Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کاروبار – Page 46 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: کاروبار

  • وزیر اعظم کی الیکٹرک ویکلز پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیر اعظم کی الیکٹرک ویکلز پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکٹرک ویکلز پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت الیکٹرک ویکلرز کی صنعت اور پالیسی سازی سے متعلق اجلاس ہوا۔ اجلاس میں الیکٹرک ویکلز پالیسی 2025 کے مسودے پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ الیکٹرک موٹرسائیکلز، اسکوٹیز، تھری ویلرز، گاڑیوں اور بسوں کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اور الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز اور بیٹری سواپنگ اسٹیشنز کے قیام کو بھی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ٹو اور تھری ویلرز کی تیاری کی استعداد بڑھانے کے لیے صنعتوں کو سہولت فراہم کی جائے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکٹرک ویکلز پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

  • فیٹف کی گرے لسٹ میں پاکستان کو شامل کرانے کی بھارتی کوشش ناکام ہوگئی

    فیٹف کی گرے لسٹ میں پاکستان کو شامل کرانے کی بھارتی کوشش ناکام ہوگئی

    پیرس: بھارت کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف)کی گرے لسٹ میں پاکستان کو شامل کرانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت کے سفارتی وفد کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی، چین نے فیٹف اجلاس مں پاکستان کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا اور ریلیف کی حمایت کی۔فیٹف اجلاس میں ترکی اور چاپان کی جانب سے بھی پاکستان کی مکمل حمایت کی گئی۔خیال رہےکہ اکتوبر 2022 میں فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا تھا، پاکستان 2018 سے فیٹف کی گرے لسٹ میں تھا۔خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

  • عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ بھارت کو عالمی سطح پر ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑاہے، عالمی بینک نے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کیلئے قرض کی منظوری دیدی ہے ۔تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بینک سے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیو پولیٹیکل حالات دیکھ رہے ہیں دونوں ایوانوں سے مذمتی قرارداد منظور کی گئی ہیں، جب آئی ایم ایف بورڈ اجلاس ہورہا تھا اس وقت بھارت نے منظوری روکنےکی کوشش کی، کل عالمی بینک کےایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس تھا بھارت نےاسےبھی روکنےکی کوشش کی، عالمی بینک نے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کیلئے قرض کی منظوری دی ہے۔

  • ایران، اسرائیل کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    ایران، اسرائیل کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    اسلام آباد: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑنے لگے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق، برینٹ آئل کی قیمت میں 7.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 74.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی 5.7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب اس کی نئی قیمت 73.15 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر اور ترقی یافتہ معیشتوں دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

  • سندھ اور خیبر پختونخوا کا بجٹ 13 جبکہ پنجاب اور بلوچستان کا بجٹ 16 جون کو پیش کیا جائے گا

    سندھ اور خیبر پختونخوا کا بجٹ 13 جبکہ پنجاب اور بلوچستان کا بجٹ 16 جون کو پیش کیا جائے گا

    اسلام آباد: وفاقی بجٹ کی بعد سندھ اور خیبر پختونخوا کا بجٹ 13 جبکہ پنجاب اور بلوچستان کا بجٹ 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔خیبرپختونخوا کے آئندہ مالی سال کے متوقع بجٹ کا حجم دو ہزار 118 ارب روپے سے زائد ہے ۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار 962 ارب روپے لگایا گیا ہے اس طرح صوبے کا بجٹ 157 ستاون ارب روپے سرپلس رکھے جانے کی توقع ہے۔اگلے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویزشامل کی جارہی ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کےلئے 680 ارب اور پنشن کےلئے 14 ارب روپے مختص کئے جانے کی توقع ہے ، پنشن فنڈ میں 189.6 ارب بندوبستی اور 4.4 ارب روپے قبائلی اضلاع کےلئے مختص ہونگے ۔اگلے مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مجموعی طور پر 547 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جس میں بندوبستی اضلاع کےلئے 21 فیصد اضافے کے ساتھ 195 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی تجویزہے۔ قبائلی اضلاع کے اخراجات جاریہ اور ترقیاتی کاموں کے لئے 294 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز رکھے جانے کی توقع ہے۔اگلے مالی سال میں قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی کےلئے فنڈ کو 67 ارب روپے سے کم کرکے 55 ارب روپے کرنے کی تجویزشامل کی جارہی ہے ۔ صوبائی بجٹ کےاہم منصوبوں میں ڈیرہ پشاور موٹر وے ، پشاور ویلی ہاؤسنگ اسکیم ایکسپریس وے ، ڈیرہ اپ لفٹ اور پشاور رنگ روڈ کے نامکمل منصوبے کی تکمیل ہے۔

    پنجاب:پنجاب حکومت کا بجٹ 13 جون کے بجائے 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔ تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا ہے کہ پنجاب بجٹ کی تیاری جاری ہے، کچھ وقت لگے گا، بجٹ ٹیکس فری ہوگا، عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا۔اس سے قبل پنجاب کا مالی سال 2025-26 کا بجٹ 13 جون کو پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، سندھ حکومت بھی نئے سال کا بجٹ 136 جون کو ہی پیش کرے گی۔واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے مالی سال 26-2025 کیلئے تاریخ ساز ترقیاتی بجٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے، اب تک 353 ارب سے زائد کی 853 اسکیمیں نئے بجٹ میں شامل کی جاچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 520 جاری جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیمیں اب تک نئے بجٹ ڈرافٹ میں شامل کی گئی ہیں، 520 جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب 82 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیموں کی مد میں 135 ارب 29 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے، 6 دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 57 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔

    بلوچستان:بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 16 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان کابینہ کا اجلاس 16 جون کی سہ پہر تین بجے طلب کر لیا گیا ہے، جس کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس میں بجٹ اور پی ایس ڈی پی کی منظوری دیے جانے کا بھی امکان ہے۔ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی بہتری کے لیے اہم اقدامات شامل کیے جائیں گے۔

    سندھ:حکومت سندھ کی جانب سے 13 جون کو سندھ اسمبلی میں نئے مالی سال 2025-26ء کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق 57 صوبائی محکموں اور خودمختار اداروں کا ترقیاتی بجٹ 600 ارب روپے کا ہوگا ڈیولپمنٹ کمیٹی نے منظوری دے دی گئی ہے۔محکمہ خزانہ سندھ نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لیے تجاویز تیار کر لی ہیں، مزدور کی کم از کم اجرت بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کے لیے بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔ سندھ کا بجٹ13 جون کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔

  • آئی ایم ایف کا قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر 344 ارب کے اضافی اخراجات پر تحفظات کا اظہار

    آئی ایم ایف کا قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر 344 ارب کے اضافی اخراجات پر تحفظات کا اظہار

    اسلام آباد:آئی ایم ایف نے قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر مختلف دفاع، آئی پی پیز اور دیگر مدوں میں 344 ارب روپے کی گرانٹس دینے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے قومی اسمبلی سے منظوری کے بغیر ان اخراجات کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 344 ارب 64 کروڑ روپے اضافی خرچ کیے ہیں، بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کو 115 ارب روپے کی گرانٹ دی گئی، دفاعی اخراجات کے لیے 59 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری طلب کی گئی۔سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے 30 ارب روپے مختص کیے گئے، زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کیلئے 14 ارب روپے جاری کیے گئے، انسداد دہشت گردی کے لیے فوج کو 23 ارب روپے کی گرانٹ دی گئی، ٹیکنالوجی اپ گریڈ کیلئے 2 ارب روپے کی منظوری لی جائے گی۔اسی طرح ریکوڈک منصوبے کیلئے 3.7 ارب روپے کی اضافی رقم جاری کی گئی، ایس آئی ایف سی کے لیے 52 کروڑ روپے کی گرانٹ جاری کی گئی، ارکانِ پارلیمنٹ کی اسکیموں کیلئے 7 ارب روپے جاری کیے گئے، ایف بی آر کو مختلف مد میں 6 ارب روپے کی گرانٹس دی گئیں جن میں سپریم کورٹ، ہائیکورٹ، وزارت داخلہ سمیت دیگر محکموں کے اخراجات شامل ہیں۔

  • ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد کراس کرگیا، وزیر خزانہ

    ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد کراس کرگیا، وزیر خزانہ

    اسلام آباد:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد کراس کرگیا ہے۔قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے 15 ویں اجلاس میں وزیر خزانہ نے کمیٹی کو آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی مالیاتی تجاویز اور جاری مالی سال میں سپلیمنٹری مالیاتی تجاویز کے نتائج سے آگاہ کیا۔وزیر خزانہ نے مالی سال 2026 کے بجٹ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مستقبل کی سمت، ٹیکسوں کی تعمیل اور انہیں یکساں بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے معیشت کے سدھار، معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری اور عالمی اداروں کے پاکستانی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد پر روشنی ڈالی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے پچھلے سال افراط زر کو23.4 فیصد سے 4.6 فیصد تک کم کیا۔ شرح سود 22 فیصد کی ریکارڈ بلند سطح سے 11 فیصد کی سطح پر آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی دفعہ 400 ارب ڈالر کی حد کراس کر گیا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کی نسبت جی ڈی پی میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ایف بی آر کے محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ معیشت کے اعتبار سے ملکی قرضوں میں کمی اور پہلی دفعہ نہ صرف بروقت قرض ادائیگی کی بلکہ ایک ٹریلین روپے قرض مدت سے قبل ادا کیا۔اسی طرح ترسیلات زر اس سال 38 ارب ڈالر تک ہوں گی۔ پچھلے 2 سالوں میں ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ملکی ایکسچینج ریٹ سال بھر مستحکم رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.5 ارب ڈالر ہو گئے۔بریفنگ میں انہوں نے مزید بتایا کہ پرائمری سرپلس معیشت کے 3 فیصد کر برابر ہو گیا جو پچھلے 20 سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔ پچھلے سال کے 1.3 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی نسبت اس سال کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس ہے۔ ملکی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد اور بالخصوص آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ان تمام معاشی کامیابیوں اور حاصل شدہ اہداف کو عالمی مالیاتی اداروں، سروے کمپنیوں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے تسلیم کیا ہے۔ فچ اور دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محض معیشت میں بہتری ہماری منزل نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی منزل کے حصول کا راستہ ہے۔ ہم اس راستے پر عزم اور یقین سے چلتے رہیں گے اور ایک دیرپا اور پائیدار معاشی خوشحالی کا خواب پورا کریں گے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ٹیرف، ٹیکس نظام، توانائی، پنشن اور نج کاری شعبے میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کی ہیں۔ اپوزیشن کے ڈھونڈورے کے باوجود سال بھر میں کوئی منی بجٹ نہیں آیا۔ ہم نے ٹیکس بنیادوں کو وسعت دی، انفورسمنٹ اور کمپلائنس سے ٹیکس لیکیجز کو کم کیا اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا۔

  • بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے رواں سال ریکارڈ ترسیلات بھیجیں، اسٹیٹ بینک

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے رواں سال ریکارڈ ترسیلات بھیجیں، اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی رواں سال کی ترسیلات کو ریکارڈ قرار دیا۔ایس بی پی کے اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی تا مئی کے دوران ورکرز ترسیلات زر میں تقریباً 29 فیصد زائد رہی ہیں۔ایس بی پی اعلامیے کے مطابق 11 ماہ میں پاکستان نے 34 اعشاریہ 89 ارب ڈالرز پاکستان بھیجے۔اعلامیے کے مطابق صرف مئی کی ورکرز ترسیلات زر 3 اعشاریہ7 ارب ڈالر رہیں، جو اپریل سے 16 فیصد زائد ہیں۔ایس بی پی اعلامیے کے مطابق صرف سعودی عرب سے مئی میں ریکارڈ 91 اعشاریہ 39 کروڑ ڈالرز پاکستانیوں نے بھیجے۔اعلامیے کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مئی میں 75 کروڑ 42 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ایس بی پی اعلامیے کے مطابق 11 ماہ میں سعودی عرب سے 8 اعشاریہ 52 ارب ڈالرز، عرب امارات سے 7 اعشاریہ11 ارب ڈالرز، برطانیہ سے 5 اعشاریہ 36 ارب ڈالر، امریکا سے 3 اعشاریہ 43 ارب ڈالر جبکہ یورپی یونین سے 4 اعشاریہ1 ارب ڈالرز پاکستان بھیجے گئے۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ قائم ، انڈیکس ایک لاکھ ، 24 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ قائم ، انڈیکس ایک لاکھ ، 24 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ، انڈیکس ایک لاکھ 24 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تبادلہ مارکیٹ میں ڈالر بھی سستا ہو گیا ہے۔بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھی گئی ، کاروبار شروع ہوتے ہی 100 انڈیکس میں 1987 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 24 ہزار 12 پوائنٹس کی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا تھا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا تھا۔دوسری جانب انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں بھی 21 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ، پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق امریکی ڈالر 282 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

  • ہر چیز قرض لیکر دے رہے ہیں ، مالی گنجائش کے مطابق ہی ریلیف دے سکتے ہیں ، وزیر خزانہ

    ہر چیز قرض لیکر دے رہے ہیں ، مالی گنجائش کے مطابق ہی ریلیف دے سکتے ہیں ، وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کوشش تھی تنخواہ دار طبقے کو جتنا ممکن ہو سکے ریلیف دیں، چھوٹے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیں گے۔پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیرف اصلاحات سے برآمدات میں اضافہ ہو گا، مجموعی طور پر 7 ہزار ٹیرف لائنز ہیں، 4 ہزار ٹیرف لائنز میں کسٹم ڈیوٹی کو ختم کر دیا گیا ہے، اس طرح کی اصلاحات گزشتہ 30 سال میں پہلی بار کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سالوں میں ٹیرف میں کٹوتی کو مزید آگے لے کر جائیں گے اور ٹیرف کے پورے نظام میں مجموعی طور پر 4 فیصد کمی کی جائے گی، اصلاحات لا کر ملک کو معاشی طور پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹرکچرل ریفارمز مزید آگے لے کر جائیں گے، تنخواہ دار طبقے کو جتنا ریلیف دے سکتے تھے دیا ہے، وزیراعظم اور میری خواہش تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیں، پنشن اور تنخواہوں کو مہنگائی کے ساتھ لنک کرنا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مالی گنجائش کے مطابق ہی ریلیف دے سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت جو کچھ دے رہی ہے قرضے لے کر دے رہی ہے، اپنی چادر کے مطابق آگے چلنا ہے، خسارے کی وجہ سے ہر چیز قرضہ لے کر کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سال ہم نے انفورسمنٹ کے ذریعے 400 ارب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، دو ہی طریقے ہیں یا تو انفورسمنٹ کر لیں یا ٹیکس لگا دیں، اس حوالے سے قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ سے بات کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے میں کوئی اضافہ ٹیکس نہیں لگایا گیا، چھوٹے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں گے، اسٹیٹ بینک کیساتھ اپنے گھر بنانے والوں کیلئے قرضہ اسکیم لا رہے ہیں ، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ جتنا ہو سکے ریلیف فراہم کیا جائے، پنشن کے حوالے سے بھی اصلاحات کی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی چیز صوبوں کی مشاورت کے بغیر نہیں ہو گی ، وزیراعظم نے خود کہا اگست میں این ایف سی کمیشن کو بلایا جائے گا، این ایف سی کمیشن میں چیزوں کو دیکھا جائے گا۔