کراچی:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملکی درپیش چیلنجز صرف نعروں سے نہیں خدمت کے جذبے سے حل ہوں گے۔کراچی میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سندھ ہمیشہ سے علم، برداشت اور ثابت قدمی کی سرزمین رہا ہے، وادی سندھ کی تہذیب سے لیکر جدید کراچی تک اس مٹی نے مفکرین، معالجین اور مصلحین پیدا کیے۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کوآج بھی صحت کےشعبےمیں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، زچہ وبچہ کی اموات،غذائی قلت،موسمیاتی تبدیلیوں پیدا بیماریاں کا سامنا ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا مزید کہنا تھا کہ درپیش چیلنجز صرف نعروں سے حل نہیں ہوں گے، آپ کی مہارت،اخلاق اورضرورت کےوقت خدمت کے جذبے سے حل ہوں گے۔
Category: اہم خبریں
-

صدر ٹرمپ کا ایران کیساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر نے ایران پر معاشی حملہ کرتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دیں۔صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا، ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے کہا اضافی ٹیرف کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، فیصلہ حتمی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ اس اضافی ٹیرف کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ حتمی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ بار بار ایران میں مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور خبردار کرچکے ہیں کہ ان کے پاس انتہائی سخت آپشنز موجود ہیں۔ان آپشنز میں ایران کیخلاف فوجی کارروائی بھی شامل ہے، امریکی انتظامیہ کے مطابق وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہے۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت امریکا کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ رابطے بدستور قائم ہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ انتباہ کہ اگر احتجاج خونریز ہوا تو فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے، دراصل ’’دہشت گرد عناصر‘‘ کو اکسانے کے مترادف ہے۔یاد رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور امریکی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں اب تک 490 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
-

عدالت نے درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر پابندی عائد لگا دی
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے درختوں کی کٹائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ضلع بھر میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی۔لاہورہائیکورٹ نے غیر مجاز طور پر کسی بھی درخت کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کی، عدالت کی طرف سے پی ایچ اے کے تمام ڈائریکٹرز کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایم ڈی پی ایچ اے لاہور نے پابندی سے متعلق مراسلہ جاری کر دیا، جس کے مطابق درختوں کی شاخوں کی معمولی کٹائی، تراش خراش یا پروننگ بھی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔مراسلے کے مطابق بجلی کے تاروں کی کلیئرنس، حفاظتی اقدامات یا خوبصورتی کی بحالی کے لیے بھی اجازت درکار ہوگی۔ماحولیاتی تحفظ اور شہری ہریالی کے فروغ کیلئے درختوں کا تحفظ ناگزیر ہے، کسی قسم کی خلاف ورزی پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مراسلہ ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور کے تمام ڈائریکٹرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور انچارج افسران کو جاری کیا گیا ہے۔
-

اسلام کی بقاآزمائشوں میں ہے:فضل الرحمٰن:مدارس کو لاوارث نہ سمجھیں:تقی عثمانی مدارس پرکوئی سمجھوتہ قبول نہیں :سربراہ جے یو آئی :اسلام کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں:صدر وفاق المدارس خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دینگے :قاری حنیف جالندھری،مولانا امجدخان ودیگر کا بھی جا معہ اشرفیہ میں خطاب ایران پر ممکنہ حملہ،ٹرمپ کو بریفنگ:اسرائیل میں ہائی الرٹ کارروائی کی تو دونوں ملکوں کے فوجی اڈے ہمارا جائز ہدف ہونگے:ایرانی حکام ٹرمپ کا ایرانی فورسز کو نشانہ بنانے سمیت مختلف آپشنز پر غور:امریکی میڈیا،فوجی حملوں کے منفی اثرات کے خدشات،آئندہ ہفتے باضابطہ بریفنگز ،کل امریکی قومی سلامتی کا اجلاس ہو گا احتجاج کا تیسرا ہفتہ، 500 مظاہرین ہلاک ،10 ہزار گرفتار:امریکی تنظیم، 114 سرکاری اہلکار مارے گئے ، ایرانی میڈیا ، دہشتگرد ملک میں داخل: صدرپزشکیان،فسادات خدا سے جنگ :پراسیکیوٹر
واشنگٹن،تہران : امریکی صدر ٹرمپ ایران میں جاری خونریز مظاہروں کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران میں مداخلت سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس میں تہران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک اور گرفتار ہو چکے ہیں۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ فوجی حملے الٹا اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے ایرانی عوام حکومت کے حق میں متحد ہو سکتے ہیں یا ایران جوابی فوجی کارروائی کر سکتا ہے ۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کے لیے ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں جو براہِ راست فوجی حملوں سے کم درجے کے ہوں۔ ان آپشنز میں ایرانی فوج اور حکومتی اداروں کے خلاف سائبر کارروائیاں شامل ہیں، جن کا مقصد مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی صلاحیت کو متاثر کرنا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکومتی شخصیات اور توانائی و بینکاری جیسے اہم معاشی شعبوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ توڑنے کے لیے اسٹارلنک جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے ، تاکہ مظاہرین عالمی رابطے میں رہ سکیں۔امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے لیے ایران سے متعلق مختلف آپشنز کی تیاری میں متعدد امریکی ادارے شامل ہیں، جبکہ آئندہ ہفتے باضابطہ بریفنگز متوقع ہیں۔منگل کو صدر ٹرمپ اعلیٰ قومی سلامتی حکام کا اجلاس بلا کر آئندہ لائحہ عمل پر غور کریں گے ۔امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکا ایران کی مدد کے لیے تیار ہے ۔ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انہیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکا ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیل ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے ۔ اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے 11 جنوری کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اس امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے مداخلت کر سکتا ہے ۔ادھر وائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 جنوری کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا۔ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز جائز اہداف تصور کیے جائیں گے ۔پارلیمان کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپیکر نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ واضح اور عملی خطرات کی بنیاد پر پیشگی اقدام بھی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے لیے ہے کہ وہ غلط اندازے نہ لگائیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت چار محاذوں اقتصادی، فکری، عسکری اور دہشت گردی پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف برسرِپیکار ہے ۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کا مقصد حالیہ 12 روزہ جنگ کے ذریعے ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلنا تھا۔ایرانی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تربیت یافتہ ہیں، کچھ دہشت گردوں کو باہر سے ملک میں داخل کیا گیا، مساجد کو آگ لگائی گئی اور رشت میں بازاروں کو جلایا گیا۔
-

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ سعودی عرب، مدینہ منورہ سے جدہ پہنچ گئے
جدہ: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار دورہ سعودی عرب کے دوران مدینہ منورہ سے جدہ پہنچ گئے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے نائب وزیراعظم کا استقبال کیا، سعودی رائل پروٹوکول اور جدہ میں پاکستان کے ڈپٹی قونصل جنرل بھی موجود تھے۔اسحاق ڈار جدہ میں او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے، نائب وزیراعظم جدہ میں پاکستان قونصلیٹ کی نئی چانسلری عمارت کا افتتاح بھی کریں گے۔
-

پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں ،امیر مقام لوگوں کی ن لیگ میں شمولیت کی وجہ نواز شریف اور ان کی خدمت کا سفر ہے
اسلام آباد:وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، ن لیگ میں شمولیت کی وجہ ماضی میں نواز شریف اور ان کی خدمت کا سفر ہے ، چوہدری عبدالرزاق اور ان کی ٹیم کی شمولیت کے بعد سماہنی میں ن لیگ ایک ناقابل تسخیر قوت بن گئی ، جب بھارت نے بزدلانہ حملہ کیا تو کشمیر کا جذبہ اور ولولہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، بھارت یہ جذبہ اور ولولہ کہاں سے لائے گا۔ شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین سے آئے ہوئے مہمانوں کو جماعت کی طرف سے ویلکم اور مبارکباد پیش کرتا ہوں، امیر مقام نے کہا کہ پہلے مجھے کشمیر کا کچھ پتہ نہیں تھا ،اب میں کشمیر کی ٹیم کو اپنا حصہ سمجھتا ہوں، کشمیر کی پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ محبت دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے ۔
-

پتنگ، ترازو اور بلا نہیں صرف بلاول کام کر رہا ہے: مرتضیٰ وہاب
کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلاول بھٹو نے کراچی والوں سے ترقیاتی کاموں کا وعدہ کیا تھا، پتنگ، ترازو اور بلا نہیں صرف بلاول کام کر رہا ہے۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلعِ غربی میں 182 ملین روپے سے زائد لاگت کے سڑک بحالی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے وزیراعلیٰ سندھ علی احمد جان، چیئرمین موریرو میر بہار ٹاؤن علی اکبر، سٹی کونسل کے اراکین، منتخب نمائندے اور دیگر بھی موجود ہیں۔
-

غزہ میں صیہونی فورسز کی بربریت جاری، مزید 4 فلسطینی شہید
غزہ: اسرائیلی فوج کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں11 سالہ بچی سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔عرب میڈیا کے مطابق شمالی اور جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 11 سالہ بچی سمیت 4 فلسطینی شہید اور 3 زخمی ہوئے۔گزشتہ سال 10 اکتوبر میں معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1100 بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرچکا ہے جس میں 400 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔دوسری طرف اسرائیل نے حماس سے آخری یرغمالی کی باقیات کا مطالبہ کر دیا، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے آخری یرغمالی کی باقیات ملنے تک غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے تک نہیں جائیں گے اور نہ ہی رفح کراسنگ کھولیں گے۔
-

پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدر آباد 175، آٹھویں سیالکوٹ 185 کروڑ میں فروخت
اسلام آباد: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کیلئے دو نئی ٹیموں کی نیلامی مکمل ہوگئی، 7ویں ٹیم حیدر آباد 175 کروڑ جبکہ 8ویں ٹیم سیالکوٹ 185 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی۔جناح کنوینشن سینٹر اسلام آباد میں ہونیوالی نیلامی کی تقریب میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی اور وفاقی وزرا سمیت بڑی تعداد میں کھلاڑیوں اور حکام نے شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں نیلامی میں حصہ لینے والے 9 بڈرز اور 6 ممکنہ شہروں کا تعارف کرایا گیا، اس کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے گھنٹی بجا کر نیلامی کھلنے کا باضابطہ اعلان کیا جبکہ وسیم اکرم نے آکشنر کی ذمہ داریاں سنبھالیں، نیلامی میں بیس پرائز 110 کروڑ روپے رکھا گیا تھا جس پر کم ازکم ایک کروڑ روپے کے اضافے کی شرط رکھی گئی تھی۔ابتدائی نیلامی کے بعد ایف کے ایس نے 175 کروڑ روپے کی بولی لگا کر پی ایس ایل کی 7ویں ٹیم خرید لی جس کے بعد ٹیم کے لیے حیدرآباد کا نام چن لیا جبکہ نیلامی کے دوسرےاور آخری مرحلے میں پی ایس ایل کی 8ویں ٹیم اوزی ڈویلپرز نے 185 کروڑ روپے میں خریدی اور اس ٹیم کے لیے سیالکوٹ شہر کے نام کا انتخاب کیا۔ قبل ازیں تقریب کے آغاز میں حالیہ ٹورنامنٹس میں کامیابیوں پر پاکستان شاہینز اور ہانگ کانگ سکسز کی ٹیمیوں کو انعامات سے نوازا گیا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے فاتح ٹیموں کو انعامات دیے۔ہانگ کانگ سپر سکسز کی فاتح پاکستانی ٹیم کو ایک کروڑ 85 لاکھ روپے جبکہ رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ کی فاتح ٹیم کو 9 کروڑ روپے کی انعامی رقم دی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا کہ لیگ کی ایک دہائی چیلنجز اور کامیابیوں پر مشتمل تھی، ہم اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ ترقی کر رہے ہیں۔انہوں نے پی ایس ایل کی ٹیموں، کھلاڑیوں، اسپانسرز، فرنچائز اور شائقین کا شرکا ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل آج ان کی وجہ سے دنیا کے بہترین لیگس میں شامل ہے۔واضح رہے کہ پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026ء تک ہوگا، نئی ٹیموں کی شرکت سے پی ایس ایل ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہوجائے گی۔
-

برطانیہ اور فرانس کا یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان
پیرس: برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دونوں ممالک یوکرین میں اپنی فوج تعینات کریں گے۔یہ اعلان برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیرس میں یوکرین کے اتحادی ممالک کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔سرکیئر اسٹارمر کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے ایک اعلانِ نیت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت یوکرین میں مختلف مقامات پر فوجی مراکز (ملٹری ہبز) قائم کیے جائیں گے، ان کا مقصد مستقبل میں کسی بھی ممکنہ روسی جارحیت کو روکنا اور یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بعد ازاں بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک یوکرین کو مضبوط اور قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنگ کے بعد خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔اجلاس میں شریک اتحادی ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کی نگرانی میں امریکہ مرکزی کردار ادا کرے گا، تاہم یوکرین کے ان علاقوں کے مستقبل پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا جو اس وقت روس کے کنٹرول میں ہیں۔واضح رہے کہ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ کا آغاز کیا تھا، جو اب تک جاری ہے۔روس کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی کو ’’جائز ہدف‘‘ سمجھا جائے گا۔ تاہم پیرس میں ہونے والے ان حالیہ اعلانات پر روسی حکومت نے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ماہرین کے مطابق برطانیہ اور فرانس کا یہ اعلان یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کے لیے اب تک کا سب سے مضبوط سیاسی اور عسکری اشارہ ہے، تاہم امن معاہدے، علاقائی تنازع اور روس کے ممکنہ ردعمل کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد ابھی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔
