Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اہم خبریں – Page 108 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: اہم خبریں

  • پنجاب حکومت کا پولیس شہداء کیلئے پیکج کا اعلان‘ گھر اور گرانٹ کی منظوری

    پنجاب حکومت کا پولیس شہداء کیلئے پیکج کا اعلان‘ گھر اور گرانٹ کی منظوری

    لاہور: پنجاب حکومت نےپولیس ملازمین کیلئے شہدا پیکچ متعارف کروایا ہےجس میں فرض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کرنیوالےگیارہ پولیس شہدا کیلئے گرانٹ اور گھردینے کی منظوری دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ میں وزیرقانون پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت منعقدہ ہوا ہے اجلاس میں شہید اے ایس آئی نذیر احمد، اے ایس آئی محمد نواز، ارشد، ضیاء اختر، حمد خلیل عابد علی، محمد احسان، مبشر بلال، محمد سہیل اور سید طاہر رضا کیلئے شہداء پیکج ٹو کے تحت گرانٹ کی منظوری دی گئی ۔پنجاب حکومت نے پیکچ ٹوکےشہید کانسٹیبل کی فیملی کو 40 لاکھ، گھر کیلئے 1 کروڑ 89 لاکھ روپے ملیں گے، شہید اے ایس آئی کی فیملی کو 50 لاکھ، گھر کیلئے 2 کروڑ 45 لاکھ روپے ملیں گے جبکہ شہید انسپکٹر کی فیملی کو 60 لاکھ، گھر کیلئے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے ملیں گے۔وزیر قانون پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ کا کہنا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، امن دشمنوں، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا رہے ہیں ۔

  • پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش، جھوٹی خبریں پھیلانے پر 3 سال قید

    پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش، جھوٹی خبریں پھیلانے پر 3 سال قید

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اس بل میں جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کے لیے تین سال قید یا 20 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے مطابق، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہوگا، جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ اس اتھارٹی کا کام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور معیارات کے تعین کے ساتھ ساتھ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔اتھارٹی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ غیر قانونی مواد کو ہٹانے کی ہدایات دینے کی بھی مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ متاثرہ فرد کو غیر قانونی مواد ہٹانے کے لیے 24 گھنٹے کے اندر درخواست دینی ہوگی۔
    ترمیمی بل کے تحت، اتھارٹی 9 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا ایکس آفیشو اراکین ہوں گے۔ چیئرمین کی تعیناتی کے لیے بیچلرز ڈگری اور 15 سالہ متعلقہ تجربہ ضروری ہوگا، اور اس کی مدت پانچ سال ہوگی۔حکومت نے صحافیوں کو اتھارٹی میں نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی میں پانچ ارکان میں سے ایک صحافی، سافٹ ویئر انجنیئر، وکیل اور آئی ٹی ایکسپرٹ شامل ہوں گے۔بل کے مطابق، چیئرمین اتھارٹی سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر قانونی مواد کو فوراً بلاک کرنے کی ہدایت دینے کا مجاز ہوگا۔ علاوہ ازیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اتھارٹی سے رجسٹر کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔نئے ترمیمی بل کے مطابق، سوشل میڈیا شکایات کاؤنسل قائم کی جائے گی جو پانچ ارکان پر مشتمل ہوگی، اور شکایات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اتھارٹی ٹربیونل سے رجوع کرے گی۔
    اس بل میں فیک نیوز پھیلانے والے افراد کے لیے تین سال قید یا 20 لاکھ روپے جرمانہ کی تجویز دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت ایک نئی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی قائم کرے گی، جس کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوگا۔ ایجنسی کے قیام کے ساتھ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ تحلیل کر دیا جائے گا۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، ملزمان عدالت میں پیش‘مزید 4 گواہان کے بیان قلمبند

    جی ایچ کیو حملہ کیس، ملزمان عدالت میں پیش‘مزید 4 گواہان کے بیان قلمبند

    راولپنڈی:9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی میں ہوئی، جس کی صدارت جج امجد علی شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی اور دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔پراسیکیوشن کے مزید 4 گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرائے، جن میں اے ایس آئی شہزاد، ہیڈ کانسٹیبل عمران اختر، کانسٹیبل زبیر صدیقی اور انوار شامل ہیں۔ اب تک مقدمے میں مجموعی طور پر 9 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی، شیریں مزاری، اور دیگر ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کے لیے 25 جنوری کو دلائل طلب کر لیے ہیں۔

  • درست اقدامات سے پاکستان صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، وزیر خزانہ

    درست اقدامات سے پاکستان صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، وزیر خزانہ

    نیویارک: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ اکنامک فورم(ڈبلیو ای ایف) میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بہتر ہوا ہے اور قرض ٹو جی ڈی پی ریشو میں کمی آئی ہے، جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہدرست اقدامات سے پاکستان صحیح سمت میں گامزن ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اور فسکل اکاؤنٹ کا دہرا خسارہ ہے اور حکومت ان دونوں خساروں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 13.5 فیصد تک بڑھانے کے لئے ساختی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان کے قرضوں اور جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری آئی ہے جو 78 فیصد سے کم ہو کر 67 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ابھی بھی طویل سفر باقی ہے۔پاکستان کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جب جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچتی ہے تو درآمدات پر انحصار بڑھ جاتا ہے، جس سے ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوتا ہے اور آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے دوسرے مرحلے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ مرحلہ حکومت سے حکومت کے بجائے بزنس ٹو بزنس شراکت داری پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چینی کمپنیوں کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس منتقل کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔کیپٹل مارکیٹ میں تنوع لانے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان مصر کے تجربات سے سیکھ کر کیپٹل مارکیٹ تک رسائی کو متنوع بنانا چاہتا ہے اور پانڈا بانڈ جاری کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔وزیر خزانہ نے برین ڈرین پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے لئے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لئے حکومت سخت محنت کر رہی ہے، خاص طور پر آئی ٹی شعبے میں۔

  • حکومت کاعازمین حج کی سہولت کے لیے “گھر سے گھر تک” مہم کا آغاز

    حکومت کاعازمین حج کی سہولت کے لیے “گھر سے گھر تک” مہم کا آغاز

    اسلام آباد: پاکستانی حکومت حج 2025 کے حجاج کرام کو ان کے سفر کی ابتدا سے لے کر واپسی تک مکمل سہولت فراہم کرنے کے لئے ایک نئی مہم “گھر سے گھر تک” متعارف کرانے جارہی ہے۔اس پالیسی کے تحت، حج کے دوران حجاج کرام کی رہنمائی کے لئے باقاعدہ ” نا ظمین ” مقرر کئے جائیں گے، جو حجاج کرام کی مکمل رہنمائی کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، مجموعی طور پر 600 وزارت کے نا ظمین تعینات کیے جائیں گے، جن میں ہر ایک ناظم 150 حجاج کرام کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ یہ ناظمین حجاج کو پاکستان سے سعودی عرب لے جانے اور واپس لانے کے دوران ان کی مدد کریں گے، تاکہ ان کا سفر محفوظ رہے اور وہ حج کے تمام عبادات کو صحیح طریقے سے ادا کر سکیں۔سفر کی سہولت کے علاوہ، ناظمین سعودی عرب میں رہائش کے انتظامات بھی کریں گے اور حج کے دوران حجاج کرام کو ضروری رہنمائی فراہم کریں گے۔ وزارتِ مذہبی امور نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ناظمین حجاج کرام کو ان کے مذہبی فرادی کو بخوبی ادا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔حجاج کرام کو ان کے ناظم کے بارے میں اس وقت آگاہ کیا جائے گا جب پروازوں کا شیڈول حتمی شکل اختیار کر لے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے حج 2025 کے انتظامات کا جائزہ لینے کے دوران اس عزم کا اظہار کیا کہ حجاج کرام کو بہترین خدمات فراہم کی جائیں گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • سینیٹ اجلاس: پانی کی تقسیم پر حکومت اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

    سینیٹ اجلاس: پانی کی تقسیم پر حکومت اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

    اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں پانی کی تقسیم کے معاملے پر حکومت اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے حکومت پر دریائے سندھ پر کینال تعمیر کر کے سندھ کے پانی میں کٹوتی کا الزام عائد کیا، جبکہ سینیٹر عرفان صدیقی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو اعتراض نہیں بنتا۔
    پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے تحریک التوا پیش کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پر بیراج، ڈیمز اور کینال کی تعمیر سے سندھ میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی فیصلے پر سندھ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور سندھ کے کئی علاقوں میں اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے۔ پانی کی کمی کا بحران: ارسا نے خود 13 فیصد پانی کی کمی کی بات کی ہے، جس سے پنجاب اور سندھ دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ کراچی کی صورتحال: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ وفاقی حکومت پر اعتراض: وفاقی حکومت کو سندھ کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کرنی چاہیے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے واضح کیا کہ اگر پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تکنیکی معاملات پر زور دیا کہ پانی کی تقسیم پر اعتراضات کو تکنیکی بنیادوں پر سلجھایا جانا چاہیے۔
    شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام متاثرہ فریقین، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان، کو سنے اور ایک قابل قبول حل پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم ایک حساس مسئلہ ہے، اسے سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔

  • غیر ملکی فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کی پی ٹی آئی کو 11 فروری تک جواب جمع کرانےکی مہلت

    غیر ملکی فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کی پی ٹی آئی کو 11 فروری تک جواب جمع کرانےکی مہلت

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو غیر ملکی فنڈنگ کیس کے حوالے سے 11 فروری تک اضافی وقت دے دیا تاکہ وہ اپنا جواب جمع کرا سکے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے کیس کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی کی نمائندگی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کی۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کا کیس 30 اپریل 2024 سے چل رہا ہے، لیکن پارٹی نے ابھی تک تحریری جواب جمع نہیں کرایا۔سی ای سی راجہ نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو پانچ درخواستوں اور نوٹسز کا جواب دینے کی ہدایت کی۔ اس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ وہ پہلے ہی نوٹسز کا جواب دے چکے ہیں اور اگلی سماعت پر درخواستوں کا جواب بھی جمع کروا دیں گے۔درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے درخواست کی کہ پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹس کو غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہونے تک منجمد کر دیا جائے۔ تاہم کمیشن نے پی ٹی آئی کو ہدایت دی کہ وہ اگلی سماعت تک اپنا جواب جمع کرائے اور کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی۔

  • ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے سات بلوں کو متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے سات بلوں کو متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا

    اسلام آباد: سینیٹ کی ڈپٹی چیئرمین، سیداال خان نے پیر کے روز سات پرائیوٹ ممبر بلوں کو تفصیل سے جائزے اور غور کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کر دیا۔یہ بل مختلف سینیٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور یہ خواتین کے حقوق، انسانی حقوق، مزدور قوانین اور آئینی ترامیم جیسے اہم مسائل سے متعلق ہیں۔ان میں سے ایک اہم بل “نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (ترمیمی) بل 2025” تھا، جو 2012 کے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ایکٹ میں ترمیم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، 2012 کے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ میں دو علیحدہ علیحدہ ترامیم بھی متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کی گئیں، جنہیں سینیٹر زہری نے پیش کیا تھا۔ایک اور اہم بل “آئین (ترمیمی) بل 2025″ تھا، جسے سینیٹر محمد عبدالقادر نے پیش کیا۔ اس بل کا مقصد آئین کے آرٹیکل 27 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ برابری کے مواقع اور امتیاز سے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔”فیکٹریز (ترمیمی) بل 2024” بھی سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے متعلقہ کمیٹی کو منتقل کر دیا گیا۔سینیٹر محمد عبدالقادر کا دوسرا بل بھی “آئین (ترمیمی) بل 2025” تھا، جسے مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کیا گیا، جو سینیٹر کی آئینی تبدیلیوں کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔یہ بل اب متعلقہ کمیٹیوں میں تفصیلی جائزے سے گزریں گے جس کے بعد سینیٹ میں ان پر مزید پیشرفت کی جائے گی۔دریں اثناء، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (ترمیمی) بل 2025 کو مسترد کر دیا گیا۔ یہ بل پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ایکٹ 1996 میں ترمیم کرنے کی تجویز دیتا تھا، جسے سینیٹر شبلی فراز نے پیش کیا تھا۔ اس بل کو صرف نو ووٹ ملے جبکہ اٹھارہ ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

  • پشاور:نگران دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    پشاور:نگران دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے نگران دور میں بھرتی کیے گئے سرکاری ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے “خیبرپختونخوا ملازمین سروسز 2025” کے نام سے ایک بل تیار کیا گیا ہے۔ بل کے متن کے مطابق نگران حکومت کے دوران غیر قانونی طور پر بھرتی کیے گئے ملازمین کو ہٹانے کا اقدام کیا جائے گا۔ یہ بل جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اور بل پاس ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نوٹیفکیشن جاری کریں گے، جس کے تحت غیر قانونی بھرتی شدہ ملازمین کو فارغ کیا جائے گا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اگر قانونی پیچیدگیاں سامنے آئیں تو ان کا جائزہ لینے کے لیے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی میں ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ قانون، خزانہ، انتظامیہ، اور دیگر متعلقہ اداروں کے سیکرٹری شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق نگران دور حکومت میں 15 ہزار سے زائد ملازمین بھرتی کیے گئے تھے۔ بل کے تحت کمیٹی کے فیصلے کا اطلاق تمام متعلقہ افراد پر ہوگا، اور غیر قانونی بھرتیوں کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

  • مدارس کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں:مولانا فضل الرحمٰن

    مدارس کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں:مولانا فضل الرحمٰن

    چارسدہ: جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ معیشت کے اشاریوں سے قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔چارسدہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں، ملک بناتے وقت اسلام کے نام پر لوگوں نے قربانیاں دیں، ملک کے ساتھ صرف علماء نے وفاداری کی ہے، حکمران اور سیاست دان کیا کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے اور ہم امن کے خواہاں ہیں، ہم آج تک آپ سے نرم لہجے اور دلیل سے بات کررہے ہیں۔ایسے انتخابات سے ہمیں نہ ٹرخایا جائے،جھوٹ اور دھاندلی کے الیکشن سے حسینہ واجد بھی جیتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ مدارس کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں،دنیا چاہتی ہے کہ مدارس کا سلسلہ ختم ہو جائے،عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے مدارس مزید مضبوط ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر26 ویں آئینی ترمیم حکومت کی خواہش پر پاس ہوتی تو تباہی آتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا آئینی مسودہ پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے لیے خطرہ تھا،حکومت کے آئینی مسودے میں اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کیے گئے تھے،ان کا کہنا تھا کہ مضبوط حکومت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا،آپ قوم کو معیشت کے اشاریوں سے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔