کراچی: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کے نرخ بڑھ گئے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 37 ڈالر اضافے کیساتھ 3855 ڈالر ہوگئی جبکہ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 178 روپے اور 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 725 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔قیمتوں میں اضافے کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 6 ہزار 778 روپے اور اور 10 گرام سونے کی قیمت 3 لاکھ 48 ہزار 746 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
Category: کاروبار
-

روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا
کراچی:انٹربینک میں آج روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک میں امریکی کرنسی کی قیمت میں 2 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث انٹربینک میں ڈالر 281 روپے 35 پیسے پر بند ہوا۔واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹربینک میں ڈالر 281 روپے 37 پیسے پر بند ہوا تھا۔
-

انجمن تاجران کی میثاق معیشت کیلئے پیشرفت کی اپیل
لاہور :آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ معیشت اور کاروبار کی ترقی کیلئے سیاسی استحکام نا گزیر ہے ، سیاسی افرا تفری اور انتشار کی فضاء سے ملکی اور غیر سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔حکومت ،اپوزیشن سے اپیل ہے میثاق معیشت کیلئے پیشرفت کریں ، غیر ملکی قرضے اتارنے کیلئے قومی پالیسی نا گزیر ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کی بقاء کیلئے اتحاد اور معیشت کامضبوط ہونا بے حد ضروری ہے جس کیلئے سب کو اپنے سیاسی اور ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہوگا ۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید ضرور کریں لیکن مایوسی نہ پھیلائی جائے اس سے نہ صرف غیر ملکی بلکہ ملکی سرمایہ کا ری بھی متاثر ہو رہی ہے ۔پاکستان سیاسی عدم استحکام کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا ، دھرنوں اور احتجاج کی سیاست نے ملک کا بڑا نقصان کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ عام عوام سمیت تمام شعبوں کے ٹیکس دہندگان کو ٹیکسیشن پالیسی کی مشاورت میں شامل کیا جائے اور ان کی تجاویز کو نظر انداز کرنے کی بجائے زیر غور لایا جائے ۔
-

بزنس کمیونٹی عالمی حلال معیشت سے خود کو ہم آہنگ کرے ، ساجد عزیر میر
لاہور:صدر پاکستان بزنس فورم لاہور ریجن ساجد عزیز میر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ کھربوں ڈالر کی تیزی سے فروغ پاتی عالمی حلال معیشت سے خود کو مؤثر انداز میں ہم آہنگ کرے۔ کیونکہ اس شعبے میں اس کے پاس بے پناہ صلاحیت اور ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر حلال انڈسٹری غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے ۔یہ صنعت صرف مسلم آبادی تک محدود نہیں رہی، بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے ، جو ہمارے جیسے ممالک کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔
-

ڈیجیٹل فنڈٹرانسفرز فوری بنیادوں پر ہوتے ہیں،اسٹیٹ بینک
کراچی:سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے برعکس تمام ڈیجیٹل فنڈٹرانسفرز فوری (رئیل ٹائم)بنیادوں پر ہوتے ہیں اور وصول کنندگان کو رقم فوراً ہی ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جاتی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق کسی بھی بینک اکاؤنٹ سے دوسرے بینک اکاؤنٹ میں ہونے والا ٹرانسفر تاخیر کے بغیر مکمل ہوتا ہے تاہم ادارے نے وضاحت دی کہ دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ صرف برانچ لیس بینکنگ والیٹس اور اکاؤنٹس پر لاگو ہے ،ان اکاؤنٹس میں رقم بھی فوری منتقل ہو جاتی ہے لیکن ان رقوم کے استعمال مثلاً کیش آؤٹ، آن لائن خریداری یا موبائل ٹاپ اپ کیلئے لازمی طور پر دو گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا ۔اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ شرط اپریل 2023 میں متعارف کرائی گئی تھی تاکہ فراڈ اور غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے امکانات کو کم کیا جا سکے ۔ برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس میں کسٹمر ڈیو ڈیلجنس کے تقاضے نسبتاً آسان ہیں، اس لیے ان کے ذریعے دھوکہ دہی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ صارفین کو موقع دیتا ہے کہ اگر کسی مشکوک یا غیر مجاز ٹرانزیکشن کا خدشہ ہو تو وہ بروقت اپنی بینک کو اطلاع دے کر رقم کے غلط استعمال کو روک سکیں مرکزی بینک کے مطابق پچھلے ڈھائی سال میں اس پالیسی کے نتائج مثبت رہے ہیں اور یہ فراڈ کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ ثابت ہوئی ہے ۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کولنگ پیریڈ سے صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کی وضاحت سے صارفین میں پیدا ہونے والا ابہام ختم ہو گیا ہے اور اب یہ بات واضح ہے کہ عام بینک اکاؤنٹس کے درمیان ہونے والی تمام ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز فوری طور پر انجام دی جاتی ہیں جبکہ صرف برانچ لیس اکاؤنٹس پر دو گھنٹے کا حفاظتی انتظار لاگو ہوتا ہے۔
-

سونا ملکی تاریخ میں پہلی بار فی تولہ 4 لاکھ روپے کا ہندسہ پار کرگیا
لاہور: ملک بھر میں فی تولہ سونا پہلی بار 4 لاکھ کا ہندسہ پار کرگیا، قیمت 4 لاکھ 600 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔صرافہ بازار میں 24 قیراط فی تولہ سونا 5 ہزار 900 روپے مہنگا ہو کر تاریخ میں پہلی بار فی تولہ 4 لاکھ روپے کی حد پار کر گیا۔10گرام سونا 5 ہزار 58 روپے بڑھ کر پہلی بار 3لاکھ46 ہزار 21 روپے کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہونے لگا ہے جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت 88 روپے اضافے سے پہلی بار 4 ہزار 792 روپے ہو گئی۔عالمی منڈی میں فی اونس سونا 59 ڈالر بڑھ کر پہلی بار3818 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر آگیا۔واضح رہے کہ پاکستان میں ایک زمانے میں روایت یہ تھی کہ دلہنیں بھاری بھرکم سونے کے سیٹوں سے آراستہ ہوتی تھیں، اب خاندان پیچھے ہٹ رہے ہیں اور نقلی زیورات یا چاندی چڑھے متبادل کا انتخاب کر رہے ہیں جس کی واحد وجہ سونے کی قیمت میں روز بروز اضافہ ہے۔عالمی سطح پر سونے کی ریکارڈ بلند قیمتیں، جو جغرافیائی کشیدگی اور معاشی اتار چڑھاؤ سے بڑھ رہی ہیں، پاکستان بھر میں سماجی روایات اور مالی فیصلوں کو نئی شکل دے رہی ہیں۔سونا طویل عرصے سے سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے، اس کے دام عالمی اور مقامی سطح پر دونوں جگہوں پر تیزی سے بڑھے ہیں، پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت حالیہ دنوں میں ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی ہے جبکہ بعض مارکیٹ تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ چھ تا آٹھ ماہ میں یہ 4,50,000 روپے تک جا سکتی ہے۔بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ جغرافیائی غیر یقینی صورتحال، مرکزی بینکوں کی ذخیرہ اندوزی اور امریکہ میں مالیاتی پالیسی کی تبدیلیوں کے امتزاج کے باعث ہے۔
-

گولڈ ٹریڈرز کو 30ستمبر تک ٹیکس نیٹ میں آنے کی ہدایت
کراچی:چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)راشد محمود لنگڑیال نے ملک بھر کے گولڈ ٹریڈرز کو 30ستمبر تک ٹیکس نیٹ میں آنے اور حقیقی اعداد و شمار پر مبنی ریٹرن جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے۔خبردار کیا کہ بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چیئرمین ایف بی آر سے آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی جس میں گولڈ سیکٹر سے منسلک ٹیکس معاملات ، رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وفد کو آگاہ کیا کہ ملک بھر میں فی الوقت صرف 35 ہزار گولڈ ٹریڈرز ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں جو کہ ناکافی ہیں، اسکے علاوہ ان میں سے بھی محض 15 ہزار ٹریڈرز نے سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیے ہیں اور ان میں سے 14 ہزار ٹریڈرز نے اب تک ریٹرن ہی جمع نہیں کرائے جبکہ6ہزار جیولرز نے صفر ریٹرن جمع کرائے ہیں۔ انہوںنے رجسٹرڈ جیولرز کی مکمل فہرست ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے حوالے کر دی ۔چیئرمین نے واضح کیا کہ گولڈ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ حقیقی اعداد و شمار کے ساتھ ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں، ورنہ ادارہ مجبوراً قانون کے تحت کارروائی کرے گا ۔ ایسوسی ایشن کے صدر قاسم شکارپوری نے دنیا نیوز کو بتایا کہ ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کی فراہم کردہ فہرست پر کام شروع کر دیا ہے اور اپنے ممبران کو ٹیکس نیٹ میں آنے کیلئے متحرک کر دیا گیا ہے ۔ آئندہ پیر کو اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہوگی جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
-

موبائل فونز کی درآمدات میں 490فیصد اضافہ ریکارڈ
اسلام آباد:موبائل فونز کی درآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں سالانہ بنیادوں پرنمایاں اضافہ ریکارڈکیاگیاہے ۔ادارہ شماریات پاکستان کے اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے دوماہ میں موبائل فونزکی درآمدات پر41.65ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 490فیصدزیادہ ہے ۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موبائل فونز کی درآمدات کاحجم 7.058ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اگست میں موبائل فونز کی درآمدات پر22.042ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوجولائی میں 19.61ملین ڈالرا ورگزشتہ سال اگست میں 4.38ملین ڈالرتھا، مالی سال 2025میں موبائل فونزکی درآمدات پر 139.79ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا۔واضح رہے کہ مالی سال کے پہلے دوماہ میں ٹیلی کام شعبہ کی مجموعی درآمدات کاحجم 363.33ملین ڈالرریکارڈکیاگیاہے۔
-

رواں سال گردشی قرض کابہائوصفرکریں:آئی ایم ایف
اسلام آباد:آئی ایم ایف نے رواں مالی سال پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ میں زیرو اِن فلو کا مطالبہ کیا ہے ، اقتصادی جائزہ مذاکرات کے دوران معاشی ٹیم نے گردشی قرضہ، کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کی صارفین کو ٹرانزکشنز اور ٹیرف ری بیسنگ پر اہم مذاکرات کئے ۔ میٹنگ میں شریک باوثوق ذرائع کی جانب سے معلوم ہوا کہ آئی ایم ایف وفد کو گردشی قرض پر پریزنٹیشن میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 3 سے 6 برسوں میں ختم کرنے کا پلان شیئر کیا گیا ۔ وفد کو بتایا گیا بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا نقصان 397 ارب روپے تک محدود کیا گیا ۔ گزشتہ مالی سال بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصان کا تخمینہ 635 ارب روپے سے زائد رہنے کا لگایا گیا تھا ، مالی سال 2025 کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات مالی سال 2024 کی نسبت 190 ارب کم رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بینکوں کیساتھ 1.2 ٹریلین روپے کی ڈیل ہونے سے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ کم ہو کر 400 ارب روپے تک محدود ہو چکا ہے ۔آئی ایم ایف وفد نے مطالبہ کیا پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کیا جائے ، آئی ایم ایف وفد کو پاور سیکٹر کیلئے سالانہ ٹیرف ری بیسنگ کا یکم جنوری سے اطلاق کرنے بارے پیشرفت پر بھی بریف کیا گیا، آئندہ سالانہ 2026 سے ری بیسنگ یکم جنوری سے کی جائے گی اور ڈسکوز تمام آپریشنل اور فنانشنل ضروریات کا جائزہ لیکر سالانہ ری بیسنگ سے قبل پرپوزل دینے کی بھی پابند ہوں گی۔ آئی ایم ایف وفد کیساتھ ایف بی آر ریونیو آمدن پر بھی گزشتہ روز مذاکرات ہوئے جس میں رواں سہ ماہی آمدن اور شارٹ فال کا جائزہ لیا گیا۔ مشن کاکہنا تھا ریونیو ٹارگٹ پورا کیا جائے اور شارٹ فال ختم کرنے کیلئے انفورسمنٹ سمیت موثر اقدامات کئے جائیں۔ وفد کو بریفنگ کے دوران بتایا گیاکہ ترسیلات زر وصول کرنے کیلئے منی ٹرانسفر آپریٹر چارجز 1 روپیہ سے بڑھ کر 4.5 روپے ہوچکے ہیں ۔ ۔ آئی ایم ایف وفد کیساتھ اب مذاکرات سوموار کو ہونگے ۔
-

سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز دن،ایک لاکھ 61،60اور پھر 62ہزار کی بلند سطح عبور
کراچی:سٹاک ایکسچینج کی برق رفتاری نے نہ صرف سب کو حیران کردیا بلکہ عالمی و مقامی سطح پر اپنا لوہا بھی منوالیا۔ 100انڈیکس کیلئے کاروباری ہفتے کا آخری دن ریکارڈ ساز رہا۔ دوران یڈنگ100انڈیکس نے یکے بعد دیگرے 3 نفسیاتی حدیں پار کرکے نئے ریکارڈز قائم کردئیے ۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا آغاز پہلی بار 1 لاکھ 59 ہزار 900 پوائنٹس کی ریکارڈ حد سے ہوا ،اسکے بعد 100 انڈیکس کی تیز رفتار سے دوران کاروبار1 لاکھ 60 ہزار ، 1 لاکھ 61 ہزار اور 1 لاکھ 62 ہزار کی سطحیں عبور ہو گئیں۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز کے پہلے ٹریڈنگ سیشن میں بینچ مارک100انڈیکس 2 ہزار 530 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 61 ہزار 810 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر بند ہوا ۔اس کے بعد دوسرے اور آخری ٹریڈنگ سیشن کا آغاز بھی ریکارڈ تیزی سے ہوااور تھوڑی دیر بعد ہی 100 انڈیکس پہلی بار 1 لاکھ 62 ہزار کی بھی ریکارڈ حد عبور کرگیا ۔سرمایہ کاری کے تسلسل میں مسلسل اضافے سے 100انڈیکس 3 ہزار 100 سے زائد پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1لاکھ 62 ہزار 422 پوائنٹس کی بلند ترین حد تک ٹریڈ ہوا ۔ماہرین کے مطابق اسٹاک ایکسچینج کی شاندار رفتار کے پیچھے عوامل وزیر اعظم اور آرمی چیف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کامیاب ملاقات ،سی پیک فیز ٹو کی کامیابی کیلئے چین سے اہم معاہدے ،سعودی عرب سے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی توقعات ، توانائی کے گردشی قرضوں کی کمی کاسرکاری منصوبہ ، اسٹیٹ بینک ذخائر میں مسلسل اضافہ ، آئی ایم ایف سے مثبت مذاکرات ، روپے کی قدر میں استحکام اور بلو چپ کمپنیوں کے مثبت مالیاتی نتائج ہیں۔ دن بھر بینکنگ ، انرجی، آئل اینڈ گیس، سیمنٹ اور فارما سیکٹرز کے حصص میں ریل پیل رہی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس2ہزار 976 پوائنٹس کے اضافے سے پہلی بار 1 لاکھ 62 ہزار 257 پوائنٹس کی ریکارڈ حد پر بند ہوا ،اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 1064 پوائنٹس کے اضافے سے 49723.02 اور آل شیئرز انڈیکس 1420 پوائنٹس بڑھ کر 99380.23 پوائنٹس پر بند ہوا۔ دن بھر سرمایہ کاروں کا اعتماد 95 ارب روپے کی لیورج ادائیگیوں کے باوجود متزلزل نہ ہوسکا اور 100 انڈیکس مسلسل ریکارڈ سطح کے ساتھ پروان چڑھتا رہا ۔اس دوران سرمایہ کاروں کو 272ارب روپے کامنافع ہوا جس کے نتیجے میں سرمائے کا حجم 18 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 19 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 228 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،230 میں کمی اور 26 میں استحکام رہا۔ مجموعی طور پر 1 ارب 71 کروڑ 49 لاکھ 17 ہزار 163 روپے مالیت شیئرز کے سودے 70 ارب 75 کروڑ روپے میں طے ہوئے ۔ اسٹاک ایکسپرٹ سلمان نقوی نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ رواں ماہ بینچ مارک 100 انڈیکس تقریبا 13 ہزار پوائنٹس بڑھ چکا ہے اور یہ سب معاشی و سفارتی محاذ پر کامیابی کا نتیجہ ہے جبکہ آئندہ دنوں میں مزید معاشی خوشخبریاں 100 انڈیکس کو با آسانی 1 لاکھ 65 ہزار کی ریکارڈ حد پار کرادیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال ستمبر سے لے کر رواں سال ستمبر تک مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کو 98 فیصد منافع دیا ہے جو کہ عالمی و مقامی سطح پر منفرد ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے ۔
