اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کم سے کم اجرت نہ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کم سے کم اجرت نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، کم سے کم اجرت کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا، کم از کم تنخواہ کو مہنگائی کی شرح سے دیکھنا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جو چیز کبھی ریورس نہیں ہوتی تھی اس کو ریورس میں ڈال دیا ہے، کئی تجاویز ایسی ہیں جن پر کام ہورہا ہے، میں نے پچھلے 10 سے 11 سال میں کوئی اوپر جاتی چیز نیچے آتی نہیں دیکھی۔وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ٹیرف پر بڑی تفصیل سے بات کی ہے، بات کی تھی کہ اصلاحات کیوں کرنے جارہے ہیں، بار بار یہ بات ہوتی ہے کہ اسٹرکچرل ریفارمز کیوں نہیں ہورہیں، زراعت اورلائیو سٹاک سے متعلق پالیسی ہونی چاہیے، چھوٹے کسانوں کی فنانسنگ کو بڑھانا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ ہم جو بھی چیز کررہے ہیں وہ قرضہ لے کر کر رہے ہیں، پھر آپ میرے سے سوال پوچھیں گے کہ قرضے بڑھ رہے ہیں، تنخواہ کو مہنگائی سے لنک کر کے چلنا ہے، ملک میں کچھ اخراجات بڑھائے ہیں اس کی ضرورت ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ وفاقی اخراجات کو کم کریں، اس بار وفاقی حکومت کے اخراجات 2فیصد سےکم بڑھے ہیں۔یاد رہے کہ ملک میں اس وقت کم سے کم اجرت 37000 روپے ہے جو گزشتہ بجٹ میں مقرر کی گئی تھی۔
Category: کاروبار
-

موٹروے ٹول ٹیکس میں اضافہ: نان ایم ٹیگ اور کم بیلنس والی گاڑیوں پر 50 فیصد زائد چارجز نافذ
اسلام آباد: نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے موٹروے ٹول ٹیکس میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق 15 جون 2025 سے ہو گا۔ نئے نرخوں کے مطابق نان ایم ٹیگ گاڑیوں اور کم بیلنس رکھنے والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول چارجز لاگو کیے جائیں گے۔
موٹروے کے مختلف سیکشنز پر کاروں کے نئے ٹول چارجز درج ذیل ہیں:
اسلام آباد تا لاہور (M-2): 1800 روپے
لاہور تا عبدالحکیم (M-3): 1200 روپے
پنڈی بھٹیاں تا ملتان (M-4): 1600 روپے
ملتان تا سکھر (M-5): 1800 روپے
ڈی آئی خان تا حاکلہ (M-14): 1000 روپے
حسن ابدال تا مانسہرہ (E-35) ایکسپریس وے: 450 روپے
کمرشل گاڑیوں کے لیے ٹول نرخوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے:
لاہور تا اسلام آباد (M-2):
2 اور 3 ایکسل ٹرک: 7900 روپے
آرٹی کیولیٹڈ ٹرک: 10200 روپے
موٹروے حکام کے مطابق ایم ٹیگ سسٹم کے ذریعے ٹریفک کی روانی اور نگرانی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ سے قبل ایم ٹیگ حاصل کر لیں اور بیلنس کی باقاعدہ جانچ کرتے رہیں تاکہ اضافی ٹول چارجز سے بچا جا سکے۔ -

پاکستانی فضائی حدود بند، بھارتی ایئر لائن کو روزانہ 20 کروڑ کا دھچکا
نئی دہلی: ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمبل ولسن نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ان کی ایئرلائن کے اخراجات اور پروازوں کے دورانیے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔کیمبل ولسن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی ٹیم نے پروازوں کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا تاہم پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث مغربی ممالک کی جانب جانے والی پروازوں کا دورانیہ ایک گھنٹہ بڑھ گیا ہے جس سے منافع پر منفی اثر پڑا ہے۔یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارت کے لیے بند کر دی تھی جس سے نہ صرف ایئر انڈیا بلکہ دیگر بھارتی ایئرلائنز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ایئر انڈیا کو اس بندش کے باعث روزانہ 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے اور اس نقصان کی تلافی کے لیے بھارتی حکومت کو باضابطہ خط بھی لکھا جا چکا ہے۔اس تناظر میں یہ بھی یاد رہے کہ بھارت نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے آزاد کشمیر سمیت مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے تھے جن میں 5 پاکستانی شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جواب میں پاکستان نے بھارتی رافیل طیاروں سمیت 6 جنگی طیارے مار گرائے اور ایس 400 اینٹی ایئر سسٹم کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
-

تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ 54 ہزارروپے ہو گئی
کراچی: کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج منگل کے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید ایک ہزارروپےکااضافہ ہوا جس کے بعد ایک تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ 54 ہزار100 روپے ہو گئی۔اسی طرح 10گرام سونا 857 روپے مہنگا ہوکر 3 لاکھ3 ہزار583روپے کاہو گیا ہے، یاد رہے گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 5ہزار 900 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔سرمایہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں اضافے کے باعث سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا۔
-

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا کرپٹو کونسل پر تحفظات کا اظہار
اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے کرپٹو کونسل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام کو طلب کرلیا۔ذرائع کے مطابق پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا، اجلاس میں کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے متعدد ممبران نے کرپٹو کونسل پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ سینیٹر ہمایوں مہمند اور کامران مرتضیٰ نے کونسل سے متعلق قانونی پیچیدگیوں پر سوالات اٹھا دیے۔جس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے کہا کہ نیشنل کرپٹو کونسل کے چیئرمین وزیر خزانہ ہیں اور میں بطور سیکریٹری آئی ٹی اس کا ممبر ہوں۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں پر میں پارلیمنٹ میں بل لایا تھا، میں نے 3 ماہ لگا کر یہ بل بنایا،حکومت نے میرے بل کو ختم کرکے خود ہی اس پر کونسل لے آئے ہیں۔سیکریٹری آئی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کرپٹو کونسل ایک ایڈوائزری باڈی ہے، ہم اس کونسل میں محض آئی ٹی سے متعلق اپنا کردار ادا کررہے ہیں، وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا کام ریگولیٹ کرنا نہیں ہے۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کے ایکزیکٹیو آرڈر سے کوئی کونسل بن سکتی ہے؟سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہر کونسل کے پیچھے کوئی قانون موجود ہوتا ہے، کیا کرپٹو کونسل کے پیچھے کوئی قانون ہے، اگر کوئی بڑا فراڈ، دھوکہ ہو جائے تو کون ذمہ دار ہوگا، اگر کوئی ملک میں کرپٹو سے متعلق مسئلہ پیش آ جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ کرپٹو کونسل کو وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے پاس ہونا چاہیے تھا، وزارت خزانہ تو اپنا کام نہیں ٹھیک طریقہ سے کررہی،کرپٹو تو آئی ٹی کا مینڈیٹ ہے۔بعد ازاں، قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام کو طلب کرلیا۔
-

اے پی سی سی اجلاس: آئندہ مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر
اسلام آباد: ۔سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی گئی۔آئندہ مالی سال کے ممکنہ معاشی اہداف مقرر کرنے کے لیے وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی نے بجٹ 26-2025 کے لیے اہم معاشی اہداف کی منظوری دی۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے، صوبے 609 ارب روپے زیادہ خرچ کریں گے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے لیے بیرون ملک سے 270 ارب قرض لے گی، اس کے علاوہ چاروں صوبے بھی 802 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لیں گے۔پنجاب حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 1190 ارب خرچ کرے گی، اگلے سال سندھ حکومت نے 887 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام تیار کیا ہے، خیبرپختونخوا کی جانب سے 440 ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے جبکہ بلوچستان حکومت اگلے سال ترقیاتی منصوبوں پر 280 ارب خرچ کرے گی۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وزارتوں کو آئندہ مالی سال ترقیاتی منصوبوں کیلئے 662 ارب روپے ملیں گے، این ایچ اے کو آئندہ مالی سال 228 ارب روپے ملیں گے جبکہ پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 104 ارب روپے دیئے جائیں گے۔
-

ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا بھارت میں مینو فیکچرنگ میں دلچسپی نہیں رکھتی، بھارتی وزیر
نئی دہلی: بھارتی ہیوی انڈسٹریز کے وزیر ایچ ڈی کمار سوامی کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا بھارت میں مینو فیکچرنگ میں دلچسپی نہیں رکھتی۔بھارتی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ ٹیسلا نے صرف بھارت میں صرف شورومز کھولنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ جبکہ کار بنانے والی یورپی کمپنیوں نے بھارت میں مینوفیکچرنگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ایلون مسک نے بھارت میں ٹیسلا فیکٹری لگائی تو یہ امریکا کے ساتھ نا انصافی ہوگی، جبکہ گزشتہ دنوں بھی ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیسلا سمیت دیگر کمپنیوں کو کاریں، پرزے امریکا میں بنانے چاہئیں۔ایلون مسک ماضی میں بھارت میں ہائی امپورٹ ڈیوٹیز کو سرمایا کاری میں رکاوٹ قرار دے چکے ہیں۔
-

نصف سے زائد بجٹ قرض ادائیگی میں جائیگا، 118 سے زائد منصوبے بند کردیے، احسن اقبال
اسلام آباد:وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ نصف سے زائد بجٹ قرضوں کی ادائیگی میں جائے گا، 118 سے زائد غیر ضروری منصوبے بندکیے ہیں۔سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کا اہم اجلاس وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر خالد مقبول، مختلف وفاقی سیکریٹریز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں کے نمائندے، قومی و صوبائی اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز نے شرکا کو آئندہ سالانہ ترقیاتی منصوبہ، معاشی روڈ میپ اور ترجیحی اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں کے معاشی چیلنجز کے باعث قومی ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ترقیاتی فنڈز میں وسعت وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ عوام صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور انفراسٹرکچر میں بہتری کی توقع منتخب حکومتوں سے رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاقی بجٹ کا نصف سے زائد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے اور موجودہ وسائل میں ترقیاتی بجٹ کو مینج کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں تمام وزارتوں کے منصوبے شامل کرنا ممکن نہیں تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی شرح نمو، عوامی مسائل کے حل اور معاشی اہداف کے حصول کے لیے چیلنج کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس چوری کی روک تھام اور ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ کے لیے قومی سطح پر مربوط مہم کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس ریونیو کی شرح کم ترین ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ 118 سے زائد کم ترجیحی یا غیر فعال منصوبے بند کیے جا چکے ہیں جب کہ محدود فنڈز میں صرف اہم قومی منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ایس ڈی پی میں غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبے بھی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دیا میر بھاشا ڈیم، سکھرحیدرآباد موٹر وے، چمن روڈ، قراقرم ہائی وے (فیز ٹو) جیسے بڑے منصوبے قومی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی بروقت تکمیل پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اُڑان پاکستان پروگرام کے تحت تمام صوبوں میں ورکشاپس کا انعقاد کر کے قومی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ وقت کے ساتھ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا، نہ کہ اسے مزید محدود کرنا۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں نئے منصوبے شروع کرنے کے بارے میں سوچتے تھے ،آج جاری منصوبوں کو محدود کرنے کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ قومی ترقی میں سب کو اپنی ذمے داری نبھانی ہوگی۔ اگر کوئی منصوبہ شامل نہ ہو سکا تو پیشگی معذرت۔
-

آئندہ بجٹ میں پٹرول سمیت ہر قسم کی نقد خریداری پر اضافی رقم لینے کی تجویز
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ میں پٹرول سمیت ہر قسم کی نقد خریداری کی حوصلہ شکنی کے لیے اضافی رقم لینے کی تجویز پیش کر دی۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق بجٹ 26-2025 میں نقد خریداری کی حوصلہ شکنی پر مبنی تجاویز فنانس بل کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پٹرول پمپ سے نقد تیل خریدنے پر 3 روپے تک اضافی وصولی کی تجویز زیر غور ہے، اس سے پٹرول پمپ پر ٹیکس چوری اور ملاوٹ پر قابو پانے میں مدد ملے گی، پٹرول پمپس پر نقد کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگی کے اقدامات بھی کیے جائیں گے، کیو آر کوڈز، ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈز اور موبائل ادائیگی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مینو فیکچررز اور درآمد کنندگان نقد فروخت پر اضافی 2 فیصد ٹیکس لے سکیں گے، اس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ متعدد اجلاس ہو چکے ہیں، دکانوں پر نقد خریداری پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ ریسٹورنٹس پر پہلے ہی کارڈ سے ادائیگی پر ٹیکس کی چھوٹ ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کی مد میں زیادہ ریلیف نہیں مل سکے گا، تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف معمولی نوعیت کا ہو گا۔ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ خریدار زیادہ ٹیکس ادا کرنے کے بعد نقد ادائیگی کرنے میں آزاد ہوں گے، درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کو اپنےسپلائرز اور خریداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر معیاری 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کرنا ہو گا، ادائیگیاں بھی سادہ کیو آر کوڈز اور دیگر ڈیجیٹل حل کے ذریعے دستیاب ہوں گی۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ یونٹ منیجر، جیولرز، شادی ہالز، ڈاکٹر اور وکلاء کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
-

اعتماد میں لیے بغیر بجلی ٹیرف کم کیوں کیے؟ آئی ایم ایف نے حکومت سے وضاحت مانگ لی
اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعتماد میں لیے بغیر بجلی ٹیرف میں کمی کرنے پر حکومت سے وضاحت طلب کر لی۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے کرپٹو کرنسی کا اسٹیٹس تاحال لیگل نہ ہونے پر بِٹ کوائن مائننگ اور اے آئی کے لیے بجلی مختص کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ قرض پروگرام میں رہتے ہوئے تمام اقدامات مشاورت سے کیے جائیں، بِٹ کوائن مائننگ کو بجلی فراہم کرنے پر بھی ورچوئلی بات ہوگی، معاشی ٹیم کو بجٹ پر مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے سخت سوالوں کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق بِٹ کوائن مائننگ کے لیے بجلی فراہمی کے اقدام پر آئی ایم ایف کی جانب سے مزید سخت بات چیت کا خدشہ ہے۔
