کراچی:سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا اختتام مثبت زون میں ہوا۔ٹریڈنگ کا آغاز پہلی بار 1 لاکھ 69 ہزار پوائنٹس کی تاریخی حد سے ہوا ،اس کے بعد100 انڈیکس کی تیز رفتار نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے اور۔ پہلے ٹریڈنگ سیشن میں 100 انڈیکس ٹریڈنگ کا اختتام 812 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 69 ہزار 301 پوائنٹس کی ریکارڈ حد پر ہوا۔ اسکے بعد دوسرے اور آخری ٹریڈنگ سیشن کا آغاز بھی ریکارڈ تیزی سے ہوا۔ 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 1 لاکھ 69 ہزار988 پوائنٹس کا ہندسہ 1ہزار 498 پوائنٹس کی تیزی سے پار کرگیا۔ دن بھر انرجی، آئل اینڈ گیس، آٹو اور فارما سیکٹرز کے حصص میں ریل پیل رہی۔کاروبار کے اختتام پر کے کے ایس ای 100انڈیکس 500 پوائنٹس کے اضافے سے پہلی بار 1 لاکھ 68 ہزار990 پوائنٹس کی ریکارڈ حد پر بند ہوا ۔اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 237 پوائنٹس کے اضافے سے 52261 اور آل شیئرز انڈیکس 27 پوائنٹس بڑھ کر 102674 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر بند ہوا ۔اس دوران سرمایہ کاروں کو 5ارب روپے کا منافع ہوا ۔مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا جس میں سے 201 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضٖافہ ،254 میں کمی اور 30 میں استحکام رہا ۔ اسٹاک ایکسپرٹ احسن محنتی نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ایک ماہ میں بینچ مارک 100 انڈیکس تقریبا 15 ہزار پوائنٹس بڑھ چکا ہے اور یہ سب معاشی و سفارتی محاذ پر کامیابی کا نتیجہ ہے۔
Category: کاروبار
-

سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ
کراچی:سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔صرافہ مارکیٹوں کے مطابق فی تولہ سونے کابھاؤ 2100 روپے اضافے سے 4 لاکھ 9ہزار 878 روپے ہوگیا ہے جب کہ 10 گرام سونے کی قیمت بھی 1801 روپے بڑھ کر 3لاکھ 51 ہزار 404 روپے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب صرافہ مارکیٹوں کے تاجروں کا کہنا تھا کہ عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 21 ڈالر اضافے سے 3886 ڈالر فی اونس ہے۔واضح رہے گزشتہ روز روز بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3 ہزار 865 ڈالر کی سطح پر مستحکم اور ملک بھر کی صرافہ بازاروں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 4 لاکھ 7 ہزار 778 روپے کی سطح پر برقرار رہی تھی ۔
-

سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ
کراچی:آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی مجموعی فروخت بمعہ برآمدات 12.161 ملین ٹن رہی جو 16.25 فیصد زیادہ ہے ،اس دوران مقامی فروخت 9.573 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15.08 فیصد زیادہ ہے۔اعدادوشمار کے مطابق برآمدات میں بھی 20.81 فیصد اضافہ ہوا اور پہلی سہ ماہی میں برآمدات 2.589 ملین ٹن رہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی .143 ملین ٹن کے مقابلے میں زیادہ ہیں ۔ دوسری جانب جولائی 2025 میں 31.24 فیصد اور اگست 2025 میں 13.47 فیصدماہانہ اضافے کے بعدستمبر 2025 میں سیمنٹ کی فروخت میں 7.05 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ،یعنی ستمبر 2025 میں کُل فروخت 4.250 ملین ٹن رہی ۔ علاوہ ازیں صنعت کی مقامی سیمنٹ فروخت ستمبر 2025 میں 3.418 ملین ٹن رہی جو 14.38 فیصد زیادہ ہے۔ ترجمان سیمنٹ مینوفیکچررز نے کہا کہ سیمنٹ انڈسٹری کی نمو مزید بہتر ہوسکتی ہے بشرطیکہ حکومت ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں رعایت دے جو آخرکار صارفین کے فائدے میں ہوگا۔
-

ڈالر کی قدر کم ،تولہ سونا 2500روپے سستا،چاندی بلند سطح پر
کراچی :انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر مسلسل اڑان کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم چاندی کی قیمت بلند سطح پرجاپہنچی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک میں ڈالر4پیسے کی کمی سے 281.27روپے کا ہوگیا۔اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 5 پیسے کی کمی سے 282روپے 30پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔دوسری جانبعالمی بلین مارکیٹ میں سونا 25 ڈالر کی کمی سے 3865 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 2 ہزار 500 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 7 ہزار 778 روپے کا ہوگیا۔اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت 2144 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 49 ہزار 603 روپے ہوگئی۔یاد رہے کہ بدھ کو سونے کی فی تولہ قیمت 3500 روپے کے اضافے سے 410278 روپے ہوگئی تھی۔دریں اثنا چاندی کی فی تولہ قیمت 13 روپے کے اضافے سے 4 ہزار 839 روپے ہوگئی ۔ -

اسٹاک ایکسچینج :ریکارڈ ساز تیزی، 1لاکھ68ہزارکی حدعبور
کراچی:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو نئے ریکارڈبننے کا سلسلہ جاری رہا۔ 100انڈیکس کیلئے کاروباری ہفتے کے چوتھا دن ریکارڈ ساز رہا۔دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس نے یکے بعد دیگرے دو نفسیاتی حدیں پار کرکے نئے ریکارڈز قائم کردیے ۔اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا آغاز پہلی بار 439 پوائنٹس بڑھ کر 1 لاکھ 66 ہزار 79 پوائنٹس کی زبردست تیزی سے ہوا ،اسکے بعد 100 انڈیکس کی تیز رفتار سے دوران کاروبار1 لاکھ 67 ہزار ، 1 لاکھ 68 ہزار کی سطحیں عبور ہو گئیں۔ماہرین کے مطابق اسٹاک ایکسچینج کی شاندار رفتار کے پیچھے عوامل وزیر اعظم اور آرمی چیف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کامیاب ملاقات ،سی پیک فیز ٹو کی کامیابی کیلئے چین سے اہم معاہدے ،سعودی عرب سے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی توقعات ، توانائی کے گردشی قرضوں کی کمی کاسرکاری منصوبہ ،اسٹیٹ بینک ذخائر میں مسلسل اضافہ ، آئی ایم ایف سے مثبت مذاکرات ، روپے کی قدر میں استحکام اور بلو چپ کمپنیوں کے مثبت مالیاتی نتائج ہیں۔ دن بھر بینکنگ ، انرجی، آئل اینڈ گیس، اور فارما سیکٹرز کے حصص میں ریل پیل رہی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 2ہزار 849 پوائنٹس کے اضافے سے پہلی بار 1 لاکھ 68 ہزار 489 پوائنٹس کی ریکارڈ حد پر بند ہوا ،اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 986.89 پوائنٹس کے اضافے سے 52023.55پوائنٹس اور اور آل شیئر انڈیکس 1640.61 پوائنٹس بڑھ کر 102646.76 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر بند ہوا۔سرمائے کا حجم 19 ہزار 349ارب روپے سے بڑھ کر 19 ہزار 55ارب روپے سے تجاوز کرگیا ،سرمائے کا حجم بڑھنے سے سرمایہ کاروں نے ایک ہی روز میں 306 ارب روپے کا بڑا منافع کمالیا۔مجموعی طور پر489 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 239 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ، 227 میں کمی اور 23 میں استحکام رہا۔ مجموعی طور پر 1 ارب 57 کروڑ 33 لاکھ 81 ہزار 774 روپے مالیت شیئرز کے سودے 70 ارب 19 کروڑ 51لاکھ 68 ہزار روپے میں طے پائے ۔ اسٹاک مارکیٹ کے سابق ڈائریکٹر ظفر موتی نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ رواں ماہ 100 انڈیکس تقریبا 14 ہزار پوائنٹس بڑھ چکا ہے اور یہ سب معاشی و سفارتی محاذ پر کامیابی کا نتیجہ ہے جبکہ آئندہ دنوں میں مزید معاشی خوشخبریاں 100 انڈیکس کو با آسانی نئے ریکارڈ پار کرادیں گے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر رواں سال اکتوبر تک سرمایہ کاروں کو 108 فیصد منافع دیا ہے جو کہ عالمی و مقامی سطح پر منفرد ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے
-

100 انڈیکس کی شاندار رفتار، سٹاک مارکیٹ میں آج بھی دو نئے ریکارڈز بن گئے
کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج کیلئے کاروباری ہفتے کا آخری روز بھی تاریخ ساز رہا، 100 انڈیکس کی شانداز رفتار نے آج بھی نئے دو نئے ریکارڈز بنا ڈالے۔100 انڈیکس آخری ٹریڈنگ سیشن میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہوکر ریکارڈ سطح پر بند ہوا، انڈیکس ٹریڈنگ کا اختتام 500 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 68 ہزار 990 کی ریکارڈ حد پر بند ہوا۔دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس 1498 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 69 ہزار 988 کی بلند ترین حد تک ٹریڈ ہوا۔سٹاک ایکسچیبج میں 485 کمپنیوں میں سے 201 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ، 254 کمپنیوں میں کمی ہوئی، سٹاک ایکسچینج میں 1 ارب 56 کروڑ شیئرز کے سودے 78 ارب روپے میں طے ہوئے۔کلیدی شعبوں میں خریداروں کی دلچسپی آٹو موبائل سمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، او ایم سیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں دیکھی گئی، انڈیکس میں نمایاں وزن رکھنے والے سٹاکس جیسے حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ڈی جی کے سی، آئی ان ڈی یو بھی مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔واضح رہے گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر انڈیکس 2849 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 1 لاکھ 68 ہزار 489 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
-

ڈالر کی قدر میں کمی ،تولہ سونا3500روپے مزید مہنگا
کراچی:انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر مستحکم رہا،ادھرسونے کی قیمتوں میں اضافے کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔جس کے نتیجے میں مقامی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین ترین سطح پر جاپہنچیں، چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک میں ڈالرایک پیسے کی کمی سے 281.31 روپے کا ہوگیا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 282.35 روپے پرمستحکم رہا۔دوسری جانب عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 35 ڈالر کے نمایاں اضافے سے پہلی بار 3890 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں نمایاں اضافے کے باعث مقامی سطح پربھی فی تولہ سونا 3500 روپے کے ہوشربا اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4 لاکھ 10 ہزار 278 روپے پر جاپہنچا۔اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3001 روپے کے بڑے اضافے سے 3 لاکھ 51 ہزار 747 روپے ہوگئی۔
-

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 146پوائنٹس بڑھ گیا
کراچی:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو کاروبار اتارچڑھاؤ کا شکار رہا تاہم دن کے اختتام پر 100 انڈیکس مثبت زون میں بند ہوا۔تفصیلات کے مطابق کاروباری ہفتے کے تیسرے روز اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی سیشن کے دوران زبردست خریداری دیکھنے میں آئی، 800 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار 522 پوائنٹس پر جاپہنچا،بعدازاں پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں ایک موقع پر 100 انڈیکس 164,155.32 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بھی دیکھا گیا۔کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 146 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 65 ہزار 640 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔اسی طرح کے ایس ای 30 اورآل شیئرز انڈیکس میں بھی تیزی رہی ۔گزشتہ روز 55 ارب 35 کروڑ روپے مالیت کے ایک ارب 38 لاکھ شیئرز کا لین دین ہوا۔ مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 173 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،287میں کمی اور26میں استحکام رہا۔
-

پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کر دی
اسلام آباد:پاکستان نے قرضوں کی وقت پر معیاری ادائیگیاں یقینی بنانے کی پالیسی کے تحت 500 ملین ڈالر کے بین الاقوامی یورو بانڈ زکی بروقت ادائیگی کر دی۔وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ پاکستان نے 30 ستمبر 2025 کو میچور ہونے والے یورو بانڈز کی وقت پر ادائیگی کر دی ہے ۔ یہ بانڈ 2015 میں عالمی سرمایہ کاروں کیلئے 10 سال کی مدت کیلئے جاری کیے گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہقرض کا جی ڈی پی تناسب 77 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد پر آگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی قرضوں میں غیر ملکی قرضوں کا تناسب مالی سال 2025 میں 38 فیصد سے کم ہو کر 32 فیصد ہوگیا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ قرضوں کے اخراجات اور اضافے کی رفتار گزشتہ برسوں کی نسبت معتدل رہی۔
-

ادارہ شماریات پاکستان نے معیشت کا اہم ڈیٹا جاری کر دیا
کراچی: ادارہ شماریات پاکستان نے معیشت کا اہم ڈیٹا جاری کر دیا۔رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں تجارتی خسارے میں ماہانہ 16 فیصد اور سالانہ 46 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ستمبر میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 3 ارب 30 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا، ستمبر 2024 میں تجارتی خسارہ 2 ارب 29 کروڑ ڈالر تھا۔ستمبر 2025 میں برآمدات میں ماہانہ 3.6 فیصد اضافہ اور سالانہ 11.70 فیصد کمی ہوئی، ستمبر 2025 میں برآمدات 2 ارب 50 کروڑ ڈالر رہیں۔رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں درآمدی بل میں ماہانہ 10 فیصد اور سالانہ 14 فیصد کا اضافہ ہوا اور درآمدی بل 5 ارب 84 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پر پہنچ گیا، ستمبر 2024 میں درآمدی بل 5 ارب 12 کروڑ ڈالر تھا۔رواں مالی سال 3 ماہ میں تجارتی خسارہ 33 فیصد بڑھ کر 9ارب 36 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا، گزشتہ مالی سال 3 ماہ میں تجارتی خسارہ 7 ارب 4 کروڑ ڈالر رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 3 ماہ میں برآمدات 3.8 فیصد کمی سے 7.60 ارب ڈالر رہیں، رواں مالی سال 3 ماہ میں درآمدی بل 13.5 فیصد اضافےسے 16 ارب 97 کروڑ ڈالر ہوگیا۔
