لاہور : صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت پنجاب فیصل ایوب کھوکھر کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔جس میں راشن کارڈ کی تقسیم، ورکرز ویلفیئر فنڈز کی ریکوری، لاہور میں کم آمدن گھرانوں کے پائلٹ پروجیکٹ، لیبر ڈیپارٹمنٹ میں خالی اسامیوں اور ورکرز ویلفیئر سکولوں کی بسوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر محنت نے ہدایت کی کہ سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کارڈ کی تقسیم ترجیحی بنیادوں پر تیز رفتاری سے یقینی بنائی جائے جبکہ ورکرز ویلفیئر فنڈز کی ریکوری کے لئے تمام ڈائریکٹرز اور فیلڈ فارمیشن کو فوری طور پر متحرک کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے دس ہزار کم آمدن گھرانوں کے لئے ماہانہ تین ہزار روپے سبسڈی کے پائلٹ پروجیکٹ پر عملدرآمد تیز کیا جائے ، جبکہ سکول بسوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے لئے ورکنگ پیپرز فوری طور پر تیار کیے جائیں۔ فیصل ایوب کھوکھر نے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں خالی اسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
Category: اہم خبریں
-

مذاکرات کا حامی ،پارلیمنٹ میں رہ کرمقابلہ کرینگے :علی محم
ہور :تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے ،ابھی وہاں سے استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں، ہمارے مخالفین کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ سے نکل جائے ،حکومت ہماری لیڈرشپ کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ہمارے ارکان اسمبلی کو 10،10 سال کی سزائیں دلوا دیں،ہم پارلیمنٹ کے اندر رہ کر مقابلہ کریں گے ،قائمہ کمیٹیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ عمران خان کی طرف سے آیا ہے ، پارٹی کی تمام قیادت نے اس کو قبول کیا ،ہم وہ سپیس نہیں دیں گے جو حکومت چاہتی ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں قائمہ کمیٹیوں سے استعفی نہیں دینا چاہئے ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یہ بہت بڑا فورم ہے ،اس کو بھی نہیں چھوڑنا چاہئے تھا،بعض اوقات پارٹی کے جو فیصلے ہوتے ہیں ، قبول کرنے پڑتے ہیں، تمام عہدے خان صاحب کی امانت ہیں۔علی محمد خان نے دنیانیوزکے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کیساتھ ‘‘میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں مذاکرات کا حامی ہوں،جب یہ بات کر تا ہوں تو مجھ پر تنقید ہوتی ہے ، میرے خلاف لوگ عمران خان کے کان بھرتے ہیں،میں یہ تو نہیں کہتا کہ ڈیل کرو، یہ کہتا ہوں کہ ہم اپنا پرانا اصول چھوڑ دیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سے صرف وکلا ہی ملاقات کررہے ہیں، سیاسی قیادت ملاقات نہیں کررہی،پالیسی تب بہتر ہوتی ہے جب سیاسی قیادت فیصلے کرے ،وکیل سیاسی کام نہیں کرسکتا،فیملی ممبرز کی اپنی اہمیت ہے ،26 نومبر سے پہلے میں نے عمران خان سے بات کی تھی کہ ان عدالتوں سے مجھے کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا،آج وہ میری بات ثابت ہو گئی ،26ویں ترامیم کے بعد عدالتوں کی حالت بدل چکی ہے ۔
-

پاسپورٹ بلاک ہونے کا معاملہ، علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا پاسپورٹ بلاک ہونے کا معاملہ، علی امین گنڈاپور نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا پاسپورٹ اور نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔درخواست میں کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو ہیں لیکن ان کا پاسپورٹ بلاک ہے، علی امین گنڈاپور نے قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد درخواست دائر کی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی لیگل ٹیم نے بتایا کہ درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
-

چھوٹے صوبے بنائے بغیر معیشت نہیں چل سکتی: ایس ایم تنویر
فیصل آباد:پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ چھوٹے صوبے بنائے بغیرمعیشت نہیں چل سکتی۔پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ دیگر ملکوں میں جوطریقہ کار ہے اِس کے مطابق ہمیں بھی صوبے بنانے چاہئیں۔اُنہوں نے کہا کہ 100 بلین کی ایکسپورٹ کا نیا ہدف مقرر کیا گیا، 40 روپے والا یونٹ 31 روپے کا ہو گیا ،22 فیصد جو سود تھا 11 فیصد پر آگیا ہے، ابھی سفر طویل ہے، صدرِمملکت اور وزیر اعظم معاشی ترقی چاہتے ہیں۔پیٹرن انچیف یو بی جی کا کہنا تھا کہ412 بلین ڈالر جی ڈی پی ہے، ہم نے اِس ملک کو ایشین ٹائیگر بنانا ہے، ڈویژن میں 16 ملین کی آبادی ہے اور ہائی کورٹ کیلئے لاہور جانا پڑتا ہے،لاہور ہائی کورٹ ہفتے میں دو دن دیتی ہے۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ 21 ہسپتال ہیں ڈویژن میں، سات لاکھ سے زائد افراد کیلئے ایک ہسپتال ہے،22 ہزار 500 سکولز ہیں، کیا یہ سکول پرفارم کر رہے ہیں؟ کیا سرکاری سکولز میں پڑھنے والے بچے دُنیا سے مقابلہ کر سکیں گے؟اُن کا کہنا تھا کہ سالانہ 40 بلین ڈالر کا تجارتی خسارا ہے، چالیس فیصد بے روزگاری کی شرح ہے، ہم بجلی کی قیمت کیلئے 9 سینٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں،80 ٹریلین روپے کی مقامی بورنگ ہے، جس پر 11 فیصد سود دے رہے ہیں جو چھ فیصد ہونا چاہیے۔پیٹرن انچیف یو بی جی نے کہا ہے کہ مشیر وزیراعظم ہارون اختر خان کے کہنے پر انڈسٹریل پالیسی بنا رہے ہیں، آئی ایم ایف کا قرض واپس نہیں ہو سکتا تو بجلی سستی نہیں ہو سکتی، جس قدر زائد سود دے رہے ہیں کیا اِس سے 6 ماہ میں آئی ایم ایف کا قرض ادا کر سکتے ہیں؟ایس ایم تنویرکا کہنا تھا کہ ہم گلگت سکردو میں فروٹ ضائع کرتے ہیں، چنیوٹ میں فرنیچر ہے، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں انڈسٹری ہے،36 ڈویژن ہے ہر کسی پر محنت کرنا پڑے گی،120 بلین کا فارن ڈیڈ کیوں ہے؟ 180 ٹرین کا مقامی قرضہ کیوں ہے؟اُنہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں جتنے بھی ڈویژن ہیں ان کو ایمپاور کیا جائے، ایڈمنسٹریٹو یونٹ کہیں،صوبہ کہیں جس کی ڈی سینٹرلائزیشن لازم ہے،انڈیا میں آج 36 صوبے ہیں، ہمارے 4 ہی ہیں ،کوریا میں 1994 میں، چائنہ 1980 میں تقسیم ہوا۔پیٹرن انچیف یو بی جی کا کہنا تھا کہ جب تک چھوٹے صوبے نہیں بنائیں گے اکانومی نہیں چل سکتی، حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اِسے سنجیدہ لیا جائے۔ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے ہمیں آگے جانا ہے،اِس کو ایڈمنسٹریٹو یونٹ بولیں یا صوبہ، بس کر دیں، اگر یہ نہیں کرتے تو ترقی نہیں کر سکتے۔
-

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کا ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوپمنٹ نمائش میں پاکستان پویلین کا دورہ
لندن: برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے لندن میں جاری ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل (DSEI-2025) نمائش میں قائم پاکستان پویلین کا دورہ کیا۔ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے مختلف سٹالز کا معائنہ کیا اور پاکستان کی دفاعی صنعتوں کی نمائندگی کرنے والے حکام سے ملاقات کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف اور ڈائریکٹر جنرل ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن بھی موجود تھے۔ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری صلاحیتیں مقامی طور پر تیار کی ہیں، جس کا عملی مظاہرہ دنیا نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران دیکھا، ہمیں اپنی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ معیار پر فخر ہے۔لیفٹیننٹ جنرل تبسم حبیب، ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف، ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل میں پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
دفاعی نمائش ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل (DSEI-2025) میں 90 سے زائد ممالک، 3300 عالمی شخصیات اور وفود، 460 سے زیادہ اعلیٰ فوجی افسران، 1600 سے زائد نمائش کنندگان اور تقریباً 45 ہزار شرکاء ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوئے ہیں۔ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن بھی اس نمائش میں اپنے دفاعی آلات کی نمائش کر رہے ہیں۔عالمی دفاعی نمائش میں کئی غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں تیار کردہ دفاعی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز خریدنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ -

امریکا کی بھارت پر انحصار کی پالیسی ناکام، پاکستان زیادہ قابلِ اعتماد ہے: امریکی جریدہ
واشنگٹن: امریکی جریدے فارن افیئرز نے اپنی تازہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ امریکا کی بھارت پر انحصار کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور پاکستان کو زیادہ قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا ہے۔امریکی میگزین کے مطابق بھارت کبھی بھی امریکا کا بھروسا مند اتحادی نہیں رہا اور نہ ہی وہ واشنگٹن کی توقعات پر پورا اترا، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا پاکستان پر اعتماد کرے اور اسے خطے میں اپنا سٹریٹجک پارٹنر بنائے۔فارن افیئرز نے اس بات کو اجاگر کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو سراہ چکے ہیں۔رپورٹ میں تجارتی و توانائی معاہدوں کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ریکوڈک سمیت پاکستان کے وسائل میں امریکی سرمایہ کاری خطے کے استحکام کا باعث بن سکتی ہے، اگر امریکہ صرف بھارت پر توجہ مرکوز رکھتا ہے تو اس سے خطے میں تقسیم اور جنگ کا خطرہ بڑھے گا۔پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی میں امریکا اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات پر زور دیا گیا ہے، اور پاکستان ماضی میں بھی بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت پر مرکوز امریکی پالیسی نہ صرف پاکستان کو دور کرے گی بلکہ خطے میں واشنگٹن کی پوزیشن کو بھی کمزور بنا دے گی۔
-

صدرِ مملکت چین کے سرکاری دورے پر چنگدو پہنچ گئے
چنگدو: صدرِ مملکت آصف علی زرداری چین کے سرکاری دورے پر چنگدو پہنچ گئے۔ایئرپورٹ پر چین کے نائب وزیر خارجہ سن وی دونگ اور صوبہ سیچوان کے نائب گورنر ہوانگ ریشیا نے صدرِ مملکت کا پُرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر پاکستان کے سفیر خالد ہاشمی اور چین میں پاکستان کے لیے نامزد سفیر جیانگ زائی ڈونگ بھی موجود تھے۔چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ اس دورے کی اہمیت کے پیش نظر خصوصی طور پر پہلے ہی چنگدو پہنچ گئے تھے اور وہ صدر آصف زرداری کے ہمراہ تمام ملاقاتوں اور سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔آصف علی زرداری اپنے دورے کے دوران چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید آگے بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔خیال رہے صدرِ مملکت دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
-

بیوی کا حق نان نفقہ ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط نہیں: سپریم کورٹ
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ بیوی کے حق نان نفقے کے لیے رُخصتی یا ازدواجی تعلق ضروری نہیں بلکہ نکاح ہوتے ہی شوہر پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بیوی کے نان نفقے کا بندوست کرے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رُکنی بنچ نے درخواست گزار عنبرین فاطمہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔پندرہ صفحات پر مشتمل سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوہر پر نان نفقہ اُسی وقت لازم ہو جاتا ہے جب نکاح کے دوران وہ ’’ہاں‘‘ کرتا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوہر کو نان نفقے سے صرف اسی صورت مبرا قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ یہ ثابت کرے کہ بیوی کو بغیر کسی جواز کے اُس سے دُور کیا گیا ہو یا بیوی نے بغیر کسی وجہ سے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے سے انکار کیا ہو۔یہ بھی کہا گیا کہ یہ مقدمہ اسلامی قانون، آئینی حقوق اور سماجی حقائق کے درمیان دو بنیادی سوالات اٹھاتا ہے، ایک مسلمان عورت شادی کے اندر کب نفقہ کی حقدار بنتی ہے اور کن حالات میں مرد کو اپنی بیوی کو خرچہ دینے سے چھوٹ دی جا سکتی ہے؟درخواست گزار عنبرین فاطمہ کی اسد اللہ نامی شخص سے نومبر سنہ 2012 میں شادی ہوئی تھی تاہم مصدقہ نکاح نامے کے باوجود اسد اللہ نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک رُخصتی نہیں لی۔عنبرین فاطمہ نے 2013 میں نان نفقے کے لیے درخواست دائر کر دی۔فیصل آباد کی فیملی کورٹ نے عنبرین فاطمہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسد اللہ کو انہیں ماہانہ تین ہزار روپے خرچہ دینے کا حکم دیا، بعدازاں ڈسٹرکٹ کورٹ نے یہ خرچہ بڑھا کر پانچ ہزار کر دیا۔اسد اللہ نے مئی 2014 میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ دونوں میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا تھا لہٰذا اسد اللہ اپنی بیوی کو نان نفقہ دینے کے پابند نہیں تھے۔
-

سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کی ہدایت
اسلام آباد: حکومت نے سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں میں ایک ماہ کا استثنیٰ دینے پر غور شروع کر دیا، اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی بلوں میں ریلیف دینے کے لیے وزارت خزانہ کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رابطے کی ہدایت کر دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ ریلیف پر بات چیت کرے، شہر ہوں یا دیہات، ریلیف پورے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں دیا جائے گا۔علاوہ ازیں حکومت نے اربن فلڈنگ پر قابو پانے کے لیے نیا لائحہ عمل اور پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، ملک بھر میں حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال پر وزارتِ موسمیاتی تبدیلی متحرک ہوگئی۔وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام کے مطابق وزیراعظم نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو اربن فلڈنگ اور جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ پر فوری اقدامات کا ٹاسک سونپ دیا ہے، وزیراعظم نے صوبوں کو کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان کے اہداف تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔حکام کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان پر صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کرے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی صوبوں سے اربن فلڈنگ اور جنگلات کے کٹاؤ کے معاملے پر مشاورت کرے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے صوبوں سے اس معاملہ پر رائے طلب کی جائے گی۔صوبوں کے ساتھ اربن فلڈنگ کو روکنے اور شہری علاقوں میں ڈرینیج سسٹم بہتر بنانے پر فوکس کیا جائے گا، وزارت موسمیاتی تبدیلی جنگلات کے کٹاؤ پر قابو پانے کے لیے صوبوں سے پالیسی پر بات چیت کرے گی، پالیسی کے ذریعے آئندہ ممکنہ سیلابی خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔
-

سیلاب سے پنجاب سندھ سرحد کی دریائی پٹی پر تباہی، زمینی رابطے منقطع، فصلیں برباد
لاہور، کشمور، ملتان، بہاولپور: سیلاب کی دوسری لہر پنجند پہنچ گئی، پنجاب سندھ سرحد کی دریائی پٹی پر تباہی مچنے لگی، دریائی پٹی کے متعدد دیہات سے زمینی رابطے منقطع ہو گئے، فصلیں برباد ہو گئیں، منچن آباد میں مزید 2 لاشیں مل گئیں۔منچن آباد کے نواحی علاقے لالیکا کے قریب بستی مموکا میں کشتی الٹنے کے باعث ڈوب کر لاپتہ ہونے والے دو نوجوانوں کی لاشیں مل گئی ہیں، جلالپور پیر والا میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، شجاع آباد اور دھوندو کے بند ٹوٹ گئے، چناب کا پانی 138 بستیاں بہا لے گیا۔سندھ پنجاب کی سرحدی پٹی کے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، کچے کے علاقوں میں موجود گنے، کپاس ،چاول اور سبزیوں سمیت دیگر فصلیں زیرآب آگئی ہیں۔
