ارب 91 کروڑ ڈالر جمع ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے اگست میں 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا انخلا ہوا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے اگست 2025 تک مجموعی طور پر 1 ارب 85 کروڑ ڈالر نکالے گئے۔سٹیٹ بینک کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں جمع 11 کروڑ ڈالر کی رقم ملکی سطح پر خرچ کی گئی، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں واجب الادا ڈیپازٹس کا حجم 2 ارب 5 کروڑ ڈالر ہے۔
